Nakhreli Muhabbatein by Seema Shahid NovelR50635 Nakhreli Muhabbatein (Episode 18)
Rate this Novel
Nakhreli Muhabbatein (Episode 18)
Nakhreli Muhabbatein by Seema Shahid
گڈو گیسٹ روم میں صوفہ پر بیٹھا ماہین کو بیگ پیک کرتے دیکھ رہا تھا ۔۔
” گڈو میری ہیلپ کرو اور یہ بیگ لیکر چلو ۔۔۔“ ماہین نے گڈو کو متوجہ کیا
”سوری وچ میں تو بچہ ہوں اور بچے کام نہیں کرتے یو نو چائلڈ لیبر لاء ۔۔“ گڈو نے ہری جھنڈی دکھائی ..
”ویسے وچ میں چاچو سے زیادہ اسمارٹ ہوں اور بچہ بھی ہوں تو تم ایسا کرو مجھ سے نکاح کرلو پھر میری بھی چائلڈ میرج ہوجائیگی واؤ ایک چائلڈ اور ایک بوڑھی وچ یہ تو ڈزنی کی مووی بھی بن سکتی ہے ۔۔۔“ گڈو نے اپنی دانست میں ماہین کو ایک اچھا آئیڈیا دیا ۔
”میرا وقت دور نہیں ہے ! بہت جلد نہ تمہیں بورڈنگ بھجوایا تو میرا نام ماہین نہیں ۔۔۔“ ماہین بیگ اٹھاتے ہوئے بڑبڑائی ۔۔
” میرے بارے میں کچھ کہا بچ سوری آئی مین وچ ۔۔“ گڈو نے کھڑے ہوتے ہوئے سوالیہ انداز میں پوچھا ۔۔
”نہیں میں بھلا تمہاری شان میں گستاخی کرسکتی ہوں کیا ۔۔۔“ ماہین چبا چبا کر بولی
” ایک بات تو بتاؤ کیا تم ہمیشہ سے ہی ایسی بچ ٹائپ ہو یا بڑی ہوکر میجک سے ایسی عجیب آنٹی بن گئی ہو ۔۔“ گڈو نے معصوميت سے پوچھا ۔
” آنٹی ! “ ماہین کا تو صدمہ سے برا حال ہوگیا
”میں تمہیں کدھر سے آنٹی لگتی ہوں سیدھے سیدھے یا تو سس کہہ لو یا پھر ماہی ۔۔۔“ اس نے گڈو کو گھورا ۔
گڈو صاحب نے چمکتی شرارتی نگاہوں سے ماہین کو اوپر سے نیچے تک دیکھا۔
” نائینٹی کے اینگل سے تو تم پکی پکی بچ لگتی ہو اور باقی سارے اینگلز سے سموسہ بیچنے والی آنٹی لگتی ہو ۔۔
ماہین جواب دئیے بغیر بیگ گھسیٹتی ہوئی باہر نکل گئی اور اس کے پیچھے بڑے آرام سے ہاتھ جھاڑتا ہوا گڈو بھی باہر کو لپکا ابھی ماہین راہداری میں پہنچی ہی تھی کہ سامنے کا منظر دیکھ کر اس کی آنکھیں پھٹ پڑی ۔۔۔
”او گاڈ ! وچ جلدی سے آنکھیں بند کرو یہ پی جی ریٹڈ سین نہیں ہے ۔۔۔“ گڈو کی تیز آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی اور اسکا پہلے سے کھولتا ہوا خون مزید کھول کے رہ گیا ۔
گڈو بھاگتے ہوئے حمزہ کے پاس گیا
***************************
حمزہ مریم کو زبردستی کندھے پر اٹھائے باہر نکلا اسکا ارادہ مریم کو اپنے بیڈروم میں لیجانے کا تھا مگر سامنے سے آتی ماہین اور گڈو کو دیکھ کر وہ رک گیا تبھی گڈو کی بھونپو جیسی آواز گونجی ۔۔۔
”چاچو ! میری بےبی کو نیچے اتارو ۔۔۔“ گڈو قریب آکر بولا
”حمزہ یہ آپ کیا کررہے ہیں ! نیچے اتارئیے اس چڑیل کو ۔۔۔ “ ماہین نے تیز لہجے میں کہا۔
”گڈو ! یہ بڑوں کی بات ہے تم اپنے روم میں جاؤ ۔۔۔“ حمزہ نے سختی سے کہا اور گڈو بھاگتا ہوا اپنے کمرے کی جانب چلا گیا ۔
حمزہ نے ہاتھ پیر چلاتی مریم کو نیچے اتارا اور اپنا دایاں بازو اس کے شانوں پر پھیلا کر اسے اپنی مضبوط گرفت میں قید کیا۔۔
”مس ماہین آپ کیلئیے کمرہ خالی کردیا ہے آپ اندر تشریف لے جا سکتی ہیں ۔۔۔“ حمزہ نےروڈلی جواب دیا
”حمزہ آپ مریم کو کدھر لے جا رہے ہیں پلیز مجھے بتائیں اس سے پہلےمیرا سانس بند ہوجائے ۔۔“ ماہین نے دھڑکتے دل سے پوچھا اسے خطرے کی گھنٹیاں بجتی سنائی دے رہی تھی ۔
”مریم میری وائف ہے اور میں اسے ہمارے بیڈروم میں لے جا رہا ہوں ، گڈ نائٹ سس ۔۔“حمزہ تیزی سے کہتا ہوا مریم کو اپنے روم میں لے آیا ۔
کمرے میں آتے ہی حمزہ نے مریم کو اپنی گرفت سے آزاد کیا ۔
” میری لائف میں ، میرے بیڈ روم میں ویلکم مسز حمزہ ۔۔“ وہ خونخوار نظروں سے خود کو گھورتی مریم سے شرارتی لہجے میں بولا ۔
”کیا ہوا کچھ بولو گئی نہیں کیا صرف نظروں کے تیر ہی مجھ معصوم شوہر پر برساتی رہو گئی ۔۔“وہ شرارت سے اس کے قریب آیا ۔
”اپنی حد میں رہو حمزہ ورنہ ۔۔۔“ مریم جھجک کر پیچھے ہٹی ۔
”ورنہ کیا ۔۔۔“ حمزہ اس کے پیچھے ہٹنے کی کوشش ناکام بناتا ہوا اس کے انتہائی قریب آگیا مگر اس سے پہلے حمزہ کوئی گستاخی کرتا کمرے کا دروازہ دھم سے کھلا اور گڈو صاحب اپنی گن اٹھائےاندر داخل ہوئے ۔۔
حمزہ اور مریم دونوں نے چونک کر دروازے کی جانب دیکھا جہاں گولو سا گڈو نیکر شرٹ پہنے غصہ سے گال پھلائے اپنی گن تھامے کھڑا تھا …
” چاچو میری بےبی کو چھوڑ دو ورنہ میں فائر کردونگا ۔۔۔“ گڈو نے دھمکی دی
”گڈو موٹے تو اپنے چاچو پر فائر کریگا کیا ۔۔۔ “ حمزہ نے کہا
”چاچو اگر آپ کو پنشمنٹ دینی ہے تو جاکر اس بچ کو پکڑ کر الٹا لٹکائیں ۔۔۔“ گڈو بولا
”بے بی تم ڈرنا نہیں تمہارا گڈو آگیا ہے ۔۔۔“ گڈو بڑے فخر سے اپنا سینہ پھلا کر بولا ۔
حمزہ نے اس ساڑھے تین فٹ کے بےبی کے محافظ کو دیکھا جو نشانہ تانے تیار کھڑا تھا ۔
”چاچو میں تین تک کاؤنٹ کررہا ہوں آپ بے بی کو سلولی سلولی میری طرف بھیجئیے ۔۔۔“ گڈو نے ماہرانہ ہدایات دیں
”ابے موٹے تیری تو ایسی کی تیسی ۔۔۔“ حمزہ مریم کو چھوڑ کر گڈو کی طرف لپکا اور گھبرا کر گڈو نے فائر کھول دیا ۔۔
پانی کی تیز دھار گن سے نکل کر حمزہ کو بھگو گئی پر گڈو جیالے نے ہار نہیں مانی اور فائر کرتا رہا حتہ کہ پانی میں شرابور حمزہ اس کے قریب پہنچ گیا ۔
اب کیا گڈو نے اپنی واٹر گن حمزہ کے اوپر اچھالی اور خود جھک کر اس کی ٹانگوں کے درمیان سے نکل کر مریم کی جانب دوڑا۔۔
”بےبی مجھے چاچو سے بچاؤ ۔۔۔“ وہ مریم کے پیچھے جا کر چھپ گیا ۔
”حمزہ پلیز میرے گڈو پر غصہ مت کریں ۔۔۔“ مریم نے آگے بڑھتے حمزہ کو روکا ۔
”ایک شرط پر میں اس موٹے کو چھوڑونگا کہ آج سے تم میرے ساتھ رہوگی بولو منظور ہے ۔۔۔
”ٹھیک ہے پر پھر تمہیں میری بھی کچھ شرائط ماننی ہونگی ۔۔۔“ مریم نے فوری جواب دیا ۔
”میں گڈو کو سلا کر آتا ہوں پھر بتانا اپنی شرائط اگر میری سمجھ میں آئیں تو منظور کرلونگا ۔۔۔“ حمزہ نے ہاتھ بڑھا کر مریم کے پیچھے چھپے گڈو کو نکالا اور اسے گود میں اٹھا کر باہر نکل گیا ۔
بچوں کے کمرے میں آکر حمزہ نے گڈو کو اس کے بیڈ پر لٹایا ۔۔
” چلو گڈو آنکھیں بند کرو اور سو جاؤ ۔۔۔“ حمزہ اس کے سر پر ہاتھ پھیرتا وہی بیٹھ گیا اسکا پکا ارادہ اس شیطان کو سلا کر مریم کے پاس جانے کا تھا
”گڈو کے بچے اب سو بھی جاؤ ۔۔۔“ حمزہ کے ذہن پر اپنی گولڈن نائٹ سوار تھی ۔
گڈو کے سونے کا یقین کرکے حمزہ اٹھا اور کمرے سے باہر نکلا ہی تھا کہ ماہین اس کے سامنے آگئی ۔
”مس ماہین آپ اسوقت ادھر کیا کررہی ہیں پلیز گو ٹو یور روم ۔۔۔“
”حمزہ میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں تم میرے روئیں روئيں میں بس چکے ہو اور ہم تو ایک دوسرے سے رشتہ میں بھی بندھے ہوئے ہیں ۔۔۔“ ماہین حمزہ کے قریب آتی چلی گئی ۔۔۔
” کہہ دو کہ تم نے مذاق کیا تھا تمہارا اس نوکرانی مریم سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔۔۔۔“ماہین نے اپنے ہاتھ حمزہ کے سینے پر رکھتے ہوئے کہا ۔
”مس ماہین ۔۔۔“ حمزہ درشت لہجے میں اس کے ہاتھ جھٹکتے ہوئے گویا ہوا ۔
”مریم میری جان میری بیوی ہے میں اس کیلئیے غلط الفاظ برداشت نہیں کرونگا انڈر اسٹینڈ ۔۔“
”اور میں میرا کیا ہوگا جو بچپن سے تمہارا نام اپنے نام سے جڑا سنتی آرہی ہوں ۔۔۔۔“ ماہین بھرپور ملکہ جذبات بنی ہوئی تھی
” تم ! “ حمزہ نے اپنا غصہ دبایا ۔۔۔
”ماہین میرا تمہارا کوئی رشتہ نہیں ہے اور یہ بات تم بھی اچھی طرح جانتی ہو اپنے بہن بہنوئی کو آنے دو پھر میں میں اپنے طریقہ سے تم سب کو سبق سکھاؤنگا اور اس جھوٹ کا خمیازہ تم لوگوں کو بھگتنا پڑیگا ۔۔“ حمزہ پھنکارا اور ماہین کو ایک کونے پر کرکے اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔
کمرے میں نیلگوں سی روشنی پھیلی ہوئی تھی اور مریم بےبی بیڈ پر صوفہ کے کشن اور تکیوں سے سرحدی منصوبہ بندی کرکے سر سے پیر تک کمبل تانے سو رہی تھی اس کے ارمانوں پر تو گڈو ویسے ہی گن سے پانی پھینک چکا تھا رہی سہی کسر باہر بچ پوری کرچکی تھی وہ ایک ٹھنڈا سانس بھرتے ہوئے بیڈ پر لیٹا پھر چند لمحات کے بعد غصہ سے اس نے اپنے اور مریم کے بیچ دیوار بنے سارے کشن اٹھا کر نیچے پھینکے اور مریم کی طرف کروٹ لیکر اسے بڑے آرام سے اپنے بازوؤں میں بھرا اور اس کے مشکبوں بالوں سے بھرے سر پر اپنا منہ رکھا ، چند ہی لمحوں بعد اس کے ہلکے ہلکے خراٹے کمرے میں گونج رہے تھے۔۔۔۔
حمزہ کے باہر جاتے ہی مریم کو وقت مل گیا وہ اتنی آسانی سے اپنا آپ حمزہ کے حوالے نہیں کرنا چاہتی تھی اسکا ارداہ اپنی شرائط منوانے کا تھا مگر صوفہ یا زمین پر سونا اس کے بس کی بات نہیں تھی کچھ دیر سوچنے کے بعد اس نے صوفے پر پڑے کشن اٹھائے اور سرہانے پر رکھے ایکسٹرا تکئیے اٹھا کر بیڈ پر حفاظتی بارڈر بنا کر لائٹ بند کی ۔۔۔۔
” یہ تو بہت اندھیرا ہوگیا کہی وہ اسکا غلط مطلب نہ سمجھ لے ۔۔۔“ وہ بڑبڑائی اور پھر نائٹ بلب آن کرکے آرام سے کمبل تان کر لیٹ گئی
ابھی وہ لیٹی ہی تھی کہ دروازہ کھلنے کی آواز آئی پھر چلتے قدموں کی تھوڑی دیر بعد حمزہ بیڈ پر لیٹ چکا تھا لیکن اچانک ہی حمزہ نے ساری حفاظتی دیوار اٹھا کر نیچے پھینک دی مریم کا ننھا معصوم دل ہچکولے کھانے لگا تھا کہ حمزہ نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا مریم کا دل پوری رفتار سے دھڑک رہا تھا ۔۔۔
”جل تو جلال تو آئی بلا کو ٹال تو ۔۔“
مریم نے اپنے دل میں ورد کرنا شروع کردیا تھا تھوڑی ہی دیر میں حمزہ سو چکا تھا ۔۔۔حمزہ کے سونے کا یقین کرکے مریم نے خود کو اس کی گرفت سے نکالنا چاہا پر ایسا نہیں کرپائی اور تھک ہار کر آنکھیں کھول کر حمزہ کو گھورنے لگی
” ویسے ہے تو رج کے ہینڈسم مگر اتنا ہی کھڑوس بھی ہے ۔۔۔۔“ وہ اسے دیکھتے سوچتے نیند کی وادی میں اتر چکی تھی ۔۔
****************************
سر شام سو جانے کے باعث پپو کی آنکھ کھل چکی تھی وہ آنکھیں مسلتا ہوا بستر سے جمپ لگا کر نیچے اترا گڈو کو چیک کیا تو وہ سو رہا تھا وہ اسے سوتا چھوڑ کر دروازہ کھول کر اپنے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا حسب عادت حمزہ کے کمرے کی جانب بڑھا کمرے کا دروازہ کھول کر اندر آیا ۔۔۔
صبح کے چھ بجنے والے تھے جب نیند میں مگن حمزہ نے مریم کو بڑی آہستگی سے اپنی گرفت سے آزاد کیا اور منہ پر کمبل اوڑھ کر لیٹ گیا ۔
مریم کی آنکھ دروازہ کھلنے کی آواز سے کھل چکی تھی گردن اچکا کر دیکھا تو اسے پپو بیڈ پر اچک اچک کر چڑھتا ہوا نظر آیا مریم دم سادھے آنکھوں کی جھری سے پپو کو دیکھ رہی تھی جو اب بڑے آرام سے حمزہ کے اوپر چڑھ کر بیٹھ گیا تھا پھر پپو نے حمزہ کے چہرے سے کمبل ہٹا کر ایک کلکاری ماری اور بڑے آرام سے اس کے گالوں پر طمانچے مارنے شروع کئیے ۔۔
” چاچو بھوک لگی ہے ۔۔۔۔“
مریم سے اس معصوم کی فریاد برداشت نہیں ہوئی وہ تیزی سے اٹھ کر پپو کے پاس آئی ۔۔۔
”پپو جانو ۔۔۔۔“ مریم اسے مخاطب کرکے حمزہ کے سینے سے اٹھانے لگی تھی کہ اسکی کلائی حمزہ کی مضبوط گرفت میں آگئی اس نے چونک کر حمزہ کو دیکھا جس کی آنکھیں ابھی بھی بند تھی ۔۔۔۔
” میں اس کے دس چمانٹے کھا کر اٹھتا ہوں ابھی تو صرف پانچ پڑے ہیں ۔۔۔۔“ وہ بمشکل آنکھیں کھولتا ہوا بولا
پپو جو مریم کو دیکھ کر حیران تھا اس نے تیزی سے حمزہ کے ہاتھ پر کاٹا ۔۔۔
”سی “ حمزہ نے مریم کا ہاتھ چھوڑا اور پپو مسکراتے ہوئے لپک کر مریم کی گود میں چڑھ گیا ۔
”بے بی بھوک لگی ہے ۔۔“
مریم نے جذبہ ہمدردی سے سرشار ہو کر اس بھوکے خرگوش کو جکڑا اور اس کے پھولے پھولے گالوں پر پیار کیا ۔۔
” چلو میں تمہیں دودھ اور کیڈبری چاکلیٹ دیتی ہوں ۔۔۔۔“ وہ بڑے پیار سے بولی ۔
” مجھ سے بات کرتے ہوئے تو تمہاری منہ سے شعلے نکلتے ہیں کبھی مجھے بھی اتنے پیار سے پکار لیا کرو ۔۔۔“ حمزہ کھڑے ہوتے ہوئے بولا
اور وہ تینوں کچن کی جانب روانہ ہوئے ۔۔۔
**************************
مریم چائے بنا رہی تھی اور حمزہ پپو کو دودھ دیکر کیبنٹ سے چاکلیٹ نکال رہا تھا جب گڈو اندر داخل ہوا
حمزہ اور مریم دونوں نے اتنی صبح پرفیوم میں ڈوبے تیار گڈو کو غور سے دیکھا ۔
”طبعیت تو ٹھیک ہے گڈو اتنی صبح اور اتنے تیار ابھی تو اسکول بھی بند ہیں ۔۔۔۔“ حمزہ حیران تھا
”چاچو میں شادی کرہا ہوں ۔۔“ گڈو نے سنجیدگی سے جواب دیا ۔
” اب یہ شادی کدھر سے اگ آئی اور کس سے کررہے ہو ۔۔۔“ حمزہ نے اسے گھورا
” بچ باجی سے ۔۔۔“ گڈو نے جواب دیا اور چائے پیتی مریم کو اچھو لگ گیا ۔
” ہوش میں تو ہو “ حمزہ نے گڈو کا کان مڑوڑا
” چاچو کیا بچے کی جان لوگے اب ۔۔۔۔“ گڈو جھنجھلایا
”ابے موٹے اپنی ڈیمانڈ بھی تو دیکھ حد ہوتی ہے ڈھٹائی کی ۔۔۔“ حمزہ نے اسے گھورا
” چاچو میں نے پوری رسرچ کی ہے بچے کی شادی ہوسکتی ہے اسے چائلڈ ہڈ نکاح کہتے ہیں اور بس مجھے نکاح کرنا ہے اور ابھی کرنا ہے ۔۔۔۔“ گڈو ضدی لہجے میں بولا
”ابے تو کرتا کیا ہے کماتا کیا ہے تیرے جیسے ساڑھے تین فٹے کو کون لڑکی دیگا اور وہ بیچاری تو شاید ابھی پیدا بھی نہیں ہوئی ہوگئی ۔۔“ حمزہ زچ آکر بولا
”چاچو ! اٹس ناٹ فئیر یار خود تو دو دو اور میری ایک بھی نہیں ، غور سے دیکھیں اب تو پپو بھی جوان ہورہا ہے ۔۔“ گڈو نے پاس بیٹھے چاکلیٹ سے سنا منہ لئیے سپر ماریو کھیلتے پپو کی جانب اشارہ
”اچھا آج بتا ہی دو کہ تمہیں کیسی لڑکی اچھی لگتی ہے۔۔۔“ حمزہ نے پوچھا
” اللہ چاچو ! “ گڈو صاحب بری طرح شرمائے ۔۔
”مجھے بےبی سب سے اچھی لگتی ہے میرا دل چاہتا ہے میں بےبی سے اپنے سارے ٹوائز اور سارے گیمز شئیر کرو پر ۔۔۔“ گڈو بولتے بولتے چپ ہوگیا ۔
” پر کیا تم ابھی بھی اپنے ٹوائز اسے دے سکتے ہو۔“حمزہ نے کہا
”نہیں چاچو اب بےبی بیچاری کی لک خراب ہوگئی ہے اس کی شادی آپ سے ہوگی ہے ۔۔۔۔“ گڈو افسردگی سے بولا ۔۔۔
