Meri Jaan Hai Tu By Umme Emman Fatima NovelR250516 Meri Jaan Hai Tu (Episode - 13) 2nd Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Meri Jaan Hai Tu (Episode - 13) 2nd Last Episode
Meri Jaan Hai Tu By Umme Emman Fatima
۔۔۔وہ بارش میں سڑک پر بیٹھی زاروقطار رو رہی تھی۔۔
اذان شاہ اندرداخل ہوتا۔تو سنی ناگواری سے دیکھ رہاہوتا اسے۔یہ آپ نے ٹھیک نہی کیا۔سنی لب بھینچ کر بولتا ہے۔۔یہ مجھے مت بتاٶ مجھے کیا کرنا کیا نہی۔۔۔وہ غصے سے سنی پر چلاتا ہے۔۔۔
ایسا کر بچے اسکو مار ہی ڈال ہر بار پل پل مارتا ہے اسے ایک بار مار دے گا اسکے سارے غم ختم ہو جاٸیں گے۔بی بی جی تلخ لہجے میں کہتی ہے۔۔
وہ لب بھینچ کر رہ جاتا ہے۔
جا سنی اپنے روم میں آرام کر اور میں بھی جا کر آرام کرتی ہوں۔بی بی جی اٹھتے ہوۓ کہتی۔۔
مگر وہ باہر بھابھی۔۔۔سنی پریشان کن لہجے میں کہتا ہے۔۔نہ اسکو اندر مت لانا اس جنوری کی بارش میں وہ بھیگ رہی جلدی مر جاۓ گی اسکا کام تمام ہو گا یہ سیاپاختم ہوگا۔اسکو پتا چلنا چاہٸے اذان شاہ سے پنگا موت ہے۔۔مرنے دو۔۔بی بی جی کہتی ہوٸی وہاں سے چلی جاتی ہے۔۔۔اذان شاہ لب بھینچ کر اوپرروم میں چلا جاتا۔۔۔اورتھوڑی دیر بعد وہ ٹیرس سے باہر جھانکتا ہے۔تو وہ وہی پر دہری ہوٸی ہوتی ہے۔وہ تیزی سے نیچے بھاگتا ہے۔اور باھر آکر وہ اسکے بےجان ہوتے وجود کو اپنی بانہوں میں بڑھ کر
اندر کی طرف بڑھتا ہے۔۔۔اور اسکو بی بی جی کے کمرے لٹا دیتا ہے۔اسکے کپڑے چینج کروادیں۔۔اور ہیٹرآن کر دیتا ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنی منال کو لیکر آتاہے۔پری اسکی گود میں چڑھ کر بیٹھ جاتی ہے۔۔منال سنی سے پوچھتی ہے کیا ھوا تھا۔سنی اسکو بتاتا ہے وہ غصے سے باہر نکل جاتی ہے اور اذان شاہ فون سن رہا ھوتا ہے۔وہ اس سے فون کھینچ کر بولتی ہے۔کیوں آۓ آپ ھماری زندگی کو اجیرن بنانے۔۔۔خود تو انکو چھوڑ کر بھاگ گے تھے اور آج بیٹی کا معلوم ہواتو آگٸے ھماراسکون تباہ کرنے۔ھمارے پاس آگے ہے ہی کیا جو ہم سے ھماری واحد خوشی بھی چھننے آ گے ہیے آپ۔۔۔
شرم تو آپ کو آتی نہی۔۔وہ بولتے ہوۓ اسکے سامنے آکر اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتی ہے۔۔۔
میں آپ پر کیس کردوں گی آٸندہ پری کو دیکھنا بھی مت۔وہ وارن کرتی ہوٸی وہاں سے کمرے میں جاتی ہے۔۔۔۔
مسٹر سنی آپ نے ہی یہ سب کیا نہ انکوسکول کا بتایا۔وہ تلخ لہجے میں کہتی ہے۔۔یار میں تو بس یہ چاہتا تھا بھاٸی پری سے ملے اور بھابھی اور وہ شاید پھر سے ایک ہو جاٸیں۔۔وہ بےبسی سے کہتا تھا۔۔لیکن ایک بات بتاٶ۔۔جھوٹ کیوں بولا۔پری آپکی بیٹی ہے۔۔وہ اچانک بات بدل کے کہتا۔۔میں نے کب کہا۔آپ نے اندازہ لگایا میں نے بسس ہاں بولی۔۔۔
شادی کیوں نہی کی وہ مسکرا کر پوچھتا ہے۔۔۔
شادی نہ کرنے کی وجہ آپ تو نہی فی الحال وہ چڑ کر بولتی ہے۔۔۔۔مگر میری شادی نہ کرنے کی وجہ تو تم ہو۔بہت پیار کرتا ہوں آپ سے۔۔۔سنی کہتا ہے۔۔
منال حیرت سے دیکھتی ہے۔۔یار ایسے مت دیکھو۔
بس ھم مردوں کو جب پاس ہو اس چیز کی قدر نہی ہوتی ہے۔۔۔مگر اب تمہیں کھونا نہی چاہتا پلیز۔۔
وہ اسکا ہاتھ تھام کر کہتا ہے۔۔۔ایسا نہی ہو سکتا سنی جی۔۔میری آپی مان جاٸیں گی آپکے بھاٸی نہی مانے گے۔۔سنی لب کاٹتے ہوۓ سر جھکا لیتا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
مشال ۔۔سنی اور منال کی گفتگو سن چکی تھی۔منال کے اداس لہجے اسکے پیار کو ظاہر کر دیا تھا۔۔
اب اسکو کچھ کرنا تھا۔اور کیا کرنا تھا وہ جانتی ہے۔۔۔۔۔۔وہ منال کو آواز دیکر کہتی ہے کہ گھر چلیں۔۔
سنی انکو چھوڑنے آتا ہے۔۔۔وہ گاہے بگاہے مرر سے منال پر نظر ڈال رہا تھا۔مشال کا دل کر رہا تھا جلدی وہ ان دونوں کو ایک کر دیں۔۔۔
۔۔۔۔۔
اگلے دن مشال اذان شاہ کے آفس پہنچتی ہے۔۔۔
اور اذان شاہ اسکو دیکھ کے کہتا کیوں آٸی ہو۔۔
اور فکر مت کرو پری سے دوبارہ نہی ملوں گا۔۔
نہی آپ چاہے پری کو اپنے ساتھ لے جاٸیں۔۔
واٹ۔۔کل تک تم میرے پاس بھی برداشت نہی کر سکتی تھی اور آج مجھے لے جانے کو کہہ رہی ہو۔۔
ہاں۔۔کہہ رہی ہوں۔۔۔کیونکہ جو میری شرط ہے وہ ایسی ہے کہ مجھے اپنی بیٹی کی فکر نہی ہو گی۔۔
وہ انگلیاں چٹخاتے ہوۓ کہتی ہے۔کیا شرط ہے تمھاری۔۔وہ بےقرارٕی سے پوچھتا ہے۔۔
منال اور سنی کی شادی کروادیں۔۔مشال جلدی سے کہتی ہے۔۔۔۔
ہاہاہاہاہاہاہا۔تو تم مجھ تک پہنچنے کا راستہ اپنی بہن کے ذریعے بنانا چاہتی ہو۔وہ طنزیہ اندازمیں کہتا ہے۔۔۔
میں نے تو یہ نہی کہا۔اور اگر میں آپ کے ساتھ رہنا چاہوں تو میں اپنی بیٹی کو ذریعہ بنا سکتی ہوں۔۔
مگر میں سنی اور منال کو ایک کرنا چاہتی۔ھمارے اختلافات کیوجہ سے وہ دونوں پانچ سال سے سفر کر رہے ہیں۔۔۔وہ اسکی بات سن کر چونک جاتا ہے۔۔
مگر میں حمیر کی سسٹر ان لاءٕ سے رشتہ طے کرنے کا ارادہ کر چکا ہوں۔اسکو کیسے انکار کروں۔وہ تپ کر بولتا ہے۔۔پلیز ایک بار اور سوچ لیں۔انکی آنکھوں کی جوت کو بجھنے مت دیں۔۔اور پری بھی منال کے ساتھ بہت اٹیچ ہے وہ بھی آپ کو مل جاۓ گی۔۔وہ التجاٸیہ انداز میں کہتی ہے۔۔۔
ہووووووں ۔۔۔ٹھیک ہے وہ پرسوچ انداز میں کہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیار ہو جاٸیں۔ھم سنی کا رشتہ طے کرنے جا رہے ہیں۔۔اذان شاہ۔سنی اور بی بی جی کے سر پر بم پھوڑتا ہے۔۔میں شادی نہی کروں گا۔۔سنی تلملا کر کہتا ہے۔۔۔میں زبان دے چکا ہوں۔۔اذان شاہ مطمٸن انداز میں کہتا ہے۔۔اور تیار ہونے کا کہہ کر خود بھی تیار ہونے چلے جاتا ہے۔۔
۔۔۔۔
گاڑی جب منال کے گھر رکتی ہے۔۔وہ حیرت سے اذان شاہ کو دیکھتا۔۔اور اذان شاہ اسکی حالت دیکھ کر مسکرا دیتا ہے۔۔اب یہی رہنا کیا اندر نہی چلنا۔۔اذان شاہ کے کہنے کی دیر تھی سنی جلدی سے اتر کر بال وغیرہ ٹھیک کرتے ہوۓ دروازہ کھٹکھثاتا ہے۔
مشال دروازہ کھولتی ہے۔اور مسکرا کر انکا استقبال کرتی ہے۔۔اور اندر بیٹھک میں بیٹھا کر منال کو بلانے چلی جاتی ہے۔۔منال رف سے حلیے میں ٹرے پکڑ کر اندر آتی تو ان سب کو بیٹھے دیکھ کر اسکی آنکھیں حیرت سے پھٹ جاتی ہے۔۔۔اور جب ان کے آنے کا مدعا سنتی تو بےیقینی سے دیکھتی ہے۔۔
آپ کے بھاٸی کیسے مانے۔۔وہ حیرت سے پوچھتی ہے۔یہ تو مجھے بھی نہی پتا۔۔وہ حیرانگی سے پری کے ساتھ کھیلتے اذان شاہ کو دیکھ رہی ہوتی ہے۔۔
ویسے تم بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔سنی اسکے کان میں بولتا ہے۔۔میرا مزاق اڑا رہے ہو۔وہ تلملا کر کہتی ہے۔ارےےے توبہ توبہ ۔۔میں سچ بول رہا ہوں۔۔وہ گھبرا کر کہتا ہے۔وہ اسکو گھور کر رہ جاتی ہے۔
وہ مسکرا کر اسکو دیکھ رہا ہوتا ہے۔۔اور بی بی جی تو خوشی سے پھولے نہ سما رہی تھی۔۔۔
اور وہی بیٹھے بیٹھے اگلے ہفتے کو نکاح کا علان کرتا اذان شاہ۔تو سنی خوشی سے پاگل ہو جاتا ہے۔۔
۔۔۔۔اذان شاہ اٹھ کر کچن میں آتا ہے مشال کے پیچھے
۔۔تم پری کے ساتھ اچھے سے سات دن نکال لو۔۔پھر شاید ویڈیو کال پہ ہی بات ہوا کرے۔وہ آ کر کہتا ہے۔۔نہی اسکو اپنی عادت ڈال لیں۔تا کہ میں اسکو یاد نہ آٶں۔وہ آنکھوں میں نمی لٸے ٹوٹے ہوۓ لہجے میں کہتی ہے۔اذان شاہ کو اسکا ٹوٹا لہجہ تڑپا دیتا ہے۔وہ لب بھینچ کر پیچھے مڑ جاتا ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
منال کا رو رو کر بورا حال تھا مہندی کے جوڑے میں
وہ سوگوار حسن کے ساتھ اور بھی حسین لگ رہی تھی۔۔بس کر دو۔منو۔۔۔اور کتنا رونا تجھے۔مشال تپ کر کہتی ہے۔۔میں آپکے اور پری کے بغیر کیسے رہوں گی۔ویسے یہ پری کدھر ہے۔وہ جلدی سے ادھر ادھر دیکھ کر پوچھتی ہے۔۔وہ اپنےٕ بابا کے ساتھ گٸ ہے۔۔
کاش آپو آپ کے اور اذان بھاٸی کے درمیان سب ٹھیک ہو جاتا۔۔وہ اداسی سے کہتی ہے۔۔
یار کل ہی رخصتی کروا کر دبٸ۔یہ بالکل ٹھیک نہی ہے۔منال کو ایک اور رونا یاد آجاتا ہے۔۔۔
مشال سر پکڑ کر بیٹھ جاتی ہے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
نکاح کے بعد منال اور مشال گلے لگ کر اتنا روتی ہیں۔پھر مشال اسکا بیگ لینے چلی جاتی ہے۔۔اور پری کا ہاتھ پکڑ کر اسکو ساتھ لے جاتی۔۔اذان شاہ انکے پیچھے چلاآتا ہے۔۔ماما آپ نہی جاٶ گی۔۔پری اس سے پوچھتی ہے۔نہی میں بعد میں آٶں گی۔وہ مسکرا کر کہتی ہے۔۔اور پھر سب ساتھ رہے گے اور تب تک آپ کسی کو تنگ نہی کروگی۔اذان شاہ کو اپنے سینے میں ٹیسیں اٹھتی محسوس ہوتی ہے۔
وہ جلدی سے اندر داخل ہوتا ہے۔مشال پری کا ہاتھ اسکے ہاتھ میں دے دیتی ہے۔آپ ماسی پاس جاٶ میں آتا ہوں وہ پری کو کہتا ہے۔۔اور مشال کے پاس آ کر ایک بلینک چیک اسکو دیتے ہوۓ کہتا۔جتنی چاہو رقم بھر لو اور تمہاری زندگی آسانی سے گزر جاۓ گی۔۔وہ مسکرا کر کہتی ہے اپنی بیٹی کی قیمت دے رہے ہو کیا۔۔اذان شاہ میں شہرین نہی ہوں
میں محبت میں بک جاتی ہوں۔۔اور یہ چیک کا میں کیا کروں گی۔زندہ رہوں گی تو عیش سے جیٸوں گی۔۔وہ زخمی مسکراہٹ سے کہتی ہے۔۔اذان شاہ ایک جھٹکے سے مڑ جاتا ہے۔۔مشال بالکل چپ چاپ منال کے ساتھ آ کر بیٹھ جاتی ہے۔۔اٸیرپورٹ پہنچ کر وہ پری کا ہاتھ منال کے ہاتھ میں دیکر کہتی ہے۔مجھے یہ کہنے کی ضرورت نہی کہ تم اسکا بہت خیال رکھنا اور پلیز آج مجھ سے کچھ مت پوچھنا ۔۔
میں بہت تھک گٸ۔برسوں سے سفر کر رہی ہوں۔آج میری ذمہ داریاں پوری ہوٸی اب میں آرام کرنا چاہتی ہوں۔۔اتنا کہہ کر وہ تیز تیز قدموں سے باہر نکل جاتی ہے۔منال ساکت ادھر بیٹھ جاتی ہے۔
فلاٸٹ ایک گھنٹہ لیٹ تھی۔اذان شاہ کے دل کو گھبراہٹ ہو رہی تھی۔۔وہ اتنے سرد موسم میں بھی پسینے سے شرابور تھا۔اچانک وہ باہر کو بھاگتا ہے۔سب پریشان ہو کر اسکے پیچھے بھاگتے ہے۔۔۔
بھاٸی کیا ہوا ہے۔سنی پاس آکر پوچھتا۔۔میرا دل بےچین ہو رہا مجھے مشال کو ابھی دیکھنا ہے۔۔
وہ سب حیرانگی سے دیکھتے اسے۔سب گاڑی میں بیٹھ کر اسکے ساتھ چل پڑتے۔۔وہ گاڑی روک کر بھاگتا ہوا دروازے کے پاس پہنچ کر زور زور سے دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔ساتھ والا ہمسایہ باہر نکلتا وہ جلدی سے پوچھتا۔مشال کیا آٸی تھی۔۔ارے ہاں ابھی آٸی تھی اندر گٸ ہے۔وہ پھر دروازہ کیوں نہی کھول رہی۔وہ چلا کر بولتا ہے۔پھر وہ پاگلوں کی طرح کندھوں کے ساتھ دروازے کو مارتا ہے۔۔۔۔
بھاٸی مشال آپو ساتھ والوں کے ہاں ایک چابی رکھواتی تھی ہمیشہ۔۔۔وہ ہمسایہ یہ سن کر جلدی سےاندر جاتا اور چابی لیکر باہر آتا ہے۔وہ جلدی سے دروازہ کھول کر اندر بھاگتا ہوا پہنچتا ہے۔وہ پورے گھر میں آوازیں دیتا ہے۔اور منال کی کچن سے چیخ کی آواز سن کر سب بھاگتے ہیں۔اذان شاہ دیکھتا اسکو اسکے ناک سے خون نکل رہا ہوتا ہے۔۔
اذان شاہ کو اپنی جان نکلتی محسوس ھوتی ہے۔۔وہ
لپک کر اسکو اٹھا کر باہر بھاگتا۔اور گاڑی دوڑاتا ہاسپیٹل کیطرف روانہ ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاسپیٹل کے کوریڈوڑ میں وہ ساکت فرش پر بیٹھا ہوتا ہے۔سنی پاس جاتا ہے۔تو اذان شاہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑتا ہے۔ہاسپیٹل کا عملہ حیران پریشان اس اونچے لمبے مرد کو یوں بچوں کی طرح روتے دیکھ رہا تھا اور اس لڑکی پر رشک کر ہے تھے۔۔
سنی یہ کہہ رہے ہیں ہم اسکو مشکل ہے بچا پاۓ گے۔۔پلیز میری مشال کو بچا لو تم۔۔ورنہ میں مر جاٶں گا وہ روتے ہوۓ کہتا ہے۔۔بہت برا ہوں منال میں اسکو درد کے علاوہ کچھ نہی دے پایا۔مگر ایک بار وہ ٹھیک ہو جاۓ۔میں کبھی اسکودرد نہی دوں گا بس لاسٹ چانس دے دیں۔۔۔وہ منال کے آگے ہاتھ جوڑتے ہو ۓ کہتا۔مجھ سے معافی مت مانگیں۔اللہ سے مانگیں ۔نیک بیوی اللہ کی نعمت ہوتی ہے آپ نے اللہ کی نعمت ناشکری کی ہے اور ناشکری کرنے والے اپنی نعمتیں کھو دیتے ہیں۔وہ تلخ انداز میں کہتی ہے۔نہی اللہ نہ کریں وہ تڑپ کر رہ جاتا ہے۔وہ جلدی سے ھاسپیٹل کے ساتھ بنی مسجد میں جاتا ہے۔پوری رات اسکو نوافل پڑھتے دیکھ کر مسجد کے امام اسکے پاس آکر بیٹھ جاتے۔۔۔کیا کھو گیا ہے تمہارا بیٹا۔۔امام صاحب پوچھتے ہیں۔۔میں بہت ناشکرا ہوں میرا اللہ بہت ناراض مجھ سے مولوی صاحب۔وہ مجھے کبھی معاف نہی کرے گا ۔۔نہی بیٹا اللہ ستر ماٶں سے زیادہ پیار کرتا ہے۔ندامت کا ایک آنسو گرتا نہی وہ معاف کر دیتا ہے۔۔مگر مولوی صاحب میری ماں جیسی محبت تو نہی اللہ کی تو مجھے بہت ڈر ہے۔میری مشال کی ماں جیسی محبت ہوگی نہ اللہ کی۔۔تو وہ مجھے معاف کر دے گا۔۔ان شإاللہ۔مولوی صاحب کہہ کر اٹھ جاتے۔تھوڑی دیر بعد سنی بھاگتا ہوا آتا۔بھاٸی بھابھی خطرے سے باہر ہے۔وہ سجدے میں گر کر رو پڑتا ہے۔۔اور سنی کو کہتا تم جاٶ اور میں شکرانے کے نوافل پڑھ کر آتا ہوں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشال ہولے سے اپنی آنکھیں کھولتٕی ہے تو سب کودیکھ کر وہ اٹھنے کی کوشش کرتی ہے۔
آپو لیٹے رہو۔۔۔منال بولتی ہے۔۔۔منو تمھاری فلاٸٹ تھی۔۔وہ پریشان ہو کر بولتی ہے۔۔
