Muhabbat Youn Bhi Hoti Hai by Mishi Sheikh NovelR50692 Muhabbat Youn Bhi Hoti Hai (Last Episode)
Rate this Novel
Muhabbat Youn Bhi Hoti Hai (Last Episode)
Muhabbat Youn Bhi Hoti Hai by Mishi Sheikh
ابھی شانی نہیں آیا تھا نا ہی اس کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا تھا…. جانے اسے پیغام ملا بھی تھا کہ نہیں….
وہ شخص مولوی لے کر نکاح کے لئے پہنچ گیا، بھائی نے بھابھی کا لال جوڑا لا کر دیا اور تیار ہونے کا کہہ کر باہر نکل گیا…. وہ ہکی بکی رہ گئی…. کتنی ہی دیر جوڑا گود میں رکھے بیٹھی رہی…. آگے اب اندھیرا ہی اندھیرا دکھائی دے رہا تھا، سوچا کچھ کھا کر مر جائے، بہت سوچا پر گھر میں ایسی کوئی چیز دکھائی نہ دی جسے کھا کر مرا جا سکتا تھا، چھری سے نبض کاٹ لے یا پنکھے سے لٹک جائے، پر دونوں صورتوں میں شور پڑ جائے گا اور وہ بچا لی جائے گی پھر جانے کیا سلوک کیا جائے…. زندگی… ان حالات سے بھی زیادہ اجیرن ہو جائے گی…. کیا کرے…. اے اللہ، کوئی تو راہ دکھا دے…
کوئی راہ سجھائی نہ دی، شاید ابھی آزمائش کی گھڑیاں باقی تھیں….
اس نے جوڑا پہن لیا…. بھائی نادیہ کو بلا لایا…. اسے تیار کر دو….
اس نے شکوہ کنایہ نگاہوں سے بھائی کو دیکھا کہ اتنے ظالم مت بنو… اک لاش کو لال جوڑا تو پہنا دیا اب کسی انچاہے کے لیے سجنے کو بھی کہہ رہے ہو…. بھائی نظر پھیر گیا.
پہلے تو وہ نادیہ کے گلے لگ کر خوب روئی…. پھر اس نے اسے سجا دیا…. آئینے پہ نگاہ ڈالی تو وہ بھی شکوہ کر گیا کہ یہ روپ تو شانی کے لیے سنبھال رکھا تھا…. اب کیا ہوا، اتنی کمزور کیوں پڑ گئی….
اسکے پاس آنسوؤں کے سوا کوئی جواب نہ تھا…. نکاح ہو گیا.
دل چاہا تھا کہ انکار کر دے…. پر تربیت ہی ایسی تھی کہ زندہ درگور کرنے والے بھائی کی عزت پہ حرف بھی اسے قابل قبول نہ تھا….
رخصتی کا وقت آ گیا، وہ نادیہ کے گلے لگ گئی…. چلتے چلتے اسے شانی کے لیے پیغام دے آئی… اس سے کہہ دینا کہ اب کبھی شہر کا رخ نہ کرے، یہاں اب اسکے لئے کچھ نہیں رکھا، اب اسکے انتظار میں کوئی رانو نہیں بیٹھی ….. اسکی رانو پرائی ہو گئی….
باہر آتے ہی سب آنسو خشک ہو گئے، چہرہ اک دم سپاٹ….. بھائی نے جذباتی پن کا مظاہرہ کرنے کے لیے اسے گلے لگانا چاہا پر وہ رکی نہیں… وہ منہ دیکھتا رہ گیا… وہ رخصت ہو کر جہنم میں آ گئی ۔
_________
میں چاہتا تو تم سے نکاح نہ کرتا بس رقم ادا کر کے تمہیں اپنے ساتھ لے آتا، تمہارے بے غیرت بھائی کو تو کوئی فرق نہیں پڑنا تھا، اور اس حرکت سے میرا بھی کچھ نہیں جانا تھا، پر تمہاری عزت دو کوڑی کی ضرور رہ جانی تھی، بن نکاح کے کسی مرد کی تحویل میں رہنے والی عورت کو کیسی کیسی باتیں سننی پڑ سکتی تھیں، یہ تم بخوبی سمجھ سکتی ہو…. بہت ممکن تھا کہ تمہارا منگیتر بھی تمہیں اپنانے سے انکار کر دیتا…. سو مجھے بہتر یہی لگا کہ تمہیں نکاح کر کے لے جاؤں، نکاح کا کیا تھا تین حرفوں سے ختم ہو جانا تھا، پر عزت پہ لگا دھبہ ساری زندگی نہ دھو پاتی تم….
اسکی آنکھوں سے دو آنسو ٹپکے…. بات تو اسکی سو فیصد درست تھی…..
بے دردی سے آنکھوں کو رگڑ کر وہ پھر سے پڑھنے لگی.
گھر لا کر تمہیں گیسٹ بیڈ میں ٹھہرا دیا، میں نے سوچا کہ تمہیں آج ہی بتا دوں کہ یہ نکاح کن حالات میں کرنا پڑا… آگے میرا کیا ارادہ ہے… تاکہ تم پر سکون ہو سکو….
بتانے کے ارادے سے میں تمہارے کمرے کی طرف آیا، دروازہ اندر سے لاک تھا، میں نے دستک دی، جواب ندارد…. پھر دستک قدرے زوردار دی… ابھی بھی خاموشی… اب تو میں گھبرا گیا کہ تم نے کہیں کچھ ایسا ویسا نہ کر لیا ہو… میں نے دروازہ زور سے پیٹ ڈالا…. دروازہ کھٹاک سے کھلا…. میری جان میں جان آئی کہ تم صحیح سلامت کھڑی تھی، تم ایسی شعلہ بار نگاہوں سے دیکھ رہی تھی کہ میں کچھ بھی کہنے، بتانے کی ہمت نہ کر سکا اور دروازے سے ہی لوٹ گیا.
وہ اس دن کو کیسے بھول سکتی تھی …. وہ کمرے میں بیٹھا دی گئی تھی رضیہ اسے بیڈ پہ دلہنوں کی طرح گھونگھٹ میں بیٹھا گئی تھی، اس نے اٹھ کر دروازہ لاک کر لیا، ادھر ادھر کچھ ڈھونڈنے کی کوشش کی جس سے اس جہنم سی زندگی کا خاتمہ کیا جا سکے… پر یہاں بھی کچھ نہ ملا….
دروازے پہ دستک ہونے لگی… سوچ رکھا تھا کہ دروازہ ہی نہیں کھولے گی… پر تھوڑی دیر میں ایسا لگنے لگا کہ دروازہ توڑ دیا جائے گا…
دروازہ کھولنا پڑا، سامنے فاروقی کو دیکھ کر اسکے قدم ڈگمگائے، یقیناً اپنا حق جتانے آیا ہے…اس نے خود کو مضبوط کیا اور نفرت سے اسے دیکھنے لگی کہ اپنا آپ کسی طور اس کے سپرد نہیں کرنا چاہتی تھی،
فاروقی نے کچھ نہیں کہا اور چپ چاپ سر جھکائے لوٹ گیا…. اس نے جلدی سے پھر دروازہ بند کر لیا، کھینچ کھینچ کر گہری سانسیں لیں اور خود کو داد دینے لگی کہ اتنا بڑا معرکہ سر کر لیا…. اتنی بڑی کامیابی اتنی آسانی سے مل گئی….
ایسا کیسے ہوا یہ بات اسے اس وقت سمجھ نہیں آ سکی تھی، وہ تو اسے اپنا کمال سمجھی تھی، اگلے بندے کی اچھائی اسے نظر نہیں آئی تھی.
__________
اگلے روز تمہارا بھائی میرے پاس چلا آ یا، رقم کا مطالبہ کیا کہ بہن کو رخصت کرنا ہے مدد چاہیے… وہ اپنے آپ کو بہت چالاک سمجھتا تھا….
میں نے کہہ دیا کہ کل خود آؤں گا تمہارے گھر، تمہاری بہن کے سر پہ ہاتھ بھی رکھوں گا اور ہتھیلی پہ رقم بھی…
وہ جو چاہے، جیسے چاہے، اپنی مرضی کے مطابق کر لے گی…
یہ سننا تھا کہ اسکا چہرہ زرد پڑ گیا.
اسکے بعد میں کسی کام کا بہانہ کر کے باہر چلا گیا… اس سے پہلے کہ وہ خود کوئی نیا بہانہ تراشتا.
جاتے جاتے میں شرفو کو آنکھ کے اشارے سے نگرانی کا کہہ گیا.
تمہارا بھائی بہت ڈرپوک نکلا راتوں رات شہر ہی چھوڑ گیا…
شرفو نے صبح آ کر بتایا.
وہ کہاں گیا، یہ جاننے سے ہمیں کوئی غرض نہ تھی. بس خوشی اس بات کی تھی کہ جو چاہا وہ ہو گیا…. ایسے کم ظرف بھائی کا تمہاری زندگی سے نکل جانا ہی بہتر تھا.
میں سمجھا تھا کہ سارے مسئلے حل ہو گئے، پر بے خبر تھا کہ اصل امتحان تو اب شروع ہونا ہے…
میں نے کئی بار تم سے بات کرنے کی کوشش کی…. تمہارے منگیتر کے بابت پوچھنے کی کوشش کی پر ناکام رہا…. رضیہ سے بھی کہا کہ آپ کے قریب ہونے کی کوشش کرے، اور شانی کے بارے میں پتہ لگائے…. تمہارے دل کا حال جانے، تم کیا چاہتی ہو، آگاہی حاصل کرے… پر وہ بھی لاکھ کوشش کے باوجود ناکام رہی،
تم نے کسی کو بھی دل تک رسائی نہ دی…
میں گھر آتا، نگاہیں تمہیں ڈھونڈنے لگتیں… اور تم کہیں دکھائی نہ دیتی، شاید خود کو اک کمرے تک ہی محدود کر لیا تھا…. کبھی کبھار نظر آ جاتی تھی، دل پر سکون ہو جاتا…. آنکھوں کو گویا قرار سا آ جاتا….
میں تمہارا کچھ نہیں لگتا تھا، تمہیں مجھ سے کوئی سروکار نہ تھا، تم پہ میرا کوئی حق نہ تھا….
پھر بھی تم میری بیوی تھی، چاہے اس نکاح کی کوئی حیثیت نہ تھی…. نہ تمہاری نظر میں، نہ میری نظر میں…
پھر بھی اک رشتہ تو تھا نا….
بس اس رشتے کی کشش ہی سمجھ لو، مجھے تم اچھی لگنے لگی تھی…. یہ مت سمجھنا کہ میری نیت خراب ہونے لگی تھی، نہیں ہر گز نہیں….
میں اب بھی اپنے وعدے اور ارادے میں مضبوط تھا. بس تمہاری پیش قدمی کا انتظار تھا.
مجھے تمہاری طلب ضرور ہونے لگی تھی پر اک جیون ساتھی کی حیثیت سے نہیں، مجھے تم میں اک اچھا دوست چاہیے تھا، جس سے میں اپنے سب دکھ درد کہہ سکوں….
ایک دن کھانے کا ذائقہ مختلف محسوس ہوا، رضیہ سے پوچھنے پہ پتہ چلا کہ کھانا تم نے بنایا ہے، دل جھوم جھوم اٹھا کہ چلو تم نے بھی اس گھر کو اپنا سمجھنا شروع کیا….میرے نصیب نہ سہی اس گھر کے بخت تو جاگے… اس خوشی میں کھانا مذید لزیز لگنے لگا….
جیتے جی تو تم سے کہہ نہ سکا ، چلو اب ہی سہی، ویسے تم کھانا بہت اچھا بناتی ہو، شانی کو اپنے ہاتھوں سے بنا کر کھلایا کرنا…. اسے اتنا پیار دینا، اتنا خیال رکھنا کہ اسکے سارے دکھوں کا مداوا ہو جائے….
تم دونوں کی خوشی سے ہی شاید میری آخرت سنور جائے…
سنا ہے دو دلوں کو ملانا بڑے ثواب کا کام ہے، جیتے جی تو یہ کام کر نہ سکا، پر امید ہے میرے مرتے ہی یہ نیک کام ہو جائے گا۔
___________
وہ خود کو بہت بہادر سمجھنے لگی تھی جس نے فاروقی جیسے بندے کو اک کونے میں ڈال دیا ہے…. پچھتا رہی تھی کہ کاش اپنے حق کے لیے بھائی کے سامنے بھی کھڑی ہو جاتی…. تب وہ بھی ڈر کر بیٹھ جاتا…. وہ تو بے خبری میں ماری گئی کہ جانے بغاوت کی صورت میں کیا حال کیا جائے….
فاروقی گھر سے چلا جاتا تو وہ سارے گھر میں دندناتی پھرتی… پر اسکے آنے سے پہلے پہلے کمرے میں بند ہو جاتی.پھر بھی کبھی کبھار سامنا ہو ہی جاتا، اور یہ لمحہ دو لمحہ کا سامنا بھی اسے ناگوار گزرتا….. بلکہ وہ ڈر سی جاتی کہ کہیں اسے اپنا حق نہ یاد آ جائے….. اسکے اندر کا شیطان نہ جاگ اٹھے…..
رضیہ کے ساتھ اسکی اچھی خاصی دوستی ہو چکی تھی، اب تو کبھی کبھار وہ کھانا بھی خود بنانے لگی تھی، گھر کی دیکھ بھال، باغیچے کی سجاوٹ میں دل لگانے لگی تھی، مصروف ہوئی تو شانی کی یاد بھی کم ستانے لگی تھی….
رضیہ نے کئی بار اس سے اسکے ماضی کے بابت پوچھنے کی کوشش کی پر اس کی زبان نہ کھلی …. وہ اپنے ماضی کے کسی بھی فرد کا بھولے سے بھی نام نہ لیتی تھی….. کیوں لیتی نام….. سب ہی تو اسے چھوڑ گئے……وہ بھی چھوڑ دینا چاہتی تھی ….
شکریہ فاروقی صاحب، تعریف کے لیے بہت بہت شکریہ، نیک تمناؤں کے لیے شکریہ… اور آپ کو یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ مجھے شانی کا خیال رکھنا ہے….. کیونکہ مجھے پتہ ہے مجھے کیا کرنا ہے….. وہ ذرا تلخی سے کہہ گئی.
_______
اتنا عرصہ تو کسی جانور کے ساتھ بھی بیتایا جائے تو اس سے بھی محبت ہو جایا کرتی ہے… اتنے عرصے میں تو بہت کچھ بدل جایا کرتا ہے، پسند نا پسند…. عادات و اطوار….. آنکھوں کوچھبنے والی چیز بھی بھلی لگنے لگتی ہے کہ دیکھ دیکھ کر عادت ہو جاتی ہے پھر اسکا بھونڈا پن نظر نہیں آتا….
پر اس عرصے میں نہیں بدل سکا تو تمہارا دل نہیں بدل سکا، میرے لیے رتی بھر گنجائش نہ نکل سکی… نفرت جوں کی توں رہی…. پیار محبت، لگاؤ تو دور کی بات، میں تو تمہاری آواز سننے کو بھی ترس گیا..
ابھی پندرہ دن پہلے کی بات ہے موسم بہت حسین تھا، ہلکی ہلکی بوندیں گر رہی تھیں، ٹھنڈی مست ہوا…. سب کو دیوانہ کر رہی تھی.
پر میرا دل بہت اداس تھا…. میں اندر ہی اندر ٹوٹ رہا تھا بکھر رہا تھا، کسی بہت اپنے کے سہارے کی ضرورت تھی…. اک لمحے کو تو دل چاہا کہ میرا باپ ہی آ جائے کہیں سے…. میں اسے معاف کر دوں گا…. ساری نفرتیں بھول کر اسکے سینے سے لگ جاؤں گا…. کہ میں اسکا خون ہوں…. دل کو قرار آ جائے گا…. اس لمحے خود کو بہت بے بس محسوس کیا.
اجنبیوں میں جیتے جیتے بیزار ہونے لگا تھا…. پھر تمہارا خیال آیا، سوچا آج تم سے دو ٹوک بات کروں گا….. میرے ساتھ رہنا ہے تو دوست بن جاؤ… ان نفرتوں کو مٹا دو کہ اس بار تلے اب مذید جیا نہیں جائے گا…. اگر جانا چاہتی ہو تو عزت سے تمہیں رخصت کر دیتا ہوں بلکہ خود چھوڑ کر آتا ہوں جہاں تمہیں جانا ہے…..
جب تک تم یہاں ہو، امید کا دیا جلتا رہے گا کہ شاید کبھی تم لوٹ آؤ…. اور امید کی ڈور تھامے چلتے چلتے اب میں اتنا تھک چکا ہوں کہ مذید چلا تو جان سے جاؤں گا….
میرا جسم ٹوٹ رہا تھا، آنکھیں جل رہی تھیں…. فاروقی میاں چلیں آپ کو ڈاکٹر کے پاس لے چلوں… آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی…. فضلو چاچا نے شفقت سے میرے سر پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا.
اب تک جو جی رہا تھا تو شاید چاچا کی وجہ سے ہی جی رہا تھا ورنہ تو شاید باؤ جی کے مرتے میں بھی مر ہی جاتا…
نہیں چاچا مجھے گھر لے چلو…. میں نے تھکے تھکے لہجے میں کہا، یہ میں ہی جانتا تھا کہ اس وقت مجھے ڈاکٹر کی دوا کی نہیں، کسی اپنے کی دعا کی ضرورت ہے، تسلی اور ہمدردی کی بھوک ہے، پیار کے دو لفظوں کی پیاس ہے….
پر میری قسمت دیکھو کہ کچھ بھی نہ میسر آ سکا….
میں لوگوں کا مسیحا، خود اپنے لئے مسیحا تلاشتا رہا، پر ناکامی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا…
میں گھر آیا، طبیعت کافی خراب ہو رہی تھی، بخار کی شدت سے آنکھیں لال بھبھوکا ہو رہی تھیں اور قدم ڈگمگا رہے تھے… تم لاؤنچ میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی…. تمہیں دیکھا تو سوچا ابھی بات کر لوں…. تم نے مجھے دیکھا تو نفرت سے منہ پھیر گئی اور پھر کمرے میں بھاگ گئی ، زور سے دروازہ بند ہونے اور پھر چٹخنی لگنے کی آواز بھی آئی…. میری آنکھوں میں آنسو آ گئے…. کمرے میں آ کر خود کو سنبھال نہ پایا اور زاروقطار رویا، وہ آنسو جو میں کسی اپنے کے کندھے سے لگ کر بہانا چاہتا تھا، در و دیوار سے لپٹ کر بہانے پڑے….
خود کو دنیا کا سب سے بد نصیب شخص جانا…. جسے جیتے جی بھی محبت ٹھکراتی رہی اور اسکے مرنے پہ بھی کوئی نہ روئے گا، اگر کوئی رویا بھی تو اپنی ضرورت کو روئے گا…. اس کی محبت میں نہیں…..
میں بظاہر سب کو ٹھیک نظر آ رہا ہوں… پر میں قطرہ قطرہ پگھل رہا ہوں….. جانے کس رات یہ شمع بجھ جائے معلوم نہیں…. میں اک کمزور انسان جو کبھی تمہارے سامنے کھڑا ہو کر دل کی بات نہ کہہ سکا، آج مجھے کہہ لینے دو…
میں نعمان فاروقی … اپنی بیوی رانی سے بہت پیار کرتا ہوں….وہ رانی جس نے کبھی بھی مجھے کوئی بھی حق نہیں دیا، یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ میری نہیں، میں سر تا پا… صرف اسی کا رہا…. صرف اسی کو چاہتا رہا، یہ شرف مجھے کب ملا، معلوم نہیں…. میری محبت بے لوث ہے، میں مر بھی جاؤں، یہ محبت زندہ رہے گی….
رانی میں نے بہت انتظار کیا کہ کبھی تو تمہارا پیمانہ لبریز ہو گا، تم دل کا غبار نکالو گی، گلے شکوے کرو گی…. برا بھلا کہو گی، لعنتیں بھیجو گی، بد دعائیں دو گی…. بس پھر وہی لمحہ ہو گا،میں تم سے سچائی کہہ ڈالوں گا اور پھر تمہیں تمہارے منگیتر کے پاس لے جاؤں گا…. تمہیں تمہاری خوشیاں لوٹا کر سرخرو ہو جاؤں گا.
تب یقیناً تم اک بار مجھے مسکرا کر دیکھو گی…. پہلی اور آخری بار….
میں انتظار میں ہی رہ گیا… تم جانے کس مٹی سے بنی ہوئی ہو، تمہارے منہ سے اک بھی حرف شکایت ادا نہ ہوا….
جانے تم خود کو سزا دے رہی تھی کہ مجھے…. سمجھ نہ سکا.
تمہارا، جیتے جی بھی اور مر کر بھی فقط تمہارا
نعمان فاروقی
%%%%
چہرہ آنسوؤں سے تر تھا….. مذید آنسو بھی پلکوں سے ٹوٹ ٹوٹ کر گر رہے تھے، اس نے بند نہیں باندھا، انہیں بہہ جانے دیا…. لمبی لمبی سانسیں کھنچیں کہ اب سانس لینے میں دشواری ہونے لگی تھی، جب زیادہ گھٹن محسوس ہوئی تو کھڑکی میں جا کھڑی ہوئی… بارش رک چکی تھی، گیلی مٹی کی خوشبو نتھنوں سے ٹکرائی تو اک تازگی اسکے اندر تک اتر آئی… گھٹن کا احساس اب قدرے کم ہو گیا، مطلع صاف ہو چکا تھا… اور اسے اپنا آگے کا راستہ بھی صاف دکھائی دینے لگا تھا، رات کی سیاہی چھٹنے لگی تھی، اسکی زندگی کی سیاہی چھٹ چکی تھی، امید کی اک نئی کرن دکھائی دینے لگی تھی… ابھی فجر قضا ہونے میں کچھ وقت باقی تھا، اس وقت کو غنیمت جانا اور وضو کر کے خدا کے حضور کھڑی ہو گئی….
کہ پہلے ہی بہت دیر ہو چکی تھی، اسے اپنے گناہوں کی توبہ بھی تو کرنی تھی..
مسجد ڈھا دے، مندر ڈھا دے، ڈھینڈا جو کجھ ڈھا دے
اک بندے دا دل ناں ڈھاویں، رب دلاں وچ رہندا
اور وہ تو کسی کے دل پہ بڑا ظلم ڈھا چکی تھی، پاش پاش کر ڈالا تھا، جانے اسے معافی ملے گی بھی کہ نہیں….
آنسو تھے کہ بہتے ہی چلے جا رہے تھے…. باہر کی بارش رک چکی تھی پر اندر کافی پانی اکٹھا ہو چکا تھا…. جسے اب جانے اب کب تک آنسوؤں کی صورت برسنا تھا….
جائے نماز ایک طرف ڈال کر وہ بیڈ پہ آ بیٹھی، سائیڈ ٹیبل کی دراز سے فاروقی کی تصویر نکالی جو رات میں اس نے نفرت سے اندر ڈال دی تھی اب محبت کی نگاہ ڈال کر سینے سے لگا لی… پچھتاوے نے گھیر لیا کہ آج سے پہلے اسے اس نگاہ سے کیوں نہ دیکھ پائی….
فاروقی کی آنکھوں میں جھانکا تو اسے وہ لال بھبھوکا آنکھیں یاد آ گئیں، اس روز وہ بیمار تھا، اور وہ پگلی اسکے ڈگمگاتے قدموں اور لال ہوتی آنکھوں سے یہی اندازہ لگا پائی کہ وہ نشے کی حالت میں ہے، خیال آیا کہ وہ اس حالت میں کچھ بھی کر سکتا ہے سو فوراً وہاں سے بھاگ نکلی اور خود کو کمرے میں بند کر لیا، ساری رات وہ خوف کے مارے سو نہ سکی، ایسا لگتا تھا کہ ابھی دروازہ کھلے گا اور فاروقی اندر آ جائے گا..
یہ آنکھیں اس سے کچھ کہہ رہی تھیں،وہ غور کرنے لگی…. ہاں یہ تو شکایت کر رہی ہیں….. اپنی بے قدری کا ماتم…
معصوم دکھنے والی رانی تم کتنی ظالم نکلی…. تم اتنے برس بھائی کی بے رخی کا ماتم کرتی رہی، شانی کے لیے تڑپتی رہی، وہ شانی جو تمہاری مدد کو بروقت نہ آیا اور نہ ہی بعد میں آنے کی زحمت کی، تمہارا پیغام سن کر رو دھو کر آرام سے بیٹھ گیا، کیا پیار کرنے والے ایسے ہوتے ہیں، ارے پگلی وہ تو جان کی بازی لگا دیا کرتے ہیں… نفع نقصان نہیں دیکھا کرتے… چاہیے تو یہ تھا کہ بھاگا چلا آتا…. تمہارے لیے زمانے سے لڑ جاتا….
اتنا عرصہ اسے چاہتی رہی، اسکے لئے روتی رہی جسکے دل کا حال تمہیں معلوم بھی نہیں…
اور وہ جو بنا کسی رشتے کے تمہاری خاطر تڑپ گیا، تمہاری عزت بچانے کو ہر قدم اٹھا ڈالا، اپنی عزت کا بھی خیال نہ کیا، وہ جس نے تمہاری خوشی اور سکون کی خاطر، ہر حق ہونے کے باوجود تمہاری طرف اک قدم بھی نہ بڑھایا، ساتھ رہتے ہوئے بھی فراق کی آگ میں جلتا رہا…. کبھی زبان نہ کھولی…. اسکی کوئی قربانی تمہیں نظر نہ آئی،
بس کرو فاروقی، بس کر دو میں پہلے ہی بہت پچھتا رہی ہوں، اب اور شرمندہ مت کرو، وہ تصویر کی آنکھوں پہ ہاتھ رکھ کر سسک پڑی….
کچھ دیر یونہی روتی رہی، پھر اک عزم سے آنسو صاف کر ڈالے، تصویر کو سائیڈ ٹیبل پہ سجا دیا ….اور خود باہر نکل گئی کہ بہت سے ادھورے کام پورے کرنے تھے…. اب تو اسکی ذمہ داری بھی بڑھ گئی تھی.
%%%%%%
باہر کار کا ہارن سنائی دیا،رضیہ بھاگی بھاگی آئی، فضلو چاچا آ گئے ہیں بی بی جی….
اس نے سنی ان سنی کر دیا، اور نظریں بدستور ٹی وی پہ ہی تھیں….
فضلو چاچا گاڑی سے نکل کر گیٹ کی طرف آیا، اوئے نوید کہاں ہے، گیٹ کیوں نہیں کھول رہا ….
وہ خود آگے بڑھ کر گیٹ کھولنے ہی لگا تھا کہ قدم رک گئے، اس نے گردن موڑ کر گیٹ پہ لگی تختی کو دیکھا تو ساکت سا ہی ہو گیا….. اب وہاں نعمان فاروقی کے نام کی تختی نہ تھی، اک نئی تختی لٹک رہی تھی…..
مسز فاروقی….. ساتھ میں چھوٹا سا لفظ بیوہ لکھ دیا گیا تھا.
فضلو چاچا نے آگے جانے کی بجائے قدم موڑ لئے تھے، اب وہ واپس گاؤں جا رہے تھے…. سب ہکا بکا کہ یہ کیا ہو رہا ہے… پر یہ صرف فضلو چاچا ہی سمجھ سکے تھے کہ گیٹ پہ لگی تختی ہی نہیں بدلی بلکہ حویلی کے اندر بہت کچھ بدل گیا ہے، کسی کا دل بھی…..
بی بی جی چاچا اندر نہیں آیا، واپس چلا گیا…. رضیہ ایک بار پھر بھاگی بھاگی اسکے پاس آئی.
اس نے کوئی جواب نہیں دیا بس مسکرا کر اٹھ کھڑی ہوئی،فضلو چاچا سے اسے یہی امید تھی…. قدم فاروقی کے کمرے کی طرف بڑھا دئیے،
دروازہ کھولتے ہی سامنے دیوار پہ فاروقی کی تصویر لٹک رہی تھی، تصویر ایسی تھی کہ دیکھنے والے کو لگتا کہ مجھے ہی دیکھا جا رہا ہے، اسے ایسی ہی تصویر کی ضرورت تھی….فاروقی کی ایک مسکراتی تصویر سائیڈ ٹیبل پہ بھی رکھی تھی….. یہ زندگی سے بھرپور تصویر، اسکے جینے کا سہارا بنے گی….اس نے سوچا.
رضیہ نے کمرہ بہت اچھا سیٹ کیا تھا…. اس نے چاروں طرف نظر دوڑائی…… اب وہ تاعمر یہیں رہنے کے ارادہ سے آئی تھی.
قریب جا کر فاروقی کی تصویر ہاتھ میں لے لی…
آج مجھے بھی کچھ کہنا ہے، وہ جو بہت پہلے کہہ دینا چاہیے تھا پر میں نے کہنے میں اتنی دیر کر دی کہ تمہیں کھو دیا….. جو احساس آج دل میں جاگا ہے، وہ پہلے جاگ اٹھتا تو آج یہ زندگی بہت مختلف ہوتی….
میں مسز فاروقی آج اپنے پورے ہوش و حواس میں تم سے محبت کا اعتراف کرتی ہوں…… میری باقی کی ساری زندگی صرف تمہارے نام…… ہر مسکراہٹ، ہر آنسو صرف تمہارے نام……
دو آنسو پلکوں کی باڑ توڑتے ہوئے تصویر پہ آ گرے….. جیسے اس نے صاف کر کے تصویر کو محبت سے واپس اسکی جگہ پہ رکھ دیا.
%%%%%
پانچ سال بعد
بی بی جی باہر ایک عورت آپ سے ملنے آئی ہے….. رضیہ نے آ کر پیغام دیا.
اچھا آتی ہوں، اس نے شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر خود پہ اک آخری نظر ڈالی، ڈوپٹہ اک بار پھر ٹھیک کیا اور باہر نکل آئی…..
جی بہن جی…… اس نے لان کی طرف آتے ہی پوچھا، لان کی گھاس پہ بیٹھی عورت سلام کرتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی….
مسز فاروقی میری بیٹی کی شادی ہے….. کچھ مدد چاہیے.
اسے عجلت میں دیکھ کر آنے والی عورت نے فوراً مدعا بیان کر دیا.
اچھا کب ہے شادی….. اس نے پوچھا.
جی اگلے مہینے کی دس تاریخ کو….. عورت نے ہاتھ جوڑتے ہوئے بتایا.
فضلو چاچا…. جو کہتی ہے دے دیں….. اور ہاں لڑکی سے خود ضرور ملیے گا، کچھ دینے سے پہلے یہ ضرور معلوم کر لیجیے گا کہ آیا یہ شادی اسکی مرضی سے ہی ہو رہی ہے ناں…… کہہ کر وہ کار کی طرف بڑھ گئی….. اسکی آواز میں گھلتی نمی فضلو چاچا نے صاف محسوس کر لی تھی.
ڈرائیور نے آگے بڑھ کر دروازہ کھول دیا.
بچوں کی طرف لے چلو….. کافی دن ہو گئے ملے ہوئے…. دل بہت اداس ہو رہا ہے…. کہہ کر وہ کار میں بیٹھ گئی.
اگلے پندرہ منٹ میں کار فاروقی گارڈن کے سامنے تھی، وہ اتر کر اندر داخل ہو گئی.
کچھ بچے لان میں کھیل رہے تھے، کچھ جھولا جھول رہے تھے…..
مجھے فاروق ماما سے ملنا ہے…. ابھی…. ایک بچہ آیا کے ساتھ ضد کر رہا تھا. یہ پانچ سالہ عثمان تھا ابھی پچھلے مہینے ہی یہاں آیا تھا…..اسکی ماں نے دوسری شادی کر لی تھی اور دوسرے باپ نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا . چپ چاپ آنسو بہایا کرتا تھا، کبھی اسکی آواز نہ سنی گئی تھی، وہ حیران ہوتی کہ اتنی سی عمر میں حالات کی سنگینی کا اسے کیسے اندازہ ہو گیا……تب اس نے ہی اسے نئی زندگی کی راہ دکھائی تھی…. شکر کہ اب وہ نارمل بچوں کی طرح جینے لگا تھا……. آیا اسے بہلانے کی کوشش کر رہی تھی….. ہاں ہاں میں نے انہیں فون کر دیا ہے وہ آتی ہی ہوں گی، آپ ناشتہ کر لو…..
نہیں…… وہ منہ پھلا کر بولا
میں آ گئی…… اس نے آواز لگائی…..
فاروقی ماما…… سب بچے اس کی طرف بھاگے اور آ کر لپٹ گئے….. اسکے بھی دل کو قرار آ گیا، ساری بے چینی ہوا ہو گئی، یہی بچے تو اب اسکی کل کائنات تھے…..
اس نے ان سارے بچوں کو اکٹھا کر کے اپنا لیا تھا ، جنہیں زمانے والے قبول کرنے سے انکاری تھے….. اور وہ عورتیں جنہیں اولاد نہ ہونے کی وجہ سے بے گھر کر دیا گیا تھا یا جن کا کوئی نہ تھا وہ یہاں آ کر بس گئی تھیں، ان بچوں کی دیکھ بھال بھی ہو رہی تھی اور انکی ممتا کی تسکین بھی.
عثمان کو اپنے ہاتھوں سے ناشتہ کرواتے ہوئے وہ اسکے ساتھ پرندوں ہوا، پھول اور بادلوں کی باتیں کر رہی تھی، نظر پرندوں سے ہوتی ہوئی بادلوں پہ جا ٹھہری…… جب بھی وہ بادلوں کو دیکھتی اسے ایسا ہی لگتا کہ وہاں اوپر کہیں فاروقی بیٹھا…. اسے دیکھ کر مسکرا رہا ہو گا….. تب مسکراہٹ اسکے بھی لبوں پہ کھیلنے لگتی پر آنکھیں بھی نم ہونا نہ بھولتی تھیں…
اپنے چہرے پہ کسی شے کے مس ہونے کا احساس اسے بادلوں سے واپس کھینچ لایا…..
یہ عثمان تھا جو اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اسکے رخساروں پر بہتے آنسو صاف کر رہا تھا….. اس نے فرط جذبات سے اسے خود سے لپٹا لیا……
دور بادلوں میں چھپا فاروقی مسکرا دیا.
ختم شد
