Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Jaan Hai Tu (Episode - 11)

Meri Jaan Hai Tu By Umme Emman Fatima

۔۔۔امی۔۔مشال بھاگتی ہوٸی آمنہ خاتون کی طرف بڑھتی ہے۔اذان جلدی سے انکو اٹھا کرگاڑی میں ڈالتا ہے۔۔اور مشال انکاسر گود میں رکھے روٸی جاتی ہے۔۔

ہاسپیٹل پہچ کر اذان جلدی سے آمنہ خاتون کو اٹھا کراندر کی طرف بڑھتا ہے۔۔ایک وارڈبواۓ جلدی سے اسٹیچر آگے کرتا ہے۔اذان شاہ انکواس پر لٹا دیتا۔ڈاکٹر۔۔پلیز کچھ نہی ہونا چاھیے انکو اذان شاہ ڈاکٹر کو کہتا ھے۔ھم اپنی طرف سے پوری کوشیش کرے گے ڈاکٹر کہہ کر ایمرجنسی وارڈ کیطرف بڑھ جاتا۔مشال ایمرجنسی وارڈ کے باہر فرش پر بیٹھ کر رو رہی تھی۔اذان شاہ لب بھینچ کر اسکو دیکھ رہا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر باہر نکلتا مشال اسکی طرف بڑھتی ہے۔کیسی ہیں میری امی۔۔۔۔

ایم سوری۔۔وہ شاید انہوں کوٸی صدمہ لیا ہارٹ اٹیک بہت شدید ہوا تھا وہ جانبر نہی ہو پاٸی۔

ھم نے اپنی طرف سے پوری کوشیش کی تھی ۔۔

مشال کے آنسوں ٹھٹھر جاتے ہیں۔۔اذان شاہ کو ایسا لگتا پیروں تلے سے زمین نکل گٸ ہے۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا۔اووووہ گاڈ“سنی پریشانی سے فون سنتے ہوۓ بولتا۔وہ فون رکھ کر مڑتا تو بی بی جی بےقراری سے پوچھتی ہے۔کیا ہوا سنی بیٹے۔۔بی بی جی آمنہ آنٹی کا انتقال ھو گیا ہے۔

اناللہ وانا الیہ راجعون۔بی بی جی بولتی ہے۔

سنی بیٹا جلدی سے لے چلو مجھے آمنہ کے گھر لے چلو۔۔بی بی جی کہتی ہے۔

سنی انکا ہاتھ تھام کر گاڑی میں بیٹھاتا ہے۔۔

جب وہ وہاں پہنچتے ہیں تو اذان مشال آمنہ خاتون کی میت لیکر پہنچ جاتے ہیں۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سنی اندر آکر صحن میں چارپاٸی بچھاتا ہے۔

آپ یہاں؟ منال باہر نکل کے پوچھتی ہے۔

اور ایمبولینس والے آمنہ خاتون کی میت کو لا کر چارپاٸی پر لٹا دیتے ہے

امی۔۔۔منال تڑپ کر چاپاٸی کے پاس آکر آمنہ خاتون کے بےجان ہاتھ کو پکڑتی۔

آپو“امی کو کیا ہوا ہے۔وہ تو ٹھیک تھی وہ تو آپ سے ملنے گٸ تھی۔وہ روتے ہوۓ مشال کو پوچھتی ہے۔مشال ساکت آمنہ خاتون کو دیکھے جاتی۔

تڑپ تڑپ کر روتی منال کے سر پر اذان شاہ ھاتھ رکھتا۔اذان بھیا۔پلیز میری امی کو کہے وہ اٹھ جاۓ وہ آپ کی بہت بات مانتی ہے۔اذان شاہ کی آنکھیں چھلک اٹھتی ہے۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

آمنہ خاتون کے میکے والے بھی آ جاتے وہ بڑے غرور سے ایک طرف ہو کر بیٹھ جاتے ہیں۔سارے محلے والے ان کے رویے پر باتیں کر رہے ہوتے ہیں۔

آمنہ کی ممانیاں اذان اور سنی کو دیکھ کے محلے کی عورتوں سے پوچھتی یہ کون ھیں لڑکے۔

یہ مشال کا شوہر اور دیور ہے۔اوووہ”یہ دیور اسکا کنوارہ کیا۔چھوٹی ممانی پوچھتی ہے۔۔۔یہ نہی پتا ھمیں۔۔وہ عورت جواب دیتی ہے۔۔۔

اذان بیٹے۔۔بی بی جی اذان کو آواز دیتی ہے۔

جی بی بی جی وہ پاس آ کر پوچھتی ہے۔

بیٹا مشال کی ٹینشن ہو رہی ہے۔دیکھو تب سے ساکت بیٹھی نہ کچھ بول رہی نہ رو رہی۔۔۔

کچھ کر کے اسکو رولاٶ۔۔

بی بی جی میں کیا کروں۔مجھے خود سمجھ نہی آ رہی ۔وہ پریشان کن لہجے میں کہتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔

آمنہ خاتون کی میت کو نہلا کر رکھتے ہیں۔۔

منال کلمہ پڑھتے ہوۓ ساتھ روٸی جاتی۔۔

مشال چپ چاپ کھڑی یک ٹک آمنہ خاتون کے چہرےکو دیکھے جا رہی تھی۔اذان پاس آتا ہے مشال کے۔۔۔

مشال۔دیکھو ادھر لیکر جا رہے ہیں ھم امی کو۔پلیز ایک بار کچھ تو بولو اپنی امی کو ۔وہ بےبسی سے کہتا ہے۔مشی بولو نہ آخری بار اپنی امی کو کچھ تو بولو۔۔۔وہ اسکو جھنجھوڑ کر کہتا ہے۔۔۔

اسکے وجود کو جھٹکا لگتا۔نہی میں اپنی امی کونہی جانے دوں گی۔۔امی اٹھے نہ۔وہ تڑپ تڑپ کر روپڑتی۔منال اسکے گلے لگ کے کہتی ہے۔آپو میں کیسے جیوں گی امی کے بغیر۔۔وہ روتے ہوۓ بولتی ہے۔

تھوڑی دیر بعد میت کو اٹھانے آتے سب۔منال اور مشال دونوں پاۓ پکڑ لیتی ہے۔اذان شاہ مشال کو زبردستی پیچھے ہٹا کر خود میں بھینچ لیتا ہے۔وہ اسکے سینے سے لگی روۓ جاتی۔منال کو فاطمہ بوا ساتھ لگاٸیں چپ کرا رہی ہوتی ہے۔۔۔

اذان مشال کو بی بی جی کے پاس بیٹھا کر خود باہر نکل جاتا ہے۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تین دن ہو گے تھے آمنہ خاتون کو گزرے۔۔اذان اس دن آتا ہے تو مشال اسکا ہاتھ پکڑ کر دروازے تک لے جا کر کہتی۔۔

دفع ہو جاٸیں یہاں سے۔میرے ماں کو آپ نے مارا تھا۔اور جان چھڑوانا چاہتے تھے۔جاٸیں۔آزاد ہیں آپ ۔۔۔مشال غصے سے بولتی ہے۔

مشال میری بات سنو۔۔اذان اس سے کہتا ہے۔

مجھے آپ کی بکواس نہی سننی۔۔وہ تلخ لہجے میں کہتی ہے۔

ارے مشال کیا کررہی ہو ایسے شوہر سے بات کرتے ہیں۔۔مشال کی ممانی بولتی ہے۔

ارے۔۔بیٹے اندر آٶ۔۔ممانی میٹھے لہجے میں کہتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔واٶ ممانی جی کتنی تمیزدار ہو گٸ آپ۔

یہ اندر نہی آۓ گا۔اور یہ گھر میرا ہے آپ بھی یہاں سے جا سکتی ہیں اور ساتھ لے جاٸیں انکو بھی۔

خدمتیں کریں۔۔اور چاہیں تو اپنا داماد بنا لے۔۔وہ تڑخ کر بولتی ہے۔۔۔ہاۓ“ہاۓ کتنی بدتمیز ھے یہ لڑکی ممانی غصے سے بول کر اپنی بیٹی کو گھر جانے کا کہتی۔۔۔

یہ کیا پاگل پن ہے۔تم جانتی ہوں میں نے جان بوجھ کے نہی کیا یہ سب۔اور تم ہر ایک سے بات کرنے کی تمیز بول گٸ ہو۔۔ٹھیک ہے نہی آٶ گا تمہاری طرف آج سے۔وہ ناگواری سے کہہ کر چلا جاتا ہے۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اذان۔مشال کو نہی لاۓ۔بی بی جی پوچھتی ہے۔

وہ نہی آنا چاہتی ہے۔اسکو لگتا ہے میری وجہ سے اسکی امی کی وفات ہوٸی ہے۔۔وہ تپ کر بولتا۔

وہ اپنی جگہ ٹھیک بھی ہے۔آپ کی باتیں سن کر اس دن میرا دل بھی کیا تھا مر جاٶں۔۔مگر مجھے شاید اور بربادیاں دیکھنی ہیں بی بی جی اپنی آنکھوں کی نمی کو ڈوپٹے سے پونچھتی ہوٸی اپنے روم میں چلی جاتی۔۔۔۔

اگلے دن وہ پھر آتا۔منال دروازہ کھولتٕی ہے۔ارے بھیا آپ اندر آٶ نا۔وہ خوش ہو کر کہتی ہے۔۔

مشال کچن میں ہنڈیا بنا رہی تھی۔وہ پاس آ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔وہ چونک کر مڑتی ہے۔آپ وہ چلا کر بولتی ہے۔ساتھ چلا کر منال کو آواز دیتی۔

کیا ہوا آپی۔۔منال گھبرا کر پوچھتی ہے۔تمہیں کتنی بار کہا کسی غیر کو اندر مت آنے دینا۔وہ ناگواری سے کہتی۔

لیکن میں نے تو کسی غیر کو آنے نہی دیااذان بھیا تھے۔وہ پریشان کن لہجے میں کہتی ہے۔

کوٸی بھاٸی نہی یہ تمہارا۔یہ صرف میری ماں کا قاتل ہے۔وہ تڑخ کر بولتی ہے۔یہ کیا بول رہی ہوں آپ۔وہ حیران ہو کر کہتی ہے۔میں تمہیں سب بتاٶں گی۔

تم پہلے انکوباہر کا راستہ دیکھاٶ۔وہ نفرت بھرے لہجے میں بول کر جانے لگتی اذان شاہ غصے سے اسکا بازو تھام کر بولتا۔میں یہاں صرف اور صرف بی بی جی کی وجہ سے آیا تھا۔مگر تم بات کرنےکے قابل نہی ھوں۔۔اور تمھاری ماں کی موت کا وقت لکھا تھا میں وجہ نہی ہوں۔سمجھی تم۔۔وہ ایک جھٹکے سے چھوڑ کر آگے بڑھ جاتا۔۔

تم نے ثابت کر دیا تربیت سے زیادہ خون زیادہ اثر رکھتا ہے۔اور شہرین صاحبہ جیسے خودغرض تو ہو گے۔وہ چٹخ کر بولتی ہے۔۔

اذان شاہ ساکت ہو جاتا ہے۔لب بھینچ کے وہ وہاں سے نکلتا جاتا ہے۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ آندھی طوفان کی طرح گاڑی اڑاتا گھر پہنچتا ہے۔

وہ اندر آتا ہے۔۔۔۔۔بی بی جی کے سامنے کھڑا ہو کر تلخ لہجے میں پوچھتا ہے۔۔۔۔مشال کو شہرین کے بارے میں آپ نے بتایا کیا۔وہ چبا چبا کر بولتا ہے

ہاں بتایا تھا مگر ہوا کیا بی بی جی پریشان ہو کر پوچھتی ہے۔۔۔۔۔۔

آج کے بعد اس لڑکی کا اس گھر میں ذکر نہی ہوگا۔۔

وہ غصے سے کہتا ہے۔۔کیوں نہی ہوگا ضرور ھوگا میں اسکی منت کرکے لیکرآٶں گی۔۔

اگر آپ اس کو لیکر آٸی یا آپ اس سے ملنے گٸ تو میرا مرا ہوا منہ دیکھے گی۔۔۔وہ دھمکی دیتا ہو لمبے لمبے ڈنگ بڑھتا اوپر روم کیطرف بڑھ جاتا ہے۔۔۔۔

بی بی جی جہاں یہاں گم صم کھڑی رہ جاتی ہیں۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپو۔۔آپ کو انکی یہ کانٹریکٹ کی شادی کی بات ماننی نہی چاہیے تھی۔۔منال۔مشال کی گود میں سر رکھے اداس لہجے میں بولتی ہے۔۔۔

منو۔کاش میں ویسے ہی رہتی۔نہ پیار کرتی یا پھر اظہار نہ کرتی تو وہ مجھے میری اوقات نہ یاد دلاتا

سب کے سامنے۔یا پھر کاش کے امی وہاں نہ آٸی ہوتی۔۔۔مشال دکھی لہجے میں کہتی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

بی بی جی میرا یہاں کا بزنس حمیر سنبھالے گا ہم یہاں سے جا رہے دبٸ۔۔میں نے وہاں بھی اپنا ھوٹل سٹارٹ کیا ہے۔۔تو وہاں زیادہ ٹاٸم دینے کی ضرورت ہے۔۔۔اذان بی بی جی کو کہتی ہے۔۔۔ٹھیک ہے جیسے تم کہو گے۔بی بی جی سپاٹ چہرے سے کہتی ہے۔۔

ایک ہفتے کے بعد وہ لوگ دبٸ کی فلاٸٹ کے لٸے روانہ ہو جاتے ہیں۔۔۔۔

کاش کے مشال میں تم سے ملا نہ ہوتا۔یا کاش شادی نہ ہوٸی ھوتی۔یا کاش وہ رات نہ آٸی ہوتی۔فلاٸٹ جیسے ہی پرواز کرتی۔اذان شاہ کی آنکھ سے اک آنسو ٹپکتا اور اسکی ہتیلی میں جذب ہو جاتا۔۔

اور اسکے ساتھ اسکو لگتا وہ کچھ بہت قیمتی چیز پیچھے چھوڑ آیا ہے۔اسکو اپنا دل خالی محسوس ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *