Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nakhreli Muhabbatein by Seema Shahid

سیٹرڈے کا دن تھا گڈو اور پپو دونوں گارڈن میں فٹ بال کھیل رہے تھے اور باہر بیٹھا چوکیدار ان دونوں بچوں پر نظر رکھے ہوئے تھا حمزہ اندر آرام کررہا تھا ۔۔۔
گڈو اور پپو میں فٹ بال کا میچ جاری تھا ہری سرسبز گھاس پر وہ دونوں گول مٹول بچے آپس میں مگن تھے جب پپو گھاس پر گرنے کے انداز میں بیٹھ گیا ۔۔
”کیا ہوا پپو موٹو اتنی جلدی تھک گئے ۔“ گڈو نے چڑایا
”مجھے پاپ کارن کھانے ہیں مووی دیکھنی ہے وہ فلائنگ کارز والی ۔۔۔“ پپو بسورا
”ٹھیک چلو چاچو کو جا کر بولتے ہیں ۔۔“ گڈو جوش میں آیا
”وہ ڈانٹیں گئے کہیں گئے پہلے پوئم یاد کرو ، ٹیبل سناؤ ..“ پپو نے دلگرفتی سے کہا
” چلو اندر چلو چاچو سے بات کرتے ہیں ۔۔“ وہ دونوں بال وہی گھاس پر چھوڑ کر گرتے پڑتے بڑے جوش میں اندر بھاگے
بڑے سے بیڈروم میں حمزہ محو خواب تھا جب گڈو اور پپو کمرے میں داخل ہوئے اور اندر آکر بیڈ پر چڑھ گئے پپو تو اچک کر سوئے ہوئے حمزہ کے چوڑے سینے پر بیٹھ گیا اور گڈو صاحب حمزہ کے چہرے پر اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے زور دار چماٹے مارنے لگا حمزہ نے ہڑبڑا کر آنکھیں کھولیں تو اسے جاگتا دیکھ کر گولوں سا پپو ہنس پڑا حمزہ نے سب سے پہلے گڈو کو اپنے دائیں بازو میں دبوچا اور بائیں میں پپو کو جکڑا ۔
”کیا بات ہے شیطانوں مجھے کیوں جگایا اور گڈو یار اتنے زور سے بھی کوئی مار کر جگاتا ہے ۔۔“ حمزہ نے دونوں کے گال باری باری چومے
”چاچو آج سیٹرڈے ہے ۔۔“ گڈو نے اسے آگاہ کیا
”مجھے معلوم ہے آج سیٹرڈے ہے تو پھر ؟ “ حمزہ نے سوالیہ نظروں سے دونوں شیطانوں کو گھورا .
” چاچو ہمیں باہر جانا ہے مووی دیکھنی ہے ۔۔“ پپو نے فرمائش داغی ۔
”اچھا مووی دیکھنی ہے ۔۔۔“ حمزہ ان دونوں کو دبوچے ہوئے اٹھ بیٹھا .
”جی چاچو اس میں بہت سی فائٹنگ ہے اور کار چیزنگ بھی ہے ڈشو ڈشو ۔۔۔“ گڈو نے جوش سے کہا
” اور چاچو اس میں جو لڑکی ہے نا اس کی بلیو آئیز ہیں مائی فیورٹ۔۔“ پپو نے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں حمزہ کا چہرہ تھاما
”وہ بہت ہاٹ اور پریٹی ہے چاچو ۔۔“ گڈو نے لقمہ دیا
”بلیو آئیز ! ہاٹ ۔۔۔“ حمزہ نے شاک سے دونوں کو دیکھا
”سارے نمونے میری ہی قسمت میں ہیں ابے شرم کرو تم دونوں اس عمر میں لڑکیوں کو نہیں کارٹونز دیکھتے ہیں اسٹوری بکس پڑھتے ہیں گیم کھیلتے ہیں ۔۔“
” چاچو پلیز چلیں نا ۔۔۔“ گڈو روہانسا ہوا
”چلو نا چاچو ۔۔۔“ پپو نے رشوت کے طور پر اس کے گال پر کس کیا
”اچھا اچھا چلتے ہیں پر مووی نہیں ایسا کرتے ہیں پہلے مال چلتے ہیں ٹوائے شاپنگ کرتے ہیں پھر پلے لینڈ اور ڈنر بولو ٹھیک ہے ۔۔“ حمزہ نے پوچھا
پپو اور گڈو ٹوائے اور پلے لینڈ کا سن کر خوشی سے اچھل پڑے اور حمزہ سے لپٹ گئے ۔۔
اقبال صاحب میز پر بیٹھے تائی سے بات کررہے تھے ۔۔۔
”بیگم وقت کم ہے تم کل مریم کو لیکر کسی بہانے سے آفس لے آؤ میں وکیل صاحب کو بلوا لونگا تاکہ اس سے پیپر سائن کروا لئیے جائیں کیونکہ گھر میں تو کسی سے ملنے کو تیار نہیں ہورہی ہے ۔۔“ اقبال صاحب بولے
” اقبال صاحب آپ مجھ سے لکھوا لیں یہ لڑکی ہاتھ آنےوالی نہیں ہے اور نہ ہی یہ پیپر سائن کرے گئی میری مانیں تو اسے چلتا کریں ۔۔“ تائی نخوت سے بولی
”تمہاری عقل واقعی گھاس چرنے گئی ہے یہ گھر آفس بزنس سب اس کے نام ہے ایک ذرا سی غلطی سے ہم سڑک پر آجائینگے ۔۔“ اقبال صاحب گرم ہوئے
” تو پھر کچھ اور سوچیں آپ دیکھ ہی رہے ہیں کہ مریم کتنی تیز اور چالاک ہے ۔۔۔“
”ٹھیک کہتی ہو یہ لڑکی بہت تیز ہے ۔“ اقبال صاحب بولے
”ایک دفعہ جائداد ہاتھ لگ جائے پھر دیکھنا اسے تیر کی طرح سیدھا نا کردیا تو ۔۔“ تائی عیاری سے بولی
”ٹھیک ہے بیگم ہم پکنک کا پروگرام بنا کر اسے بہانے سے شہر سے دور کسی فارم ہاؤس لیجاتے ہیں اور وہاں ڈرا دھمکا کر مریم کا نکاح زبردستی زوہیب سے کر کے اس چڑیا کے پر کاٹ دینگے ۔۔۔“ وہ اپنا شیطانی منصوبہ بنا رہے تھے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *