Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Chah Ka Mousam 1947 (Episode 15)

Teri Chah Ka Mousam 1947 by Eshal Khan

“امن سنگھ دروازہ مت کھولنا” ماں دروازے پر دیوار بنی کھڑی تھی

ہاتھ پیچھے کئے ماں نے کنڈا سختی سے تھام رکھا تھا

“ماں ہٹ جاؤ میں دیکھتا ہوں کون ہے” امن نے ماں کو ہٹانا چاہا

سونی برآمدے میں کھڑی تھر تھر کانپ رہی تھی

اور اس گھڑی کو کوس رہی تھی جب اس نے دہلی آنے کا فیصلہ کیا تھا

“میرے لال اندر چل” بجتا دروازہ ماں کو خوف میں مبتلا کرہا تھا

دروازہ لکڑی کا کافی مظبوط تھا

ہتا جی بھی آگۓ

“تم دونوں اندر جاؤ میں ان لوگوں کو دیکھتا ہوں” پتا نے ماں کو ہٹایا

“امن تم اندر جاؤ” پتا نے بہت سختی سے کہا

“گرونانک کی مدد ہمارے ساتھ ہے ہمیں کچھ نہیں ہوگا” “دروازہ مت کھولو” ماں نے ایک بار اور کہا

امن ماں کو کاندھے سے پکڑ کر اندر آگیا

پاون اور کلدیپ کلہاڑی سمبھالے ہوۓ تھے

امن نے صرف ایک نظر خوف سے کانپتی ہوئی سونیا پر ڈالی

اور اسی وقت پتا نے دروازہ کھول دیا

اور اگلے ہی لمحے انچی آوازیں آنے لگی ان آوازوں میں پتا کی آواز بلکل دب گئی تھی

بارش بھی رک چکی تھی کچے صحن میں بارش سے پھسلن پیدا ہو گئی تھی

اور پھر بہت سے لوگ گھر میں گھس آۓ امن نے تیز دھار کلہاڑی پاون سے لے کر اپنے ہاتھوں میں اٹھالی

اور آنے والو کو للکارا

“کوئی بھی اندر آیا اسے دو حصوں میں کاٹ دوں گا” امن کی آواز بہت گونج دار اور جسامت بہت روب دار تھی

أنے والے اس للکار پر اپنی جگہ رک گئے

امن سنگھ ایک مضبوط جسامت کا مرد تھا اور اسکی آنکھوں میں ایک روب و دبدبہ تھا آنے والے اپنی جگہ تھم کے رہ گئے تھے

ان میں سے ایک بولا “تم نے یہاں کسی مسلمان کو پناہ دی ہے”

پتا جی بھی ہجوم کو چیرتے ہوۓ اندر آۓ

“تم وہ لڑکی ہمارے حوالے کر دو ہم یہاں سے چلے جائیں گے”

دوسرا بندا اگے ہو کر کہہ رہا تھا

“اس لڑکی کا دوبارہ نام اگر کسی کی زبان پر آیا سب کی زبان کاٹ کر انکے ہاتھوں پر رکھ دوںگا ” امن کی أنکھوں میں خون اتر آیا “دوبارہ اپنی غلیظ زبان سے اسکا نام اگر کسی نے لیا تو یہاں سب کی لاشیں بچھا دوںگا” امن نے سب کی طرف انگلی کر کے کہا

اسکی آنکھوں میں اتراخون دیکھ کر مجمع میں خوف پیدا ہو گیا تھا

“تو ہوتا کون ہے ہم سے یہ سوال کر نے والا؟ تو خود دس گھروں میں رات کے اندھیرے میں منہ مار نے والا گھٹیا انسان تو ہم سے سوال کرہا ہے؟” یہ آواز پاون کی تھی “اپنے اس دوست کی بہن سے تیرے ناجائز تعلقات ہیں اور تو یہاں کھڑا ہم سے پوچھ رہا ہے؟” پاون نے اسکے ساتھ کھڑے لڑکے کی جانب اشارہ کیا اور پھر اسے پیچھے والے أدمی سے کہا “تو شراب میں دھت مردوں کی عزت لوٹنے سے باز نہیں أتا تو ہمارے سامنے کھڑا کیسے ہے “

پاون کی باتیں انہین کسی چابک کی طرح لگی

ماں اور سونی اندر جا چکی تھیں

اب وہ ایک دوسرے سے بحث کر نے لگے

اور ایک دوسرے کا گریبان پکڑ لیا

“دفعہ ہو جاؤ یہاں سے دوبارہ ہمارے گھر میں آنے کی کوشش کی تم سب کے یہاں ہزاروں ٹکڑے کروںگا یاد رکھنا” امن سنگھ نے سب کو وارننگ دی

اور ساتھ پڑا ڈنڈا اٹھا کر انکی جانب مارنے کو دوڑا

اور سب امن کی آنکھوں میں خون اترا دیکھ کر ڈر سے بھاگ نکلے تھے

یہ ہندون کا گھر تھا وہ لوگ چاہ کر بھی زیادہ دیر وہاں رک نہیں سکتے تھے اسی میں انہین بھلائی لگی اور بھاگ نکلے

پتا جی دروازہ بند کر کے آے اور وہ سب صحن میں بچھائی گئی چارپائیوں پر بیٹھ گئے

أج کا واقعہ معمولی نوعیت کا نہیں تھا وہ لوگ کس قدر نڈر ہو کر انکے گھر آ گھسے تھے ایک بہت بڑی بات تھی

“یہ سب کی ملی بھگت ہے اس موقع سے فائدہ اٹھا کر لوٹ مار کرنا چاہ رہے ہیں جو ہاتھ لگ رہا ہے اسے مار کر چیزیں ہتھیا رہے ہیں ” پاون بہت سنجیدگی سے کہہ رہا تھا “انکی ان گھٹیا پن کی وجہ سے ساری سکھ برادری بدنام ہو کر رہ گئی ہے اس موقع پر مسلمانوں کو اچھے سے رخصت کرنے کی بجاۓ یہ زلیل لوگ قتلِ عام کرہے ہیں “پاون کے ماتھے پر فکر کا جال بچھا تھا

“اب امید ہیں وہ یہاں کا رخ کبھی نہیں کریںگے” امن نے کہا “جس طرح وہ دم دبا کر بھاگے ہیں اسے یہی اندازا ہوتا ہے یہ بُزدل لوگ ہیں”

پتا بھی اسکی بات سے سحمت تھے

“لیکن اب ہمیں گلی کا پہرا دینے کے لئے ایک گروہ تشکیل دینا چاہیے اس گلی میں اکثریت مسلمانوں کی ہے ان سے بات کر کے یہ قدم جلد سے جلد اٹھانا ہوگا” پتا جی بیٹوں کو دیکھ کر بولے

“ساتھ والے پڑوسی تو کل شاید پاکستان کے لئے روانہ ہو جائیں ” پاون کی بات پر امن نے اسے دیکھا

“کتنا اچھا وقت گزرا سب کے ساتھ اب رخصت کرتے ہوئے کیسے حالات ہو گئے ہیں” ماں بہت ابدیدہ ہو اٹھی “کل انکے گھر کھانا پکا کر بھیج دینگے” ماں کی بات پر پتا جی نے اثبات میں سر ہلایا

“انہیں سکون سے یہاں سے رخصت ہونے دو انکے پاس کوئی اچھی یادیں تو ہوں جو یہ اپنے آنے والی نسل کو سنا سکے ورنہ انکی نسلوں نے سکھ برادری سے نفرت ہی کرنی ہے ” ماں بہت رنجیدہ تھی

وہ لوگ یہاں سے جا رہے ہیں ماں کے لئے یہ ایک بہت بڑا صدمہ تھا

ماحول بہت سوگوار ہو گیا تھا

ایک ساتھ اتنے عرصے رہنے کے بعد مسلمانوں کی جدائی بہت تکلیف دہ تھی

دکھ درد

خوشی تہوار میں جہاں کوشلیہ انکے ہاں جاتی رہی تھی وہاں مسلمان بھی برابر کے شریک ہوتے رہے تھے

محبت سے رہتے ہوئے محلے داروں نے اچھے پڑوسیوں کے حقوق اچھے سے ادا کئے تھے

چند برے لوگوں کی وجہ سے سب کو برا کہنا ذیادتی تھی

انہی میں کوشلیہ جیسے لوگ بھی پنہاں تھے جنکا دل مسلمانوں کی اس بربریت پر غم سے چور تھا

“سونیا کہا ہے؟” آج پہلی بار امن سنگھ نے سونیا کا نام لیا تھا

“ڈری ہوئی ہے کمرے میں ہے” ماں نے کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا “رو رہی ہوگی” ماں کا دل دکھا

“بہت ظلم ہوا ہے اس پر ” پتا کو اسکا بہت غم تھا

پاون اور کلدیپ بھی خاموش تھے

“جلد نئی ریاست بنے گی تب ہی یہاں امن قائم ہوگا” پتا کی بات پر امن دیکھتا رہا

“امید ہے سب اچھا ہو” امن کی بھٹکتی ہوئی نگاہ اس کمرے کی طرف اٹھ رہی تھی جہاں سونیا تھی

نجانے اسکے دل پر کیا بیت رہی ہوگی وہ سوچ کر رہ گیا

——–

رائٹر کی اجازت کے بنا کاپی پوسٹ اور پی ڈی ایف لنکس مت بنائیں یہ قانونی جرم ہے۔ اس ناولٹ کے تمام جملہ حقوق عیشل خان آفیشل ٹیم پاس محفوظ۔ شکریہ

سونیا اندر کمرے میں بیٹھی رو رہی تھی

قسمت کس موڑ پر لے آئی تھی

یہ زندگی کا کونسا باب تھا جس میں وہ بھٹک رہی تھی چارو طرف مشکلات میں گھری ہوئی اپنوں سے دور تھی

خون کی ہولی دیکھنے کے بعد سونیا کا اس دنیا سے دل اچاٹ ہو چکا تھا

ہے در پے صدمات

پہلے شہریار کی بے وفائی

ماں اور بہن کے روئے

خالہ کے گھر پر حملہ

اور اب غیروں میں رہ رہی تھی

سونیا کے آنسوں نہیں تھم رہے تھے

اپنا گھر شدت سے یاد آرہا تھا

دل کیا کسی بھی طرح اڑ کر اپنے گاؤں پہنچ جائے

کاش میرے پر ہوتے

دل نے عجیب سی حسرت کی

ابا

سونیا ابا کو یاد کر کے رونے لگی

یہ رامضان المبارک کا پاک مہینہ ہے یا رب مجھے خیر سے میرے ملک میرے دیس پہنچا دے

سونیا کے أنسوں تھم نہیں رہے تھے

ماں کمرے میں آئی

“سونیا بٹیا” ماں اندر آکر اسے پکار رہی تھی

سونیا خاموشی سے اٹھ بیٹھی

“باہر آجاؤ بٹیا” مان اسکے روۓ ہوۓ چہرے کو دیکھتے ہوئے بولی

“دل نہیں کرہا ” سونی بھرائی ہوئی آواز میں بولی

“چندا اداس نا ہو یہ وقت بھی جلد گزر جاۓ گا” ماں اسکا ہاتھ تھامے بیٹھی تھی

سونیا اس عظیم عورت کو دیکھے گئی جس کے سینے میں سونیا کے لئےممتا کا سمندر ٹھاٹھے مار رہا تھا دونوں کا خونی رشتہ تو دور کی بات مذہبی رشتہ بھی نہیں تھا

مگر یہ عظیم عورت سونیا سے بے پناہ محبت کرنے لگی تھی

“یہاں اکیلی نا بیٹھ چل باہر آجا” ماں نے اسے اٹھایا

وہ خاموشی سے ماں کے ساتھ باہر آگئی

سب باتوں میں مگن تھے صرف امن سنگھ خاموش بیٹھا ہوا تھا

سونیا کو باہر آتا دیکھ کر پتا جی محبت سے دیکھنے لگے رب نے انہیں سونیا کی صورت میں بیٹی عطا کر دی تھی

سونیا ماں کے ساتھ چارپائی پر بیٹھ گئی تھی

“بیٹا پریشان نا ہو جب تک میں ذندہ ہوں تم پر خراش بھی نہیں آۓ گی”

پتا جی کے الفاظ جھوٹ سے پاک تھے

“چاہے تم مسلمان ہو یا سکھ ہو میری تم بیٹی ہو اور انکی بہن” پتا جی نے اپنے بیٹوں کی طرف اشارہ کیا

سونیا کی أنکھیں بھیگنے لگی تھی

ایک سکھوں کا روپ سونیا نے خالہ کے گھر دیکھا تھا اور ایک نئے سکھ اسکے سامنے تھے

جس طرح ایک ہاتھ کی انگلیاں برابر نہیں ہوتیں اسی طرح ضروری نہیں سب سکھوں سے انسانیت ختم ہو گئی تھی

انسانیت آج بھی ذندہ تھی

باقی ایمان کا فیصلہ اللہ نے کرنا تھا

“میری بیٹی دل چھوٹا نا کر تمہارا باپ ذندہ ہے”

سونیا یہ سن کر خود کو رونے سے نہیں روک سکی

وہ چہرہ ہاتھوں میں چھپاۓ بری طرح رو دی

کلدیپ کا دل چھوٹا تھا سونیا کو روتا دیکھ کر وہ بھی رو دیا وہ اسے اپنی بہن کی طرح عزیز ہو چکی تھی

امن سنگھ اٹھا اور گلاس میں پانی لا کر سونیا کو دیا

اور پاون کلدیپ کو کاندھے سے پکڑ کر چپ کروا رہا تھا

“پانی پی لیں” وہ پانی کا گلاس سونیا کو دے رہا تھا مگر ایک نظر کے بعد دوبارہ سونیا کو دیکھا نہیں تھا

سونیا نے روتے ہوئے پانی کا گلاس لبوں سے لگایا اور پی گئی

پانی پی کر بہت سکون ملا

“رونے سے خود کو اذیت مت دو ہم سب تمہارے ساتھ ہیں کوئی تمہیں تنہا نہیں چھوڑے گا بھروسہ رکھو” امن سنگھ بازوں بغل میں باندھے سامنے دیکھتے ہوئے سونیا سے کہہ رہا تھا “تم جہاں کہو گی تمہیں میں خود چھوڑ کر آؤںگا میرا یقین رکھو اور یہ میرا تم سے وعدہ ہے تمہاری حفاظت کی زمہ داری میں لیتا ہوں تم غم نا کرو اور رو بھی مت جہاں مشکل سر پر آتی ہے وہاں آسانیاں بھی پیدا ہوتی ہیں تم مجھ پر یقین رکھو” وہ بہت ٹہر ٹہر کر بول رہا تھا

اسکے ہر لفظ میں سچائی اور ایک مضبوط عزم تھا

اسکے الفاظ چیخ کر کہہ رہے تھے یہ ایک مرد کے الفاظ ہیں جو اپنا کہا جان دے کر بھی ضرور پورا کرےگا

اور سونیا کا دل یقین کر اٹھا

یہ ضرور مجھے با حفاظت پہنچانے والا ہے

اسکے دل نے اقرار کیا

یہ ایک مرد کی زبان تھی

“حالات سازگار ہو جاۓ تم جہاں کہو گی وہاں چھوڑ آۓ گے مگر محفوظ ہاتھوں میں ” امن نے ایک نگاہ سونی کے چہرے پر ڈالی جو اسے ہی دیکھ رہی تھی

سونیا اثبات میں سر ہلا کر مسکرا دی

————————

چاروں طرف سرخ گلاب تھے ایسی پھولوں کی وادی تھی جو پہلے اس نے کبھی نہیں دیکھی تھی

وہی شہزادی بہت ادا سے سبز لباس ذیب تن کیے سیدھی چلی جا رہی تھی سبز لباس پر سبز نئے خوبصورت جوتے پہنے اسکی ادا نرالی تھی سر کو دوبٹے سے ڈھانپا ہوا تھا

وہ اسے اسکا نام پکار کر آواز دے رہا تھا اور پھر اس پری وش نے اسے مڑ کر دیکھا آج وہ بے نقاب تھی ہونٹوں پر بہت جاندار مسکان لئے اس پری نے اسے دیکھا سینے پر سبز غلاف میں مقدس کتاب کو چھپاۓ وہ آگے بڑھ رہی تھی

اور وہ اسکے پیچھے بھاگ رہا تھا اسکا نام پکارتا ہوا فاصلہ کم رہ گیا تھا بس وہ اس تک پہنچنے ہی والا تھا

جھٹکے سے اسکی آنکھ کھل گئی

وہ پسینے میں شرابور تھا

سانس بہت تیز تھی

آج اسے لڑکی کا نام یاد تھا وہ خواب میں اس لڑکی کو نام سے پکار رہا تھا

اور چہرہ تو جیسے دل کے نہاں خانوں میں چھپا ہوا تھا

اس چہرے پر تو پہلی نظر کا وہ اسیر ہوا تھا جو اسے خواب میں آکر نجانے کون سے اشارے دے رہی تھی

————

وہ اور ماں چھت پر سوتے تھے

باقی مرد نیچے صحن میں

ماں اسے بہت سینت سینت کر رکھ رہی تھی

اسے نیند آکر نہیں دے رہی تھی کروٹ بدل بدل کر اب اسے پیاس لگنے لگی

سونیا نے ماں کی جانب دیکھا وہ خراٹے لیتے ہوئے سو رہی تھیں

سونیا کے لبوں پر مسکان کھل اٹھی

اور آہستگی سے سونیا نے پاؤں میں چپل اڑسے اور احتیاط سے سیڑھیاں اترنے لگی

پیاس سے گلے میں کانٹے چھبنے لگے تھے

بنا صحن میں دیکھے سونیا کچن میں جا کر پانی پینے لگی اور دو گلاس پانی پی کر اسکی جان میں جان آئی

اور پھر اچانک سونی کی نگاہ ایک کمرے پر پڑی

أدھ کھلے دروازے سے دئیے کی مدھم روشنی جھانک رہی تھی

سونیا کو اچھنبا ہوا

کون اس وقت گرم کمرے میں کیا کرہا ہے

سونیا کو تجسس ہوا

دبے پاؤں سونیا خاموش قدموں سے کمرے کی جانب بڑھی

انجانے خدشوں سے دل گھبرا اٹھا تھا

دروازے کے پاس پہنچ کر سونیا نے بہت احتیاط سے ہلکا سا دروازہ وا کیا جو بنا آواز کئے کھلتا چلا گیا

اگلا لمحہ سونیا کے لئے حیران کن تھا

وہ پھٹی آنکھوں سے سامنے دیکھ رہی تھی

ایسا منظر وہ خواب میں بھی سوچ نہیں سکتی تھی جو اس کمرے میں تھا.

دروازے کا پٹ سختی سے تھامے اندر کا حیران کن منظر دیکھتی سونیا پتھر کی بن چکی تھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *