Meri Jaan Hai Tu By Umme Emman Fatima NovelR250516 Meri Jaan Hai Tu (Episode - 6)
No Download Link
Rate this Novel
Meri Jaan Hai Tu (Episode - 6)
Meri Jaan Hai Tu By Umme Emman Fatima
وہ ایک جھٹکےسے اذان شاہ سےدور ہوکر بیٹھ جاتی صوفے پر اور گھٹنوں میں سر دے کرزاروقطار رو پڑتی ہے
۔
اذان شاہ لب کاٹتے اسکو دیکھتا ہے۔
٠٠٠٠٠٠٠
صبح اذان شاہ کی أنکھ کھلتی ہے وہ اٹھ کر دیکھتا ہے تو وہ صوفے پر اک طرف بیٹھے بٹھے سوٸی تھی۔
وہ اٹھ کر نہانے چلے جاتا جب نکلتا تووہ اسی پوزیشن میں سوٸی ھوتی وہ پاس آ کر آواز بھی دیتا مگر وہ کوٸی ری ایکٹ ہی نہی کرتی وہ اس کے ماتھے کو چھوتا تووہ بخار سےتپ رہا تھا۔
وہ جلدی سے اس کو اٹھا کر بیڈ پر لٹا دیتا٠اور ڈاکٹر کو فون ملانے لگ جاتا۔
اور نیچے ڈاکٹر آتا تو اذان اسکو لیکر اوپر جانے لگتا
بی بی جی پریشان ہو کرڈاکٹر کے آنے کی وجہ پوچھتی٠تو اذان انہیں مشال کی طبیعت کا بتاتا
وہ پریشان ہو کر چھڑی کے سہارے سے اوپر روم میں جاتی۔۔۔
ھاٸے کیا ہو گیا میری بچی کو٠لگتا نظر لگ گٸی ہے۔نازو جا ساجد کو بول کر ابھی یتیم خانے دیگ بھیج۔بی بی جی کہتی۔۔۔۔
٠٠٠٠٠٠٠٠٠
شام کو منال کو ڈراٸیور کو بھیج کر بلوا لیتی بی بی جی تاکہ مشال کا دل کسی اور طرف لگے۔
وہ مشال کے روم میں جاتی٠مشال اسکے گلے لگ کر رو پڑتی۔منال پریشان ھوکرپوچھتی کہ کیاہوا۔
بس تمھاری اور امی کی بہت یاد آ رہی تھی٠مشال آنسو صاف کر کے بولتی٠ویسے امی کےپاس کون ہے مشال منال سے پوچھتی ہے۔
وہ بوا فاطمہ اورانکی بیٹی آٸی٠ان کے مالک مکان نے بدتمیزی کی بوا کی بیٹی کے ساتھ٠وہ یہاں آٸی بہت رو رہی تھی٠تو امی نے کہا اب یہی رہے کہی نہی جانے دے گی۔منال تفصیل سے بتاتا۔
بہت اچھا کیا امی نے٠مشال کہتی ہے٠
اچھاآپ آرام کرو میں بی بی جی کے پاس سے ہو کرآتی ہوں۔
٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
یار بی بی جی کچھ تو رحم کرو٠کیوں مجھ معصوم کے لٸے لڑکی ڈھونڈ رہی ابھی سے٠انجواۓ کرنےدو مجھے٠سنی بی بی جی کی گود میں سر رکھ کر لاڈسے کہتاہے٠
ارےے بس جلدی شادی کر دینی تمھاری ٠میری زندگی کا کیا پتا کب مر کھپ جاٶ٠
جاٶ یار میں نہی بولتا آپ سے٠سنی روٹھے ہوۓ انداز میں کہتا٠
میں اندر آ جاٶ بی بی جی ٰٰٰ منال پوچھتی ہے اور سنی اسکو دیکھ کر اٹھ کے کھڑا ہو جاتااور کہتا بی بی جی چلتا ہوں مجھے اک دوست سے نوٹس لینے٠
منال ساٸیڈ پر ہو جاتی وہ وہاں سےگزر کر باہر نکل جاتا٠
منال بی بی جی کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے لگ جاتی مگر اس کا ذہن بار بار سنی کیطرف جاتا٠
مہندی کی رات جو بدتمیزی کی تھی اسکے بعد سنی اس سے بات تو دور اسکو دیکھ کر راستہ بدل لیتا٠
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیسی طبیعت اب تمہاری؟ اذان شاہ مشال سے پوچھتا ہے۔
وہ بنا کوٸی جواب دٸیے مووی کیطرف توجہ کر لیتی٠
اذان شاہ تلملا کر رہ جاتا٠وہ اس ریموٹ پکڑ کر چینل تبدیل کر دیتا٠
آپ کا مسلہ کیا ہے لگاۓ مووی٠وہ چڑکر بولتی
وہ اگنور کر کے چینل پہ چینل بدلتا جاتا٠وہ غصے میں آگے ہو کر ریموٹ پکڑنے لگتی وہ ہاتھ پیچھے کر لیتا٠مشال اپنا توازن برقرار نہی رکھ پاتی اذان شاہ کے اوپر گرجاتی اور بال سارے بکھر جاتے٠اذان شاہ اسکے بالوں کو پیچھے کرتا٠وہ ایک جھٹکے سے اس سےدور ہو جاتی٠
وہ اٹھ کر ٹیرس پر جا کر گہرے سانس لیتا٠
یہ کیا ہو رہا مجھے جب وہ میرے قریب آتی میرا دل چاہتا دور نہ جاۓ ُ کیسا احساس ہےاذان شاہ یہ کیا ھو رہا تیرے ساتھ۔اذان شاہ پریشان ہو کر سوچتا٠
٠٠٠٠٠٠٠٠٠
منال کچن میں چاۓ بنا رہی ہوتی ہے
نازو یار چاۓ بنا دو٠یہ کہ کر اذان ڈاٸنگ ٹیبل کی کرسی گھسیٹ کر بیٹھ جاتا اور اپنی سر کو انگلیوں سے مسلتا ہے۔
منال بنا کچھ کہے چاۓ بنا کر دیتی اور پھر اسکو پین کلر دیتی وہ چونک کر دیکھتا اور جلدی سے کھڑا ہو جاتا٠اوووہ ایم سوری مجھے لگا کہ نازو ہے۔
کوٸی بات نہی ہوتا ھے٠آپ بیٹھ کر چاۓ پی لے منال ؒآرام سےکہتی ھے٠
نہی ضرورت نہی میں نازو کے ہاتھ کی چاۓ ہی پیتا
ھوں سنی کہ کر جانے لگتا تو منال آگے بڑھ کر اسکا بازو پکڑ کر روکتی٠
اگریہ میں نے کیا ہوتا توآپ میرے کردار پر انگلی اٹھاتی مس منال”سنی طنزیہ انداز میں کہتا٠
ایم سوری میں اس دن کے لٸیے بہت شرمندہ ہوں
وہ شرمندہ ہو کر بولتی ہے٠
اچھا“ واٶ“مس منال پہلےکسی کو زہر اگل کر زہریلہ کردوپھر بعد میں سوری بول کر خودکوبری کرلو
سنی تلخ انداز میں بولتا اورتیزی سے باہرچلا جاتا ہے۔
منال گم صم کھڑی رہ جاتی٠
٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
اگلے دن بی بی جی اذان شاہ کو کہتی منال“مشال اورسنی کے ساتھ جا کر باہر گھوم کے آٶ شاپنگ کرو ڈنر کرکےگھر آنا،اذان شاہ جھنجھلا کر رہ جاتا٠
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ چاروں شاپنگ مال میں داخل ہوتے۔ایک لڑکی آ کرسنی کے گلےلگ کر اذان کے بھی گلے لگ کےملتی
اور سنی کا بازوپکڑ کر کہتی چلو نہ سنی ڈارلنگ میری ہیلپ کرو٠
اورسنی مسکرا کر اسکو کہتا” شیور”
اور وہ دونوں دوسری ساٸیڈ پر چلے جاتے اور منال بےچین ہو کر مشال سے کہتی آپو یار کسطرح کے ہوتے امیر لوگ بےباکی سے کہی بھی گلے لگ جاتے۔
ھھھھھھھھوں “ایسےہی ہوتے نام کے امیر اورتربیت میں غریب،خاص طور پر یہ لڑکے٠
شاپنگ کے بعد وہ سب ڈنر کرنے کیلٸے ریسٹورنٹ میں جانے لگتے تو سنی کی دوست بھی کہتی میں بھی چلوں کیا“؟آف کورس یار کیوں نہی، سنی کہتا ہے
منال کا حلق کڑوا ھو جاتا یہ سن کر٠۔
سنی اپنی دوست کی کار میں بیٹھ جاتا تومنال کا دل بےچین ہو جاتا ہے۔
کھانا کھاتے وہ مسلسل ایک دوسرے سے بات کرتے رہے اور منال سے ٹھیک سے کھایا بھی نہی گیاتھا“
اور اس سب میں مشال اور اذان چپ چاپ بیٹھے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشال روم میں جا کر بیٹھ جاتی اور اذان اسکے شاپنگ بیگ اٹھا کر پھینکتا اورغصے سے بولتا تمھارا پرابلم کیا “نوکر ہوں کیاجو تمھارے شاپنگ بیگ
بھی اٹھا کر لاٶ۔
کیوں گھس گے ہو کہی سے وہ تنک کر بولتی ہے
مر نہی جاتے تم امیر زادے اگر بیوی کی خدمت کر لو گے وہ مزید بولتی۔
رات سے مسلسل تمھارے ڈرامے دیکھ رہا ہوں اگر تم نے بکواس بند نہ کی تو کمرے سے نکال دوں گا وہ تلملا کر کہتا
اوکے ٹھیک ہے نکالو روم سے اور میں بی بی جی کو پرسوں کی سب تفصیل بتاٶ گی کہ کیسےآپ نے مجھے بیچ راستے چھوڑا مشال اطمینان سےکہتی۔
تم”تم مجھے دھمکی دے رہی ہو وہ تلملا کرکہتا ہے۔
ھاں دھمکی دے رہی ھوں اور آپ سے ہی سیکھا یہ سب۔وہ اسکا دل جلا کر بولتی ہے۔
وہ غصےسے ٹیرس پر چلے جاتا اور سوچتا یہ سب کیا ہو رہا میں نےسوچا تھا کہ اسکا جینا حرام کردوں گا مگریہ تومجھے ناکوں چنے چبوا رہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پلیز سنی رک جاۓ منال اسکو پیچھے سے پکارتی ہے
وہ مڑ کر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتا۔
پلیز مجھے ایک بار معاف کر دے میں آٸندہ کبھی آپ سے ایسے بات نہی کروں گی۔
اچھھھا“وہ ہاتھ باندھ کر استہزاٸیہ انداز میں کہتا ہے۔جاٶ معاف کیا اور پلیز ریکویسٹ ہے اآٸندہ دور رہےمجھ سے،یہ کہ کر وہ سیڑھیاں پھلانگتا اوپر چلا جاتا۔
آپو ٹھیک کہتی یہ دل کے امیر اور تربیت کے غریب ہے ایک لڑکی ھوں میں اور اس دن جو بولا وہ ایک اجنبی کو بولا اور معافی بھی مانگی۔بس اب اور نہی خود کو گراٶں گی منال اپنی آنکھوں کو مسل کر کہتی اور وہاں سے کمرے میں آ کر گھر جانےکی تیاری کرتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منو“یار ایک ہفتے کے لٸے آٸی تھی دو دن بعد جا رہی ہو۔مشال اداس لہجے میں بولتی۔
آپو امی بہت یاد آرہی اور پتا نہی میڈیسن ٹھیک سے کھاتی ھوں گی کہ نہی وہ مسکرا کر جواب دیتی۔
ھھممممممم”یہ بھی ھے۔مشال کہتی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا بات ہے بڑے چپ ہیں سب”سنی“آکر پوچھتا ہے۔
ھاں بس بور ہو رہے بیٹے٠منال چلی گٸ ایسا لگ رہا جیسے رونق چلی گٸ۔
کیا ؟وہ کیوں چلی گٸ اسکو تو ابھی رہنا تھا
وہ مضطرب ہو کر پوچھتا۔
بس اداس ہوگٸ تھٕی وہ۔مشال جواب دیتی۔
سنی اٹھ کر روم میں آ جاتا اور بےچینی محسوس کرتا۔کیا ہو گیا مجھے جاتی تو جاۓ وہ سوچتا مگراسکا اضطراب ختم نہی ہوتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشال روم میں آتی تو اذان کوٸی انگلش مووی لگا کر بیٹھا دیکھ رہا ہوتا٠مووی میں بولڈ سا سین چل رہا تھا۔
یہ کیا بیہودگی دیکھ رہے ہوں وہ تپ کر بولتی۔
اذان شاہ اٹھ کر اس کے پاس آتا ”
”واااٶٶ “تم تو بہت خوبصورت لگ رہی ہو میری جان وہ ہولے سے اسکے کان میں کہتا٠
مشال کی آنکھیں پھیل جاتی“وہ اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر دور کرنے کی کوشش کرتی وہ اسکا ہاتھ تھام کر اپنے لبوں پر لگا لیتا۔وہ تڑپ کر پیچھے ہٹتی اور بولتی بہت بدتمیز ہیں آپ۔
وہ قہقہ لگا کر کہتا کیوں کیا ہوا بیگم ؟آپ نے یہ سب سچ تو نہی سمجھا نہ۔تم دنیا کی آخری لڑکی بھی ہوٸی تب بھی تم سے پیار نہی کروں گا اور نہ جان بولو گا۔
وہ ہاتھ باندھ کر اسکی طرف دیکھ کر کہتی اور میں زندگی میں اگر کسی چیز پر ایوارڈ دوں گی کسی کو گھٹیا انسان اور قابل نفرت ہونے کا تو آپ کو دوں گی مسٹر اذان شاہ۔
اذان شاہ ناگواری سے اسکو دیکھ کر ہنکارا بھر کر جا کر بیڈ پر بیٹھ کر مووی دیکھنے لگ جاتا۔
