Muhabbat Youn Bhi Hoti Hai by Mishi Sheikh

شانی اسکے چچا کا بیٹا تھا، دونوں کا بچپن ایک ساتھ بیتا تھا، وہ ماں باپ کا اکلوتا تھا، ابھی وہ دس گیارہ سال کا ہی تھا کہ چاچا جی کو ٹی بی ہو گئی اور انکے لئے جان لیوا ثابت ہوئی... ابا جی نے بھابھی اور بھتیجے کے سر پہ ہاتھ رکھ دیا، پہلے بھی ایک ہی گھر میں رہتے تھے، ماں اور چاچی الگ الگ کھانا پکانا کرتی تھیں، اب بھی ابا جی انکا جیب خرچ انکے ہاتھ پہ رکھ دیتے، سو گھر کے ماحول اور روٹین میں زیادہ فرق نہ پڑا تھا بس چاچا جی کی کمی ضرور ہو گئی تھی.
ابا جی مزدوری کیا کرتے تھے، سلیم بھائی کو گاؤں بھیج دیا کہ وہ گاؤں کی زمین پہ محنت کرے.... وہ زمین بھی دونوں بھائیوں کی تھی اسکی آمدن کا آدھا بھی ابا جی چاچی کو دے دیتے تھے....
شانی اور وہ ایک ساتھ سکول آیا جایا کرتے تھے، کتنے خوبصورت پل تھے جب وہ ہاتھ میں ہاتھ ڈالے سکول جاتے تھے.... ہنسی مزاق، لڑائی جھگڑے سب ہوا کرتے تھے پہلے تو بہت شرارتی اور لاپرواہ ہوا کرتا تھا، باپ کی موت نے اسے توڑ کر رکھ دیا،کسی کے سامنے اس نے اک آنسو نہیں بہایا کہ کہا جاتا تھا کہ مرد رویا نہیں کرتے.... پر تنہائی میں اسی نے شانی کو رونے کے لیے کندھا دیا، اور وہ کھل کر رویا، پھر کہا کہ اگر اب بھی نہ روتا تو مر ہی جاتا....
دونوں کی دوستی آہستہ آہستہ محبت کا روپ دھار گئی، دونوں نے میڑک کے امتحان دے دیے، وہ اماں سے گھر داری سیکھنے لگی اور شانی ابا کے ساتھ مزدوری پہ جانے لگا.
اب ابا نے چاچی کو جیب خرچ دینا چاہا تو انہوں نے شکریہ کے ساتھ لوٹا دئیے کہ اب انکا پت بھی کماؤ ہو گیا ہے....
وہ تو بس پاس ہو گئی، پر شانی نے بہت اچھے نمبر لئے تھے سو چاچی نے خواہش کی کہ اسکا بیٹا اچھے کالج میں پڑھے، پر مسئلہ پیسوں کا درپیش ہوا.... گاؤں کی زمین کے علاوہ کچھ بھی نہ تھا، اگر وہ بھی بیچ دی جاتی تو روٹی کے لالے پڑ جاتے.... کچھ دن سوچ بچار کے بعد چاچی نے کہا کہ وہ ملک صاحب سے ادھار لے لیں گی اور پھر انہی کے گھر کام کاج شروع کر دیں گی یوں رفتہ رفتہ قرض اتر جائے گا، ابا جی کو بالکل اچھا نہیں لگا پر مجبوراً.... ماننا پڑا.
قرض لے کر شانی کا داخلہ کروا دیا گیا، کتابیں وغیرہ بھی لے لی گئیں....
وہ کالج جانے لگا اور چاچی کام پہ...
اسے گھر بیٹھا دیا گیا، سارا دن ماں کے ساتھ کام کرواتی. شام میں شانی اسے پڑھانے بیٹھ جاتا، جو خود پڑھ کر آتا، وہی اسے بھی پڑھا دیتا اور ساتھ میں کالج کے قصے بھی سناتا، کبھی کبھی اسے چڑانے کو کسی لڑکی کا ذکر چھیڑ دیتا بس پھر اسکا غصہ دیکھنے لائق ہوتا، وہ ساری کتابیں اسکے منہ پہ مار کر اٹھ کھڑی ہوتی وہ زور زور سے قہقہے لگاتا.... اماں اور چاچی اپنے اپنے کمروں سے نکل کر باہر آ جاتیں.... چاچی پیار سے اسے گلے لگا لیتی، بیٹے کو آنکھیں دکھاتی کہ نہ تنگ کیا کر میری دھی کو...... اماں شانی کی سائڈ لیتی، میرا بیٹا کچھ نہیں کہتا، یہی غصے کی تیز ہے... جانے کیسا نباہ ہو گا اسکا سسرال میں... اماں تاسف سے کہتیں....
اتنی اچھی تو ہے میری دھی دیکھنا بھابھی بہت خوش رہے گی، چاچی پیار سے کہہ کر اسے گلے لگا لیتی.
چاچی آپ کو بتاؤں، یہ کیا کہہ رہا تھا... وہ چاچی کی شہہ پا کر شیر ہو جاتی .
شانی اسے آنکھیں دکھاتا پر وہ کہاں چپ ہونے والی تھی ان آنکھوں کے ڈر سے... پھر جب ہاتھ جوڑتا تب وہ بات بدل جاتی...
ان دنوں اماں کے دل میں بیٹے کی شادی کا ارمان جاگا.... پر بھائی پکڑائی ہی نہیں دیتا تھا.... پر اماں ہار مان جائیں یہ بھلا کیسے ممکن تھا، آخر اسے کھونٹی سے باندھ ہی دیا، بھابھی دور پرے کی رشتے دار تھیں.... یہ شادی بھائی بھابھی سے زیادہ ان دونوں نے انجوائے کی تھی....
مہندی والے دن جب اس نے ہرا اور پیلا سوٹ پہنا تھا تو شانی کے ساتھ ساتھ جانے اور کتنے دلوں کو گھائل کر گئی تھی. جوڑا بھلے اماں کے زمانے کا تھا پر اس پہ سب ہی جچتا تھا.
بارات والے دن اس نے گولڈن رنگ پہنا تھا ساتھ میں لال دوپٹہ اسکے حسن کو چار چاند لگا گیا تھا. شانی کو تین دن اسکے علاوہ اور کچھ دکھا ہی نہیں تھا، اور وہ اسے یوں دیوانہ ہوتا دیکھ دیکھ خوش ہوتی رہی....
ولیمہ کے بعد بھائی اپنے سسرال چلا گیا، رسم تھی کہ لڑکا دو دن سسرال میں گزارتا ہے....
سب مہمان بھی گھروں کو سدھار چکے تھے
رات امی اور چاچی گھر کو سمیٹنے لگی ہوئی تھیں، ان تین چار دنوں میں گھر بکھر کر رہ گیا تھا کوئی بھی چیز ٹھکانے پہ نہیں رہی تھی.
کام کرنے کا بالکل موڈ نہیں تھا، وہ چھت پہ بیٹھی کھلی فضا کا مزہ لے رہی تھی کہ شانی بھی چلا آیا.
کیا کر رہی ہے.... اس نے شوخی سے پوچھا اور پھر مشکوک نگاہوں سے آس پاس گھروں پہ نظر دوڑائی.
چل ہٹ.... میں تجھے ایسی لگتی ہوں.... اس نے ناراضگی دکھاتے ہوئے اسے اک دھپا مارا.
ہاہاہا.... اس نے قہقہہ لگایا، پھر منڈیر کے قریب جا کھڑا ہوا. ادھر آ.... ایک چیز دکھانی....
وہ اٹھ کر اسکے قریب چلی آئی.
وہ دیکھ.... شانی نے ایک طرف اشارہ کیا.
چاند..... روز دیکھتی ہوں، اس نے منہ بنا کر کہا.
روز کی چھوڑ آج دیکھ.... آج بدلا ہوا ہے. اس نے مدہوش لہجے میں کہا.
وہ چاند میں بدلاؤ ڈھونڈنے لگی....
ایسے کیا دیکھ رہا ہے.... شانی کو اپنی طرف یوں دیکھتے پا کر اس نے پوچھا...
تو چاند دیکھتی رہ اور مجھے اپنا چاند دیکھنے دے... اس نے اسی لہجے میں کہا.
چل دفع ہو... مجھے آج تیری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی.... میں جا رہی نیچے.... وہ جانے کو مڑی،پر جھٹکا کھا کر رک گئی،
شانی اسے ہاتھ سے پکڑ کر روک چکا تھا، رک اک بات کرنی ہے تجھ سے.... اس نے اسکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لئے....
وہ شانی کو بغور دیکھنے لگی پر بولی کچھ نہیں.
آج اس چاند کو گواہ بنا کر تجھ سے اپنی محبت کا اظہار کرنا چاہتا ہوں،.... رانو میں.... ہمیشہ سے تجھے پسند کرتا رہا ہوں، پر اب میرے دل نے پوری شدت سے تیری محبت کا اعتراف کر لیا ہے.... میں تجھ سے محبت کرنے لگا ہوں.... بلکہ ہمیشہ سے کر رہا ہوں.... کیا تجھے میری محبت قبول ہے....
وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی.... پھر ہاتھ چھڑا کر بھاگ گئی.... وہ پیچھے اپنا سا منہ لے کر رہ گیا.

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *