Meri Jaan Hai Tu By Umme Emman Fatima NovelR250516 Meri Jaan Hai Tu (Episode - 10)
No Download Link
Rate this Novel
Meri Jaan Hai Tu (Episode - 10)
Meri Jaan Hai Tu By Umme Emman Fatima
۔۔لیجٸیے آپ کا ناشتہ۔جلدی سے کر لیں میں فجر کی نماز قضا پڑھ لوں۔وہ اذان شاہ کے آگے ناشتہ رکھتےہوۓ کہتی ہے۔اس کے وقت کون سی نماز کا وقت ہے جو تم قضا کرنے لگی ہو۔وہ حیرت سے کہتا ہے۔صرف مکروہ ٹاٸم کے علاوہ نماز قضا پڑھ لینی چاہیے۔مشال کہتی ہے۔میری امی کہتی ہے اپنی جو نماز رہ گٸ ہو اسکی قضا ادا کر لوں اس سے پہلے تمہیں قضا نہ آ جاۓ۔۔موت کا کیا پتا کب آ جاۓ۔وہ اسکو بتاتی ہے۔۔۔
ہمممممممم“وہ ہولے سے ہنکارا بھرتا ہے۔اور ناشتہ کرنے لگ جاتا ہے۔۔
مشال نماز پڑھ کے آ کر اذان شاہ پر پھونک مارتٕی۔
یہ کیا پاگل پن ہے۔وہ چڑ کر بولتا ہے۔
ارے“آپ کی حفاظت کے لٸے پھونک ماری وہ وضاحت کرتی۔۔۔۔
وہ غصے سے اسکو گھورنے لگ جاتا ہے۔وہ مسکرا کر اسکو میڈیسن دیتی اور باہر نکل آتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیسے ھو بھاٸی ؟سنی اندر آ کر اذان سے پوچھتا ہے۔ٹھیک ہوں میں اور بہت جلدی یاد آ گٸ میرے پاس آنے کی۔وہ طنزیہ انداز میں بولتا ہے۔وہ بس تھوڑا بزی تھا۔سنی جواب دیتا ہے۔کیا بات ہے اتنے بجھے بجھے کیوں لگ رہے ہو سنی؟کوٸی یریشانی کیا۔۔اذان اس سے پوچھتا ہے۔۔۔سنی کی آنکھیں چھلک پڑتی۔وہ اذان کے گلے لگ کر رو پڑتا ہے ۔ارے کیا ہو گیا۔اذان گھبرا کر پوچھتا۔
ایم سوری”بھاٸی میری وجہ سے آپ اتنے درد میں ہیں وہ روتے ہوٸے کہتا ہے۔
کوٸی درد میں نہی ہوں۔اور خبردار جو تم ایسے پریشان رہے تو۔تم میرے جگر ہوں تمھارے اور بی بی جی کی مسکراہٹ میں میری زندگی ہے۔
چل اٹھ اوپر روم میں چلتے ہیں اور کوٸی مووی دیکھتے ہیں۔سنی اسکو سہارا دیکر اوپرلیکر جاتا ہے۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنی اور اذان مووی دیکھ رہے ہوتے ہیں۔مشال اندر داخل ہوتی۔آپ اوپرکیوں آۓ۔وہ چڑ کر بولتی ہے۔
میری مرضی۔وہ بھی آگے سے تڑخ کر جواب دیتا۔
آپ ایسے کرودونوں لڑاٸی جاری رکھو میں چلتا ہوں
سنی وہاں سے کھسک جاتا ہے۔
اچھا تو آپ کی مرضی۔اب دیکھنا کیا ہوتا۔وہ تپ کر کہتی ہے۔
کیا کروں گی تم۔ھاں بولو۔تم اپنی حد پار کرتی جا رہی ہو۔میری سچ مچ کی بیوی مت بنوں۔وہ تلخ لہجے میں کہتا ہے۔
بیوی تو فی الحال ھوں۔وہ مسکرا کر کہتی ہے۔
وہ سر جھٹک کر بولتا جاٶ یار سر نہ کھاٶ۔
اوکے چلے جاتی۔بس یہ بتا دیں کیا کھاۓ گے۔وہ پوچھتی ہے۔کچھ بھی بنا لو اذان اکتاہٹ سے کہتا ہے۔
وہ کھانا بنانے چلی جاتی۔اذان الجھا سا وہاں بیٹھا مووی دیکھ رہا ہوتا ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کو کھانا اور میڈیسن دیکر وہ بیڈ پر آ کر لیٹنے لگتی۔
یہاں کیوں لیٹ رہی محترمہ جا کر اپنی جگہ یعنی کاٶچ پر لیٹوں وہ سرد انداز میں کہتا ہے۔
ارے“کسی چیز کی ضرورت پر سکتی آپ کو۔وہ آرام سے کہتی ہے۔مجھے جس چیز کی ضرورت ہو گی میں خود ہی لے لوں گا۔وہ چڑ کر بولتا ہے۔
بہت برے ھو آپ وہ منہ بسور کر کہہ کر کاٶچ پر آ کر بیٹھ جاتی۔
وہ گزرتے دنوں میں اسکی اذان شاہ کی اتنی خدمت کرتی ہے۔وہ ھر بار اسکو ذلیل کرتا مگر وہ پھر اس کے کام کرنے سے باز نہی آتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پورے ایک مہینے بعد وہ اپنے آفس جاتا ہے۔اور گھر بیٹھے اپنے اثرو رسوخ سے سلیم اور شہرین کو جیل بجھوا دیا تھا۔اب اسکا شام کو جیل میں ان دونوں سے ملاقات کا ارادہ تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اوۓ بی بی تجھ سے ملنے کوٸی آیا ہے۔پولیس والا شہرین کو کہتا ہے۔کون آیا۔مجھے کوٸی یہاں سے نکالنے آیا ہے۔شہرین جلدی سے پوچھتی ہے۔
اب یہاں سے آپ مسز سلیم مر کر ہی نکلے گی۔
اذان شاہ اس کے سامنے آ کر نفرت بھرے انداز میں کہتا ہے۔
میں ماں ہوں تمھاری۔میرے ساتھ ایسا مت کرو۔ماٶں کی بددعا لگ جایا کرتی ہے۔شہرین جلدی سے بولتی ہے۔
ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا۔تمھاری بددعا لگے گی مجھے۔
تمھارے گناہوں کا گھڑا بھر چکا تھا۔اور یہ تمھارا انجام ہے۔اذان شاہ قہقہ لگا کر کہتا ہے۔
پتا ہے میں 12 سال کی عمر میں ہی ارادہ کر چکا تھا کہ تم دونوں کو سزا دوں گا۔
نٸ زندگی مبارک ہو۔وہ وہاں سے نکلتا جاتا۔
پیچھے سے شہرین چیخ چیخ کر اس سے معافی مانگتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اارے”“ آ گے آپ۔مشال جلدی سے آگے آ کر اسکا بیگ پکڑ کر پوچھتی۔۔ھووووووں۔وہ کھوۓ کھوۓ لہجے میں کہہ کر بی بی جی کے روم میں چلا جاتا ہے۔
وہ بی بی جی کے پاس بیٹھ کر انکی گود میں سر رکھ دیتا ہے۔آپکو پتا ہے نہ بی بی جی میں نے مسز سلیم سے بہت محبت کی تھی۔اور پھر اتنی ہی نفرت۔آج نفرت کا آخری چیپٹر ہو گیا۔میں نے انہیں جیل میں بھیج دیا۔اور آج چاچو اور بابا بہت خوش ہوں گے۔اتنا کہہ کر وہ بی بی جی کے گلے لگ کر رو پڑتا ہے۔بی بی جی خود بھی روتی ہے۔مشال دروازے کھڑی اس شخص کے آنسو اپنے دل پر محسوس کر رہی ہوتی ہے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ ٹھیک ہے نہ اذان۔مشال اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھتی ہے۔تمہیں مسلہ کیا ہےوہ ایک جھٹکے سے اٹھ کر اسکی گردن کے بال کھینچ کر اسکے جبڑوں کو بھینچ کر غرا کر کہتا ہے۔درد سے مشال کی آنکھوں میں نمی آ جاتی ہے۔اذان ایک جھٹکے سےاسکو دھکا دیکر پیچھے ہٹاتا۔
اذان شاہ کے اتنے سخت ردعمل سے وہ سن ہو جاتی ہے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے باہر ٹیرس پر آکر کھڑا ہو جاتا ہے۔
کیا سمجھتی ہے خود کو یہ مشال میرے درد کا مزا آتا۔پتا نہی کیوں میرے ہر معاملے میں دخل دیتی ہے۔وہ ناگواری سے سوچتا ہے۔
کچھ دیر بعد جب اسکا غصہ ٹھنڈا ھوتا وہ اندر آتا ہے۔مشال کمرے سے جا چکی تھی۔
وہ ٹی وی آن کر کے نیوز دیکھنے بیٹھ جاتا ہے۔
تھوڑی دیر بعد نازو اسکو ڈنر کا کہہ کر جاتی ہے۔ آتا ہوں وہ اسکو جواب دیتا ہے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب ڈاٸنگ ٹیبل کے گرد بیٹھے کھانا کھا رہے ہوتے ہیں۔۔۔
مشال بیٹا آپ ٹھیک سے کھانا کیوں نہی کھا رہی ہیں طبیعت ٹھیک ہیں۔۔بی بی جی بےدلی سے پلیٹ میں چمچ چلاتی مشال کو کہتی ہیں۔۔
آآآں“جی بی بی جی دل نہی کر رہا۔وہ چونک کر جواب دیتی ہے۔تو میڈیسن لینی تھی کوٸی بی بی جی پیار سے ڈانٹتے ہوۓ بولتی ہیں۔۔
جی بی بی جی لیتی ہوں۔وہ کھانے سے ہاتھ کھینچ کر اٹھ جاتی ٹیبل سے۔
ارے“بیٹا کھانا تو ختم کرو بی بی جی مشال سے کہتی ہیں۔بی بی جی میں ذرا ٹھہر کے کے کھا لوں گی وہ جواب دیتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اذان بار بار اسکو دیکھ رہا تھا۔
تم کھانا کھا لو اب۔وہ مشال کو مخاطب کر کے کہتا ہے۔نہی مجھے بھوک نہی ہے وہ کہہ کر جا کر صوفے پر لیٹ جاتی ہے۔
مرضی ہے تمھاری۔وہ خشک لہجے میں بولتا ہے۔
اور لیٹ جاتا ہے۔
مشال بےاختیار رو پڑتی ہے۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح وہ بوجھل سر کے ساتھ اٹھ کر بیٹھتی ہے۔
فجر کی اذان ہو رہی ہوتی ہے۔
وہ اٹھ کر وضو کر کے نماز پڑھ کے سسک سسک کے روپڑتی۔اذان شاہ کی آنکھ اسکی سسکیوں سے کھلتی ہے۔تمہیں اگر رونا ہے تو پلیز باہر جا کر رو۔
وہ ناگواری سے بولتا ہے۔وہ ہاتھ سے اپنا منہ دبا لیتی اور خود کو کمپوز کر کے اٹھتی ہے۔
ایک تو مجھے نیند اتنی مشکل سے آتی ہے اور اوپر سے تم نے مجھے اٹھا دیا ہے۔وہ اٹھ کر بیٹھتا ہوا بولتا ہے۔وہ شکوہ بھری نظروں سے دیکھ کر باہر چلی جاتی ہے۔
اذان شاہ کا دل ڈوب سا جاتا اسکی بھیگی آنکھیں دیکھ کر۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح ناشتے پر وہ چپ چاپ ناشتہ کر کے اٹھ کر برتن سمیٹنے لگ جاتی ہے۔وہ اس سے کسی نہ کسی بات سے الجھتی رہتی تھی۔۔وہ جان بوجھ کر اس کو تنگ کرنے کے لٸے اپنا پاٶں آگے کر دیتا ہے۔وہ لڑکھڑا کر گرنے لگتی ہے تو خود کو بچانے کے لٸے وہ
ٹیبل کا سہارا لیتی ہے۔اوراسکا ہاتھ گرم کیتلی کو لگتا ہے۔اورگرم قہوہ اسکے بازو ،ہاتھ اور پاٶں کو جلا دیتا ہے۔بےاختیار اسکی چیخ نکل جاتی۔
اذان شاہ ساکت ہو جاتا ہے۔
نازو جا جلدی سے برف اور برنال لا۔نازو لا کر پہلے برف ملتی ہے پھر برنال لگاتی ہے۔
بچے گر کیسے گٸ تھی۔بی بی جی اس سے پوچھتی ہے۔وہ بی بی جی مجھے چکر آ گیا تھا وہ بہانا بناتی ہے۔اذان شاہ پر گھڑوں پانی گر جاتا اسکی بات سن کر۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اذان شاہ آفس آ کر بھی بہت ڈسٹرب تھا۔۔
یار کیا ہو گیا مجھے۔اسکا درد مجھے کیوں اتنا درد دیتا ہے۔وہ اپنا سر کرسی پر ٹکا کر سوچتا ہے۔
شام کو وہ آفس سے واپس آتا ہے تو بی بی جی کے کمرے سے ہو کر اوپرروم میں جاتا ہے تو اسکی متلاشی نظریں اسکو تلاش کرتی ہیں۔وہ کچن میں جاتا ہے تو وہ کھانا بنا رہی ہوتی ہے۔
یہ کیا کر رہی ہو تم وہ اسکے پاس جا کر بولتا ہے۔وہ گھبرا کر مڑتی ہے۔ناگواری سے اس کے ماتھے پر بل پر جاتے ہیں۔کھانا بنا رہی ہوں وہ تلخ لہجے میں بولتی ہے۔وہ مجھے بھی نظر آ رہا ہے اذان کہتا ہے۔
مگر تمھارا ہاتھ جلا ہے وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر کہتا ہے۔
ظاہری زخموں سے زیادہ دل پر لگے زخم زیادہ درد دیتے ہیں۔اور لوگوں کو اس بات کا احساس بھی نہی ہوتا۔وہ آنکھیں مسلتے ہوۓ جواب دیتا ہے۔
وہ شرمندہ ھو جاتا ہے۔وہ رخ موڑ کر اپنا کام کرنے لگ جاتی ہے۔اذان شاہ بوجھل دل کے ساتھ اٹھ کر لاٶنج میں آکر بیٹھ جاتا۔اور نگاہیں بار بار کچن کیطرف جا رہی تھی۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کھانا کھا کر اذان اٹھ کر کمرے میں آ جاتا۔
اور کب سے مشال کا انتظار کر کے وہ ہار کر نیچے آتا ہے۔۔۔۔
نازو“ مشال کدھر ہے۔وہ جھنجھلا کر پوچھتا ہے۔۔
اذان بابا۔بی بی جی کے کمر ے میں ہیں مشال آپی۔نازو جواب دیتی ہے۔وہ بی بی جی کے کمرے کیطرف آتا ہے۔۔اندر آ کر دیکھتا ہے وہ بی بی جی کے
پاٶں دبا رہی ہوتی ہے۔ارےے“اذان بیٹے سوۓ نہی ابھی تک۔بی بی جی اذان کو کہتی ہیں۔جی بی بی جی سونے لگا۔
جاٶ مشال کو بھی لیکر جاٶ۔میں نے کہا اتنی بار جا ہی نہی رہی ہو آپ بچے۔بی بی جی مشال کو کہتی ہے۔مشال اٹھ کر اذان کے ساتھ روم کیطرف چلی جاتی ہے۔۔
اذان برنال لا کر اسکا ہاتھ تھام کر برنال لگاتا۔
آٸی ایم سوری۔وہ دھیرے سے بولتا ہے۔
مشال حیرت سے اسکو دیکھتی ہے۔
ھم دوستی تو کر سکتے ہیں جب تک ہم ساتھ ہیں۔
وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہتا ہے
اوکے۔معافی مل سکتی آپ مجھے روڈ ساٸیڈ پہ جو ٹھیلے ہیں وہاں سے کچھ کھلاۓ گے۔وہ مزے سے کہتی ہے۔۔۔
کیا۔ٹھیلے پہ کیوں ریسٹورنٹ جاتے کہیں۔اذان شاہ اسکو کہتا ہے۔ریسٹورنٹ سے تو کھاتے رہتے آج پلیز ٹھیلے والوں کا بھی کھا کے دیکھیں۔وہ پرجوش انداز میں کہتی۔۔۔
اوکے اوکے۔مگر کل جاۓ گے۔اذان کہتا ہے۔
ٹھیک ہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اذان شاہ اگلے دن آفس سے آتا ہے اور آ کر چاۓ پی کر بی بی جی سے کہتا۔بی بی جی میں اور مشال آج باہر ڈنر کے لٸے جا رہے ہیں
ارے بیٹا ماشاءاللہ۔بچے ضرور جاٶ۔بی بی جی کہتی ہے۔
مشال پنک کلر کے ڈریس میں بہت پیاری لگ رہی
تھی۔اذان شاہ مبہوت ہو کر دیکھتا رہ جاتا ہے۔۔
چلے۔۔۔وہ پاس آ کر بولتی ہے۔
ھاں“چلو۔وہ چونک کر کہتا ہے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
اذان شاہ گاڑی گول گپوں والے کے پاس روکتا ہے۔
وہ اتر کر ایک پلیٹ گول گپے کی کہتی۔اور ٹھیلے والا بھاٸی لا کر دیتا ہے۔مشال منہ میں ڈال کر زور سے آنکھیں میچتی ہے۔۔
آپ بھی لو نا وہ اذان کیطرف بڑھاتی۔۔۔
نہی۔وہ نفی میں سر ہلاتا ہے۔صرف ایک یار پلیز۔۔
وہ منہ کھولتا ہے۔وہ اسکے منہ میں ڈالتی ہے اوفففف۔بہت سپاٸسی ہے۔وہ سوں سوں کرتا بولتا۔
مشال کھلکھلا کر ہنس پڑتی ہے۔وہ بمشکل اس سے نظریں ہٹاتا ہے۔۔۔گول گپے کھا کر وہ اگلے ٹھیلے پر جاتے وہاں دال چاول تھے۔ایک پلیٹ دال چاول کا آرڈر دیکر وہ وہاں بیٹھ جاتے۔۔۔
واٶٶ۔۔آج بارش آۓ گی۔مشال آسمان کیطرف دیکھ کر کہتی ہے۔۔۔
ھمممممممم۔شاید۔اذان بولتا ہے۔۔
ایک لڑکا چاول کی پلیٹ لا کر رکھتا ہے۔اور دال اسکے اوپرڈالی ہوتی۔۔۔
مشال یہ مت کھاٶ۔۔اذان برا سا منہ بنا کر کہتا ہے۔۔
کیوں۔وہ حیرانگی سے پوچھتی ہے۔۔
دیکھو نہ یار عجیب لگ رہا دیکھنے سے ہی۔وہ ناک چڑھا کر بولتا ہے۔۔۔۔
ارے بہت مزے کے ہوتے ہیں۔پتا ہاتھ کے ساتھ کھانے کا مزا الگ ہے۔وہ مزے سے بولتی ہے۔
پھر اسکو ایک لقمہ زبردستی کھلاتی ہے۔واٶٶ۔۔
سچ میں مزے کا ہے۔اذان بھی مزے لیکر کھاتا مشال کے ساتھ۔
اذان اس آدمی کے پاس آتا ہے۔اور بولتا ہے۔یار تم بہت اچھے شیف ہو۔کل میرے ھوٹل آ جانا تمہیں نوکری ملے گی۔اور چار گنا زیادہ پے دوں گا۔وہ ٹھیلے والا حیران کھڑا دیکھتا رہ جاتا۔۔۔۔
واٶٶٶ،آٸی ایم ایمپرس۔آپ نے کھڑے کھڑے جاب دے دی۔مشال مسکرا کر بولتی ہے۔
اذان بھی مسکرا دیتا ہے۔۔۔۔۔اور پوچھتا اور کیا کھانا ہے۔بس میٹھا رہ گیا مشال جلدی سے کہتی ہے۔
تو اب آٸسکریم اپنی فیورٹ جگہ سے کھلا سکتا ہوں۔۔کیوں نہی۔مشال مسکرا کر کہتا۔۔
اذان شاہ اپنے ریسٹورنٹ کے سامنے گاڑی روکتا ہے۔
اوووہ“ تو یہ آپ کی فیورٹ جگہ ہے۔مشال اس کو کہتی ہے۔یسسسسس”“چلے اندر اذان کہتا ہے۔اندر پہنچ کر اذان کو دیکھ کر سب بیرے اس کے گرد آف جاتے۔ارےےے یار آٸسکریم لاٶں۔اور جا کر کام کروں۔آٸسکریم کھا کر باہر کیطرف نکلتے ساتھ ہی طوفانی بارش شروع ہو جاتی۔اووووہ گاڈ۔اب کیسے جاۓ گے۔وہ پریشان ہو کر بولتا۔مشال باہر سڑک پر بانہیں پھیلا کر بارش میں گھومنے لگ جاتی ہے۔۔۔
مشال اندر آٶ۔سردی لگ جاۓ گی۔اذان اونچی آواز میں مشال سے کہتا ہے۔وہ اندر آ جاتی ہے تو اذان گاڑی نکال کر گھر کی طرف موڑ لیتا۔گھر پہنچتے پہنچتے مشال کا چھینکوں سے برا حال ہو جاتا ہے۔۔۔
وہ گاڑی پارک کر کے اندر آتے۔۔۔
جاٶ تم جا کر کپڑے بدلو۔میں بی بی جی سے مل کر آتا ھوں۔وہ مشال سے کہہ کر بی بی جی کے کمرے کیطرف بڑھ جاتا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جب کمرے میں آتا وہ سکڑ کر صوفے پر لیٹی کانپ رہی ہوتی ہے۔۔اٹھو جا کر بیڈ پہ لیٹ جاٶ اذان اسکو کہتا ہے۔وہ بیڈ پر جا کر لیٹ جاتی ہے۔
اذان بھی کپڑے چینج کر کے آ کر دوسری طرف کروٹ لیکر لیٹ جاتا ہے۔۔۔
مشال مسلسل کانپتی جاتی ہے اذان شاہ اسکے گرد اسکا کمبل بھی دے دیتا ہے۔اچانک اتنی زور سے بادل گرجتے۔وہ چیخ مار کر اس کے قریب آ جاتی ہے۔اذان شاہ اپنے حواس کھونے لگ جاتا۔رات دھیرے دھیرے بھیگتی جا رہے تھی۔اور دونوں ایک دوسرے میں مدہوش تھے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح نہا کر مشال بال جھٹک رہی ہوتی ہے۔
اذان شاہ اٹھ کر اس سے نظریں چرا کر واش روم میں نہانے چلا جاتا۔مگر مشال اسکی محبت کے حصار میں کھوٸی تھی۔۔
اذان شاہ دو تین دن سے اس سے بھاگ رہا تھا۔
اس دن وہ اس کے آگے کھڑی ہو جاتی۔
کیا ہو گیا آپ کو۔وہ تڑپ کر کہتی ہے۔
میں اس رات پر بہت شرمندہ ہوں وہ لب کاٹتے کہتا۔۔وہ پیچھے کمر سے بازو ڈال کر کہتی۔۔
پلیز میرے لٸے وہ رات بہت اھم ہیں۔بہت محبت کرتی ہوں آپ سے۔وہ مدہوش ہو کر کہتی ہے۔
اذان شاہ ایک جھٹکے سے اسکو کھینچ کر سامنے کرتا ہے۔دماغ خراب تمہارا کیا سمجھ رکھا تم نے۔اور تم سے نفرت کرتا ہوں۔تم شاید وہ کانٹریکٹ پیپر بھول گٸی ہو۔ایک دوسرے سے کوٸی امید نہی رکھنی۔اذان شاہ چلا کر بولی جاتا
پیچھے کھڑی آمنہ خاتون کو اپنا سینہ درد سے پھٹتا محسوس ہوتا۔وہ دھڑام سے نیچے گرجاتی ہیں۔۔۔۔۔
