Meri Jaan Hai Tu By Umme Emman Fatima NovelR250516 Meri Jaan Hai Tu (Episode - 8)
No Download Link
Rate this Novel
Meri Jaan Hai Tu (Episode - 8)
Meri Jaan Hai Tu By Umme Emman Fatima
بھاٸی پلیز آنکھیں کھولیں۔سنی روتے ہوٸے کہتاہے۔جلدی سے آپ انکوائری آپڑیشن تھیٹر میں لیکر جاٸے۔ڈاکٹرجلدی سے وارڈبواۓ کو کہتا ہے
پلیز “ڈاکٹر میرے بھاٸی کو بچالیں سنی ڈاکٹرکاہاتھ تھام کر کہتا ہے۔
ڈونٹ وری”“ہم اپنی طرف سے پوری کوشش کریں گے باقی جو اللہ کو منظور ہوا۔ڈاکٹر اذان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کرکہتاہیں۔اور آپڑیشن تھیٹر کی طرف بھرجاتا ہے۔
سنی جلدی سے موباٸل نکال کے مشال نمبر ملاتا ہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ھیلو۔۔۔۔۔۔مشال سنی کا نمبر دیکھ کر جلدی سے فون اٹھاتی ہے۔ادھر سے سنی کی بات سن کر پریشان ھو جاتی ہے۔آپ رو مت میں ابھی پہنچتی ہوں۔مشال سنی سے کہتی ہے۔
مشال جلدی سے بی بی جی کے کمرے کیطرف بڑھتی ہےاور انکو کہتی ہے کہ اسکی امی کی طبیعت ٹھیک نہی وہ ادھر جا رہی ہے۔
ٹھیک ہے بچے جاٶ۔بی بی جی محبت سے کہتی ہے۔
وہ جلدی سے ڈراٸیور کو پتا بتاتی اور فورن چلنے کا کہتی ہے۔پورا راستہ وہ قرآن کی جتنی آیات یاد تھی پڑھی جاتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر باہر نکلتا ہے۔سنی جلدی سے لپک کر ڈاکٹر کی طرف بڑھتا ہے۔اور اذان کی حالت کے بارے میں پوچھتا ہے۔
ھم نے آپریٹ کر کے گولی نکال دی ہے مگر خون بہت
بہہ چکا ہے بس اب دعا کیجٸے اور کچھ نہی کر سکتے ھم۔ڈاکٹر سنی کے کندھے پر ھاتھ رکھ کر کہتا ہے۔سنی ادھر زمین پر ہی بیٹھ جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
مشال جلدی سے ھاسپیٹل میں داخل ہوکر ریسپشن پر جا کر کہتی ہے۔مسٹر اذان شاہ کس وارڈ میں ہے۔
سامنے سے داٸیں طرف چلے جاۓ وہ وہاں ایمرجنسی وارڈ میں ہے۔ریسپشن پر موجود آدمی مشال کو بتاتا ہے۔مشال بھاگتے ہوۓ ایمرجنسی وارڈ کیطرف بھاگتی ہے سنی وہاں چپ چاپ سر نیچے کٸیے بیٹھا ہوتاہے۔مشال اسکے پاس بیٹھ کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اس سے اذان کےبارے میں پوچھتی ہے۔سنی زمین پر بیٹھ کراسکی گود میں سر رکھ کر رونے لگ جاتا۔
سب میری غلطی ہے مجھے بھاٸی نے منع بھی کیا تھا مگر میں پھر بھی آیا۔پتا نہی اس عورت کی مجھ سے کیا دشمنی تھی وہ مجھے مارنا چاہتی تھی۔۔
کون عورت؟مشال چونک کے پوچھتی ہے۔
جس ھوٹل میں ھم رہ رہے تھے اسکی اونر تھی مسز شہرین سلیم۔وہ آنسو پونچھتے ھوۓ جواب دیتا ہے۔
مشال شہرین کا نام سن کر شاکڈ ہو جاتی۔اور پھر اٹھ کر وارڈ کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہو جاتی ہے۔اور دھیرے سے اس کے پاس آکر کھڑی ہو جاتی ہے۔اسکا بے اختیار رونا نکل جاتاہے۔وہ ہولے سے اس کے زرد چہرے کو چھوتی ہے۔
اور پھر باہر آکر سنی کے پاس آ کر بیٹھ جاتی اور اسکو کہتی اندر جا کر تھوڑی دیر آرام کر لے۔
وہ نفی میں سر ہلاتا ہے۔
دیکھو سنی تمھاری طبیعت بھی خراب ہوجاۓ گی تو اذان کاخیال کون رکھے گا وہ پیارسے اسکو سمجھاتی ہے۔وہ اٹھ کر ساتھ والے روم میں آرام کرنے چلے جاتا ہے۔مشال اٹھ کر اپنی نمازیں قضا کرتی اور تھوڑی دیر بعد عشإ کی اذان ہو جاتی وہ نماز پڑھ کر اٹھ کر اذان شاہ کے پاس چلی جاتی ہے۔
اور اس پر پڑھ پڑھ کر پھونکے ماری جاتی۔تھوڑی تھوڑی دیر بعد آ کر نرس آ کر چیک کر کے جاتی۔
پھرنرس رات کو ٢بجے آتی تو مشال کو دیکھتی وہ اذان شاہ کے بیڈ پر سر ٹکا کر سوٸی ہوتی۔نرس مسکرا کر دروازہ بند کر کے چلی جاتی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے 4 بجے مشال کی آنکھ اذان کے کراہنے سے نکلتی وہ جلدی سے اس کا ہاتھ تھام لیتی۔
اذان شاہ بمشکل آنکھیں کھول کر اسکور دیکھتا۔
اورکہتا“تمممم“ٰیہاں کیا کر رہی ھو۔وہ اسکی بات کو اگنور کرکےاس سے پوچھتی ہے۔کیسا محسوس کر رہے آپ۔
سنی کدھر ہے وہ پریشان کن لہجے میں پوچھتا ہے
وہ ساتھ والے روم میں ہے۔
وہ اطمینان کا سانس لیتا۔اور کہتا پلیز مجھے پانی پلادو۔مشال اسکودو گھونٹ پلاتی ہے۔
پھر باہر جا کر نرس کو کہتی کہ ڈاکٹرکوبلوا دے اذان شاہ کو ھوش آف گیا ہے۔
میں ڈاکٹر صاحب کو بتاتی ہوں نرس کہتی ہے۔
تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر ٰآ کر چیک کرتا اور کچھ میڈیسن لانے کو کہتا ہے۔مشال ھاسپیٹل کے میڈیکل سٹور سے میڈیسن لینے چلی جاتی۔۔
آپ بہت خوش نصیب ہے آپ کی بیوی آپ سے بہت محبت کرتی ہے۔نرس مسکرا کراذان شاہ سے کہتی ہے۔
اچھا““آپ نے ایسا کیا دیکھ لیا جس سے آپ کو میری بیوی کی محبت نظر آٸی۔اذان شاہ حیرت سے پوچھتا ہے۔وہ پوری رات پتا نہی کیا پڑھ پڑھ کر پھونک مارتی رہی۔اوووووہ”“اذان شاہ حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔مشال میڈیسن لاکر دیتی ڈاکٹر کو،انجیکشن لگا کر ڈاکٹر کہتا۔مسز اذان شاہ یہ میڈیسن انکو کچھ ہلکا پھلکا کھلا کر دے دیں۔
جی ٹھیک ہے ڈاکٹر۔مشال جواب دیتی ہے۔
ڈاکٹر صاحب مجھے ابھی اسی وقت گھر جانا اذان شاہ اٹھٹے ہوۓ کہتاہے۔
ارےے“یہ کیا کر رہے آپ لیٹے رہے ابھی تین چاردن تک چھٹی نہی ملے گی آپ کو۔ڈاکٹر کہتا ہے۔
یہ میری لاٸف ہے میں جو چاہوں کروں۔اور میری مرضی میں رہوں یا یہاں سے جانا چاہوں۔
وہ آہستہ سے اٹھ کے کھڑا ہو جاتا ہے۔مشال جلدی سے آکر اسکو سہارا دیتی۔پلیز بیٹھ جاٶ دن نکلنے دے پھر چلے گے۔اورہ سنی بھی اٹھ جاۓ گا۔
وہ سر ہلا کر بیٹھ جاتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشال ڈاکٹرکےپاس آتی۔اور ڈیوز کلٸیر کرتی۔
مسز اذان اسطرح لے تو جا رہی مگر اگر کچھ ہو گیا تو ھم ذمہ دار نہی ہوں گے۔ڈاکٹر مشال کو کہتا ہے۔
میں اس میں خود بے بس ھوں مشال پھیکے لہجے میں کہہ کہ وہاں سے سنی کو اٹھانے چلی جاتی۔
سنی اٹھو”مشال سنی کو ہلا کر کہتی ہے ۔
سنی ھڑبڑا کر اٹھتا ہے۔کیا ہہوا بھابھی،بھاٸی ٹھیک ہے نا۔وہ تیز تیز بولتا جاتا۔ھاں ھاں ““بالکل ٹھیک ہے اذان٠ھم گھر جا رہے۔وہ اسکو بتاتی ہے۔
کیا ابھی واپسی؟بھاٸی تو ابھی ٹھیک نہی پوری طرح سے۔وہ پریشان ہو کر کہتا ہے۔
ھاں تمہارے بھاٸی ضد پر اڑ گے ہیں وہ جواب دیتی ہے۔
سنی جلدی سے اذان کے روم میں جاتا ہے ۔
اورھولے سے اذان کےپاس بیٹھ کر اسکےھاتھ تھام کر رو پڑتا ہے۔پلیز بھاٸی ایم سوری۔وہ روتے ھوۓ کہتا ہے۔
ارےے“پاگل بالکل ناراض نہی تم سے۔
چلو گھر چلتے ہیں۔سنی اسکو سہارا دے کر گاڑی میں بیٹھاتا۔اور پیچھے مشال اسکے ساتھ بیٹھ جاتی۔اورسنی ڈراٸیونگ سیٹ پر بیٹھ کر ڈراٸیور کو دوسری گاڑی ساتھ لانے کو کہتے۔اورہولے ہولے گاڑی کو چلاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم۔منال بی بی جی کو اندر آ کر سلام کرتی ہے۔ارے“منال بیٹی آپ۔کیسی طبیعت آپ کی امی کی۔مشال کہہ رہی تھی ھاسپیٹل میں ہے وہ۔
اور کل کی ادھر ھی ہے مشال۔
کیا؟مگر امی تو ھاسپیٹل نہی ہے اور آپو ھماری طرف نہی آٸی۔منال ہریشان ہو کر کہتی ہے۔
کیا کہہ رہی بیٹا آپ۔بی بی جی پریشان ہو کر کہتی
فون ملاٶ مشال کو٠بی بی جی منال سے کہتی ہیں۔
جی اچھا“منال جلدی سے فون ملاتی ہے۔
ادھر سے مشال فون اٹھاتی ہے۔تومنال نان سٹاپ بولنا شروع ہو جاتی۔کدھر ہو آپ۔آپ ٹھیک تو ہو
اورآپ کون سے ہاسپیٹل گٸ ہو۔اور کون ہے وہاں۔
منو منو“سانس لے لو میں بس پہنچ رہی ہوں شاہ ولا۔مشال کہتی ہے۔
آپ کو کیسے پتا میں شاہ ولا آٸی ہوں منال حیرت سے پوچھتٕی٠تیری باتوں سے۔مشال آگے سے جواب دیکر فون رکھ دیتی۔
بی بی جی وہ پہنچ رہی۔منال بی بی جی کو بتاتی ہے۔اچھا“ بی بی جی اچھا کہہ کر تسبیح کرنے لگ جاتی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنی گاڑی شاہ ولا کے پاس روک کر گاڑی کا ہارن مارتا۔گارڈ دروازہ کھولتا وہ گاڑی اندر لیکر جا کر لگاتا۔مشال گاڑی سے نکلتی۔پھر اذان ہولے سے اترتا۔مشال اور سنی اسکو سہارا دیکراندر لاتے۔
ارےے کیا ھوا۔بی بی جی جلدی سے آگےہو کر پوچھتی ہے۔
بی بی جی آپ بیٹھے بتاتی ہوں مشال بی بی جی کہہ کر پھر اذان کوکہتی ہے ۔آپ نیچے روم میں ھی آرام کر لیں۔
نہی میں اپنے روم میں جا کر ہی آرام کروں گافراط اذان اسکو جواب دیتا ہے۔ہر معاملے میں ضد کرنا ضروری سمجھ رکھا آپ نے گولی لگی تھی کوٸی مزاق نہی تھا۔وہ جھنجھلا کر بولتی۔تم ھوتی کون ہو مجھے آرڈر دینے والی۔وہ تڑخ کر بولتا ہے۔
بیوی ہوں آپ کی حق ھے میرا آپ پر،آرڈر دے سکتی ہوں۔وہ بھی تنک کر بولتی ھے۔وہ غصے سے اسکو دیکھ کر رہ جاتا ہے۔
تم آپس میں لڑنا چھوڑو یہ بتاٶ گولی کیسے لگے بی بی جی چلا کر بولتی ہیں۔بی بی آپ غصہ مت کریں مشال محبت سے ہاتھ تھام کر کہتی ہے۔میں بتاتی ہوں کیا ہوا تھا۔مشال تفصیل سے سب بتا دیتی ہے۔
وہ ذلیل عورت میرے دونوں بیٹوں کو مار چکی اب میرے پوتوں کے پیچھے پڑی ہے۔بی بی جی غصے میں بولتی ہے۔آپ فکر مت کریں بی بی جی میں اسکے سب ارادوں کو خاک میں ملا دوں گا۔اذان شاہ نفرت بھرے لہجے میں بولتا ہے۔
اچھا چلو چھوڑو“جاکہ میرے کمرے میں آرام کرو بی بی جی اذان سے کہتی ہے۔سنی اسکو لیکر بی بی جی کے کمرے میں چلا جاتا ہے۔اور مشال فیملی ڈاکٹر کو فون کر کے بلاتی ہے تا کہ وہ اذان شاہ کو چیک کر لے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپو“یہ سب کیا ہورہا تھا اور وہ عورت اذان بھاٸی کو کیوں مارنا چاہتی تھی۔منال مشال سے پوچھتی ھے۔وہ اذان کو نہی سنی کو مارنا چاہتی تھی۔پر مجھے سمجھ نہی آیا کیوں؟مشال الجھے ھوۓ انداز میں کہتی ہے۔
کیونکہ سنان عرف سنی اس عورت کا بیٹا نہی ہے۔
بی بی جی کی پیچھے سے کہتی ہیں۔
کیا؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔
