Nakhreli Muhabbatein by Seema Shahid NovelR50635 Nakhreli Muhabbatein (Last Episode)
Rate this Novel
Nakhreli Muhabbatein (Last Episode)
Nakhreli Muhabbatein by Seema Shahid
اقبال صاحب فون بند کرکے پلٹے ہی تھے کہ تائی ان کے سامنے آگئی ۔۔
” کس کا فون تھا اتنے پریشان کیوں ہو خیریت تو ہے ۔۔۔“
”کمشنر احمد کا فون تھا مریم کا پتہ لگ گیا ہے وہ کل مریم کو اپنی سالی کے ساتھ کسی ریسٹورانٹ بھیج رہا ہے کہتا ہے ادھر ہی مریم کو مار دیں ٹارگٹ کلنگ کا بہانہ بن جائیگا ۔“ اقبال صاحب نے تفصیل سے بتایا ۔
” لو تو اس میں اتنا پریشان ہونے کی کیا بات ہے اس شہر میں تو آئے دن وارداتیں ہوتی رہتی ہیں آپ بھی کسی بدمعاش کو پیسے دے کر اس کرم جلی بدلحاظ لڑکی کو گولی سے اڑوا دیں ۔“ تائی نے مشورہ دیا ۔
”تم نہیں جانتی یہ کمشنر بہت لالچی ہے یہ ساری زندگی مریم کے قتل کو بنیاد بنا کر ہم سے بڑی رقوم کا مطالبہ کرتا رہے گا پہلے ہی بھائی صاحب اور بھابھی کے قتل کے حوالے سے مجھ سے لاکھوں لوٹ چکا ہے ۔“ اقبال صاحب نے سر دباتے ہوئے کہا
”سنو جی ایک تیر سے دو شکار کرو اس کمشنر کو بھی اسی ریسٹورانٹ میں بلاؤ کہو کہ ساتھ بیٹھ کر وارادت کو دیکھنا ہے اسے رقم بھی دینے کا لالچ دو اور جن غنڈوں کو فائرنگ کا کام دو انہیں اس لالچی خبیث کو ٹھکانے لگانے کا بھی ٹھیکہ دے دو ۔۔۔“ تائی نے اپنے شیطانی آئیڈیا دیا ۔
”نیک بخت تم ٹھیک کہہ رہی ہو میں اس احمد سے بات کرتا ہوں ۔۔۔“ اقبال صاحب نے جواب دیا
”ڈیڈی کس سے کا ذکر خیر ہورہا ہے ۔۔۔“ گاڑی کی چابی ہلاتا زوہیب کمرے میں داخل ہوا
”ہے ایک دوست تم سناؤ کدھر غائب ہو کم از کم رات میں تو وقت پر گھر آجایا کرو ۔۔“ اقبال صاحب نے اپنے اکلوتے صاحبزادے کو ٹوکا ۔
”ڈیڈی آپ جانتے تو ہیں میرے دوستوں کو بس آجکل ہم سب دوست مل بیٹھے ہیں تو دیر ہوجاتی ہے اچھا یہ بتائیں مریم کا کچھ پتہ چلا ۔۔“ زوہیب نے پیپسی کا کین فرج سے نکالتے ہوئے سوال کیا ۔
” نہیں ابھی تک کچھ پتہ نہیں چلا ۔۔“ اقبال صاحب نے جواب دیا ۔
” ویسے ڈیڈی آپ کی بھتیجی بہت ہی ڈھیٹ ہڈی ہے اچھا بھلا نہر میں پھینک دیا تھا پر پھر بھی وہ سروائیو کرگئی ۔۔“ زوہیب نے نفرت سے مریم کا ذکر کیا
”کوئی بات نہیں بیٹا اس مریم اور اس کے سو کالڈ شوہر نے مجھ پر کیس کرکے اچھا نہیں کیا تم دیکھنا بہت جلد میں اس فساد کی جڑ کو زمین کے اندر پہنچانے والا ہوں ۔۔۔“ اقبال صاحب سفاکی سے بولے ۔
********************
صبح کے سات بج رہے تھے پورے گھر میں لاؤڈ اسپیکر کی طرح حمزہ کی آواز گونج رہی تھی ۔۔۔
”اس گھر میں بسنے والے ڈھیٹ نخریلے افراد خدارا اب اٹھ جاؤ اور منہ ہاتھ دھو کر کچن میں رپورٹ کرو ۔۔“
وہ کچن میں کھڑا جلدی جلدی ناشتہ بناتے ہوئے مائک کے ذریعے سوئی ہوئی قوم کو جگانے کا فریضہ بھی انجام دے رہا تھا ۔۔
”میرے راج دلارو گڈو پپو اب اٹھ جاؤ اس سے پہلے کے میں تمہیں اٹھانے آجاؤں ۔
کمرے میں اے سی کی خنکی پھیلی ہوئی تھی اور گڈو اور پپو دونوں نیند میں حمزہ کی آوازیں سن سن کر ڈسٹرب ہو رہے تھے بالآخر گڈو نے بستر چھوڑا اور برے برے منہ بناتا حمزہ کے کمرے کی جانب روانہ ہوا
مریم اپنے کانوں میں انگلیاں دئیے منہ پر تکیہ رکھے دل ہی دل میں حمزہ کو صلاوتیں سنا رہی تھی اتنی اچھی نیند آرہی تھی اور اس ٹین ڈبے والے حمزہ نے پورا گھر سر پر اٹھایا ہوا تھا مریم کے غصہ کا گراف اوپر بڑھتا جارہا تھا تنگ آکر اس نے تکیہ منہ سے ہٹایا اور اٹھ کر بیٹھ گئی اس سے پہلے وہ بستر چھوڑتی آنکھیں مسلتا منہ بسورتا گڈو کمرے میں داخل ہوا۔
”گڈ مارننگ بےبی ۔۔کیا تم پلیز چاچو کو ڈانٹ سکتی ہو وہ سونے نہیں دے رہے ۔۔“گڈو نے فرمائش کی
”تمہارے چاچو ہیں تم خود جا کر بات کرو بچے اپنے حق کیلئیے لڑنا سیکھو ۔۔۔“ مریم نے گڈو کو اکسانے کی کوشش کی
”بے بی یہ حق کیا ہوتا ۔۔“ گڈو نے پوچھا
”کوئی نیا فائٹ والا گیم ہے کیا۔۔۔“گڈو کے لہجے میں اشتیاق تھا
”ایک تو گڈو تم بھی کبھی تو گیم اور کیبل سے ہٹ کر سوچا کرو ابھی تو سب چھوڑو کچن میں چل کر تمہارے چاچو کی کلاس لیتے ہیں ۔“ مریم نے اٹھ کر بال جوڑے میں لپیٹے دوپٹہ اٹھا کر شانوں پہ ڈالا اور سلیپر پہن کر گڈو کو لئیے باہر نکلی اب ان دونوں کا رخ کچن کی جانب تھا ۔
کچن کا تو منظر ہی الگ تھا حمزہ ناشتہ پلیٹوں میں نکال رہا تھا اور وہ بچ ستی ساوتری بنی نک سک سے تیار میک اپ جیولری سے مزین حمزہ کے ہاتھ سے پلیٹ لے جاکر میز پر لگا رکھ رہی تھی مریم اور گڈو دونوں ہونقوں کی طرح منہ کھولے اس ناقابل یقین منظر کو دیکھ رہے تھے ۔
”بےبی لگتا ہے اس وچ نے چاچو کو پٹالیا ہے ۔۔“ گڈو کی صدمے میں ڈوبی سرگوشی مریم کی سماعت سے ٹکرائی ۔
”یہ کیا ہورہا ہے ۔۔۔“ مریم بلند آواز سے حمزہ اور ماہین کو گھورتی اندر داخل ہوئی
”گڈ مارننگ مریم آپا ! حمزہ بیچارے کب سے اکیلے کچن میں لگے ہوئے تھے بس مجھ سے برداشت نہیں ہوا کہ مجھ جیسی سگھڑ لڑکی کے ہوتے ہوئے حمزہ بیچارے اکیلے کام کریں اس لئیے میں ان کی مدد کیلئیے آگئی ۔۔“ ماہین نے مریم کے پاس آکر جواب دیا ۔
مریم نے کھا جانے والی نظر سے بیچارے چھ فٹے حمزہ کو دیکھا جو چائے مگ میں انڈیل رہا تھا اور پھر اپنے سے کم ازکم چار سال بڑی عمر کی کاکی کو دیکھا جو اسے آپا کہہ رہی تھی
”حمزہ میں نے کہا تھا کہ یہ صبح سویرے سحری والے نہ بنا کرو ۔۔۔“ مریم اس کے پاس جا کر پھنکاری
”بےبی یہ سحری والا کون ہوتا ہے ۔“گڈو نے ٹانگ اڑائی۔
”سحری والا تمہارا چاچو ہوتا ہے ۔۔“ مریم نے تنک کر جواب دیا اور کچن سے واک آؤٹ کرگئی
حمزہ نے بغور مریم کا جلتا کلستا انداز دیکھا ۔۔
اس سے پہلے وہ مریم کے پیچھے جاتا پپو آنکھیں مسلتا دروازے پر نمودار ہوا ۔
”چاچو میں آگیا ۔۔۔“ پپو نے اٹینڈس لگوائی
حمزہ نے پپو کو اٹھا کر کرسی پر بٹھایا اور گڈو کو بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔
” مس ماہین میں ابھی دس منٹ میں آتا ہوں تب تک آپ بچوں کو ناشتہ کروادیں ۔۔“ حمزہ ماہین کو کام دے کر تیزی سے اپنے کمرے کی جانب گیا۔
مریم کمرے میں آ کر جلتے بھنتے ہوئے بیڈ پر سر تک چادر تان کر لیٹ گئی تھی اسے ماہین کا حمزہ کے ساتھ کچن میں کام کرنا پسند نہیں آیا تھا اور لفظ آپا تو اس کے دل پر ٹھاہ کرکے لگا تھا ابھی اسے اندر آئے پانچ منٹ ہی گزرے تھے کہ دروازہ کھول کر حمزہ اندر داخل ہوا ۔
”مریم “ حمزہ نے بیڈ کے پاس آکر اسے آواز دی ۔
”مریم ڈارلنگ اب ڈرامہ بند کرو اور چل کر اپنے ہینڈسم ہسبنڈ کے ہاتھ کا بنا ناشتہ نوش فرماؤ ۔“ حمزہ نے بولتے ہوئے مریم کے منہ سے چادر ایک جھٹکے سے اتار دی ۔
”کیا ہے کیوں تنگ کررہے ہو جاؤ جا کر اپنی اس کالی ماتا کی بچ کے ساتھ ناشتہ کرو بڑی آئی بیچارہ حمزہ کہنے والی ۔۔۔“ مریم نے بھڑاس نکالی
”جیلس ہورہی ہو ۔۔۔“ حمزہ نے شرارت سے پوچھا
”میں اور جیلس بھلا میں کیوں جیلس ہونگی خوامخواه میری بلا سے تم جس کے ساتھ چاہوں ناشتہ بناؤ ۔۔“ مریم سلگتے ہوئے بولی ۔
حمزہ نے ایک گہری نظر مریم کے سلگتے چہرے پر ڈالی اور پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے کھینچ کر اپنے مدمقابل کھڑا کیا ۔۔
”مریم کل ہمارا ولیمہ ہے ہم اپنی نئی زندگی کی شروعات کرنے جارہے ہیں اور اب میں کوئی انکار برداشت نہیں کرونگا اور نہ ہی ہمارے بیچ کوئی فاصلے رہنے دونگا اس لئیے تمہارے جو بھی اعتراضات ہیں مجھے کھل کر بتاؤ ۔۔۔“ حمزہ نے سنجیدگی سے بات مکمل کی ۔
مریم نے پلکیں اٹھا کر حمزہ کو دیکھا جو بڑی فرصت اور سنجیدگی سے اس کی جانب متوجہ تھا یہ بات تو طے تھی کہ حمزہ اس کے دل میں برآجمان ہوچکا تھا بس اس بات کا اظہار حمزہ سے کرنا مشکل لگ رہا تھا ۔۔۔
”میری کچھ شرائط ہیں اگر تم مان لو تو میں ۔۔“ مریم نے خشک ہوتے لبوں پر زبان پھیری ۔
”تو میں کیا ؟ پہلے بات مکمل کرو پھر شرائط پیش کرو ۔۔۔“ حمزہ نے بغور اس کا شرم سے لال ہوتا چہرہ دیکھنے لگا ۔
”تم کاغذ اور پینسل لاؤ اور میری شرائط لکھ کر دستخط کرکے دو تاکہ کل کو میرے پاس سند رہے تمہارا کیا بھروسہ مجھے حاصل کرکے اپنی بات سے مکر گئے تو ۔۔“ مریم نے جھجکتے ہوئے کہا
حمزہ نے جھک کر مریم کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں بھرا اور اس کی آنکھوں میں جھانکتا ہوا سنجیدگی سے گویا ہوا ۔
”محترمہ بیگم صاحبہ آپ ارشاد فرمائیے آپ کے ان نازک لبوں سے نکلے الفاظ خود ہی میرے دل پر نقش ہوجائینگے
”حمزہ پلیز ۔۔۔“ مریم اس کی قربت سے گھبرا اٹھی
”اوکے اوکے تمہارے پاس پانچ منٹ ہیں فٹافٹ اپنی شرائط بتاؤ ۔۔“ حمزہ اسے اپنی گرفت سے آزاد کرتا ہوا صوفہ پر بیٹھ گیا
مریم نے اپنی اتھل پتھل سانس پر قابو کیا اور بڑی سنجیدگی سے اپنی شرائط پیش کرنے لگی ۔
”پہلی شرط آج سے بلکہ ابھی سے تم وہ منحوس بھونپو مائک اس گھر میں نہیں چلاؤ گئے ۔
دوسری شرط مجھ سے مشکل مشکل کھانے نہیں پکواؤ گے بلکہ کھانا ہی نہیں پکوانا ہم اسنیکس کھالیا کرینگے ۔
تیسری شرط گڈو اور پپو کو کبھی بھی الٹا نہیں لٹکاؤ گے
چوتھی شرط مجھ سے صبح نہیں اٹھا جاتا اس لئیے ہم سب کا ناشتہ تم بنایا کروگے ۔
پانچویں شرط میں ہنی مون پر گڈو اور پپو کے ساتھ لندن جاؤنگی اپنے گھر۔
چھٹی شرط ۔۔۔۔اور بس حمزہ صاحب کا ضبط جواب دے گیا ۔
”کیا پورے چودہ نکات رٹ کر آئی ہو اور غضب خدا کا ہنی مون پر گڈو اور پپو کے ساتھ جاؤگی میں کیا ادھر اکیلے چنے بھونوں گا ۔۔۔بس بہت ہوگیا میری شرافت کا ناجائز فائدہ مت اٹھاؤ اور شرافت سے میری دلہن بن جاؤ ۔“حمزہ نے دو ٹوک لہجے میں جواب دیا ۔
”اب جلدی سے تیار ہوجاؤ تمہیں پارلر چھوڑنا ہے پھر بچوں کی شیروانیاں پک کرنی ہیں لنچ میں باہر سے لے آؤنگا اور ڈنر تو سس کروا رہی ہے ۔“ حمزہ نے پورے دن کا ٹائم ٹیبل بتایا ۔
”پارلر کیوں مجھے نہیں جانا ۔۔۔“ مریم نے انکار کیا
”میڈم مجھے اپنی دلہن مکمل سنگھار کے ساتھ چاہئیے میں نے ٹائم لیا ہوا ہے جلدی کرو ۔۔“ حمزہ نے آرڈر دیا اور خود بچوں کو تیار کرنے باہر چلا گیا
تھوڑی دیر بعد ماہین کو بنا بتائے ان چاروں کا قافلہ روانہ ہوچکا تھا سب سے پہلے حمزہ نے ایک مشہور پارلر کے آگے گاڑی روکی اور دروازہ کھول کر اترتے ہوئے مریم کو بھی اترنے کو کہا۔۔
”سنو یہ فون رکھ لو جب فارغ ہوجاؤ تو کال کروا دینا اور ہاں مہندی بھر کر کہنیوں تک لگوانا مجھے تمہارے گورے گورے ہاتھوں میں اپنے نام کی مہندی دیکھنی ہے ۔۔“ حمزہ نے گھمبیر لہجے میں سرگوشی کی
مریم بلش کرگئی تھی اور تیز تیز قدموں سے چلتی پارلر کے اندر داخل ہوگئی ۔۔
”چاچو ۔۔“ پپو نے جو گاڑی کی کھڑکی سے لٹک رہا تھا حمزہ کو پکارا
”جی چاچو کی جان کیا ہوا ۔۔۔“ حمزہ اس کے پاس آیا
”چاچو مجھے بھی آپ کے نام کی مہندی لگانی ہے ۔“ پپو نے فرمائش کی
”اف ابے میری جان کے ٹوٹے لڑکے مہندی نہیں لگاتے بلکہ لگواتے ہیں خیر تو ابھی نہیں سمجھے گا ۔۔۔“ حمزہ نے اسے کھڑکی سے اندر کیا ۔
کافی سارے کام نبٹا کر میکڈونلڈ سے لنچ پیک کروایا اور اب حمزہ نے گاڑی کا رخ پارلر کی جانب کیا تھوڑی ہی دیر میں نکھری نکھری مریم باہر آگئی اس کے ہاتھوں پیروں میں مہندی اپنی بہار دکھلا رہی تھی حمزہ کی نظروں میں اسے دیکھ کر پسنديدگی امنڈ آئی تھی ۔
مریم کو گاڑی میں احتیاط سے بٹھانے کے بعد واپسی کا سفر شروع ہوا پورے راستے گڈو اور پپو مریم کو اور اس کے مہندی سے سجے ہاتھوں کو دیکھتے آئے تھے ۔۔
گھر پہنچ کر حمزہ نے گاڑی اندر پورچ میں پارک کی گڈو اور پپو کو باہر نکال کر لنچ پکڑایا اور خود مریم کو اترنے میں مدد دینے لگا
”مریم رک جاؤ چلنے سے تمہارے پیروں کی مہندی خراب ہوجائیگی ۔۔“ حمزہ نے مریم کو ٹوکا اور پھر بڑے آرام سے نازک سی مریم کو اپنے بازوؤں میں اٹھا کر اندر اپنے بیڈروم میں لے آیا۔
”اب تم آرام کرو میں بچوں کو چیک کرلوں ۔۔“
*************************
ماہین جلے پیر کی بلی کی طرح اپنے کمرے میں ٹہل رہی تھی حمزہ اسے بتائے بغیر سب کو لیکر باہر چلا گیا تھا ابھی ماہین اپنا غصہ دبانے کی کوشش کررہی تھی کے اسکا سیل فون بج اٹھا ۔
”جی احمد بھائی بتائیں مجھے ان کو آج کس جگہ ڈنر پر لانا ہے ۔۔“ ماہین نے چھوٹے ہی پوچھا
”کیا ماہی نہ سلام نہ دعا سیدھی مطلب کی بات ٹھیک جا رہی ہو بہنا ۔۔۔“ کمشنر احمد ہنس پڑے ۔
”احمد بھائی پلیز آپ جانتے ہیں میں حمزہ کیلئیے پاگل ہوں اس لئیے مجھ سے اس مریم کا وجود برداشت نہیں ہورہا آپ مجھے جلدی سے پلان بتائیں ۔۔“ماہین چٹخ کر بولی
”اچھا بابا سنو مارگلہ ہلز کے پاس آمنے سامنے دو ریسٹورانٹ ہیں تم حمزہ اور بچوں کو لے کر دائیں جانب والے ٹیولپ ریسٹورانٹ میں آؤگی اور گارڈن میں ٹیبل سلیکٹ کرکے بیٹھو گئی میں سامنے والے ریسٹورانٹ سے تم پر نظر رکھونگا ڈنر سرو ہونے کے دس منٹ بعد باہر سے گولی چلے گئی جو اس مریم کا کام تمام کردیگی ۔۔“ کمشنر احمد نے اسے تفصیل سے سمجھایا۔
ماہین سارا پلان سن کر ریلکس ہوگئی تھی اور اب شام کےلئیے اپنا لباس تیار کررہی تھی بالوں میں رولرز لگائے گناگناتے ہوئے وہ اپنے ہاتھوں پر نیل پالش لگا رہی تھی جب اسے راہ داری میں بچوں کے دوڑنے کی آوازیں آئی وہ خاموشی سے اٹھی اور دروزے کی جھری سے باہر دیکھنے لگی حمزہ اس منحوس مریم کو اپنے بازوؤں میں اٹھائے کمرے میں لے جا رہا تھا ۔یہ منظر دیکھ کر ماہین کا خون کھول گیا ۔۔۔
”بس چند گھنٹے اور پھر اس مریم کی زندگی ختم اس کے بعد یہ گھر جائیداد اور سب سے بڑھ کر حمزہ سب میرا ہوگا ۔۔“ ماہین نے خود کو تسلی دی ۔
****************************
مریم تکیہ سے کمر لگا کر بیٹھی ہوئی تھی جب حمزہ دونوں بچوں کے ساتھ ہاتھ میں ٹرے اٹھائے اندر داخل ہوا
”آؤ بےبی لنچ کریں بہت یمی ہے ۔۔۔“ گڈو نے مریم کو مخاطب کیا
حمزہ نے ٹرے بیڈ پر رکھی جس میں برگرز نگیٹس فرائز اور کوک کے کین تھے دونوں بچوں کو پلیٹ میں ان کی پسند کا کھانا نکال کر دیا اور خود پلیٹ میں برگر رکھ کر مریم کے پاس آکر بیٹھ گیا ۔
”مریم تم منہ کھولو میں تمہیں لنچ کرا دیتا ہوں ۔“حمزہ نے برگر مریم کی طرف بڑھایا
”چاچو بےبی خود کیوں نہیں کھا سکتی ۔۔“ گڈو نے سوال اٹھایا
”بیٹا بےبی کے ہاتھ میں مہندی لگی ہے خراب ہوجائیگی ۔۔“ حمزہ نے پیار سے گڈو کو سمجھایا
”اوکے تو چاچو آپ پپو کو کھانا کھلا دیں بےبی کو برگر میں کھلا دونگا … افف بےبی کتنا مزا آئیگا ہم شئیر کرکے کھائینگے ۔“گڈو جوش سے بولتا ہوا مریم کے پاس آکر بیٹھ گیا اب مریم بڑے سکون سے ہنستے مسکراتے ہوئے گڈو کے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے نگٹس اور فرائز کھا رہی تھی اور حمزہ ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔
”چاچو پپو کو دیکھیں وہ بھی تو میرا بےبی برادر ہے آپ ایسا کریں اسے کھانا کھلا دیں ۔“ گڈو نے حمزہ کو مفت مشورہ دیا۔
گول مٹول صحتمند سا پپو منہ پر کیچپ لگائے فرائز کھا رہا تھا بلکہ کھا کم گرا زیادہ رہا تھا حمزہ نے اس کو پکڑ کر اپنی گود میں بٹھایا نیپکن سے منہ صاف کیا اور اپنے ساتھ ساتھ اس کو بھی برگر کھلانے لگا ۔۔
”بےبی کل پارٹی میں نا پپو اور میں ڈانس کرینگے تم کھانا کھا لو پھر میوزک سلیکٹ کرنا ہے ۔۔“ گڈو نے بڑے جوش سے مریم کو اطلاع دی .
”گڈو پپو آج سے نو مور بےبی اب آپ چاچی بولا کرو ۔۔“ حمزہ نے دونوں کو سمجھایا .
”بٹ چاچو چاچی تو اولڈ پیپل ہوتی ہیں ۔۔“ گڈو نے احتجاج کیا .
”اب اگر کسی کے منہ سے بےبی سنا تو الٹا لٹکا دونگا ۔“ حمزہ نے دھمکی دی .
”حمزہ تم ان پیارے پیارے معصوم فرشتوں کو کیسے الٹا لٹکا سکتے ہو میری شرط ابھی سے بھول گئے بھلا بتاؤ میں کیسے تم پر بھروسہ کروں ۔۔“مریم نے ملکہ جذبات کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ۔۔
”افف اللہ ۔۔“ حمزہ تلملایا .
”محترمہ آپ کے چودہ نکات مجھے ازبر ہیں پہلے میں آپ سے اپنا حق تو وصول کرلوں پھر ان پر عمل بھی کرلونگا ۔۔“ حمزہ نے جواب دیا اور خالی ٹرے اٹھا کر باہر نکل گیا ۔
”گڈو اور پپو خبردار جو تم دونوں نے مجھے چاچی کہا ۔۔۔“ حمزہ کے جانے کے بعد مریم نے دونوں کو تنبیہہ کی ۔
”چاچی نہیں کہنا بےبی بھی نہیں کہنا تو کیا اب آپ کو پنکی کہنا ہے ۔۔۔“ گڈو تپا
”میں تم دونوں کو کل فنکشن کے بعد بتاؤنگی کے اب میرا نام کیا ہوگا ۔
**********************
شام ڈھل رہی تھی حمزہ کافی دیر سے گھر سے غائب تھا مریم کی مہندی سوکھ چکی تھی اور وہ ہاتھ پیر دھو کر گڈو اور پپو کے ساتھ لیونگ روم میں موجود تھی آئی پوڈ پر گڈو میوزک سلیکٹ کررہا تھا
”بےبی یہ والا سونگ اچھا ہے پرانا ہے پر مجھے اچھا لگتا ہے اب تم میرا اور پپو کا ڈانس دیکھو “ گڈو نے میوزک پلے کیا
کل رات سے حمزہ ایک پل نہیں سویا تھا ابھی بھی تھکا ہارا وہ گھر میں داخل ہوا تو تیز چلاتے میوزک کی آواز نے اس کا استقبال کیا اندر آیا تو سامنے کا منظر اس کی ساری تھکن اڑا کر لے گیا
”چکنی چمبیلی گھر سے اکیلی “ گانا بج رہا تھا اور گڈو اور پپو کا آئیٹم ڈانس عروج پر تھا گڈو مٹک رہا تھا اسکی چھوٹی سی توند بھی ہل رہی تھی اور پپو صاحب کے ہاتھ میں اپنا فیڈر تھا جسے حمزہ آج تک نہیں چھڑواسکا تھا ۔سرخ و سفید گول مٹول پھولے پھولے گالوں والا پپو بنیان پہنے کسی مست ملنگ کی طرح جھوم رہا تھا اور فیڈر سے پوا پہ پوا چڑھا رہا تھا حمزہ نے تھوڑی دیر تک ان کاناچ گانا دیکھا پھر کمرے میں آکر میوزک کا تار کھینچ کر نکالا ۔۔
گڈو اور پپو دونوں جھومتے جھومتے اپنی جگہ ساکت ہوگئے ۔۔
”چاچو میوزک کیوں بند کیا ۔۔۔“ پپو نے منہ پھلا کر غصہ کا اظہار کیا ۔
اس سے پہلے حمزہ کوئی جواب دیتا بلیک جینز اور میرون کرتی میں لائٹ سے میک اپ میں جگمگاتی ماہین حمزہ کو مخاطب کرتی ہوئی اندر داخل ہوئی ۔۔
”حمزہ آپ لوگ اب تک تیار نہیں ہوئے ڈنر پر جانا ہے لیٹ ہوجائیگا میں تو بکنگ بھی کروا چکی ہوں ۔۔“
مریم ماہین کو ایک نظر دیکھتی منہ بسورتے پپو کو گود میں اٹھا کر گڈو کی انگلی پکڑتے ہوئے باہر نکل گئی ۔۔
”مس ماہین بس دس منٹ میں سب کو لیکر آتا ہوں ۔۔۔“ حمزہ نے ماہین کو تسلی دی اور لمبے لمبے قدم اٹھاتا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا ۔
حمزہ کمرے میں داخل ہوا تو تینوں نخریلوں کی جوڑی سر جوڑے بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی ۔
”مریم چلو جلدی سے تیار ہوجاؤ اور گڈو پپو شاباش جاؤ جلدی سے ریڈی ہوکر آؤ ۔۔“ حمزہ نے تینوں کو ایک ساتھ نبٹایا .
” چاچو ہم اس وچ کے ساتھ باہر نہیں جائینگے میں نے آپ کو بتایا تھا کے وہ۔۔۔“
”گڈو بس ۔۔نو مور آرگیومنٹس میں ہوں نا جاؤ دس منٹ میں تیار ہوکر آؤ ۔۔“ حمزہ نے گڈو کی بات کاٹی ۔
گڈو اور پپو کے باہر جانے کے بعد وہ مریم کی جانب متوجہ ہوا جو سر جھکائے اپنے ہاتھ پر لگی مہندی کے ڈیزائن کو گھور رہی تھی حمزہ آہستگی سے چلتا ہوا اس کے پاس آیا
” ماشاءاللہ مہندی تو بہت کھل رہی ہے ۔۔“ حمزہ اس کے دونوں ہاتھ تھام کر بغور دیکھتا ہوا بولا
مریم نے کسمسا کر اپنے ہاتھ چھڑوانے چاہے پر مقابل کی گرفت مضبوط تھی ۔۔
”حمزہ ہاتھ چھوڑئیے پلیز ۔۔۔“ مریم منمنائی
” اٹھو جلدی سے تیار ہوجاؤ اور سنو چادر اوڑھ کرچلنا ۔۔“ حمزہ نے اسے کھینچ کر کھڑا کیا ۔
” حمزہ پلیز مجھے نہیں جانا میرا دل نہیں چاہ رہا ۔۔“ مریم دھیرے سے بولی ۔
”مریم آج ہمارا جانا بہت ضروری ہے اس لئیے مجھ پر بھروسہ کرو اور دس منٹ میں بچوں کے ساتھ پورچ میں ملو میں انتظار کررہا ہوں ۔۔“
رات کا وقت اوپن ائیررسٹورنٹ میں مدھم مدھم لائٹس اور میوزک کے ساتھ خوابناک سا ماحول بنا ہوا تھا حمزہ مریم گڈو پپو اور ماہین سارے ہی میز کے گرد بیٹھے اپنا اپنا آرڈر ویٹر کو لکھوا چکے تھے اور اب سب خاموش بیٹھے ایک دوسرے کو گھور رہے تھے گڈو بہت چوکنا تھا اور مریم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا تھوڑی ہی دیر میں آرڈر سرو ہونا شروع ہوگیا ۔۔
ابھی ان سب نے کھانا شروع ہی کیا تھا کہ ریسٹورانٹ میں اپنے دوستوں کے ساتھ اندر داخل ہوتا زوہیب مریم کو دیکھ چونک گیا اور اپنے دوستوں کو آگے جانے کا بول کر خود مریم کی جانب بڑھا ..
”مریم تم شرم نہیں آتی اپنے گھر کو چھوڑ کر غیروں کے ساتھ گلچھرے اڑاتے ہوئے ۔۔۔“ زوہیب نے مریم کے پاس آکر اس کی کلائی پکڑتے ہوئے کہا ۔
حمزہ تیزی سے اٹھا اور زوہیب کا ہاتھ ایک جھٹکے سے دور ہٹایا ۔۔
”مسڑ زوہیب میری وائف سے دور رہو ۔
”کیوں بھئی کیوں دور رہو میری کزن ہے میں اسے اپنے ساتھ لیکر جاؤنگا ۔۔۔“ زوہیب بولتا ہوا پھر مریم کے قریب آیا اس سے پہلے حمزہ اسے گھونسا مارتا ایک زور دار آواز گونجی
**********************
کمشنر احمد سادے لباس میں ریسٹورانٹ پہنچ چکے تھے ابھی ویٹر کی رہنمائی میں اپنے لئیے ریزورو میز پر پہنچے ہی تھے کہ اقبال صاحب ہاتھ میں بریف کیس لئیے ہوئے تشریف لائے ۔
”ہیلو مسٹر اقبال کیسے ہو اور میرا مال لائے ہو کیا ۔۔۔“ کمشنر احمد ہاتھ ملاتے ہوئے بولا
”احمد صاحب گن لینا پورے ساٹھ لاکھ لایا ہوں پر کام ہوجائے پھر دونگا ۔۔۔“ اقبال صاحب بریف کیس دکھاتے ہوئے بولے ۔
”کون سا شوٹر ہائر کیا ہے ۔۔“ احمد نے پوچھا
”آپ کا ہی آدمی ہے جناب بس آدھے گھنٹہ میں کام ہوجائیگا ۔۔“ اقبال صاحب نے مسکرا کر جواب دیا ۔
وہ دونوں باتیں کررہے تھے مگر اس بات سے بے خبر تھے کہ رات حمزہ ماہین کے فون کا سارا ریکارڈ نکلوا چکا تھا اور اس وقت سے اب تک کی ان کی ایک ایک بات ریکارڈ ہورہی ہے اور سادہ لباس میں انٹیلیجنس کے آدمی کمشنر پولیس کو ثبوت کے ساتھ گرفتار کرنے بیٹھے ہوئے ہیں تقریباً آدھے گھنٹے کے بعد اقبال صاحب کے ہائر کئیے ہوئے دونوں شوٹر ریسٹورانٹ میں آچکے تھے ایک کا نشانہ کمشنر احمد اور دوسرے کا نشانہ مریم تھی ۔۔دونوں شوٹرز نے جیسے ہی اپنے اپنے ٹارگٹ کا نشانہ باندھا انہیں اسی وقت سادہ لباس میں ملبوس افراد نے پکڑلیا اسی پکڑ دھکڑ میں احتیاط کے باوجود گولی چل گئی جو سیدھی جا کر مریم کے سامنے تنے کھڑے زوہیب کے دل کے آرپار ہوگئی ایک رش سا بندھ گیا تھا گولی چلنے کی آواز سن کر سب بھاگنے لگے تھے ۔۔
دوسری جانب گولی چلنے کی آواز سن کر کمشنر کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔
”مسٹر اقبال آپکا کام ہوگیا ہے اب میری امانت میرے حوالے کیجئیے ۔۔۔
اقبال صاحب حیران تھے کیونکہ پلان کے مطابق احمد کو بھی اسی وقت نشانہ بنانا تھا پر ایسا نہیں ہوا انہوں نے ہچکچاتے ہوئے نوٹوں سے بھرا بریف کیس کمشنر کی جانب بڑھایا کمشنر احمد نے بریف کیس لیا ہی تھا کہ سادہ لباس والے آدمیوں نے انہیں گھیر لیا
”مسٹر احمد اینڈ مسٹر اقبال یو آر انڈر اریسٹ ۔۔۔
ان دونوں کو ہتھکڑی لگا کر باہر لایا گیا تو سامنے ایمبولینس کھڑی تھی جس میں زوہیب کی لاش کو رکھا جارہا تھا اقبال صاحب نے زوہیب کے منہ کو سفید کپڑے سے ڈھکتے ہوئے دیکھا اور ان کے اعصاب جواب دے گئے اللہ کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں ہے آج اوپر والے نے انہیں سزا دے دی تھی ۔۔۔۔
***************************
چار ماہ بعد ۔۔۔۔
صبح کا اجالا ہلکا ہلکا پھیل رہا تھا باہر بیٹھے چوکیدار بابا نے اپنی گھڑی میں ٹائم دیکھا چھ بجنے والے تھے وہ مسکرائے ۔۔۔
ایک دو تین چار ۔۔۔۔جیسے ہی وہ دس تک پہنچے پورے گھر کی لائیٹیں جل چکی تھی ۔۔۔
حمزہ کا الارم بجے چلے جارہا تھا مریم نے کوفت سے پہلے بےخبر سوئے حمزہ کو پھر خونخوار نظروں سے حمزہ کے سیل کو گھورا الارم بند کرکے وہ بیڈ سے نیچے اتری اور سیدھا گڈو پپو کے کمرے کی جانب گئی ۔۔۔
”گڈو بیٹا اٹھو جانو صبح ہوگی ہے ۔۔۔“ مریم نے بڑے پیار سے گڈو کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے گدگدایا ۔۔
”گڈ مارننگ ممی ۔۔۔“ گڈو نے آنکھیں کھولیں
” ہممم کیا کہا ۔۔“ مریم نے ٹوکا
”سوری اسلام علیکم ممی ۔۔۔“ گڈو نے جلدی سے سلام کیا اور واش روم بھاگ گیا اب مریم پپو کی طرف بڑھی جو مکی ماؤس کو دبوچے سو رہا تھا مریم نے پہلے اس کے پھولے پھولے گال چومے ۔۔۔
”پپو جانو اٹھ جاؤ شاباش ۔۔“
مریم کا دیوانہ پپو اس کی ایک آواز پر اٹھ گیا
”اسلام علیکم ممی ۔۔۔“
مریم اسے بھی تیار ہونے کی ہدایت دے کر کچن میں آگئی اب وہ جلدی جلدی ناشتہ بنا رہی تھی
انکا ولیمہ اگلے دن بڑے دھوم دھام سے ہوا تھا اسی دن مریم نے دونوں بچوں کو آغوش میں بھر کر خود کو ان کی ممی مان لیا تھا باقی رہی اس کی شرائط تو حمزہ کی محبتوں اور شدتوں کے آگے ساری شرائط دم توڑ گئی تھیں ابھی وہ ٹیبل لگا رہی تھی کے اسکول یونیفارم میں تیار گڈو اندر داخل ہوا اور سیدھا اوون سیٹ کے ساتھ رکھے مائک کی جانب گیا ۔۔۔جی ہاں مائک کی جانب ۔۔۔
” میرے پیارے چاچو اب اٹھ جائیں صبح ہوگئی ہے ناشتہ کرلیں ورنہ میری ممی دوبارہ نہیں بنائینگی ۔۔۔“
کمرے میں نہا دھو کر ایس پی کی وردی پہنے حمزہ گڈو کی آواز سن کر مسکرایا اور اپنی کیپ اٹھا کر باہر کچن کی جانب بڑھا جہاں اس کی خوشیاں محبتیں اس کا انتظار کررہی تھیں
ختم شد
