Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat Youn Bhi Hoti Hai (Episode 03)

Muhabbat Youn Bhi Hoti Hai by Mishi Sheikh

خان بہادر نے ایک لوڈر میں باؤ جی اور دوسرے ساتھی جو ساتھ گئے تھے کو لاد کر بھیج دیا…یہ منظر دیکھ کر میرا خون کھول اٹھا…. میں خان بہادر جو مزہ چکھانا چاہتا تھا پر فضلو چاچا نے مجھے ہلنے نہ دیا….

. باؤ جی اور چار پانچ ساتھی ہلاک ہو چکے تھے، دو چار کی سانسیں ابھی چل رہی تھیں انہیں فوری ہسپتال پہنچایا…. ان میں سے بھی دو زندگی کی بازی ہار گئے….

….

باؤ جی کو آخری سفر پہ روانہ کر دیا گیا….باقیوں کی بھی تدفین کر دی گئ.

باؤ جی کے جاتے ہی میں خود کو بالکل تنہا محسوس کرنے لگا، ایک مضبوط سائبان سے محروم ہو جانے کا احساس میرے اندر جڑ پکڑنے لگا…. میں نے بہت مشکل خود کو مضبوط بنائے رکھا….

شیدا اور سلو جانبر ہو گئے…

میں اب انکے مکمل طور پر صحت یاب ہونے کے انتظار میں تھا… باؤ جی کی موت کا بدلہ مجھے ہر حال میں لینا تھا…

شیدے اور سلو ٹھیک ہو کر گھر آ گئے، میں بدلے کا پروگرام ترتیب دینے لگا…

تقریباً ساری تیاریاں ہو چکی تھیں…. میں نے تھان رکھی تھی کہ مار دوں گا چاہے میں بھی مر جاؤں…

چوکیدار نے مجھے ایک رقعہ لا کر پکڑایا…. نومی صاحب یہ اس روز بڑے صاحب آپ کے لئے دے گئے تھے، حالات ایسے ہو گئے کہ مجھے یاد ہی نہیں رہا.

میں نے کانپتے ہاتھوں سے رقعہ تھام لیا…. کھولتے ہوئے ایسے دل ڈر رہا تھا کہ جانے اس میں سے کیا نکل آئے…

پیارے نومی…

مجھے پورا یقین ہے کہ تم نے مجھے معاف کر دیا ہو گا کہ ایک بیٹا زیادہ دیر تک باپ سے ناراض نہیں رہ سکتا…

میری جان آج میں خان بہادر سے ملنے جا رہا ہوں…. لوٹ آیا تو ٹھیک…. نا لوٹا تو اسے رب کی رضا سمجھ کر صبر کر لینا. تم بدلے کے چکر میں ہر گز نہ پڑنا تمہیں تمہاری ماں کی قسم ہے… میرے وکیل سے رابطہ کر لینا، وہ تمہیں وصیت دکھا دے گا.

میری وصیت پہ ایمانداری سے عمل کرنا…. یہ تمہارا فرض ہے.وکیل کا نام پتہ لکھ رہا ہوں.

میں کہنا چاہوں گا کہ تم یہ شہر چھوڑ دینا، ہو سکے تو یہ لائن بھی…..

تمہارا باپ

میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے…. ہاتھ اور دل ابھی بھی کانپ رہے تھے….

میری ساری تیاری دھری کی دھری رہ گئی….

وکیل سے رابطہ کیا تو پتہ چلا کہ باؤ جی اپنا سب کچھ میرے نام کر گئے… باپ ہونے کا حق ادا کر گئے… پر باقی ملازمین کے ساتھ بھی انصاف کر کے گئے. ایک بھاری رقم دے کر گئے کہ سب میں تقسیم کر دی جائے….

میں سب کچھ سمیٹ کر، سارے کام نمٹا کر شہر چھوڑ کر یہاں چاند پور چلا آیا….سب ملازمین کو فارغ کر دیا، اب انکے پاس اتنا پیسہ تھا کہ وہ عزت سے روٹی کما سکتے…. پر فضلو چاچا نے میرا ساتھ نہیں چھوڑا… اس دنیا میں انکا میرے سوا اور میرا انکے سوا کوئی نہ تھا.

میں نے باؤ جی کے کہنے پہ شہر چھوڑ دیا پر ان کی لائن نہیں چھوڑی ہاں اسکے اصول ضرور بدل ڈالے، کام اپنے حساب سے شروع کر لیا….

یہ تھی میری چاند پور آنے سے پہلے تک کی داستان…. جو کہ تمہارے لیے کسی طور بھی دلچسپی کا باعث نہیں رہی ہو گی… تم اگر اسے پڑھ رہی ہو گی تو محض اک مرے ہوئے انسان کی خواہش پوری کر رہی ہو گی….

یہ سطر پڑھ کر وہ ہنس دی… دل میں جو ہمدردی کا جذبہ پیدا ہو رہا تھا… اسے سختی سےجھٹکا…

لگتا ہے نفسیات پڑھ رکھی تھی اس بڈھے نے…. اس نے طنز سے کہا.

چاند پور آ کر نعمان فاروقی صرف فاروقی رہ گیا…. کسی نے فاروقی کہا، کسی نے فاروقی بھائی…. رفتہ رفتہ مجھے دادا بھائی بنا دیا گیا….

میں لوگوں کو سود پہ رقم دیتا… واپسی کا مطالبہ کبھی نہیں کیا… لکھ پرت کر لی جاتی…. لوگ خود ہی آ کر رقم دے جایا کرتے…. دیر سویر ہو جایا کرتی تھی….

ان لوگوں کے حالات سے کبھی بے خبر نہیں رہا، میرے بندے انکی نگرانی کرتے رہتے تھے… جب دیکھا کہ کوئی سچ مچ اس قابل ہے کہ اسکا قرضہ معاف کر دیا جائے تو میں قرض واپس لینے کی بجائے مذید مدد کر دیا کرتا تھا….

سود کو حرام کہتے ہیں…. قسم لے لو کہ کبھی جو اک لقمہ کھایا ہو…. میں اپنی ذات پہ وہ رقم خرچ کرتا رہا ہوں جو کہ باؤ جی کی زمینوں سے آتی رہی ہے… میں نے گاؤں کی رمینیں ٹھیکے پہ دے رکھی ہیں….

اک بات کہنی ہے…. جانتا ہوں کہ تمہیں اس سودی کاروبار سے شدید نفرت ہے… اسی لیے سب قرض داروں کے قرضے معاف کر کے اس کاروبار کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا ہے… تمہارے لیے اتنی رقم چھوڑے جا رہا ہوں کہ تم اور تمہارا شوہر ساری زندگی بیٹھ کر کھا سکتے ہیں…. زمینوں کے بابت فضل چاچا سب جانتے ہیں… وہاں سے بھی سال بھر کا اناج آ جایا کرے گا….

کوئی احسان نہیں کیا تم نے فاروقی صاحب….حق تھا میرا، آخر میں نے اپنی زندگی کے دس سال قربان کئے… اس کا لہجہ زہریلا ہونے لگا.

سر جھٹک کر وہ پھر سے پڑھنے لگی.

اب آتے ہیں اصل کہانی کی طرف….. ایک دن تمہارا بھائی میرے پاس آیا، وہ بری طرح رو رہا تھا… قرض مانگا، پوچھنے پہ بتایا کہ بیوی بہت بیمار ہے، ہسپتال والے ہاتھ نہیں لگا رہے کہتے پہلے پیسے دو……

میں بہت مجبوری میں آپکے پاس آیا ہوں، مایوس نہ کیجیے گا، دادا بھائی….

میرا دل پسیج گیا، اس نے بیس ہزار مانگا، میں نے پچاس دے دیا، وہ میرے ہاتھ چومتا ہوا رخصت ہو گیا.

پہلے میں جب بھی کسی کو قرض دیتا تو اپنے کسی بندے کو اسکی نگرانی کرنے بھیج دیتا…. اس دن دل کی حالت ایسی تھی کہ خیال ہی نہیں آیا….

میں اپنے کاموں میں مصروف ہو گیا اور دو چار دنوں میں اس بات کو بھول گیا….

چند دن مزید گزرے تو تمہارا بھائی پھر سے آ موجود ہوا… نقاہت اسکے چہرے سے صاف دکھ رہی تھی…. آتے ہی ہاتھ پھیلا دئیے کہ گھر میں کئی روز سے فاقہ چل رہا ہے…. جو رقم دی تھی وہ ڈاکٹر بٹور چکے، پھر سے تہی دامن ہوں…

میں نے نوکر کو آواز دی کہ اسکے گھر راشن ڈال کر دے آؤ… یہ سننا تھا کہ وہ منمنانے لگا نہیں دادا بھائی…. راشن میں خود لے لوں گا… آپ ذحمت نہ کریں… مجھے شک گزرا… پھر خود ہی اسے اپنا وہم قرار دے کر پانچ ہزار اسکی ہتھیلی پہ رکھ دئیے. …. بنا کوئی لکھ پرت کئے… واپس لینے کی نیت بھی نہ تھی.

اتنا ضرور پوچھا کہ تم کام وام کیا کرتے ہو… کہنے لگا مزدوری کرتا ہوں…. پر پوری نہیں پڑتی، ٹھیکے دار بھی ایک نمبر کا کمینہ انسان ہے، کوئی کوتاہی ہو جائے تو پیسے کاٹ لیتا ہے، اس مہینہ اس نے کچھ دیا ہی نہیں….

کہتے کہتے اس کی آواز بھرا گئی… اس وقت مجھے کچھ ضروری کام تھے سو تسلی دی کہ ذرا فرصت ہوتی ہے تو دیکھ لیتے ہیں تمہارے ٹھیکے دار کو بھی…. اس کی یہ بدمعاشی اب زیادہ دیر چلنے نہیں پائے گی… وہ آنسو صاف کرتا، خوشی خوشی لوٹ گیا.

%%%%%%%%%%%%

اس کے ماتھے پہ بل سے پڑ گئے….

امی ابا کے جاتے ہی بھائی آزاد ہو گیا… اس نے زمین پہ خود کام کرنا چھوڑ دیا تھا، چوہدری لوگ کی طرح ٹھیکے پہ دے دیں… چھوٹی سی زمین سے کیا حاصل ہونا تھا…

کھانے کے لالے پڑ گئے تھے…

بھائی نے شانی کو بھی گھر سے نکال دیا تھا کہ اپنا بندوبست کر لو، ہماری تو اپنی پوری نہیں پڑتی… وہ گاؤں چلا گیا اور اپنے حصے کی زمین پہ خود کام کرنے لگا…

اسکے جانے پہ وہ بہت روئی تھی، وہ جاتے جاتے اسے امید کا دامن تھاما گیا تھا کہ تم میری امانت ہو، یہ رشتہ بزرگوں نے طے کیا تھا، اسے پایا تکمیل تک پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا…. اور وہ اس کی اس بات پہ دل و جاں سے ایمان لے آئی تھی….

شانی چلا گیا… وہ اداس ہو گئی، اسکی یاد میں اکثر رو پڑتی تھی…. جسے دن میں کئی بار دیکھنے کی عادت ہو وہ اتنے عرصے تک نظر نہ آئے تو چین قرار کا لٹ جانا تو بنتا ہے ناں..

وہ اداس ضرور تھی پر نا امید نہیں….. انتظار ہر لمحہ تھا.

اسے وہ دن یاد آ گیے … گھر میں فاقے چل رہے تھے اور بھائی بھی گھر سے غائب تھا، وہ دن اس نے اور بھابھی کیسے گزارے تھے یہ وہی جانتی تھیں یا انکا خدا….

بھائی کئی دنوں کے بعد گھر لوٹا تو ہاتھ میں دو شاپر تھے جن میں کھانے پینے کی چیزیں تھیں…. وہ تو بھائی کے گلے لگ کر رو ہی پڑی تھی….

بھابھی نے جلدی جلدی کھانا بنایا… کھا کر جسم میں جان آئی ورنہ اب تو لگنے لگا تھا کہ جان نکلی کہ نکلی.

لگا تھا کہ بھائی کوئی کام کرنے لگا ہے… خوشی ہوئی کہ اسے اپنی ذمہ داریوں کا خیال تو آیا.

وہ خوشی تو بس خوش فہمی تھی….

اس نے آنکھوں کو بند کر لیا کہ ان میں چبن سی ہونے لگی تھی… پھر کھولا تو کچھ افاقہ تھا…. آگے پڑھنا شروع کیا…

اب اکثر مجھے اسکا خیال رہتا…. جانے کس حال میں ہو گا، کچھ کھایا بھی ہو گا اس نے اور اسکے بال بچے نے کہ نہیں….

اس بار وہ پندرہ دن بعد آیا… اس بار تو ہچکیوں سے رو رہا تھا…. بھئی برا نہ منانا…. کمال کا اداکار ٹھہرا تمہارا بھائی….

کہنے لگا بیوی کی حالت بہت خراب ہے، ڈاکٹروں نے کہہ دیا کہ مذید پیسے لاؤ… ورنہ بیوی کو گھر لے جاو….. دادا بھائی میں اسے مرتا نہیں دیکھ سکتا…. میرے قدموں میں گر گیا… مجھے طیش آ گیا…. اسے اٹھایا اور بولا لے چل مجھے ان ڈاکٹروں کے پاس…. جنکے سینوں میں دل نہیں…. آج انہیں انکی اوقات دکھا دیتے ہیں….

اسکے چہرے کا رنگ اڑ گیا…. وہ گنگ سا مجھے دیکھنے لگا… نہیں دادا بھائی پیسے نہیں دینے نہ دو…. پر میں اپکو نہیں لے کر جا سکتا…. وہ آپکی دھمکیوں سے ڈریں گے نہیں بلکہ ایسے تو وہ جان بوجھ کر میری بیوی کو مار ڈالیں گے…. وہ روتا ہوا باہر کو بھاگا…

میں نے اسے روک لیا اور رقم چپ چاپ اسکے ہاتھ پہ رکھ دی…. وہ شکریہ ادا کرتا ہوا نکل گیا…. پر اس بار مجھے وہم نہیں یقین تھا کہ کچھ گڑبڑ ہے…. میں نے شرفو کو اسکے پیچھے لگا دیا…. وہ کہاں کہاں جاتا ہے، کس کس سےملتا ہے…. مکمل رپورٹ چاہیے مجھے….

_______

اگلے روز مجھے آ کر بتایا گیا کہ یہاں سے نکل کر تمہارا بھائی سیدھا ببلو کے ڈیرے پہ گیا…. ببلو کا ڈیرا جوا، شراب اور دوسری نشہ آور اشیا کے لیے مشہور ہے…. کئی بار چھاپا پڑ چکا ہے، پر اسکے ہاتھ قانون سے بھی لمبے ہیں ہر بار آرام سے بچ نکلتا ہے.

رات دس بجے وہ وہاں سے نکل کر ایک گھر میں چلا گیا… پتہ کرنے پہ معلوم ہوا کہ یہ اسکا اپنا گھر ہے….

میں نے کہا کہ جا کر اسکے گھر والوں سے ملو…. اور انہیں ساری صورت حال سے آگاہ کرو… پتہ چلے بیوی سچ میں بیمار ہے کیا….اور اسے اپنے شوہر کے کرتوت کا علم ہے کہ نہیں….

شرفو تمہارے گھر گیا… تمہاری بھابھی نے دروازہ کھولا…پتہ چلا کہ گھر میں صرف دو عورتیں رہتی ہیں، بچہ کوئی نہیں….

اسے ساری بات بتا دی… اس بیچاری کا رنگ فق ہو گیا… شاید اسے شوہر سے ایسی گھٹیا بات کی امید نہ تھی.

%%%%%////%%%%%%

اسے یاد آیا کہ ایک بندہ آیا تھا، اور اسکے جانے کے بعد بھابھی، بھائی کے آنے تک بیٹھی روتی رہی…. اسکے لاکھ پوچھنے پہ بھی اک لفظ منہ سے نہ نکالا….

اسے الٹے سیدھے خیال آتے رہے، سوچا شاید کوئی پرانا عاشق واپس آ گیا ہے اور اب بھابھی رو رہی ہے…..

بھائی رات گئے لوٹا تھا، وہ تو سو چکی تھی پر بھابھی جاگ رہی تھی… بھائی کے آتے ہی دونوں میں لڑائی چھڑ گئی…اسکی آنکھ کھل چکی تھی…… بھابھی کو اس سے پہلے کبھی یوں اونچی آواز میں بات کرتے نہیں دیکھا تھا…. یہ لڑائی ساری رات ہوتی رہی…وہ اک کونے میں دبکی بیٹھی تماشہ دیکھتی رہی.. کیا ہوا ہے کیوں ہوا ہے اسے کچھ سمجھ نہیں آ سکی تھی…. . صبح بھابھی بیگ پکڑے گھر سے جانے کو تیار تھی… اور بھائی منہ پھلائے بیٹھا تھا…

اس نے بھابھی کی منتیں کیں کہ نہ جاؤ، ہوا کیا ہے یہ تو بتا دو…

بھابھی نے اسکا سر منہ چوما…. روتے ہوئے گلے لگایا… رانو میری دھی میری مجبوری ہے اب میرا رکنا، نہ رکنا کوئی معنی نہیں رکھتا… میں تجھے ہمیشہ یاد رکھوں گی، اللہ تیرے نصیب اچھے کرے…. تو بھی میرے لیے دعا کرتی رہنا…

ہوا کیا ہے…. یہ تو اپنے بھائی سے پوچھ لینا…. میں کچھ کہوں گی تو برا لگے گا….

اس نے مڑ کر بھائی کی طرف دیکھا….. جانے کون بد بخت ہے جس نے آگ لگائی ہے…. بھائی کہہ کر اندر کمرے میں چلا گیا.

بھابھی اسے روتا چھوڑ کر چلی گئی، اسکے جاتے ہی ایسا لگا کہ اک بار پھر سے یتیم ہو گئی ہے…. تھی تو وہ بھابھی پر ماں سا پیار دیتی رہی، ہر گرمی سردی میں اسکی ڈھال بنی رہی، اور یہ بھابھی ہی تھی جو اسے تسلی دیا کرتی کہ وہ اسکی شادی شانی سے ہی کروائے گی، اسکا بھائی چاہے جو بھی کہتا رہے….

وہ جیسی بھی تھی، اسکا ماضی جیسا بھی تھا، اب وہ کس کے لیے اپنا گھر بار چھوڑ گئی…. اسکے لئے تو اک مضبوط سائبان تھی….

کتنے دن وہ بھابھی کا سوگ مناتی رہی، بھائی کی روش نہ بدلی وہ اسی طر ح رات گئے لوٹتا تھا اور کبھی کبھی دو دن بعد…. وہ ڈرتی رہتی، ہر آہٹ اسکا خون جما دیتی….

راتیں آنکھوں میں کاٹ دیتی….

وہ خوفناک راتیں یاد آئیں تو اسکا جسم اک بار پھر کانپ سا گیا…. اک لمحے کو اپنے کمرے سے بھی خوف آیا… پھر خود ہی اس خوف کو جھٹک دیا…

اب کس بات کا ڈر…. وہ وقت بیت گیا.. سب ڈر اپنی موت آپ مر گئے…

وہ خود پہ ہنسی، پھر سے کاغذ سیدھا کر کے پڑھنے لگی.

کچھ دن بعد تمہارا بھائی پھر آیا، آتے ہی میرے پیروں میں گر گیا، اپنے کئے پہ شرمندہ تھا، بتایا بیوی چھوڑ کر چلی گئی ہے، میری حرکتیں ہی ایسی تھیں بیچاری کیسے رہتی… اسے تو جانا ہی تھا…. دادا بھائی، اب گھر میں بہن اکیلی رہ گئی ہے، زمانہ بہت خراب ہے، سوچ رہا ہوں اسکی جلد از جلد شادی کر دوں…. رشتہ پہلے سے طے ہے بس اب بیاہ دوں تو اچھا ہے…. کچھ ایسا ویسا ہو گیا تو اگلے جہاں ماں باپ کو کیا منہ دکھاؤں گا….

میں جو اس پہ بہت غصہ تھا، اسکی اس بات پہ میرا دل پگھل گیا….

کیا چاہتے ہو اب…. میں نے دل بڑا کرتے ہوئے پوچھا….

بہن کو رخصت کرنے کو اک کوڑی بھی نہیں، کیا کروں…. پہلے ہی اپکا مقروض ہوں… اب مذید کے لیے ہاتھ پھیلاتے شرم آ رہی ہے….. اس نے روتے ہوئے کہا.

ہمممم….. چلو کچھ سوچتے ہیں، لیکن پہلے تمہیں وعدہ کرنا ہو گا کہ اب تم ببلو کے ڈیرے پر نہیں جاؤ گے….

میں نےذرا سختی سے کہا.

میرے باپ دادا کی توبہ…. جو قسم چاہو لے لو اب تو اس طرف دیکھوں گا بھی نہیں…. وہ کانوں کو ہاتھ لگاتا… کہنے لگا.

چلو ابھی جاؤ تم…. میں کچھ بندوبست کرتا ہوں…. کہہ کر اسے رخصت کیا.

شرفو تم ایک ہفتے تک اسکی کڑی نگرانی کرو گے…. میں نے حکم صادر کیا.

چار روز ہی گزرے تھے کہ شرفو میرے پاس بھاگا بھاگا آیا…. دادا بھائی…. دادا بھائی…. اس کمینے کی باتیں سن کر آ رہا ہوں… وہ کامو چاچا کی دکان کے پاس جو نیم کا درخت ہے اسکے نیچے اپنے ایک شرابی جواری دوست کے ساتھ بیٹھا ہے…. کہہ رہا تھا کہ بہن کے لیے کوئی خریدار ڈھونڈ رہا ہوں… جیسے ہی اچھے دام ملے لے کر رفو چکر ہو جاؤں گا… دادا بھائی سے بھی اسکی شادی کے نام پہ رقم ملنے والی ہے…. میرے تو وارے نیارے ہو جانے….

وارے نیارے تو اسکے بھی ہو جانے ہیں، شانی اسے دے ہی کیا سکتا ہے، دو وقت کی روٹی بمشکل….اس نے تو مٹی میں رول دینا ہے اسکا حسن…

میں وہاں دوں گا جہاں یہ رانی بن کر رہ سکے…. جہاں اسکی قدر ہو….

شرفو بتا کر چپ ہو گیا.

مجھے اس بات پہ اتنا غصہ آیا کہ دل چاہا کہ جا کر اسے وہیں سے ہی جہنم واصل کر دوں…. پر ایسا کرنے سے بہت سے مسائل ہو سکتے تھے…. تمہارا بھی خیال آیا کہ یہ نامراد مر گیا تو اسکی بہن تنہا رہ جائے گی، کسی کو جانتی نہیں، سو اعتبار نہیں کرے گی….

یہ وقت بہت نازک تھا….ہر قدم بہت سوچ سمجھ کر اٹھانا تھا.

میں نے شرفو کو واپس بھیجا کہ اب اسکی بہت کڑی نگرانی کی ضرورت ہے…. اسے اک لمحے کو بھی نظر انداز نہیں کرنا کہ ایسا نہ ہو کہ ہم سے کوتاہی ہو جائے اور وہ کوئی بڑا قدم اٹھا بیٹھے…. ہمیں بہت چوکس رہنے کی ضرورت ہے… آخر اک معصوم لڑکی کی زندگی کا سوال ہے.

روز آ کر شرفو مجھے تازہ رپورٹ دیتا رہا، اس نے بتایا کہ دو بندوں کو وہ بہن دکھا چکا ہے پر اپنے دوست سے کہہ رہا تھا کہ دام اچھے نہیں مل رہے، جانے لوگ اتنے کمینے کیوں ہو گئے ہیں، ہر شے چوری کے بھاؤ لینا چاہتے ہیں، اب وہ بہن ہے میری ایسے کم داموں میں تو نہیں دے سکتا ناں…

اب وہ ایک دو روز تک آپکے پاس بھی آنے والا ہے… شرفو بتا کر چلا گیا.

تمہارے بھائی کی حرکتیں ایسی تھی کہ اس سے گھن آنے لگی تھی، کوئی بھائی اتنا گھٹیا ہو سکتا ہے، میرے خواب و خیال میں بھی نہ تھا.

اب کیا کرنا ہے میں سوچ چکا تھا، میں بھیس بدل کر تمہارے گھر پہنچا، تمہارے بھائی کو منہ بولی رقم ادا کرنے کا وعدہ کیا، اس نے تمہیں سامنے لا بیٹھایا… تمہاری معصوم صورت دیکھی تو دل رو پڑا…. اسی وقت فیصلہ کر لیا کہ ابھی تمہیں تمہارے بھائی کے چنگل سے آزاد کروا لوں، پھر تمہیں تمہارے منگیتر کے حوالے کر دوں گا… تمہیں بھی جینے کا پورا حق ہے اور تمہارے کم ظرف بھائی کو یہ حق چھننے نہیں دوں گا.

جمعہ کے روز آنے کا وعدہ کر کے لوٹ آیا، شرفو ابھی بھی اسکی نگرانی پر مامور تھا کہ اس بے غیرت سے کچھ بعید نہ تھا کہ کوئی مجھ سے بھی زیادہ رقم کی آفر کروا دے تو وہ راتوں رات تجھے چلتا کرے…. اور میں یہ رسک نہیں لے سکتا تھا….

میں نے بہت سوچا، ہر بات کو بہت باریک بینی سے سوچا… پھر آخر مولوی صاحب کو لے کر جمعہ کو تمہارے ہاں پہنچ گیا، رقم ادا کی اور بدلے میں نکاح کر کے تمہیں لے آیا.

میں چاہتا تو تمہیں زبردستی بھی تمہارے بھائی کے چنگل سے آزاد کروا سکتا تھا، پر اس بات کی کیا گارنٹی تھی کہ تم میری باتوں پہ یقین کر لو گی اور اپنے بھائی کی غلطی قبول کر لے میرے پاس خود کو محفوظ سمجھو گی…. سو ایسا کرنے سے پرہیز کیا.

تم سوچ رہی ہو گی کہ میں نے اگر تمہی تمہارے منگیتر سے ملانے کا ارادہ کیا تھا تو نکاح کیوں کیا….

وہ جلتی آنکھوں کے ساتھ ہنس دی….. کتنا شاطر ہے…. اسے اپنی گناہوں کا پورا پورا احساس ہے اور ان پہ پردہ ڈالنا بھی بخوبی آتا ہے…

آنکھیں آنسوؤں سے دھندلی کیا ہوئیں…. ماضی روشن ہو گیا…. بد صورت، تکلیف دہ ماضی….

وہ بدبخت دن اسکے سامنے روشن ہو گئے…. بھائی نے اسے آ کر کہا کہ شانی نے اس سے شادی کرنے سے انکار کر دیا ہے.

اب میں تیرے لیے رشتہ دیکھ رہا ہوں، جلد از جلد اس زمہ داری سے فارغ ہونا چاہتا ہوں. گھر میں اکیلی عورت کو تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا….

اگلے روز ہی ایک ادھیڑ عمر شخص اسے دیکھنے آ گیا… وہ اکیلا ہی آیا تھا، ساتھ میں کوئی عورت یا گھر کا کوئی دوسرا فرد نہ تھا… اسے بہت عجیب لگا… اور اس شخص سے بہت وحشت محسوس ہوئی.

وہ بہت روئی،بھائی کی بہت منتیں کیں… اس کے آگے ہاتھ جوڑے کہ ایک بار میری شانی سے بات کروا دو، مجھے صرف اپنا قصور پوچھ لینے دو….اسکے بعد جہاں کہو گے شادی کر لوں گی….

پر اس نے ایک نہ سنی….

چند دن بعد دوسرا رشتہ چلا آیا، یہ پہلے سے بھی گیا گزرا تھا….

ایسی مکرو شکلیں اس نے پہلی بار دیکھی تھیں…..

وہ تو مصلیٰ بچھا کر بیٹھ گئی، اب رب کے سوا کچھ دکھائی نہ دے رہا تھا، رو رو کر رحم مانگا….

پھر کچھ دن گزرے کہ تیسرا رشتہ چلا آیا…. یہ شخص مہذب لگا، آنکھ میں شرم حیا بھی تھی اور صورت بھی قابل قبول… پر وہ کیا کرتی اسکا دل تو شانی کے سوا کسی کو بھی قبول کرنے کو راضی نہ تھا…..

باتوں سے محسوس ہوا کہ رشتہ پکا ہو چلا ہے…. دل کی بے چینی حدوں کو چھونے لگی….. رو رو کر برا حال ہو گیا…بھائی کے قدموں میں گر گئی کہ یہ ظلم نہ کرو….. شانی مجھے قبول نہیں کر رہا تو کوئی بات نہیں اپنے در پہ ہی پڑا رہنے دو…. کہ کسی اور کے ساتھ خوش نہیں رہ پاؤں گی…. بھائی غصے میں لات مار کر باہر نکل گیا……

وہ یونہی گری رو رہی تھی کہ نادیہ چلی آئی اسکی بچپن کی سہیلی….. اسے یوں روتا دیکھا تو کلیجہ منہ کو آ گیا، وجہ معلوم پڑی تو بے قرار ہو گئی….. اسی وقت اٹھی اور باہر نکل گئی. محلے میں صرف آنٹی کوثر کے گھر فون لگا ہوا تھا. اور گاؤں میں نادیہ کی خالہ بھی رہتی تھی، اس کی منتیں کی کہ شانی تک ساری صورت حال پہنچا دے اور اسے کہے کہ جلد از جلد یہاں پہنچے…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *