Nakhreli Muhabbatein by Seema Shahid NovelR50635 Nakhreli Muhabbatein (Episode 08,09)
Rate this Novel
Nakhreli Muhabbatein (Episode 08,09)
Nakhreli Muhabbatein by Seema Shahid
اقبال صاحب کا غصہ سے برا حال تھا ان کی اتنی مکاریوں اور سازشوں کے باوجود مریم زندہ تھی مگر الجھن اس بات کی تھی کہ وہ ایس پی حمزہ کے ہاتھ کیسے لگی ۔۔۔
کچھ دیر بعد اقبال صاحب نے فون اٹھایا اور پولیس کمشنر اسلام آباد کو فون لگایا ۔۔۔
سلام دعا کے بعد اس سے پہلے وہ بات شروع کرتے کمشنر صاحب بول اٹھے
” جی اقبال صاحب اتنے عرصہ بعد آج ہماری یاد کیسے آگئی ۔۔“ کمشنر صاحب نے کہا
” احمد صاحب آپ کے ہوتے ہوئے ہمارے خلاف ایف آئی آر کٹ گئی ہے ۔۔۔“ اقبال صاحب سنجیدگی سے گویا ہوئے
” اقبال انڈسٹریلسٹ کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہمت کس نے کی ؟ “ کمشنر کی حیرت میں ڈوبی آواز سنائی دی
” ہے ایک جوان سرپھرا ایس پی حمزہ علی جو ہمارے خلاف مقدمہ دائر کرنے کی دھمکی بھی دیکر گیا ہے ۔۔“
حمزہ کا نام سن کر کمشنر احمد چونک گئے ۔۔۔
” اقبال صاحب فون پر ایسی بات کرنا مناسب نہیں ہے آپ ایسا کریں شام کو کلب آجائیں وہی تفصیل سے بات کرتے ہیں ۔۔۔“ کمشنر احمد نے بات ختم کرکے فون رکھا ۔
********************************
مریم بچوں کے ساتھ اپنے کمرے میں آئی سارے شاپنگ بیگز میز پر رکھے اب وہ ایک ایک کرکے سارے شاپر کھول کر دیکھ رہی تھی چپل ٹوتھ برش تولیہ ہئیر برش اور بہت سارے برانڈڈ قمیض شلوار جو قیمتی تو تھے مگر بہت شوخ رنگ کے تھے لال میرون سبز نیلے پیلے اس کے چہرے پہ یہ رنگ دیکھ کر مایوسی سی چھا گئی پر کوئی چوائس ہی نہیں تھی ۔۔
” کیا ہوا بےبی ۔۔۔“گڈو ریموٹ سے ٹی وی آن کرتا ہوا بولا ۔۔
” کچھ نہیں وہ تمہارے تیز طرار چاچو اپنے جیسے ہی تیز چبھتے ہوئے کلر لے لے آئے ہیں۔۔“ مریم نے کپڑوں پر نظر ڈالتے ہوئے مایوسی سے کہا
” بے بی جلدی سے چینج کرکے آؤ جسٹن بیبر کا کنسرٹ شروع ہونے والا ہے ۔۔۔“ گڈو نے کہا
پپو جو بہت دیر سے آلتی پالتی مارے بیڈ پر بیٹھا کبھی ٹی وی اور کبھی مریم کو دیکھ رہا تھا اچانک سے اٹھ کر مزے سے ٹی وی سے نشر ہونے والے میوزک پر جھومتا ہوا مریم کے پاس آیا
” بےبی آؤ ڈانس کریں ۔۔۔“
گڈو نے میوزک تیز کردی تھی اور اب وہ دونوں سلینہ کے سانگ “لو یو لائک آ لو سانگ بےبی ” ۔۔۔ پر جھوم رہے تھے ۔۔
مریم تھوڑی دیر دونوں بھائیوں کا عجیب و غریب ڈانس دیکھتی رہی گڈو صاحب کی تو توند بھی ہل رہی تھی اور گولوں سا پپو دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے آنکھیں بند کئیے کسی وجد میں آئے فقیر کی طرح جھوم رہا تھا ان دونوں کو دیکھ کر مریم کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی اور وہ سر جھٹکتی ایک لباس اٹھا کر واش روم چلی گئی ۔
حمزہ بچوں کو دیکھتا گیسٹ روم تک آیا تو تیز میوزک نے اس کا استقبال کیا دروازہ کھولا تو اندر گڈو پپو کا مجرا چل رہا تھا اور سامنے ٹی وی پر سلینہ گومز اچھل رہی تھی اور ان بچوں کی بےبی غائب تھی۔
حمزہ نے ایک نظر دونوں کو بڑے جوش سے سردھنتے دیکھا پھر آگے بڑھ کر ریموٹ اٹھایا اور ٹی وی بند کردیا ۔۔۔
میوزک کے بند ہوتے ہی پپو اور گڈو بھی سیل سے چلنے والے کھلونے کی طرح اپنی جگہ ساکت ہو گئے اور فوری طور پر گردن گھمائی تو حمزہ کو کھڑے دیکھا ۔۔۔
پپو نے تیزی سے حمزہ کی جانب دوڑ لگائی اور سیدھا اس کے قدموں میں جاکر لڑھک گیا ۔۔حمزہ نے جھک کر خرگوش جیسے سرخ و سفید پپو کو گود میں اٹھایا اور اس کے پھولے پھولے گال چومے ۔۔۔
حمزہ کا شیو چبھنے پر پپو نے بڑا برا سا منہ بنایا
” چاچو ٹی وی سلینہ چاچو ۔۔۔“ پپو حمزہ کا چہرہ اپنے ننھے ننھے ہاتھوں میں لیتا ہوا بولا
” بیٹا یہ تیرے اے بی سی لکھنے کے دن ہیں ، بابا بابا بلیک شپ پڑھنے کے دن ہیں میرے لاڈلے تھوڑا بڑا تو ہوجا۔۔۔“ حمزہ نے اسے گدگدی کی
” اور تو میرا بگڑا ہوا لاڈلا ادھر آ “ ۔حمزہ نے گڈو کو پکارا
” تم دونوں ادھر اکیلے کیا کررہے تھے چلو گڈو جلدی سے اپنا اور پپو کا بیگ لیکر لیونگ روم میں آؤ ۔۔“
حمزہ پپو کو ہوا میں اچھالتا اس کی کلکاریاں سنتا ہوا باہر نکل گیا اور اس کے پیچھے خراب موڈ میں چلتا ہوا گڈو بھی ۔۔۔
لیونگ روم میں آکر پپو کو صوفہ پر بٹھایا اتنے میں گڈو بھی دو اسکول بیگز گھسیٹتے ہوئے اندر حمزہ کے پاس آیا
کتابیں کھول کر حمزہ نے پڑھائی شروع کروائی ہی تھی کہ پپو کا باجا بجا ۔
”چاچو بھوک کھانا دو ۔۔۔“
”مجھے بھی بھوک لگی ہے ۔۔“ گڈو نے بھی دہائی دی
” شیطانوں ناچ گانا کرتے بھوک نہیں لگتی اور کتابیں کھلتے ہی کھانا پینا یاد آجاتا ہے ٹھیک ہے پپو تم اے بی سی لکھو اور گڈو تم دو سے پانچ تک کے ٹیبل لکھو میں جب تک کچن سے کچھ بنا کر لاتا ہوں ۔۔“ ***************************
مریم نہا کر فریش ہو کر باہر نکلی تو ٹی وی آف تھا اور دونوں بچے غائب وہ سیدھی چلتی ہوئی سنگھار میز تک آئی اور خود کو پیلے لباس میں دیکھ کر ایک برا سا منہ بنایا اس نے برش سے بال سلجھائے پھر بھوک کی آواز پر لبیک کہتی باہر کچن کی جانب نکلی۔۔
کچن میں کھڑا حمزہ فرائی پین میں تیل ڈالکر فرنچ فرائز تل رہا تھا جب مریم کچن میں داخل ہوئی اور سیدھی فرج کی جانب آئی ۔۔
” او مس یلو کیب کیا چاہئیے ۔۔۔“ حمزہ نے اسے متوجہ کیا
” تم تم نے مجھے یلو کیب کہا ۔۔“مریم بھنائی
حمزہ چلتے ہوئے اس کے پاس آیا پیلے لباس میں کالا دوپٹہ شانوں پر ڈالے وہ تپی ہوئی کھڑی تھی پیلے رنگ میں اس کی گوری رنگت دمک رہی تھی گلابی گال تمتا رہے تھے وہ ایک لمحہ کو مسمرائز سا ہوگیا پھر ہاتھ بڑھا کر حمزہ نے مریم کےچہرے کو چومتی گھنے سیاہ بالوں کی لٹ ہٹائی
حمزہ کے ہاتھ کے لمس سے مریم گھبرا کر پیچھے ہٹی ہی تھی کہ حمزہ نے اسے شانوں سے تھاما اور اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا گویا ہوا
” مریم آج تو تم واقعی دل کو اچھی لگ رہو بقول میرے بچوں کے کیوٹ بےبی ! بہتر ہے تھوڑا محتاط رہو کہیں پیار نہ ہوجائے کیونکہ میں اگر پیار میں پڑا نہ تو پھر تم چاہوں بھی تو میری زندگی سے نہیں جاسکوں گئی …“
حمزہ نے بڑی نرمی سے اپنی دو انگلیاں اس کے ماتھے پر بجائیں اور واپس چولہے کی جانب پلٹ گیا ۔
مریم چند لمحے خاموشی سے حمزہ کے گھمبیر لہجے اور لمس کے حصار میں قید کھڑی رہی پھر سر جھٹک کر آگئے بڑھی ۔۔۔
”دیکھو مسٹر پولیس والے مجھے پٹانے کی کوشش بھی مت کرنا اور مجھے بھوک لگی ہے میں بچوں کے پاس جارہی ہوں تم جلدی سے کچھ پکا کر لے آؤ ۔۔“ وہ پلٹ کر جانے ہی لگی تھی کہ حمزہ نے اسکا ہاتھ تھام کر اسے روکا
” مس مریم پہلی بات میں اگر چاہوں نہ تو دو سیکنڈ میں تمہیں اپنے عشق میں گرفتار کرسکتا ہوں مگر تم میں وہ بات ہی نہیں ہے جو مجھے ایس پی حمزہ علی کو متاثر کرے اور دوسری بات آج سے کھانا تم بناؤ گی آخر فری میں رہ رہی ہو تو کچھ تو کام کاج کرو ۔۔۔“ حمزہ نے سنجیدگی سے کہا
”ایس پی حمزہ تم دو سیکنڈ چھوڑ کر دو ہفتے بلکہ دو مہینے لے لو پر میں نہ آج نہ کل کبھی بھی تمہارے عشق میں گرفتار نہیں ہونگی حد ہوتی ہے خوش فہمی کی ۔۔۔“ مریم نے ہاتھ جھاڑے
” اتنے بڑے دعوے نہ کرو کہ کل کو آنکھ ملانی مشکل ہوجائے ۔۔“ حمزہ نے اسے ٹوکا
” اور ساری باتیں ایک طرف شاباش جلدی سے کھانا پکا کر سرو کرو ۔۔“ وہ کہہ کر پلٹا ہی تھا کہ مریم کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی
” سوری مجھے تو کچھ بھی پکانا نہیں آتا ۔۔۔“
حمزہ پلٹا وہ بڑی ڈھٹائی سے اپنے نکمے پن کے اعترافات میں لگی تھی
” او مس بےبی ۔۔۔یہ رہا میرا لیب ٹاپ ۔۔“ اس نے میز کی طرف اشارہ کیا
” یو ٹیوب لگاؤ اور کھانا پکاؤ ۔۔۔بہانے بازی نہیں چلے گئی
*******************************
مریم کو کچن میں کام پر لگا کر اندر آیا تو گڈو اور پپو کاغذ کے جہاز بنا کر اڑانے میں مصروف تھے ان کو ڈانٹ ڈپٹ کر پڑھنے بٹھایا تھوڑا ٹائم ہی گزرا تھا کہ اسکا سیل بجنے لگا کمشنر صاحب کا فون تھا ۔۔
” حمزہ مائے بوائے تم سے ایک فیور چاہئیے تھا اور سن لو انکار کی گنجائش نہیں ہے ۔۔“
”جی سر کہئیے ۔۔۔“ حمزہ ادب سے بولا
” مجھے اور تمہاری بھابھی کو ایمرجنسی میں لندن جانا پڑ رہا ہے کچھ دنوں کی بات ہے کیا تم میری سالی ماہین کو اپنے گھر ٹہرا سکتے ہو ۔۔۔“
” مگر سر ۔۔۔۔“
” دیکھوں حمزہ حالات خراب ہیں جوان لڑکی ہے اکیلے گھر میں بھی نہیں چھوڑ سکتا اور نہ ہی کسی رشتہ دار پر بھروسہ کرسکتا ہوں کچھ دن کی تو بات ہے بڈی ہیلپ می ۔۔“ کمشنر حمزہ کی بات کاٹ کر تیزی سے بولے ۔
” ٹھیک ہے سر جیسا آپ کہیں ۔۔“ حمزہ بیدلی سے بولا
” بہت شکریہ پرسوں ہماری فلائٹ ہے ہم ماہین کو تمہاری طرف چھوڑتے ہوئے ائیرپورٹ نکل جائینگے ۔۔۔“
فون بند کر کے وہ بچوں کو ہدایات دیتا باہر نکلا اس کا ارادہ باہر سے لنچ کیلئیے کچھ لانے کا تھا ۔۔۔
تقریباً گھنٹہ بعد حمزہ واپس آیا پیک کئیے کھانے کو کچن میں لاکر رکھا تو میز پر باؤل میں بریانی نما چیز رکھی نظر آئی جو یقیناً مریم کا شاہکار تھی اس نے چمچ سے چکھا ذائقہ تو گزارے لائق تھا ۔۔۔
وہ اندر بڑھا تو لیونگ روم میں سناٹا چھایا ہوا تھا اور برآمدے کی طرف کھلنے والی کھڑکی کے قریب کرسی رکھ کر اس گڈو صاحب چڑھے ہوئے باہر جھانک رہے تھے ۔۔وہ دھیرے سے بنا آواز کئیے چلتا ہوا گڈو کے بالکل پیچھے آکر کھڑا ہوگیا ۔۔
باہر گارڈن میں حمزہ کے لائے سبز لباس میں مریم پپو کو گود میں اٹھائے چہل قدمی کررہی تھی اور پپو صاحب بار بار مریم کے گال چوم رہے تھے جس پر مریم مسکرا کر اس کے پھولے پھولے گالوں پر چٹکی بھر رہی تھی ۔
”یہ کیا ہورہا ہے ۔۔۔۔“ حمزہ کھڑکی سے جھانکتے گڈو کو دیکھ کر بولا
”چاچو مریم کو دیکھ رہا ہوں دیکھیں کتنی کیوٹ ہے نا۔۔“
”شرم کرو نالائق مریم نہیں ۔۔۔مریم آپی یا باجی کہو۔۔۔“
”باجی ۔۔۔۔“ گڈو نے تڑپ کر حمزہ کو دیکھا
” چاچو دل تو نہ توڑیں پپو اور میں نے فیصلہ کرلیا ہے یا تو آپ مریم کو ہماری چاچی بنا دیں یا پھر میری شادی مریم سے کروادیں ۔۔۔۔“
”ویسے مریم میرے ساتھ بہت ہیپی رہے گئی میں اپنے سارے ٹوائز بھی انہیں دے دونگا روز ملکر وڈیو گیم بھی کھیلونگا ۔۔“ گڈو صاحب شرما کر بولے۔۔۔
” کیا واقعی تم دونوں کو مریم بہت اچھی لگتی ہے ۔۔۔“ حمزہ نے سنجیدگی سے پوچھا ۔
Episode 9
حمزہ اپنی بات مکمل کرکے بڑے غور سے گڈو کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔
”جی چاچو وہ بہت اچھی ہے بیوٹی فل بھی ہے ہمیں پیار بھی کرتی ہے آج کام سے بھی چھٹی کروائی اور ڈانٹتی تو باکل نہیں ہے اور پتہ ہے اسے آپ بالکل بھی اچھے نہیں لگتے ۔۔“ گڈو نے بڑے آرام سے تفصیلاً جواب دیا ۔
” بڑے ہی بے وفا ہو یار ! یعنی میں اب تمہارے لئیے کچھ بھی نہیں ہوں اور کیا میں ہینڈسم نہیں ہو جو تم دونوں اب اس سے چمٹے رہتے ہو اور میری برائیاں سنتے ہو ۔۔“ حمزہ نے تاسف سے سر ہلاتے ہوئے گڈو کو شرمندہ کرنا چاہا
” چاچو آئی لو یو ٹو ! بٹ آئی لو ہر مور ۔۔“ گڈو بڑے پیار سے بولا
” کیوں بے موٹو پالا پوسا میں نے اور وہ کل کی آئی بےبی یو لو ہر مور ۔۔“ حمزہ نے اس کی نقل اتاری ۔
”چاچو خود کو دیکھیں اتنے لمبے ہیں کہ منہ اٹھا کر بات کرنی پڑتی ہے اور چہرے پر یہ کالے کالے بال کتنے برے لگتے ہیں پپی بھی کرتے ہیں تو زور سے درد ہوتا ہے “ ۔۔وہ اس کے وجیہہ چہرے پر ہلکے ہلکے سے شیو کی طرف اشارہ کرتا ہوا بولا
” ابے موٹے یہ شیو کہلاتا ہے یہ تو مرد کی شان ہوتا ہے ۔۔۔۔“ حمزہ نے جواب دیا ۔
”مگر چاچو ٹی وی پر جو شان آتا ہے اس کا فیس تو اتنا برائٹ ہے بالکل صاف ستھرا پپو کے جیسا ۔۔“ گڈو الجھ کر بولا
” بندر کیا جانے ادرک کا مزا ! میرے یار گڈو جانی تو دس بارہ سال سال گزرنے دے پھر دیکھنا تڑپ تڑپ کر اللہ سے میرے جیسا شیو مانگے گا ۔۔“ حمزہ نے گردن اکڑا کر جواب دیا۔
”چاچو ہٹیں بھی بےبی اندر آرہی ہے مجھے بے بی کے پاس جانا ہے ۔۔۔“ وہ مریم کو اندر آتا دیکھ کر بولا
حمزہ کے پیچھے ہٹتے ہی گڈو نے کرسی سے جمپ لگائی اور دوڑتا ہوا اندر داخل ہوتی مریم کی جانب بڑھا ۔۔۔
حمزہ نے ایک گہری نظر سبز لباس میں ملبوس نازک سی مریم پر ڈالی جو پپو کو گود سے اتار کر چہرے پر نرمی اور مسکراہٹ لئیے اب گڈو کی بات سن رہی تھی ۔۔
” تینوں ہی بہت بڑا ڈرامہ ہیں ۔۔۔“ وہ بڑبڑاتے ہوئے آگے بڑھا اور مریم کے پاس جاکر رک گیا ۔۔۔
”سنو میں باہر سے تکہ کباب روٹی لیکر آیا ہوں تم جلدی سے میز لگاؤ میں بچوں کو نہلا دھلا کر لاتا ہوں ۔۔“ دونوں بچوں کو اپنے بازوؤں میں جکڑ کر اٹھاتے ہوئے بولا
” اگر تمہیں باہر سے کھانا لانا تھا تو مجھے کچن میں کیوں کھپایا دیکھو تو میرا ہاتھ بھی کٹ گیا ۔۔۔“
مریم خفگی سے اپنا دائیاں ہاتھ آگے کیا جس پر بچوں والا سنی پلاسٹ لگا ہوا تھا ۔۔
”چاچو بےبی کے ہاتھ میں چوٹ لگ گئی تھی بے بی رو رہی تھی پھر گڈو نے ڈاگی والا سنی پلاسٹ لگایا اور میں نے ہاتھ پہ ایسے پیار کیا تو ٹھیک ہوگیا ۔۔۔“ پپو حمزہ کے ہاتھ پر کس کرتا ہوا بولا
حمزہ مریم پر ایک نظر ڈالتے ہوئے بچوں کو لیکر اندر چلا گیا۔مریم بھی آہستگی سے کچن کی جانب روانہ ہوئی ۔۔
مریم نےکچن میں موجود بڑی سی ٹیبل پر برتن لگانے شروع کئیے پھر حمزہ کا لایا ہوا کھانا ڈشز میں نکال کر رکھا اور اپنی بنائی ہوئی بریانی نما کھچڑی ٹائپ چاول جو پہلے ہی ڈش میں تھے مائیکروویو میں گرم کرکے رکھے ہی تھے کہ صاف ستھرے نہائے دھوئے سلیپنگ ڈریس میں ملبوس دونوں بچے حمزہ کے ساتھ اندر داخل ہوئے۔۔
”ابھی تو رات بھی نہیں ہوئی تم نے ان معصوموں کو سلیپنگ ڈریس کیوں پہنا دیا ۔۔“ مریم نے حیرانگی سے پوچھا ۔
” مس مریم عرف پپو کی بےبی ٹائم دیکھو شام ہو رہی ہے اب تو یہ لنچ کم ڈنر کرکے ان کو سلا دونگا اور کل صبح پانچ بجے اٹھ کر یہ میرے ساتھ جاگنگ پر جائیں گے ۔۔ کیوں گڈ پپو؟ “
حمزہ نے مریم کو جواب دیتے ہوئے دونوں سے پوچھا ۔
” جی چاچو۔۔۔۔“ دونوں نے سر ہلا کر بڑے جوش سے جواب دیا
”مگر کیوں ۔۔۔“ مریم نے پوچھا
”بےبی آج ہم کام پر نہیں گئے نا تو یہ ہماری پنشمنٹ ہے ۔۔۔“ گڈو جواب دیتے ہوئے کرسی گھسیٹ کر بیٹھا ۔
حمزہ نے پپو کو اٹھا کر اپنے برابر رکھی اونچی کرسی پر بٹھایا گڈو نے بھی نشست سنبھالی اور مریم کے بیٹھتے ہی یہ لنچ کم ڈنر شروع ہوگیا
سب نے پہلے بریانی پلیٹوں میں نکالی ۔۔۔۔۔
” سسس پانی مرچیں ہیں ۔۔۔۔“ پپو نے دونوں ہاتھوں سے آنکھیں ملیں
مریم نے اور حمزہ دونوں نے ایک ساتھ پانی کے جگ کی طرف ہاتھ بڑھایا حمزہ کے ہاتھ سے مریم کا ہاتھ ٹچ ہوا تو مریم نے تیزی سے اپنا ہاتھ واپس کھینچا ۔۔۔
حمزہ نے مریم کو دیکھا پھر پپو کو پانی نکال کر پلایا اب سب حمزہ کا لایا ہوا کھانا کھا رہے تھے اور مریم کی بنائی کھچڑی بریانی دور پڑی اپنی ناقدری پہ رو رہی تھی ۔۔۔
” میں نے اتنی محنت سے لائف میں پہلی بار کھانا پکایا کیا ہوا جو تھوڑی مرچیں تیز ہوگئی اور چاول لئی ہوگئے پر تمہیں تھوڑا سا تو کھانا چاہئیے تھا ۔۔“ مریم نے حمزہ سے شکوہ کیا
” میں کوئی پاگل ہوں جو اتنے زبردست کباب بوٹی چھوڑ کر یہ دلیہ نما چیز کھاؤ گا جو تم خود بھی نہیں کھا پارہی ہو معاف کرنا ایسا کھانا تو میں عشق میں اندھا ہو کر بھی نہیں کھا سکتا ۔۔“ حمزہ نے دو ٹوک جوابدیا
کھانے کے بعد مریم نے کچن سمیٹا اور حمزہ بچوں کو لیکر بیڈروم میں چلا گیا ۔۔۔
رات کے آٹھ بجنے والے تھے پورے گھر میں سناٹا چھایا ہوا تھا دونوں بچے سو چکے تھے حمزہ نے ان پر باری باری لحاف درست کیا اور ان سوئے ہوئے معصوم شیطانوں کے ماتھے پر پیار کرتا باہر نکل کر کھڑکیاں دروازے لاک کرتا اپنے کمرے میں چلا آیا تھوڑی دیر نیٹ پر لگا رہا پھر خود بھی لباس بدل کر الارم لگا کر سونے لیٹ گیا کافی دیر تک کر کروٹیں بدلتا رہا پھر تنگ آکر اٹھ بیٹھا ۔۔۔
گھڑی میں ٹائم دیکھا تو نو بجنے والے تھے وہ بیڈ سے اٹھ کر سلیپر پہنتا کمرے سے باہر نکلا کچن میں موجود فرسٹ ایڈ باکس سے اینٹی سیپٹک مرہم نکالا اور کونے پر بنے گیسٹ روم کی جانب بڑھا قریب پہنچ کر دروازے پر دستک دی ۔۔۔
” کون ہے ۔۔۔۔“ اندر سے مریم کی مدھم سی آواز آئی۔۔۔
وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو پورے کمرےمیں چراغاں ہورہا تھا ایک ایک لائٹ جل رہی تھی یہاں تک کے اٹیچ باتھ کی لائٹ بھی آن تھی ٹی وی بھی آن تھا پر آواز بند کی ہوئی تھی اور مریم بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی ۔۔
مریم حمزہ کو دیکھتے ہی بیڈ سے اتر کر کھڑی ہوگئی ۔۔۔
”تم اس وقت ادھر کیا کررہے ہو ۔۔۔“ مریم نے پوچھا۔
” یہ ساری لائیٹیں کیوں آن ہیں ۔۔۔“ حمزہ نے چاروں جانب دیکھتے ہوئے پوچھا
” وہ دراصل میں کہہ رہی تھی۔۔۔۔“ مریم کہتے کہتے ہچکچا کر چپ ہوگئی
حمزہ نے ایک گہری نظر سر جھکائے کھڑی مریم پر ڈالی اور خاموشی سے اسکا ہاتھ تھام کر اس پر بندھے سنی پلاسٹ کو دیکھا اور پھر بنا کچھ کہے بڑی نرمی سے اس کی انگلی سے لپٹا سنی پلاسٹ ہٹایا ۔۔۔
چھری سے لگا ایک گہرا کٹ نظر آرہا تھا اس نے بنا کچھ بھی کہے اپنے ہاتھ میں پکڑا مرہم کھولا اور بڑے آرام سے اس کی نازک سی انگلی پر لگانے لگا وہ اتنے انہماک سے مرہم لگا رہا تھا جیسے اس وقت اس لمحہ اس سے اہم اور کوئی کام نہیں ہے ۔۔۔
مریم اس کی توجہ اور انہماک دیکھ کر پزل ہورہی تھی ۔۔۔
”اف اب اگر یہ ایسے کئیر کریگا تو کہیں واقعی میں مجھے اس سے پیار نہ ہوجائے کمبخت ہینڈسم بھی تو بہت ہے ۔۔۔“ مریم نے سوچا پھر ایک جھرجھری لیکر کر تیزی سے اپنا ہاتھ اس کی گرفت سے نکالا
”کیا ہوا ۔۔“ حمزہ نے پوچھا
” کچھ نہیں اب تم جاؤ یہاں سے ۔۔“ مریم نظریں چرا کر بولی
”جا رہا ہوں پر کیا اس ماہ کا بجلی کا بل تم بھرو گئی جو اتنا چراغاں کیا ہوا ہے ۔۔۔“ حمزہ نے لائٹوں کی طرف نگاہ دوڑاتے ہوئے پوچھا
” بہت ہی کنجوس مکھی چوس ہو تم ، فکر مت کرو جتنا بھی خرچہ تم مجھ پر کررہے ہو سب واپس کردونگی ۔۔۔“ مریم نے سنجیدگی سے کہا
” او ریئلی بہت اچھے مگر کب ۔۔“ حمزہ دونوں ہاتھ سینے پر لپیٹتا ہوا گویا ہوا ۔
اس لمحہ مریم کو شدت سے اپنی کم مائیگی کا احساس ہوا ۔۔۔
”بہت جلد ۔۔۔“ وہ بھرائے ہوئے لہجے میں کہتی پلٹ گئی ۔
حمزہ نے آگے بڑھ کر ساری لائیٹیں آف کی اور زیرو بلب جلاتا ہوا صوفہ پر دراز ہوگیا ۔
”اب کھڑی کیوں ہو جاؤ جاکر سو جاؤ ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے میں ہوں ادھر ، کل دن میں تمہارے لئیے بچوں کے ساتھ والا کمرہ سیٹ کروا دونگا ۔۔ “ وہ پیر پسارتے ہوئے آنکھیں بند کرتا ہوا بولا
مریم پلٹ کر بیڈ پر چلی گئی کچھ بھی ہو حمزہ کی موجودگی سے سارے ڈر و خوف دور بھاگ گئے تھے ۔۔
” سنو جاگ رہے ہو کیا ۔۔“ اندھیرے میں مریم کی آواز گونجی
” کیوں اب کیا ہوا ۔۔۔۔“ حمزہ نے پوچھا
”میرے سونے کے بعد وعدہ کرو مجھے اکیلا چھوڑ کر چلے تو نہیں جاوگے ۔۔“ مریم نے پوچھا
”مریم ! تم چپ ہونے کا کیا لوگی ۔۔۔مجھے صبح پانچ بجے اٹھنا ہے سونے دو ۔۔“ حمزہ بھنایا
” تو تم وعدہ کرونا ! آخر تم پولیس والے ہو کیسے تمہاری بات کا بھروسہ کرلوں ۔۔“ مریم کی آواز گونجی
” اچھا میرے بچوں کی بے بی ۔۔۔میں وعدہ کرتا ہوں کہ تمہیں کبھی بھی اکیلا نہیں چھوڑونگا اب اجازت ہو تو سوجاؤں ۔۔“ حمزہ گویا ہوا
”کیا کل تم واقعی بچوں کو پانچ بچے اٹھاؤگے ۔۔“ مریم نے پوچھا
” ہاں “ حمزہ غصہ ضبط کرتے ہوئے بولا
” ٹھیک ہے مگر یاد رکھو اگر تم نے دوبارہ پورے گھر میں شور شرابا کیا نا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔۔۔“ مریم نے اسے وارن کیا اور آنکھیں بند کرتی سونے لیٹ گئی **************************
ماہین کا پورا دن آج شاپنگ اور پارلر میں گزرا تھا اب وہ اپنا بیگ پیک کررہی تھی بس کل کا دن اور تھا پھر اسے حمزہ کے گھر رہنے جانا تھا ابھی وہ سامان ہی پیک کررہی تھی کہ دروازہ کھول کر احمد صاحب اور مسز احمد اندر داخل ہوئے ۔۔۔
” ہاں بھئی ماہین گڑیا پیکنگ ہوگئی کیا “ ۔۔
”جی احمد بھائی ساری تیاری مکمل ہے ۔۔“ ماہین نے جواب دیا
”دیکھو ماہین قدرت نے تمہیں حمزہ کو پھسانے کا ایک بہترین موقع دیا ہے اب تمہیں اس سے فائدہ اٹھانا ہے اور ان بچوں اور حمزہ کو اپنے بس میں کرنا ہے ۔۔۔۔ “ کمشنر احمد سنجیدگی سے بولے
”ماہین حمزہ کے اتنے قریب ہوجانا کہ وہ تمہیں پانے کو مچل جائے بس پھر ہمارا کام ہوجائیگا۔“ مسز احمد نے اسے ہدایات دیں ۔
” جی آپی آپ بالکل فکر مت کریں ۔۔۔“ ماہین نے جواب دیا
”یاد رکھنا حمزہ کا دل وہ بچے ہیں انہیں اپنا ٹارگٹ بناؤ ۔۔۔“کمشنر صاحب گویا ہوئے ۔
