Nakhreli Muhabbatein by Seema Shahid NovelR50635 Nakhreli Muhabbatein (Episode 14)
Rate this Novel
Nakhreli Muhabbatein (Episode 14)
Nakhreli Muhabbatein by Seema Shahid
ماہین بڑے آرام سے دبے قدموں چلتی ہوئی حمزہ کے بیڈروم کے پاس پہنچی سامنے ہی مریم اور ان شیطان بچوں کے کمرے تھے وہ چاروں جانب دیکھتی ہوئی حمزہ کے دروازے کی ناب کو گھما کر دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگئی ۔۔
کمرے میں زیرو بلب کی نیلگوں سی روشنی پھیلی ہوئی تھی اور وسط میں بچھے بڑے سے بیڈ پر حمزہ سو رہا تھا وہ زمین پر بچھے قیمتی دبیز قالین پر قدم رکھتے ہوئے بیڈ کے پاس پہنچی اور حمزہ کے پہلو میں آہستگی سے بیٹھ گئی تھوڑی دیر وہ حمزہ کو دیکھتی رہی پھر ہمت کرکے اپنا نازک نیل پالش سے سجا ہاتھ حمزہ کے سر پر رکھا اردہ اس کے بال سہلانے کا تھا ۔۔
ایک مصروف دن گزار کر حمزہ تھک ہار کر سونے لیٹا تھا آج اس نے مریم کے انداز و اطوار میں بھی تبدیلی نوٹ کی تھی اور اس کی آنکھوں سے جھلکتی اپنے لئیے پسنديدگی بھی بھانپ لی تھی وہ اس شادی کو نبھانے کا فیصلہ کرچکا تھا بس اب مریم کو بتانا باقی تھا ، مریم کو سوچتے سوچتے کب اس کی آنکھ لگ گئی پتہ ہی نہیں چلا
نیند میں ڈوبے حمزہ کو اپنے سر پر سرسراہٹ سی محسوس ہوئی اس نے فوری آنکھیں کھولی تو ماہین اس کے پاس بہت پاس بیٹھی اس کے بالوں میں بڑے پیار سے انگلیاں پھیر رہی تھی وہ تیزی سے اٹھا اور ایک جھٹکے سے ماہین کو دور کیا ۔۔
” تم میرے کمرے میں کیسے گھس آئی وہ بھی میری اجازت کے بغیر تمہارا دماغ تو درست ہے ۔“ حمزہ غصہ سے بولا ۔
”میرے کمرے کا نائٹ بلب شاید فیوز ہوگیا وہاں اتنا اندھیرا تھا اور پھر مجھے ایسا لگا جیسے میرے کمرے میں کوئی ہے میں ڈر گئی تھی ۔۔۔“ ماہین نے سہمے سہمے لہجے میں کہا ۔
” ڈر لگ رہا تھا تو تم بےغيرتی سے اتنی رات گئے ایک غیر مرد کے کمرے میں چلی آئیں ، چلو نکلو یہاں سے ۔۔۔“ حمزہ اکھڑ انداز میں بفیر کسی لحاظ کے بولا
”حمزہ آپ مجھے غلط سمجھ رہے ہیں میں تو مریم کا کمرہ سمجھ کر آئی تھی لابی میں اندھیرا تھا غلطی سے آپ کے کمرے میں آگئی۔“ وہ مصنوعی شرمندگی سے بولی ۔
”تو محترمہ آپ دروازہ تو کھٹکھٹا سکتی تھی بنا اجازت تو کسی کے بھی کمرے میں نہیں آنا چاہئیے اب آپ یہاں سے نکلیں بےبی کا کمرہ سامنے ہے آپ تشریف لے جاسکتی ہیں ۔۔۔“ حمزہ رکھائی سے بولا
” میں نے سوچا کہ وہ دن بھر کام کرنے کے بعد تھکی ہاری سوئی ہوگی اس لئیے دروازہ کھٹکھٹا کر اسکی نیند خراب نہیں کرنا چاہتی تھی اور مجھے کیا پتہ تھا کہ یہ آپکا کمرہ ہے ۔۔۔“ ماہین نے صفائی دی ۔
حمزہ تنے نقوش کے ساتھ کھڑا اس کے جانے کا انتظار کررہا تھا جب ماہین چلتی ہوئی اس کے پاس آئی ۔۔۔
” ویسے اگر آپ برا نہ منائیں تو میں آج ادھر ہی آپ کے پاس رک جاؤں قسم سے مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔۔“ وہ آنکھوں میں نمی بھر کر بھرائے ہوئے لہجہ میں گویا ہوئی۔
” دیکھیں مس ماہین مجھے اپنی نیک نامی بہت عزیز ہے ابھی آپ واپس اپنے کمرے میں جائیں اگر ڈر لگ رہا ہے تو ساری لائیٹیں جلا لیں اور اگر آیت الکرسی آتی ہے تو پڑھ کر سو جائیں مگر اسوقت یہاں سے واپس چلی جائیں ۔۔۔“ وہ اس کے دعوت دیتے سراپا سے نظریں چرا کر سختی سے بولا
”آپ کے یہاں مہمانوں سے ایسا سلوک کرتے ہیں مریم بھی تو ہے اسے تو اپنے سامنے والا کمرہ دیا ہے اور مجھ اکیلی نازک دل لڑکی کو اتنا دور ٹہرایا ہے کہ رات کو ڈر سے نیند ہی نہیں آتی ۔۔۔۔“ وہ حمزہ کے شانے پر سر رکھتی ہوئی بولی ۔۔
حمزہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا ارادہ اسے دھکا دینے کا تھا اس سے پہلے حمزہ اسے ہٹاتا دروازے پر آہٹ ہوئی حمزہ نے چونک کر دروازے کی سمت دیکھا ۔
****************************
چاروں جانب بڑے بڑے درخت تھے اور ان کے درمیان میں ایک سرسبز قطعہ چاروں طرف رنگ برنگے پھول ہی پھول اور ان پھولوں پر بیٹھی بہت ساری تتلیاں ان سب کے بیچ لمبے پنک اور وائٹ سے پرنسس ڈریس میں بیٹھی سنووائٹ کے روپ میں بےبی اور بےبی کی گود میں آرام سے لیٹا ہوا پپو انگور کھا رہاتھا تبھی ایک لمبی ناک اور بڑے بڑے ناخنوں والی چڑیل بہت سارے سیب باسکٹ میں لیکر آئی اور بےبی کو ایک سرخ اچھا سا سیب دیا ۔۔
”او گاڈ یہ تو وچ ہے اور یہ بےبی کو پوائزن ایپل دے رہی ہے ۔۔۔“ دور درخت پر بیٹھا گڈو بڑبڑا کر سپائیڈر مین کی طرح چھلانگ مار کر اترا
”بے بی ایپل مت کھانا اس میں پوائزن ہے ۔۔۔“ وہ زور سے چیخا اور اچھل کر گر پڑا
” آؤچ ! میں ڈریم دیکھ رہا تھا ۔۔۔“ بیڈ سے نیچے گرا گڈو کمر سہلاتا ہوا اٹھا
اٹھ کر پپو کو دیکھا جو مکی ماؤس کا اسٹف ٹوائے دبوچے بستر پر بیٹھا اسے گھور رہا تھا ۔
”اتنی زور سے گرتے ہیں کیا ؟ مجھے بھی جگا دیا ۔۔۔“ پپو نے منہ بسور کر کہا
”میں ڈریم میں وچ کو دیکھ رہا تھا وہ بے بی کو مارنےوالی تھی ! چلو چل کر چاچو کے پاس سوتے ہیں ۔۔۔“
گڈو نے پپو کو اٹھایا اور دونوں بھائی باہر نکل کر حمزہ کے کمرے کی جانب بڑھے اور پھر چاچو کے کمرے کا دروازہ حسب عادت دھڑ سے کھولا اور سامنے کا منظر دیکھ کر گڈو اور پپو دونوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے ۔
”شیم شیم ۔۔۔۔“ گڈو نے کہتے ہوئے پپو کی آنکھوں پر ہاتھ رکھا
بچوں کو دیکھ کر ماہین بھی بوکھلا گئی اور حمزہ نے ایک جھٹکے سے اسے خود سے دور کیا تبھی پپو نے بڑی مشکل سے گڈو کے ہاتھ اپنی آنکھوں سے ہٹائے اور دوڑ کر گرتا پڑتا ماہین کے پاس پہنچا
” تم شیلا کی جوانی والا سونگ گاؤ میں ڈانس کرونگا ۔۔۔“ پپو بڑے جوش میں بولا
” تم دونوں ادھر کیا کررہے ہو ۔۔۔“ حمزہ نے گڈو کو گھورا
”چاچو ۔۔۔“ گڈو حمزہ کی گھوری کو نظر انداز کرتا اندر آیا
”ابھی یہ وچ میرے ڈریم میں بےبی کو پوائزن والا ایپل کھلا رہی تھی اور اب آپ کے ساتھ ۔۔۔۔“ گڈو کے گال لال سرخ ہوگئے ۔
”گڈو پپو کو لیکر اپنے روم میں جاؤ میں ابھی آتا ہوں ۔۔۔۔
حمزہ نے پپو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جو بڑی پرشوق نظروں سے ماہین کو دیکھ رہا تھا ۔۔
”چاچو اب کیا ہوگا۔۔۔۔“ گڈو نے بڑے تفکر سے پوچھا
” اب کے بچے اپنے کمرے میں جا یہاں کچھ نہیں ہورہا ۔۔۔“ حمزہ جھنجھلا کر بولا
” تو پھر یہ بچ انڈیا والی سنی لیونی کیوں بنی ہوئی ہے ۔۔۔۔“ گڈو نے سوال اٹھا
” اب یہ سنی لیونی کون ہے ۔۔۔۔“ حمزہ نے سر پیٹا
”چاچو سنی لیلی او لیلی والی لڑکی ہے جس کی مووی دیکھنے پر آپ نے ہمیں بہت ڈانٹا تھا اور دو دن تک کیبل بند کردیا تھا ۔۔۔“ گڈو نے اسے یاد دلایا
حمزہ گڈو سے توجہ ہٹا کر ماہین کی جانب بڑھا اسے ہاتھ پکڑ کر دروازے تک لایا اور باہر نکال کر دروازہ اس کے منہ پر بند کردیا۔۔
ماہین کو نکالنے کے بعد حمزہ بچوں کی طرف بڑھا دونوں کو دبوچ کر بیڈ پر ڈالا اور لائٹ بند کرکے ان کے ساتھ لیٹ گیا ۔
تھوڑی دیر بعد اندھیرے میں پپو کی آواز ابھری
”چاچو وہ وچ آپ کا خون پی رہی تھی کیا ۔۔۔
”پپو ! چاچو نے تو ہماری ناک کٹوا دی ہے اب ہم کس منہ سے اسکول جایا کرینگے ۔۔۔“ گڈو کی افسردہ سی آواز ابھری
”میرے لاڈلے راج دلارے بچوں اب سو جاؤ اور کسی کی کوئی ناک نہیں کٹی ۔۔۔۔“ حمزہ نے اندھیرے میں دونوں کو ٹوکا ۔
”چاچو ! اگر بےبی کو بچ کے اور آپ کے بارے میں پتہ چل گیا تو وہ مجھ پر بھی ٹرسٹ نہیں کریگی جب چاچو گندے بچے ہیں تو بےبی مجھے بھی گندہ بچہ سمجھے گئی ۔۔“ گڈو دور کی کوڑی لایا
”خبردار جو کسی نے بےبی کو کچھ بتایا یہ ہم بوائز کا سیکرٹ ہے اوکے گائز ۔۔“ حمزہ نے دونوں کو سمجھایا ۔
پپو نےلڑھکتے ہوئے حمزہ کی طرف کروٹ لی ۔۔۔
”چاچو کیا بچ آپ کی گرل فرینڈ ہے ۔۔۔“ پپو نے پوچھا
”یہ گرل فرینڈ کیا ہوتا ہے تمہیں کس نے بتایا ۔۔“ حمزہ نے اس شیطان کو اندھیرے میں گھورا
”اسپائیڈر مین کی بھی گرل فرینڈ ہے بیٹ مین کی بھی اور میری بھی ہے ۔۔“ پپو نے بڑے آرام سے جواب دیا
”تیری گرل فرینڈ بھی ہے کون ہے وہ بچی ۔۔۔“ حمزہ لیٹے سے اٹھ بیٹھا ۔
” بچی نہیں ، بےبی چاچو بے بی ۔۔۔“ پپو نے بڑے فخر سے جواب دیا
”بس بہت ہوگیا آج سے تم دونوں شیطان مریم کو چاچی بولوگے اور اگر میں نے کسی کے منہ سے بےبی سنا تو وہی الٹا لٹکا کر دو لگاؤنگا ۔۔۔“ حمزہ نے دونوں کو وارننگ دی ۔
”چاچی کیوں بولیں وہ اتنی کیوٹ سی لڑکی ہے اور چاچی ۔۔۔۔۔“ گڈو بولتے بولتے چونکا
پپو بھی اٹھ کر بیٹھ گیا
”چاچو اگر بےبی چاچی بنے گئی تو تو آپ کیا آپ بھی بےبی پر لائن مار رہے ہیں ۔۔۔“ گڈو نے سنجیدگی سے پوچھا
حمزہ نے اٹھ کر کمرے کی لائٹ جلائی اور بیڈ پر آلتی پالتی مار کر دونوں بچوں کو اپنی گود میں لیکر بیٹھ گیا
” سوری بچوں تمہیں اسطرح پتہ چل رہا ہے مگر میں آپکی بےبی سے شادی کرچکا ہوں اب وہ آپکی چاچی ہے ۔۔۔۔“ حمزہ نے پیار سے انہیں آگاہ کیا ۔
”مگر چاچو بےبی تو آپ کو بالکل لائک نہیں کرتی اور جب آپ کی شادی ہوئی تو ہم دونوں کہا تھے ۔۔“ گڈو الجھا
حمزہ نے کاٹ چھانٹ کر ان دونوں کو نکاح کا بتایا ۔۔
”اب تم دونوں میری مدد کرو تاکہ تمہاری بےبی راضی ہوجائے ۔۔۔“ حمزہ نے دونوں کو دیکھا
” واؤ چاچو اور بےبی ۔۔۔۔“ پپو نے تالی بجائی
”ٹھیک ہے چاچو ۔۔۔“ گڈو نے سر ہلایا
”اب تم دونوں وعدہ کرو صبح اٹھ کر چاچی کو وچ کا نہیں بتاؤ گے اور ہم بوائز کی کوئی بات بےبی کو نہیں بتاؤگے ۔۔۔“ حمزہ نے وعدہ لینا چاہا
”پکا وعدہ چاچو ۔۔“ دونوں ہم آواز بولے
”یاد رکھنا تم دونوں نے مردوں والا وعدہ کیا ہے ۔۔“ حمزہ نے کہا
”مرد کیا ہوتا ہے چاچو ہم نے تو پکا والا وعدہ کیا ہے ۔۔۔“ پپو نے جواب دیا
”بیٹا ہم تینوں مرد ہیں اور اور ۔۔۔“ حمزہ نے کان کھجایا
”چھوڑیں چاچو ہم صبح گوگل کرلینگے ۔۔۔“ گڈو کہتا ہوا لیٹ گیا ۔
حمزہ نے لائٹ آف کی اور کمرے میں اندھیرا چھا گیا ۔۔۔
” چاچو ۔۔۔“ گڈو کی آواز ابھری
”وہ بچ آج بہت ہاٹ لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔“ گڈو شرارت سے بول کر آنکھیں میچ لی
******************************
ماہین کا غصہ سے برا حال تھا وہ پیر پٹختی گیسٹ روم کی جانب چلی گئی کمرے میں پہنچ کر اس نے اپنا فون اٹھایا ۔۔
”باجی یہ حمزہ انتہائی ذلیل انسان ہے اور اس کے وہ منحوس بچے آج اگر وہ بیچ میں نہ آتے تو صبح حمزہ کو مجھ سے نکاح کرنے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی تھی ۔۔۔“
دوسری طرف سے اسے تسلی دی گئی حوصلہ بڑھایا گیا ۔۔۔
”باجی جب تک وہ لڑکی مریم ادھر ہے میں کچھ نہیں کرسکتی آپ بھائی جان سے بات کرکے اس لڑکی کو ادھر سے نکلوائیں ۔۔۔“ ماہین سنجیدگی سے بولی
”تھیک ہے میں اس سے دوستی بڑھا کر اس کے بارے میں پوچھتی ہوں اور آپ کو اس کی تصویر بھی بھیجتی ہوں ۔۔۔” تھوڑی دیر تک بات سنے کے بعد ماہین نے جواب دیا ۔۔۔
مریم کی صبح آنکھ کھلی تو پورے گھر میں سناٹا چھایا ہوا تھا وہ حیران ہوتی باہر آئی بچوں کا کمرہ خالی تھا کچن بھی خالی تھا وہ حمزہ کے کمرے کی جانب بڑھی ہلکا سا دروازہ کھول کر جھانکا تو تینوں ایک دوسرے پر آڑے ترچھے پڑے سو رہے تھے وہ آہستگی سے دروازہ بند کرکے کچن میں آگئی اور چولہے پر چائے کا پانی رکھا ہی تھا کہ ماہین کچن کے دروازے پر نمودار ہوئی ۔۔۔۔
