Muhabbat Youn Bhi Hoti Hai by Mishi Sheikh NovelR50692 Muhabbat Youn Bhi Hoti Hai (Episode 01)
Rate this Novel
Muhabbat Youn Bhi Hoti Hai (Episode 01)
Muhabbat Youn Bhi Hoti Hai by Mishi Sheikh
مرحوم فاروقی صاحب عرف دادا بھائی نے وراثت کے مال کا 25 %ضرورت مندوں اور یتیم خانے میں دینے کی تلقین کی ہے، باقی کا 75%انہوں نے اپنی زوجہ یعنی کہ آپ کے نام کر دیا ہے. اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ تمام قرض داروں کا قرضہ معاف کر دیا جائے کسی سے اک پیسے کی بھی وصولی نہ کی جائے…. وکیل صاحب فاروقی عرف دادا بھائی مرحوم کی وصیت کا خلاصہ بتا رہے تھے…
اور مسز فاروقی انہوں نے آپ کے نام ایک خط بھی چھوڑا ہے… وکیل صاحب نے اٹھ کر اک لفافہ اسکی طرف بڑھاتے ہوئے کہا…
وہ جو اتنی دیر سے سر جھکائے بیٹھی تھی، نے سر اٹھا کر وکیل کو ایسی شعلہ بار نگاہوں سے دیکھا کہ اسے فوراً اپنی غلطی کا احساس ہو گیا اور وہ سر جھکا گیا.
مسز فاروقی کہلوانا تو اسے شوہر کی زندگی میں سخت نا پسند تھا تو اب وہ یہ کیسے برداشت کرتی جبکہ اب اسکے نام کے ساتھ سے یہ دھبہ دھل چکا تھا…
ٹھیک ہے اب آپ جا سکتے ہیں…. اس نے کوئی تکلف نہیں برتا تھا….
وکیل صاحب بھی خاموشی سے اٹھ گئے تھے.
ہاتھ میں تھاما لفافہ اس نے سامنے پڑے میز پر اچھال دیا… اسے اس میں بالکل دل چسپی نہ تھی…. وہ اٹھ کر کھڑ کی کے سامنے جا کھڑی ہوئی…. وقت کی رفتار آج بہت ہی سست معلوم ہو رہی تھی یا شاید اسکے انتظار کی شدت اتنی تھی کہ سب کچھ بہت سست لگ رہا تھا….
باہر موسم پہ نظر پڑی تو دل مچل اٹھا، گہرے بادل چھا رہے تھے، معلوم پڑتا تھا کہ برسنے کو بے چین ہیں…. اور موسم کی اس انگڑائی نے اسکے دل میں بھی بہت سے ارمان جگا دئیے، انتظار تھا کہ طویل سے طویل ہوا چلا جا رہا تھا….
اب آ بھی جاؤ میرے رانجھا… اس نے خودکلامی کی اور پھر خود ہی شرما سی گئی….
بچپن کے خوبصورت دن اسکی آنکھوں کے سامنے آن ٹھہرے….
%%%%%%%%%%%%%%
شانی اسکے چچا کا بیٹا تھا، دونوں کا بچپن ایک ساتھ بیتا تھا، وہ ماں باپ کا اکلوتا تھا، ابھی وہ دس گیارہ سال کا ہی تھا کہ چاچا جی کو ٹی بی ہو گئی اور انکے لئے جان لیوا ثابت ہوئی… ابا جی نے بھابھی اور بھتیجے کے سر پہ ہاتھ رکھ دیا، پہلے بھی ایک ہی گھر میں رہتے تھے، ماں اور چاچی الگ الگ کھانا پکانا کرتی تھیں، اب بھی ابا جی انکا جیب خرچ انکے ہاتھ پہ رکھ دیتے، سو گھر کے ماحول اور روٹین میں زیادہ فرق نہ پڑا تھا بس چاچا جی کی کمی ضرور ہو گئی تھی.
ابا جی مزدوری کیا کرتے تھے، سلیم بھائی کو گاؤں بھیج دیا کہ وہ گاؤں کی زمین پہ محنت کرے…. وہ زمین بھی دونوں بھائیوں کی تھی اسکی آمدن کا آدھا بھی ابا جی چاچی کو دے دیتے تھے….
شانی اور وہ ایک ساتھ سکول آیا جایا کرتے تھے، کتنے خوبصورت پل تھے جب وہ ہاتھ میں ہاتھ ڈالے سکول جاتے تھے…. ہنسی مزاق، لڑائی جھگڑے سب ہوا کرتے تھے پہلے تو بہت شرارتی اور لاپرواہ ہوا کرتا تھا، باپ کی موت نے اسے توڑ کر رکھ دیا،کسی کے سامنے اس نے اک آنسو نہیں بہایا کہ کہا جاتا تھا کہ مرد رویا نہیں کرتے…. پر تنہائی میں اسی نے شانی کو رونے کے لیے کندھا دیا، اور وہ کھل کر رویا، پھر کہا کہ اگر اب بھی نہ روتا تو مر ہی جاتا….
دونوں کی دوستی آہستہ آہستہ محبت کا روپ دھار گئی، دونوں نے میڑک کے امتحان دے دیے، وہ اماں سے گھر داری سیکھنے لگی اور شانی ابا کے ساتھ مزدوری پہ جانے لگا.
اب ابا نے چاچی کو جیب خرچ دینا چاہا تو انہوں نے شکریہ کے ساتھ لوٹا دئیے کہ اب انکا پت بھی کماؤ ہو گیا ہے….
وہ تو بس پاس ہو گئی، پر شانی نے بہت اچھے نمبر لئے تھے سو چاچی نے خواہش کی کہ اسکا بیٹا اچھے کالج میں پڑھے، پر مسئلہ پیسوں کا درپیش ہوا…. گاؤں کی زمین کے علاوہ کچھ بھی نہ تھا، اگر وہ بھی بیچ دی جاتی تو روٹی کے لالے پڑ جاتے…. کچھ دن سوچ بچار کے بعد چاچی نے کہا کہ وہ ملک صاحب سے ادھار لے لیں گی اور پھر انہی کے گھر کام کاج شروع کر دیں گی یوں رفتہ رفتہ قرض اتر جائے گا، ابا جی کو بالکل اچھا نہیں لگا پر مجبوراً…. ماننا پڑا.
قرض لے کر شانی کا داخلہ کروا دیا گیا، کتابیں وغیرہ بھی لے لی گئیں….
وہ کالج جانے لگا اور چاچی کام پہ…
اسے گھر بیٹھا دیا گیا، سارا دن ماں کے ساتھ کام کرواتی. شام میں شانی اسے پڑھانے بیٹھ جاتا، جو خود پڑھ کر آتا، وہی اسے بھی پڑھا دیتا اور ساتھ میں کالج کے قصے بھی سناتا، کبھی کبھی اسے چڑانے کو کسی لڑکی کا ذکر چھیڑ دیتا بس پھر اسکا غصہ دیکھنے لائق ہوتا، وہ ساری کتابیں اسکے منہ پہ مار کر اٹھ کھڑی ہوتی وہ زور زور سے قہقہے لگاتا…. اماں اور چاچی اپنے اپنے کمروں سے نکل کر باہر آ جاتیں…. چاچی پیار سے اسے گلے لگا لیتی، بیٹے کو آنکھیں دکھاتی کہ نہ تنگ کیا کر میری دھی کو…… اماں شانی کی سائڈ لیتی، میرا بیٹا کچھ نہیں کہتا، یہی غصے کی تیز ہے… جانے کیسا نباہ ہو گا اسکا سسرال میں… اماں تاسف سے کہتیں….
اتنی اچھی تو ہے میری دھی دیکھنا بھابھی بہت خوش رہے گی، چاچی پیار سے کہہ کر اسے گلے لگا لیتی.
چاچی آپ کو بتاؤں، یہ کیا کہہ رہا تھا… وہ چاچی کی شہہ پا کر شیر ہو جاتی .
شانی اسے آنکھیں دکھاتا پر وہ کہاں چپ ہونے والی تھی ان آنکھوں کے ڈر سے… پھر جب ہاتھ جوڑتا تب وہ بات بدل جاتی…
ان دنوں اماں کے دل میں بیٹے کی شادی کا ارمان جاگا…. پر بھائی پکڑائی ہی نہیں دیتا تھا…. پر اماں ہار مان جائیں یہ بھلا کیسے ممکن تھا، آخر اسے کھونٹی سے باندھ ہی دیا، بھابھی دور پرے کی رشتے دار تھیں…. یہ شادی بھائی بھابھی سے زیادہ ان دونوں نے انجوائے کی تھی….
مہندی والے دن جب اس نے ہرا اور پیلا سوٹ پہنا تھا تو شانی کے ساتھ ساتھ جانے اور کتنے دلوں کو گھائل کر گئی تھی. جوڑا بھلے اماں کے زمانے کا تھا پر اس پہ سب ہی جچتا تھا.
بارات والے دن اس نے گولڈن رنگ پہنا تھا ساتھ میں لال دوپٹہ اسکے حسن کو چار چاند لگا گیا تھا. شانی کو تین دن اسکے علاوہ اور کچھ دکھا ہی نہیں تھا، اور وہ اسے یوں دیوانہ ہوتا دیکھ دیکھ خوش ہوتی رہی….
ولیمہ کے بعد بھائی اپنے سسرال چلا گیا، رسم تھی کہ لڑکا دو دن سسرال میں گزارتا ہے….
سب مہمان بھی گھروں کو سدھار چکے تھے
رات امی اور چاچی گھر کو سمیٹنے لگی ہوئی تھیں، ان تین چار دنوں میں گھر بکھر کر رہ گیا تھا کوئی بھی چیز ٹھکانے پہ نہیں رہی تھی.
کام کرنے کا بالکل موڈ نہیں تھا، وہ چھت پہ بیٹھی کھلی فضا کا مزہ لے رہی تھی کہ شانی بھی چلا آیا.
کیا کر رہی ہے…. اس نے شوخی سے پوچھا اور پھر مشکوک نگاہوں سے آس پاس گھروں پہ نظر دوڑائی.
چل ہٹ…. میں تجھے ایسی لگتی ہوں…. اس نے ناراضگی دکھاتے ہوئے اسے اک دھپا مارا.
ہاہاہا…. اس نے قہقہہ لگایا، پھر منڈیر کے قریب جا کھڑا ہوا. ادھر آ…. ایک چیز دکھانی….
وہ اٹھ کر اسکے قریب چلی آئی.
وہ دیکھ…. شانی نے ایک طرف اشارہ کیا.
چاند….. روز دیکھتی ہوں، اس نے منہ بنا کر کہا.
روز کی چھوڑ آج دیکھ…. آج بدلا ہوا ہے. اس نے مدہوش لہجے میں کہا.
وہ چاند میں بدلاؤ ڈھونڈنے لگی….
ایسے کیا دیکھ رہا ہے…. شانی کو اپنی طرف یوں دیکھتے پا کر اس نے پوچھا…
تو چاند دیکھتی رہ اور مجھے اپنا چاند دیکھنے دے… اس نے اسی لہجے میں کہا.
چل دفع ہو… مجھے آج تیری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی…. میں جا رہی نیچے…. وہ جانے کو مڑی،پر جھٹکا کھا کر رک گئی،
شانی اسے ہاتھ سے پکڑ کر روک چکا تھا، رک اک بات کرنی ہے تجھ سے…. اس نے اسکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لئے….
وہ شانی کو بغور دیکھنے لگی پر بولی کچھ نہیں.
آج اس چاند کو گواہ بنا کر تجھ سے اپنی محبت کا اظہار کرنا چاہتا ہوں،…. رانو میں…. ہمیشہ سے تجھے پسند کرتا رہا ہوں، پر اب میرے دل نے پوری شدت سے تیری محبت کا اعتراف کر لیا ہے…. میں تجھ سے محبت کرنے لگا ہوں…. بلکہ ہمیشہ سے کر رہا ہوں…. کیا تجھے میری محبت قبول ہے….
وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی…. پھر ہاتھ چھڑا کر بھاگ گئی…. وہ پیچھے اپنا سا منہ لے کر رہ گیا…
_______
وہ بھاگتی ہوئی نیچے آئی اور خود کو کمرے میں بند کر لیا، دل بری طرح دھڑک رہا تھا، وہ دیوار پر نصب آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی… اپنی آنکھوں میں جھانکا اور خود ہی شرما کر چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا.
ایک بات کو بتا جھلی، جو تو سننا چاہتی تھی، وہ آج سن لیا، تجھے تو خوشی سے اس سے لپٹ جانا چاہیے تھا، تو بنا کچھ کہے نیچے کیوں بھاگ آئی، جانے وہ کیا سوچ رہا ہو گا….
اس نے کولہے پہ ہاتھ رکھ کر خود سے ہی پوچھا.
اوووو ایسے کیسے لپٹ جاتی، کتنے سال تڑپایا ہے اس نے مجھے، اب کچھ دن تڑپنا تو اسکا بھی بنتا ہے ناں… اس نے آئینے کی طرف سے خود کو جواب دیا.
ہمممم کہہ تو تو صحیح رہی ہے…. اسے اتنی دیر کرنے کی سزا ضرور ملے گی…. پھر وہ قہقہہ لگا کر بستر پہ گر پڑی….
ساری رات حسین سپنوں کے سنگ گزری.
صبح وہ باہر نکلی تو شانی کو اپنا منتظر پایا، رانو بات سن میری….
وہ منہ پھیر کر کچن میں جا گھسی….
رانو دروازہ بند کر لے، میں جا رہا ہوں ، شانی نے بہانے سے اسے بلانے کی کوشش کی…
اماں اٹھ کر باہر چلی آئی ، چل بیٹا میں بند کر دیتی ہوں دروازہ، وہ تو جانے کس بات پر منہ پھلائے بیٹھی ہے….
اس نے دروازے کی اوٹ سے شانی کا چہرہ مرجھاتے دیکھا تو مسکرائے بنا نہ رہ پائی… تڑپو اب…. شانی میاں…
پھر کتنے ہی دن وہ اسے تڑپاتی رہی سیدھے سے بات بھی نہیں کی…. وہ منتیں کرتا رہا…
ایک دن تو رو ہی پڑا… رانو… مجھے معاف کر دے، سمجھ میں نے کچھ کہا ہی نہیں، ہم پہلے کی طرح اچھے دوست بن جاتے ہیں…..
تب اسکے دل کو کچھ ہوا تھا…. وہ شانی کو روتا نہیں دیکھ سکتی تھی، چاچے کے مرنے پہ جب وہ رویا تھا تب بھی اس نے اسے بہت مشکل سنبھالا تھا، اور اسکا اک اک آنسو اسکے دل پہ تیر بن کر لگ رہا تھا…. آج اسے خود کیسے رلا سکتی تھی سو اسکے گلے لگ گئی….
یوں گلے لگنے نے شانی کو سب سمجھا دیا تھا، اسے اعتراف محبت نہیں کرنا پڑا تھا.
بی بی جی…. فضلو چاچا کا فون آیا ہے….
رضیہ کے کہنے پہ وہ حال میں لوٹ آئی،… اچھا دیکھتی ہوں…. یادوں کا دریچہ بند کر کے اس نے فون کان سے لگا لیا….
جی فضل دین….
بی بی جی…. ذیشان صاحب کو آپ کا پیغام دے دیا ہے…. میں انہیں اسی وقت اپنے ساتھ لے آتا پر میرے خیال میں یہ خطرے سے خالی نہ ہوگا، وقت کافی ہو چکا ہے، موسم بھی خراب ہو رہا ہے اور ساتھ میں راستہ بھی ٹھیک نہیں…. رات لٹیرے گھیر لیتے ہیں، اگر آپ اجازت دیں تو رات یہیں ٹھہر جاؤں….
کہہ کر وہ جواب کا انتظار کرنے لگا.
ہمممم م اس نے گہری سانس خارج کی…. ٹھیک ہے، آپ صبح ہی چلے آنا.
کہہ کر اس نے فون رکھ دیا.
باہر بادلوں کی گرج بھی سنائی دینے لگی تھی، اس نے کھڑکی کھول دی، ہوا کا اک تیز جھونکا اسکے چہرے سے ٹکرایا، دوپٹہ سر سے سرک گیا… یہ جھونکا اسے اندر تک تازگی بخش گیا…. اس نے کھل کر سانس لی کہ عرصے بعد آزادی کی سانس لینے کو ملی تھی…..
چند لمحوں میں ہی تیز بارش شروع ہو گئی.
اس روز بھی ایسی ہی طوفانی بارش ہو رہی تھی جب چاچی ملک صاحب کے گھر سے تیز بخار میں لوٹی تھی… کام کاج کی زیادتی نے چاچی کو بیمار کرنا شروع کر دیا تھا…. وہ آتے ہی بستر پہ پڑ گئی… وہ ایک ہفتہ اس نے چاچی کی دل و جاں سے خدمت کی، اسکا گھر بھی پوری طرح سنبھال لیا….
چاچی کی طبیعت اب ذرا سنبھل چکی تھی وہ اس سے خوش بھی بہت تھی، ڈھکے چھپے الفاظ میں کہہ دیا کہ بھابھی کی بہو کو دیکھتی ہوں تو میرا بھی دل کرتا ہے کہ اب شانی کی شادی کر دوں… پڑھتا رہے گا شادی کے بعد….
وہ ہنس کر گلے لگ گئی،بات ٹالنے کو بولی… بہو کیا کرنی ہے چاچی، میں ہوں نا تمہاری بیٹی…. بہو کا کیا بھروسہ…. کیسی مل جائے، اب سب کی قسمت میری اماں جیسی تھوڑی ہوتی ہے….
چاچی نے بھی ہنس کر دھپا لگا دیا اسے….
کچھ دن بعد چاچی اٹھ کر بیٹھ گئی، کام پہ چلنے کی تیاری کرنے لگی…. اس نے لاکھ منع کیا پر چاچی کی ایک ہی رٹ آج کام پہ جانا ہے، پہلے ہی بہت چھٹیاں ہو گئیں ہیں، مالکن ناراض ہوتی ہو گی….
جانے کب جان چھوٹے گی اس قرض سے…. میرے باپ دادا کی توبہ، آج کے بعد قرض نہیں لینا…
چاچی کو گھر سے نکلے ابھی گھنٹہ بھی نہ ہوا تھا کہ لاش گھر پہنچ گئی.
کمزوری کے باعث سڑک پہ گر پڑی تھی اور تیز رفتار کار نے کچل دیا. ہسپتال جانے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی، لوگ پہچان کر گھر چھوڑ گئے…. اور گھر میں تو جیسے کہرام ہی مچ گیا….
دانی کالج سے لوٹا تو دیوانوں کی طرح ماں سے لپٹ کر رویا، ابا اور بھائی نے اسے بہت مشکل سنبھالا….
ماں کے جانے کے بعد تو جیسے اسے چپ ہی لگ گئی… بہت سمجھایا پر چپ تھی کہ ٹوٹتی ہی نہ تھی… یہ دن شانی سے زیادہ اسکے لئے اذیت ناک تھے، شانی کی چپ، افسردگی، بجھا یوا چہرہ دیکھ دیکھ زندگی کے سارے رنگ پھیکے پڑنے لگے تھے….
وہ اب کالج کے بعد مزدوری بھی کرنے لگا تھا، ملک صاحب کا قرض چکانا تھا، چاچی نے تقریباً دو سال کام کیا تھا پر قرض کی آدھی رقم بھی ادا نہیں ہو پائی تھی… یہ امیر لوگ جانے کیسا چکر چلاتے ہیں کہ قرض چکانے والا… قبر میں جا اترتا ہے پر قرض اترنے کا نام ہی نہیں لیتا…
ایک دن ابا نے اسے اپنے پاس بیٹھا کر کہا، بیٹا تو جو چپ چپ پھرتا ہے ناں… اس سے مجھے احساس ہوتا ہے کہ میں تیرا کچھ نہیں لگتا، اس گھر کے باقی لوگوں سے تجھے کوئی سروکار نہیں وہ تیرے لئے غیر ہیں…
ابا جی کی بات اسے ہلا گئی، نہیں تایا جی آپ سب ہی تو میری کل کائنات ہو جی، آپ لوگوں کے سوا میرا ہے ہی کون، ایسی باتیں نہ کرو تایا جی… ابا جی کے گلے لگ کر وہ رویا خوب رویا…..
بس پھر اس دن کے بعد اس نے جینا شروع کر دیا اپنے لیے نہیں اپنے سے منسلک رشتوں کے لیے….
اسکے ساتھ پہلے کی طرح تو نہیں پر ہنسنے بولنے لگا تھا، پہلے وہ اکثر اس سے اظہار محبت کیا کرتا تھا پر اب تو جیسے صدیاں بیت گئیں تھیں شانی کے منہ سے وہ شیریں الفاظ سنے ہوئے….
ایک دن اسے چھت پہ جا لیا،وہ زمین پہ بیٹھا چاک سے اڑی ترچھی لکیریں کھینچ رہا تھا، کتاب گود میں دھری تھی…. وہ پڑھنے کے لیے چھت پہ گیا تھا پر اب شاید من نہیں لگ رہا تھا جانے کن سوچوں میں گم تھا…
تم ناراض ہو مجھ سے یا اب محبت نہیں رہی…. اس نے بلا تمہید ہی کہہ ڈالا….
شانی نے اسے بلا تاثر نگاہوں سے دیکھا اور پھر سر جھکا لیا…
دیکھ تیرے دل و دماغ میں جو چل رہا ہے وہ صاف صاف کہہ دے… کالج میں کوئی پسند آ گئی ہے تو بھی کہہ دے…. میں تیرے راستے سے ہٹ جاؤں گی پر تجھے رب کا واسطہ مجھے لارا نہ لگائیں….
کہتے کہتے اسکی آواز بھرا گئی.
نہیں رانو ایسی کوئی بات نہیں، میری زندگی میں تیرے سوا کوئی نہیں اور نہ ہی کوئی آ سکتی ہے… یہ وعدہ ہے میرا… پر اب تجھ سے دور رہنے لگا ہوں کہ میرا تو کوئی ہے ہی نہیں جو تیرا ہاتھ تایا جی سے مانگ سکے….
اور یہ ایسی بات ہے کہ میں خود بھی نہیں کر سکتا..
جانے وہ میرے اور تیرے بارے میں کیا سوچ بیٹھیں…. اور میری وجہ سے تیری عزت پہ حرف آئے یہ مجھے منظور نہیں….
بس یہی وجہ ہے…. اس نے شانی کی بات سن کر قہقہہ لگایا… سچ کہہ رہا ہے ناں، اگر ابھی بھی کوئی اور بات ہے تو بتا دے ایسا نہ ہو کہ دیر ہو جائے…. اس نے شریر ہوتے ہوئے کہا.
تیری قسم رانو…. بس یہی بات ہے، شانی رو دینے کو ہوا.
رونی صورت نہ بنا، چل ہنس کر دیکھا… تجھے اک بات بتاؤں گی پھر… اس نے شانی کو پیار سے اک مکا جڑا.
وہ بمشکل مسکرایا…
میں نے ابا جی اور اماں کو تیری میری بات کرتے سنا ہے…. وہ بھی وہی سوچ رہے ہیں جو ہم چاہتے ہیں… وہ کہہ کر نیچے بھاگ آئی کہ شرم سے لال پیلی ہونے لگی تھی… مڑ کر شانی کا کھلا ہوا چہرہ دیکھنا نہیں بھولی تھی..
