Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat Youn Bhi Hoti Hai (Episode 02)

Muhabbat Youn Bhi Hoti Hai by Mishi Sheikh

ابا جی نے شانی سے اسکی رضا پوچھی تو اس نے اپنے سب اختیارات انہیں سونپ دئیے… ابا جی اور اماں خوشی سے نہال ہو گئے… تب اسے شانی کے ساتھ منسوب کر دیا گیا، طے یہ پایا کہ اسکی تعلیم پوری ہو جائے تو شادی کر دی جائے گی.

شانی نے ایف اے کر لیا، نوکری کے لئے بہت ہاتھ پیر مارے پر بارہ پاس کو نوکری کہاں ملتی…

ایک سال اس نے در در دھکے کھائے، کبھی مزدوری کرتا، کبھی کوئی چھوٹی موٹی ٹیوشن پڑھانے لگتا…. تب کہیں جا کے اتنی رقم جمع کر پایا کہ ملک صاحب سے جان خلاصی ہو پائی…

اس دن بہت خوش تھا کہ اک بوجھ سے چھٹکارا مل گیا…. پر اس دن ماں کو بھی یاد کر کے بہت رویا کہ اسی کم بخت قرضے نے اسکی ماں اس سے چھین لی.

ہوا کا اک تیز جھونکا اسکے چہرے سے ٹکرایا، یہ جھونکا ساتھ میں بارش کی تیز پھوار بھی لئے ہوئے تھا..اسکا چہرہ بھیگ چکا تھا… . وہ ہوش میں آ گئی، ماضی کی سکرین دھندلا گئی…..

وقت دیکھا تو شام کے سات بج رہے تھے، وہ کئ گھنٹوں سے یہاں کھڑی تھی اب تو پاؤں بھی شل ہو رہے تھے، وہ بیٹھ جانا چاہتی تھی پر دل اسے یہاں سے ہلنے نہیں دے رہا تھا….

موسم کے تیور آج ٹھیک نہیں لگ رہے تھے…. ایسا موسم اس سے کچھ نہ کچھ چھین لیتا رہا ہے…. صد شکر کہ اس نے فضلو بابا کو آنے سے منع کر دیا، اگر جذبات میں آ کر اسی وقت آنے کو کہتی تو جانے کیا ہو جاتا….

اسے یاد آیا کہ ایسی ہی بارش تھی اس روز جب بابا کام کرتے کرتے سیڑھی سے پھسل گئے تھے… بظاہر زیادہ چوٹ نہیں آئی تھی پر چوٹ شاید دماغ پہ لگی تھی کہ موقع پہ ہی دم توڑ گئے تھے…. اور بے حس ٹھیکیدار انہیں آرام سے گھر چھوڑ گیا تھا، رشوت کے طور پہ اس نے ابا کے کفن دفن کا انتظام کر دیا تھا….

اماں نے لاکھ منع کیا تھا کہ آج کام پہ نہ جاؤ کہ لگتا ہے موسم خراب ہونے کو ہے، پر ابا ہمارے پیٹ بھرنے کی فکر میں قبر میں جا اترے…

اماں نے جو ابا کو یوں کندھوں پہ گھر آتے دیکھا تو چکرا کر گر پڑی…. کئی دن کومے میں رہنے کے بعد ماں بھی ابا کے پاس چلی گئی….

ایک ساتھ دو دو دکھ… اس نے کیسے جھیلے، یہ وہی جانتی تھی، اس وقت بھابھی ماں بن کر سر پہ ہاتھ نہ رکھتی اور شانی کا سہارا نہ ہوتا تو شاید وہ بھی مر جاتی….

بی بی جی کھانا لگا دوں…. رضیہ نے آ کر پوچھا.

ہنننننمممممم….. وہ سنبھلی، چہرہ بھیگ چکا تھا، جلدی سے صاف کیا…. نہیں مجھے بھوک نہیں ہے، ایسا کرو اک کپ کافی بنا دو…. میں کمرے میں جا رہی ہوں، وہیں لے آنا….

وہ اپنا دوپٹہ ٹھیک کرتی کمرے کی طرف بڑھ گئی.

کمرے میں عجب گھٹن کا احساس ہونے لگا وہ واش روم میں گھس گئی… شاور لے کر نکلی تو کافی کی مزے دار خوشبو نے اسکی طبیعت ہشاش بشاش کر دی… رضیہ کافی ٹیبل پہ رکھ گئی تھی، اس نے کپ اٹھا لیا اور کھڑکی میں آ کھڑی ہوئی…. بارش اب بھی جاری تھی پر شدت میں کچھ کمی آ گئی تھی.

کمرے میں صرف نائٹ بلب جل رہا تھا….. اسے یہ روشنی بہت پسند تھی…..

اتنا دلفریب موسم ہو تو دل خوامخواہ ہی محبوب کی قربت کی آرزو کرنے لگتا ہے… بلکہ مچل مچل جاتا ہے، کیا تھا جو شانی آج یہاں ہوتا…. ہم ہوتے، پرانی یادیں ہوتیں…. دل کی باتیں ہوتیں… اس نے خودکلامی کی اور مسکرا دی.

کافی کے چھوٹے چھوٹے گھونٹ اسکے دماغ کو عجب سرور بخش رہے تھے…. کافی کا کپ ختم ہوا تو وہ بیڈ پہ آ بیٹھی، سائڈ ٹیبل پہ رکھی فاروقی کی تصویر پہ نظر پڑی تو اسکی رگیں تن سی گئیں، اس نے نفرت سے اسے دراز میں ڈال دیا.

صبح ہی رضیہ سے کہوں گی ساری تصویریں سٹور میں رکھ دے….. اس نے خود کو ریلیکس کرنے کے لیے کہا.

بستر میں بیٹھ کر کمبل ٹانگوں پہ ڈال لیا….

نیند نہیں آ رہی تھی، سوچا لیمپ آف کر دے شاید نیند آ ہی جائے… لیمپ آف کرنے کو ہاتھ بڑھایا تو وہی لفافہ نظر آیا جو وکیل صاحب دے کر گئے تھے…. شاید رضیہ رکھ گئی…. اسے رضیہ پہ غصہ آیا.

اس نے نظر انداز کرنا چاہا….. پر کر نہ سکی، کتنی ہی دیر وہ لفافہ ہاتھ میں لئے بیٹھی رہی…. دل چاہ رہا تھا کہ پھاڑ کر پھینک دے پر دماغ کہہ رہا تھا اک بار کھولو تو سہی…

دل کا کیا ہے…. دل تو پاگل ہے….

آج دماغ کی سن لیتے ہیں، کل سے تو دل کی ہی مانی جانی ہے…. وہ شانی کے خیال سے مسکرا دی.

لفافہ چاک کر ڈالا.

السلام و علیکم؛ عزیز از جان رانی

امید ہے کہ تم بالکل ٹھیک ٹھاک ہو گی بلکہ بہت زیادہ خوش بھی…. کیونکہ جب تمہیں یہ خط ملے گا، میں تمہاری نظروں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اوجھل ہو چکا ہوں گا….

تم خود کو آزاد محسوس کر رہی ہو گی…. حالانکہ میں نے کبھی تمہیں قید نہیں رکھا بلکہ تم نے خود ہی خود کو خود تک اور اپنے کمرے تک محدود ضرور کر لیا ہوا تھا….

یہ تم نے میری نفرت میں کیا…. تمہیں مجھ سے نفرت کیوں، یہ میں آج تک سمجھ نہیں پایا…. شاید تمہیں اپنے منگیتر سے دوری کا غم مجھ سے نفرت کرنے پہ اکساتا رہا…

میرے سر میں آج کل بہت شدید درد ہے، بہت سے ڈاکٹر اور حکیموں کو دکھا چکا ہوں…. سب کہتے ہیں کچھ خاص مسئلہ نہیں ہے تم ٹھیک ہو جاؤ گے پر یہ میں ہی جانتا ہوں کہ میرے پاس اب زیادہ وقت نہیں… یہ درد معمولی نہیں ہے…. اس سے چھٹکارا پانے کو مجھےمرنا پڑے گا…

میں جیسا دکھتا ہوں ویسا ہوں نہیں…. میں کون ہوں، کیسا ہوں، ایسا کیسے بنا…. یہ صرف میں ہی جانتا ہوں….

جو مجھے تھوڑا بہت جان گئے وہ مجھے مسیحا کہتے ہیں، اس مسیحا کو بھی اپنے دکھ درد بانٹنے کے لیے اک مسیحا کی ضرورت تھی، خیال تھا کہ تم یہ کردار بخوبی نبھا سکو گی پر تم نے تو مذید دکھ دے دئیے… مجھے میری نظروں میں ہی گرا دیا…. جتنا عرصہ تمہارے ساتھ جیا، احساس جرم میں جیا، وہ جرم جو میں نے کیا ہی نہیں….

جیتے جی تو تم نے میری اک نہ سنی…. اب جب کہ میں مر چکا ہوں گا شاید تم میری بات سن ہی لو….جسم کو تو کبھی سکون ملا نہیں شاید میری روح ہی پر سکون ہو جائے…

اپنی باتیں شروع کرنے سے پہلے اک بات کہنا چاہوں گا… میرے مرنے اپنے منگیتر کو بلا لینا… مجھے یقین ہے کہ جس طرح تم نے خود کو اسکے لئے سنبھال رکھا ہے، وہ بھی اب تک تمہارے لیے ہی جی رہا ہو گا….

ہننننممممم… اس نے لمبا ہنکارا بھرا…. کہہ کو ایسے رہا جیسے میں نے اس کے کہنے پہ شانی کو بلانا تھا….

. دل چاہا کہ ابھی بھی پھاڑ کر پھینک دے… پر ذہن اسکے الفاظ میں پھنس گیا، جسم کو تو کبھی سکون ملا نہیں، شاید میری روح ہی پر سکون ہو جائے….

چلو فاروقی تمہاری روح کے ایصال ثواب کے لئے ہی پڑھ لیتی ہوں… طنزاً مسکرا کر وہ پھر سے متوجہ ہوئی.

میں نعمان فاروقی … اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد انکے جگر کا ٹکڑا تھا…. ہمارا گھرانہ اک خوشحال گھرانہ تھا، محبت کا گہوارہ…

پھر برے دن آ گئے… باپ کو شراب اور غیر عورتوں کی عادت پڑ گئی…. پھر ایک دن وہ اک عورت کو بیوی بنا کر گھر ہی لے آئے، میری ماں نے میری وجہ سے صبر کیا، اس بیچاری کے پاس جانے کے لیے کوئی جگہ نہ تھی،وہ چھپ چھپ کر رو لیا کرتی تھی پر میرے باپ سے کوئی سوال جواب نہ کیا…. کچھ دن بعد جانے اس عورت نے ایسا کیا کہہ دیا کہ میرے باپ نے میری ماں کو مجھ سمیت گھر سے دھکے دے کر نکال دیا…

ہم دونوں روتے جا رہے تھے…. رات کا وقت تھا سمجھ نہیں آ رہا تھا کہاں جانا ہے…. چلتے چلتے ہم مین روڈ پہ آ گئے… وہاں رش بہت تھا, گاڑیوں کا اک طوفان رواں دواں تھا…. ماں پہلے تو گھبرائی اک طرف کھڑی رہی پھر ہمت کر کے سڑک کی طرف بڑھی… میں بھی پیچھے ہو لیا… ابھی سڑک چڑھی ہی تھی کہ ایک کار ماں سے آ ٹکرائی، اور وہ ہوا میں اڑ کر زمین پہ آ رہی… یہ منظر دیکھ کر میں چیخ مار کر ہوش و حواس کھو بیٹھا.

________

ہوش آیا تو میں بستر پہ تھا میرے پاس سفید کوٹ پہنے ایک ڈاکٹر کھڑا تھا، ساتھ میں ایک ادھیڑ عمر شخص بھی تھا…. وضع قطع سے وہ کوئی چوہدری معلوم ہوتا تھا.. دونوں نے آگے بڑھ کر میرا حال پوچھا، ڈاکٹر مجھے چیک کرنے لگا…

میں گھبرا کر رونے لگا… ماں کو پکارنے لگا.

اس چوہدری نے مجھے سینے سے لگایا، پیار کیا، تسلی دی کہ تمہیں تمہاری ماں کے پاس لے کر جاؤں گا… ابھی تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں.

مجھے اسکی قربت میں باپ کی سی خوشبو محسوس ہوئی، میں خاموش ہو گیا….

میں جلد بالکل صحت یاب ہو گیا، بظاہر مجھے کوئی چوٹ نہیں لگی تھی پر ماں کی جو حالت دیکھی تھی اس نے مجھے اتنا شاک دیا تھا کہ میں شدید بیمار ہو گیا…

اب میں بالکل ٹھیک تھا، پر ابھی بھی میں اپنے اسی کمرے میں تھا، باہر نہیں نکلا تھا، وہ شخص جب بھی فارغ ہوتا میرے پاس چلا آتا، وہ زیادہ سے زیادہ وقت میرے ساتھ بیتانے کی کوشش کرتا، میرے ساتھ چھوٹی چھوٹی باتیں کرتا… ہنسی مزاق کرتا، باتوں باتوں میں ہی اس نے میری کہانی بھی جان لی….

میں اسے باؤ جی کہنے لگا تھا…

اس نے مجھ سے پوچھا کہ سکول جاؤ گے میں نے انکار کر دیا…. خوف تھا کہ مجھ سے میرے باپ کے بارے میں پوچھا جائے گا، کیسے سناؤ گا اپنی آپ بیتی…. اپنی ماں کی رسوائی کا چرچا نہ ہو پائے گا مجھ سے…. سو سکول کو خیر باد کہنے میں ہی عافیت سمجھی….

باؤ جی نے میرے لیے ایک استاد رکھ دیا جو کہ مجھے ضروری سبق پڑھانے لگا، مجھے کونسا افسر بننا تھا… بس اتنا پڑھ لکھ جاؤں کہ لوگوں کو سمجھنے لگوں، اپنے حساب کتاب کرنے کے قابل ہو جاؤں….

میں اکثر باؤ جی سے ماں کے بابت پوچھتا، باؤ جی بہت سہولت سے کہہ دیتے وہ دوسرے شہر علاج کروانے گئی ہے، جلدی ٹھیک ہو کر آ جائے گی…..

میں بات کرنے کی ضد کرتا تو میرے سامنے نمبر ملا کر پہلے خود کان سے لگائے رکھتے پھر کہتے لے دیکھ پت…. اسکا نمبر بند ہے… کال نہیں مل رہی…. میں آگے بڑھ کر فون اپنے کان سے لگا لیتا پھر مایوس ہو کر فون رکھ دیتا، کمرے میں جا کر رونے لگتا، روتے روتے سو جاتا، پھر بھول جاتا….

ایک بات کا دکھ تھا کہ باپ کی طرح ماں بھی مجھ سے جان چھڑا گئی…. مجھے سڑک پہ چھوڑ کر غائب ہو گئی، ضرور اس نے شادی کر لی ہو گی…..بھلا ٹھیک ہونے میں اتنا وقت لگتا ہے کیا…. یہ سب یقیناً ڈرامے بازی ہے….. میں رفتہ رفتہ اس سے متنفر ہوتا گیا.

وقت گزرتا رہا، کئی سال بیت گئے، ماں واپس نہیں آئی، میں باؤ جی کے پاس ہی رہا…

پڑھ لکھ بھی گیا تھا حساب بہت اچھا تھا میرا، باؤ جی کا سارا حساب کتاب میں نے ہی سنبھال رکھا تھا…

باؤ جی…. لوگوں کو سود پہ قرضا دیا کرتے تھے…. بڑی بڑی آسامیاں جو کہ بے ایمانی کی کوشش کرتی تھیں، رقم مارنے کے لیے پر ٹٹولا کرتی تھیں، باؤ جی انکے پر کاٹ دیا کرتے تھے، ہاں پر غریبوں کے لئے انکا دل بہت بڑا تھا…. کتنی ہی لڑکیوں کے گھر بسائے تھے انہوں نے… پر خود کا گھر نہیں بنا پائے یا شاید بنانا ہی نہیں چاہتے تھے…. کہا کرتے تھے کہ انسان اولاد کے لیے شادی کرتا ہے، اور مجھے تو اللہ نے بن مانگے ہی تجھ سا بیٹا دے دیا، اب مجھے شادی کی کاہے کو فکر…

ایک دن میں اپنے ایک دوست کامی جو کہ باؤ جی کے لیے ہی کام کیا کرتا تھا… کے ساتھ بیٹھا ماں کی بیوفائی کا تذکرہ کرتے ہوئے غمگین ہو رہا تھا،میں نے کچھ نازیبا الفاظ استعمال کر دئیے تو وہ غصے میں آ گیا، مری ہوئی ماں بتا کیسے وفا کرے تیرے ساتھ….. جانے وہ کتنا تڑپتی ہو گی تجھے آغوش میں لینے کو اور تو بے شرموں کی طرح اسکا ذکر کر رہا ہے…. لعنت ہے تجھ پہ، ڈوب مر کہیں جا کے…..

اور یہ باؤ جی ہی تیری ماں کے قاتل ہیں…. جن کے آگے پیچھے دم ہلاتا پھرتا ہے تو….

وہ بڑبڑاتا ہوا میرے پاس سے اٹھ کر چلا گیا….

میرے کانوں میں شاں شاں ہونے لگی، ساری دنیا گھومتی ہوئی محسوس ہونے لگی….. خود کو سنبھالنے میں کافی وقت لگ گیا….

جب سنبھلا تو پسٹل لوڈ کر کے باؤ جی کے سامنے جا کھڑا ہوا، آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا….

کیوں مارا تم نے میری ماں کو، کیا بگاڑا تھا اس نے تمہارا…. میں نے چیخ کر پوچھا.

باؤ جی نے یہ سنا تو انکا چہرہ مرجھا سا گیا…. آنکھوں میں شرمندگی، پچھتاوا…. صاف نظر آنے لگا… وہ اک لفظ نہیں بولے، میں انکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے، ان پہ پستول تانے کھڑا تھا، قریب تھا کہ گولی چل جاتی، مجھے انکی آنکھوں میں باپ کی سی تڑپ دکھائی دی….

بیٹے کے ہاتھوں مرنے سے پہلے باپ کی آنکھوں میں جو کرب ابھرتا ہے وہ دکھائی دینے لگا….

انہوں نے آج تک مجھ پہ جو شفقت لوٹائی، جو احسانات کئے، وہ آڑے آنے لگے

میں بہت کوشش کے باوجود ان پہ گولی نہ چلا سکا اور پستول وہیں انکے سامنے پھینک کر اپنے کمرے میں چلا آیا…. بہت رویا، روتے روتے آنکھ لگ گئی، خواب میں اپنی ماں کو خود سے لپٹے دیکھا…. ایسا پہلی بار دیکھا تھا، دل کو جیسے قرار سا آ گیا…

شام گئے آنکھ کھلی….پھر سے کامی کے الفاظ کانوں میں گونجنے لگے… بچپن میں جب بھی سو کر اٹھتا تھا، سب کچھ بھول چکا ہوتا تھا، پر آج کچھ نہیں بھولا تھا…. بھولنے کی کوشش کے باوجود….

آدھی رات کو مجھے اپنے کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی، میں تھوڑا چوکس ہوا، لگا کہ سب معلوم ہو جانے پہ اب باؤ جی مجھے راستے سے ہٹا دیں گے….

میں سوتا بنا رہا، باؤ جی میرے پاس آ کر بیٹھ گئے، میرے بالوں میں نرمی سے ہاتھ پھیرا… پیشانی پہ بھوسہ دیا…. میں ابھی بھی سویا بنا رہا.

میری جان، میرے جگر کے ٹکڑے…..

میں نے تیری ماں کا قتل نہیں کیا…. اس روز، تیری ماں میری کار سے ٹکرائی تھی، گاڑی ڈرائیور چلا رہا تھا…. میں نے اس عورت کو ہسپتال پہنچایا، ڈاکٹروں کی منتیں کیں کہ اسے بچا لو… پر وہ مر گئی شاید تیرے باپ کی بیوفائی نے اسے جینے نہیں دیا یا وہ اتنی ہی عمر لکھوا کر لائی تھی،میں تو بس بہانا بن گیا….

تمہاری حالت ایسی نہ تھی کہ تمہیں ایک بار پھر یتیمی کا صدمہ دیا جاتا، تمہیں میں نے اپنا لیا…. تمہارا ہر طرح سے خیال رکھا کہ شاید یوں میری غلطی کا کفارہ ادا ہو جائے، میں آخرت میں سرخرو ہو جاؤں، تمہاری ماں تمہیں اچھی حالت میں دیکھ کر میرا گریبان پکڑنے سے دستبردار ہو جائے… پھر کئ بار ہمت کی کہ تمہیں سچ بتا دوں پر تمہارے چہرے کی مسکراہٹ چھن جانے اور تمہاری محبت کے نفرت میں بدل جانے کے خوف نے مجھے باز رکھا، میں تمہیں ٹوٹتا بکھرتا نہیں دیکھ سکتا تھا…. بس اسی وجہ سے جھوٹ بولتا رہا….

اگر ابھی بھی تمہیں لگتا ہے کہ میں گناہگار ہوں تو بے شک مجھے مار کر اپنے سینے کی آگ ٹھنڈی کر لو، میں خوشی خوشی تیرے ہاتھوں مرنے کو تیار ہوں…. پر غصے میں مجھے تنہا نہ چھوڑ جانا، میں تمہارے بنا نہیں جی پاؤں گا….

میں نے تمہیں اپنی اولاد کی طرح چاہا ہے، ایک باپ اسی دن مر جاتا ہے جب اسکی اولاد اسے چھوڑ جائے…. ایسے وقت سے پہلے میں خود مر جانا چاہوں گا….

ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا…

باؤ جی روتے ہوئے واپس چلے گئے…

میں نے آنکھیں کھول دیں، ڈھیروں آنسو میرے چہرے پہ بکھر بکھر جانے لگے جن پہ میں نے اب تک بند باندھ رکھا تھا….

معافی…. کس بات کی معافی….

دل نے کہا، باؤ جی نے مجھے در در کے دھکے کھانے سے بچایا ہے…. ویسے تو وہ قصور وار نہیں، پر اگر انکا کوئی تھوڑا بہت قصور ہوا بھی تو اسکا کفارہ وہ ادا کر چکے ہیں ….

نہیں باؤ جی میں آپ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤنگا، بیٹا باپ کو چھوڑ کر بھلا کہاں جا سکتا ہے….

میں اسی وقت انکے پیچھے جا کر گلے لگ جانا چاہتا تھا پر ایسا کر نہیں پایا….

صبح دیر سےانکھ کھلی…. کمرے سے نکلا…. گھر میں خلاف معمول خاموشی تھی، ویسے تو ہر طرف باؤ جی کی آواز گونج رہی ہوتی…. پر آج ایسا نہیں تھا….

دل کو کچھ ہوا…. خانساماں نے مجھے ناشتے کا پوچھا… میں نے جواب دئیے بنا باؤ جی کا پوچھ لیا….

پتہ نہیں صاحب تو صبح صبح ہی چلے گئے…. وہ کہہ کر کچن کی طرف ہو لیا…

میں بے چینی میں باہر نکل آیا… چوکیدار سے پوچھا تو اس نے بھی خانساماں کا سا جواب دیا…. کہاں گئے کسی کو معلوم نہ تھا….

اتنے میں فضلو چاچا آتے دکھائی دئیے… میں انکی طرف بھاگا، چاچا…. باؤ جی کہاں گئے….

وہ میری بے چینی دیکھ کر مسکرا دئیے.

پریشان ہو گیا، باؤ جی کو نا پا کر… پگلے

وہ خان بہادر کی طرف گیا ہے، قرض کی وصولی کے لیے….. بہت وقت بیت گیا وہ قرض واپس کرنے کا نام نہیں لے رہا بلکہ کل تو مکر ہی گیا….

تیرے باؤ جی، آج خود گئے ہیں….. صبح کے گئے ہوئے ہیں، آتے ہی ہوں گے… پریشان نہ ہو،

ناشتہ کر لیا تو نے…. چاچا نے پیار سے پوچھا.

میں نفی میں سر ہلا گیا.

چل آ، ناشتہ کر لے پہلے…. وہ اسے اندر لے آئے.

خانساماں ناشتہ میز پہ رکھ چکا تھا.

میں نے بے دلی سے ناشتہ کیا، فضلو چاچا مجبور نہ کرتے تو میں نے یہ تکلف کرنا ہی نہ تھا…. میرا موڈ خراب ہونے لگا تھا.

اس سے پہلے باؤ جی ہر جگہ مجھے ساتھ لے کر جایا کرتے تھے. آج کیوں نہیں لے کر گئے، آئیں گے تو میں بھی بات نہیں کروں گا…. میں نے فضلو چاچا کے سامنے غصہ نکالا، وہ مسکراتے رہے.

وقت تھا کہ بیت ہی نہیں رہا تھا…. ہر گزرتی گھڑی میری بے چینی بڑھا رہی تھی….

ہوتے ہوتے دوپہر ہو گئی…. میں نے فضلو چاچا سے کہا کہ آپ کو خان کا اتہ پتہ معلوم ہے…. بولے ہاں کچھ کچھ یاد ہے، بہت پہلے گیا تھا…

میں نے کہا چلو پھر چلتے ہیں، اب مجھ سے اور صبر نہیں ہو رہا….

پریشانی ان کے چہرے سے جھلکنے لگی…. بولے تمہارے باؤ جی منع کر کے گئے تھے کہ میرے پیچھے کوئی نہ آئے….

یہ سننا تھا کہ میرے حوصلے پست ہو گئے..

میں سر تھام کر بیٹھ گیا.. چاچا مجھے حوصلہ دینے لگا….

تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ اک ملازم بھاگتا ہوا آیا، اسکی سانس بری طرح پھولی ہوئی تھی……

چوہدری صاحب……. چوہدری صاحب…. وہ بات پوری نہیں کر پا رہا تھا، بس روئے چلا جا رہا تھا…..

پر میں اسکی بات بن کہے سمجھ چکا تھا، وہ ہو چکا تھا، جس کا مجھے خدشہ ستا رہا تھا….. میں اک بار پھر یتیم ہو چکا تھا.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *