Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Jaan Hai Tu (Episode - 12)

Meri Jaan Hai Tu By Umme Emman Fatima

۔۔۔۔۔۔پانچ سال بعد۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماما میلا ہوم ورک نہی کلوا رہی ماسی۔ایک پیاری سے چار سال کی بچی روٹھ کر کہتی ہے۔

میں ماسی کو زور سے ڈانٹوں گی۔۔اس بچی کی ماں مسکرا کر کہتی ہے۔۔۔

میں کوٸی فارغ تھوڑی ہوں جو ہوم ورک کرواٶں ایک لڑکی اندر آ کر کہتی ہے۔وہ بچی منہ پھولا کردیکھتی ہے۔آپ توتلے بولتی ہو تو میں تب تک نہی پڑھاٶں گی جب تک آپ سہی سے نہی بولتی وہ لڑکی اسکی ناک کھینچ کر کہتی۔۔وہ بچی اسکو گھور کر دیکھتی ہے۔۔اور وہاں سے بھاگ جاتی ہے۔۔

آپو۔۔ایسے کیوں بیٹھی ہو چلو کھانا کھاۓ وہ لڑکی کہتی ہے۔۔۔

وہ بچی کی ماں مشال تھی اور ماسی منال تھی

وہ سرخ آنکھوں سے دیکھتی ہے۔۔۔پتا ہے منو اذان شاہ کو گے ہوۓ پانچ سال بیت گے۔۔۔منو اسکے گلے لگ کر کہتی چھوڑو آپو جو یاد زخم دے اسکو ذہہن سے جھٹک دیں۔اور اٹھے دس منٹ تک کھانا ریڈی ہو جاۓ گا آپ آ جانا۔۔۔۔وہ سر ہلا کر کہتی ہے اچھا۔۔۔

مشال اٹھ کر کھڑکی کے پاس آ کر باہر کھیلتے بچوں کو دیکھتے ماضی میں کھو جاتی ہے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پانچ سال پہلے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مشال ہنڈیا پکا رہی ہوتی ہے۔اسکو زور سے چکر آتا وہ اپنا سر پکڑ کر بیٹھ جاتی ہے۔۔۔

کیا ہوا آپو آپ کو۔منو جلدی سے آکر اسکو اٹھاتی ہے۔آپ کا کتنے دنوں سے یہ حال ہے۔چلے ڈاکٹر کے پاس چلے۔۔۔منال اسکو قریبی ہاسپیٹل لے جاتی ہے۔

وہاں ڈاکٹر اسکا چیک اپ کرتی ہے۔اور آ کر کہتی ہے مبارک ہو آپ پریگننٹ ہیں۔۔مشال حیرت سے ڈاکٹر کو دیکھتی ہے۔۔۔اور پورے راستے گم صم ہوتی ہے۔

۔۔رات کو منال اسکو کہتی آپو ایک بات کہوں؟۔

ھاں کہو نا۔مشال کہتی ہے۔۔۔

امی پتا ہے نا کہا کرتی تھی کہ شوہر کے بغیر بچے پالنا بہت کٹھن ہوتا ہے۔انہوں نے ہم دونوں کو پالتے کتنی صعوبتیں اٹھاٸی۔پلیز آپی اذان بھاٸی نے جو کیا جان بوجھ کر نہی کیا۔وہ تو امی کے علاج کے لیۓ کیا کیا کر رہے تھے۔پلیز ایک بار ان کے پاس لوٹ جاٸیں۔۔۔

میں لوٹ بھی جاٶں وہ مجھ سے پیار نہی کرتے۔مشال افسردہ لہجے میں کہتی ہے۔۔

پلیز آپو جاٶ تو سہی کیا پتا انہیں آپ سے پیار ہو جاۓ۔۔۔۔۔

میں صبح جاٶں گی۔وہ کہہ کر آنکھیں بند کر لیتی ہے۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ شاہ ولا کے سامنے جا کر کھڑی ہوتی۔گارڈ دوڑا دوڑا آتا۔۔ارےےے بی بی جی آپ گارڈ پاس آ کر کہتا ہے۔۔۔تمہارے صاحب لوگ گھر ہے کیا۔۔۔

مشال گارڈ سے پوچھتی ہے۔۔وہ تو ایک مہینہ ہو گیا یہاں سے باہر شفٹ ہو گے سب لوگ۔۔۔۔

کیا۔۔۔وہ شاکڈ ہو جاتی ہے۔اور روتے ہوۓ وہ ٹیکسی میں بیٹھ کر گھر پہنچتی ہے۔۔۔۔

وہ اندر داخل ہوتی۔۔آپو آپ گٸ تھی کیا منال پاس آ کر پوچھتی ہے۔۔وہ اسکے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑتی ہے۔۔منو کہا تھا نا انکو مجھ سے پیار نہی۔وہ تو مجھ سے پیچھا چھڑوانا چاہتے تھے اور شہر نہی ملک چھوڑ کر چلے گے۔۔۔منال اسکو بہت مشکل سے چپ کرواتی ہے۔۔اور مشال اسکے بعد خود کو سنبھال کر منال اور بچے کے لٸے جینا شروع کرتی۔ ایک ریسٹورنٹ میں شیف کی اسسٹنٹ کے طور پر کام کرتی۔اور پھر بچی اسکے لٸے بڑی بخت والی تھی وہ وہاں کی سینٸر شیف بن جاتی ہے۔۔۔

اورمشال کا ایم بی بی ایس مکمل ہو جاتا وہ شادی نہ کرنے کا ارادہ کرتی ہے۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حال میں۔۔۔۔۔۔

مشال منال کی آواز پر ماضی سے حال میں واپس آتی۔اور باہر آ جاتی۔ٹیبل پر کھانا لگا چکی تھی منال وہ سب کھانا کھاتے۔۔پھر چھت پر جا کر واک کرتیں۔

تھوڑی دیر کے بعد پری کو سلانے کے لٸے منال لے جاتی۔وہ چاۓ کا مگ تھام کر بیٹھ کر سوچ میں ڈوب جاتی۔۔۔۔

اذان شاہ تم تو آگے بڑھ گے۔مگر ہم دونوں بہنیں برباد ہو گٸ۔کیا اتنی نفرت کرتا ہے کوٸی۔۔تم تو مجھ سے جان چھڑوا کر بھاگ گے۔مگر اس رات کا تحفہ بھی دے گے تمھاری شرمندگی کی رات تھی مگر وہ رات مجھے بہت اہم لگی تھی مگر وہ رات میرا سب برباد کر گٸ۔میرا سکون قرار سب لے گٸ۔میں کبھی تمہیں معاف نہی کروں گی۔۔۔۔۔وہ دل میں اذان شاہ کو مخاطب کر کے بولتی ہے۔۔۔

………..

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بی بی جی میڈیسن لے لیں۔اذان جھنجھلا کر کہتا ہے۔مجھے نہی کھاٶ۔وہ غصے سے بولتی ہیں۔۔

آپ کی طبیعت بگڑتی جا رہی۔۔وہ پریشانی سے بولتی ہے۔۔

آپ کو کیا بیٹے مروں یا جیٸوں وہ رونے لگ جاتی ہے۔تم نے نہی جانا نہ سہی مجھے بھیج دو۔۔پانچ سال ہو گے ہیں ہمیں یہاں۔میرے بیٹوں کی قبریں وہاں۔ارےےے اولاد کا کیا کرنا جو ماں باپ کی قبروں پر بھی جا کر فاتحہ نہ پڑھ سکے۔مجھے اپنے بیٹوں سے ملنا۔وہاں جا کر قرآن خانی کروانی ہے۔۔وہ

ضدی انداز میں کہتی ہیں۔۔۔۔

اوکے ٹھیک ہے۔مگر تھوڑے دنوں کے لٸے جاۓ گے۔اذان شاہ ہار مانتے ہوۓ بولتا ہے۔۔۔بی بی جی اس سے میڈیسن لیکر کھا کر لیٹ جاتی ہے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اٸیرپورٹ سے باہرسب نکلتے ہیں تو سامنے حمیر کھڑا ہوتا۔۔وہ جلدی سے آگے بڑھ کر پرجوش انداز میں ملتا سب سے۔۔۔اور گاڑی میں بیٹھ کر سب شاہ ولا کی طرف چل پڑھتے۔اورشاہ ولا میں حمیر کی بیوی اور بچے سب بہت محبت سے ملتے ہیں۔۔

کھانا کھا کر سب لاٶنج میں بیٹھ کر باتیں کرنے لگتے ہیں تو اذان شاہ اپنےروم میں آتا ہے۔پانچ سال کے بعد وہ اپنے کمرے میں قدم رکھتا ہے۔اسکے دل میں درد سا اٹھتا ہے۔۔۔وہ صوفے میں بیٹھ کر سر پیچھے ٹکا لیتا ہے۔۔۔۔۔کیسے ہو گیا مشال یہ سب کیوں تم سے محبت ہو گٸ۔۔۔محبت تو تم سے پہلی بار کی ملاقات میں ہی ھو گٸ تھی مگر احساس اس دن ھوا جب دبٸ کے لٸے روانہ ہو تب لگا میرا دل خالی ہو گیا۔۔وہ آنکھیں بند کٸے اس سے مخاطب تھا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یار میں اپنا ہوٹل کھولنا چاہتا ہوں اپنے گھر شفٹ ہونا چاہتا ہوں۔۔پلیز اپنا سنبھال آ کر یہ بزنس۔حمیر کہتا ہے۔۔۔

ارےے یار یہ تیرا ہی ہے اور چاہے سب تیرے نام کر دیتا ھوں۔اذان اسکو کہتا ہے۔۔ارےے نہی یار میرا یہ مطلب نہی تھا حمیر شرمندہ ہو کر بولتا۔۔۔مجھے اصل میں ہیون ریسٹورنٹ مجھے پسند آ گیا ہے۔۔

تو اسکو خریدنے کی استطاعت بھی ہے تو اعظم اسکو بیچ نہی رہا۔۔۔یار اسکی شیف کو خریدنے کی بھی کوشش کی مگر وہ بھی نہی مان رہی۔۔۔۔

ھمممممممم۔فکر مت کرو نہ صرف اس ریسٹورنٹ کی شیف پورا ھوٹل تمھارا ہوگا۔۔اذان شاہ پریقین انداز میں کہتا ہے۔۔۔۔۔ارےےے یار دوست ہو تیرے جیسا حمیر پرجوش انداز میں کہتا ہے۔۔۔اوکے شام کو چلے گے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں بی بی جی یہاں ایک دوست ہے اسکے ہاسپیٹل کے وزٹ کیلٸے جا رہا ہوں۔۔سنی کہتا ہے۔۔

اچھا ٹھیک ہے۔۔وہ کہتی ہے۔۔

سنی فاطمہ ھاسپیٹل کے سامنے گاڑی روکتا۔۔اسکادوست اسکو لیکر اندر آتا۔۔وہ وہاں نرس کو کہتا ہے جا کر سب ڈاکٹرز کو بلوا کر لاٶں۔۔

سب ڈاکٹرز اکھٹے ہوتے ہیں۔۔۔

گاٸز یہ میرے بہت اچھے دوست اور دبٸ کے بہت اچھے ڈاکٹر سنان ہیں۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر سنان ایک ڈاکٹر رہ گٸ ہے میری بہت محنتی ڈاکٹر ہے۔آٶ اس سے ملواٶں۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

منال بڑے پیار سے بچوں کو ٹریٹ کر رہی ہوتی ہے۔

یہ تھیلیا سیمیا کی بیماری میں مبتلا بچے سے۔۔۔۔

ھاۓ۔فرحان بے بی کیسے ہوں۔۔۔وہ ایک بچے کے رخسار کو پیار سے چھو کر کہتی ہے۔

میں ٹھیک ہوں آنٹی۔۔پتا ہے پورے پندرہ دن جو مس کیا آپ کو بہت مشکل سے دن گزرٕے۔۔۔وہ بچہ بولتا ہے۔منال کھلکھلا کر ہستی ہے۔اور پھر اس کے بالوں کو چھیڑتی ہوٸی اٹھ کر پیچھے مڑتی۔تو پیچھے سنی کو دیکھ کر چونک جاتی۔۔ڈاکٹر عظیم اسکا اور سنی کا تعارف کرواتا۔وہ لب بھینچ کر اسکو دیکھتے ہوۓ اسکی ساٸیڈ سے نکل جاتی۔۔۔

تمہیں پتا ہے یہ نہ صرف ڈاکٹرز کی بلکہ مریضوں کی بھی فیورٹ ہے۔۔ڈاکٹر عظیم سنی کو بتاتا ہے۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

منال باہر نکل رہی ہوتی ھاسپیٹل سے سنی جلدی سے اسکے پیچھے بھاگتا۔وہ ٹیکسی میں بیٹھ جاتی ہے سنی گاڑی اسکے پیچھے لگا لیتا وہ ایک سکول کے سامنے رکتی ہے۔وہ ٹیکسی سے نکل کر اندر جاتی وہ ٹیکسی کے پاس آ کر کھڑا ہو جاتا۔تھوڑی دیر بعد وہ ایک بچی کو اٹھاۓ باہر آتی۔وہ بچی کو اندر بیٹھا کر سنی کیطرف مڑتی ہے۔۔کیا مسلہ ہے آپکو کیوں پیچھا کر رہے میرا۔۔۔وہ تنک کر کہتی ہے۔

شادی کب ہوئی۔۔وہ الٹا سوال کرتاہے۔۔۔

واٹ۔۔۔۔وہ حیرت سے مڑتی ہے۔۔۔۔۔

وہ تمہاری بیٹی ہے کیا۔۔۔۔وہ ایک اور سوال کرتا۔۔

جی ہاں میری بیٹی ہے۔۔کوٸی تکلیف ہے کیا۔۔وہ تڑخ کر بول کرٹیکسی میں بیٹھ کر ڈراٸیور کو چلنے کا کہتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سنی بوجھل قدموں کے ساتھ اندر لاٶنج میں داخل ہوتا ہے۔۔اور بی بی جی کے قدموں میں بیٹھ کر گود میں سر رکھ دیتا ہے۔۔کیا ہوا میرے بچے کو۔وہ پیار سے اس کے بال سہلاتے ہوۓ پوچھتی۔۔۔۔

کچھ نہی بی بی جی تھکاوٹ ہو گٸ تھی۔۔۔۔

ارےےے۔۔تو چاۓ پٸیے اور تھکاوٹ اتارے۔۔

حمیر کی واٸف ماریہ مسکرا کر کہتی ہے۔۔اور ایک لڑکی آ کر ٹرے رکھ کر بیٹھ جاتی ہے۔پلیز میٹ ماٸی سسٹر روبی۔۔ہاۓ۔وہ لڑکی اسکی طرف ہاتھ بڑھا دیتی ہے۔وہ اسکا مسکرا کر ہاتھ تھام لیتا ہے۔۔۔

اور ہلکی پھلکی گفتگو کرتے سب چاۓ پیتے ہیں۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اوکے سر میں چلتی ہوں۔۔منال اعظم سے اجازت چاہتی ہے اور وہاں سے نکل جاتی ہے۔۔۔۔

وہ وہاں سے نکل کر جاتی ہے ساتھ ہی اذان شاہ اورہ حمیرداخل ہوتے ہیں۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ھاۓ ۔۔۔مسٹر اعظم۔۔۔اذان شاہ اندر داخل ہو کر کہتا ہے۔۔اور چٸیر پر دونوں بیٹھ جاتے ہیں۔۔۔۔

تو میرے بارے میں تو جانتے ھوں گے۔۔اذان شاہ کہتا ہے۔۔۔آپ کو کون نہی جانتا۔اعظم مسکرا کر کہتا ہے۔۔

آپ کے اس ھوٹل کو خریدنا چاہتا ہوں۔اذان شاہ اسکو اپنا آنے کا مقصد بیان کرتا ہے۔۔۔

مگر میں بیچنا نہی چاہتا وہ تلخ لہجے میں جواب دیتا ہے۔۔۔۔۔

ہاہاہاہاہاہا۔میں نے آپ سے یہ نہی پوچھا کہ بیچنا ہے یا نہی۔۔میں نے کہا خریدنا چاہتا ہوں۔اذان شاہ طنزیہ انداز میں کہتا ہے۔۔اور کہی آپ کی نٸ شیف کے ساتھ تو کوٸی تعلق نہی ہے۔۔۔جو آپ منہ مانگی قیمت ٹھکرا رہے۔اذان شاہ تلخ انداز میں کہتا ہے۔۔

آپ انتہاٸی گھٹیا انسان ہیں۔۔کسی شریف لڑکی کو بدنام کر رہے آپ۔بہن جیسی ہے میری۔اعظم غصے سے تپ کر بولتا ہے۔۔۔۔

ہاہاہاہاہاہاہا۔۔بہن۔۔رٸیلی۔۔وہ طنزیہ انداز میں کہتا۔۔

وہ آپ کو چھوڑنا نہی چاہتی۔اور آپ اس کے لٸے اتنے غصے میں۔۔۔اور اتنے دودھ کے دھلے نہی آپ۔۔اس کے ساتھ آپکا تعلق نہی تھا۔مگر آپ نے بنانے کی کوشش کی تھی اور آپ کے ایک وٹل کے ہی آدمی نے مجھے بتایا تھا۔۔۔اور میں اس بات کو مرچ مسالہ لگا کر پیش کروں گا۔اور اس لڑکی کا کرٸیر تباہ ہو جاۓ گا اور تمہارا سب کچھ۔اذان شاہ مزے سے بولتا ہے۔

اعظم کا رنگ فق ہو جاتا ہے۔پلیز مجھے کچھ وقت دیں سوچنے کا۔۔۔وہ فق چہرے کے ساتھ کہتا ہے۔۔

اوکے کل ھم پیسے لیکر آٸیں گے۔وہ کہہ کر لمبے لمبے ڈنگ بڑھتا چلے جاتا ہے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس بیرے کو لیکر آٶ جو اس وقت سب جانتا تھا۔۔

اذان شاہ حمیر کو کہہ کر گاڑی میں بیٹھ جاتا ہے۔۔

حمیر اس بیرے کے ھمرا آتا ہے۔دونوں گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھ جاتے ہیں۔۔۔۔

ھاں اب سب بتاٶ۔۔اذان شاہ اسکی طرف پیسے بڑھاتے ہوۓ کہتا ہے۔۔۔

ارےےے صاحب۔۔بڑی آفت چیز ہے وہ شیف۔بڑی خوبصورت۔۔اور أعظم صاحب نے اسکو اپنے روم میں بلوایا تھا اور اس کے ساتھ بدتمیزی کرنے کی کوشش کی تھی۔وہ ان کے پیروں میں بیٹھ کر رونے لگ گٸ۔اور بتانے پلیز رحم کریں اس پر اسکا دنیا میں کوٸی نہی۔ہر طرف گدھ اسکو نوچنا چاہتے ہیں۔وہ ماں بننے والی ہے۔اسکے ساتھ ایسا مت کریں۔

اسکا اتنا تڑپ تڑپ کر رونے نے اعظم صاحب کو نرم کر دیا۔۔اور پھر کبھی انہوں نے اسکو کچھ نہ کہا۔۔

پر سر مجھے تو لگتا باہر نظر رکھے شاید ملتے نہ ہوں۔سر وہ لڑکی اتنی آفت ہے۔دل تو اس کو دیکھ کے مچلتا ہے۔وہ لوفرانہ انداز میں کہتا ہے۔

اذان شاہ کا حلق کڑوا ہو جاتا ہے اسکے اتنے لوفرانہ انداز پر۔۔بیرے کے باہر نکلنے کے بعد اذان حمیر کو کہتا ہے۔لڑکی بہت کمزور ہے اسکو آسانی سے دھمکا کر کام کروایا جاسکتا ہے۔۔۔اور تمہاری کب اس لڑکی سے ملاقات ہوٸی۔اذان اس سے پوچھتا ہے۔۔

یار فون پہ بات ہوٸی دو تین بار۔۔وہ آگے سے ٹوٹ کر پڑتی۔۔حمیر جواب دیتا ہے۔۔

ھمممممم۔اوکے کوٸی نہی کل ہو جاۓ گی ملاقات۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مشال تھکی ہوٸی گھر پہنچتی ہے تو منال گم صم سے چلہے کے آگے کھڑی ہوتی۔۔۔

منو چاۓ ابل رہی ہے اور کس سوچ میں گم ھو۔۔

مشال منو کو کندھے سے ہلا کر کہتی ہے۔۔۔

وہ ھڑبڑا کر کہتی ہے۔۔کیا ہوا ہے کوٸی پریشانی ہے۔۔

وہ تشویش بھرے لہجے میں کہتی ہے۔۔

آپو۔۔بس ویسے ہی۔۔۔۔۔منال جواب دیتی۔۔

ماسی کو آج ایک انکل ملے تھے تب سے لوٸی جا رہی ہیں۔۔پری بولتی ہے۔۔۔

کوٸی نہی آپی۔بس وہ راستہ پوچھ رہا تھا۔وہ دانت پیس کر بولتی۔۔۔۔۔۔

تم جھوٹ کیوں بول رہی ہے مشال شک بھری نظروں سے کہتی ہے۔۔ایسا کچھ نہی ہے۔وہ جھنجھلا کر کہتی ہے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

منال ھاسپیٹل پہنچتی ہے تو سامنے ہی سنی کھڑاہوتا ہے۔وہ کنی کترا کر نکل جاتی ہے۔اور سیدھا ڈاکٹر عظیم کے آفس میں داخل ہوتی ہے۔۔اور ان سے

فرحان کی رپورٹ کے بارے میں ڈسکس کرتی ہے۔

اور سنی اندر داخل ہوتا ہے۔۔

یار ادھر آ یہ دیکھ کچھ رپورٹس ہے ایک بچے کی یار اسکا اکثر جب بلڈ لگتا۔فورا بلیڈنگ سٹارٹ ہو جاتی ہے تو بتا کیا کرنا چاہٸے۔۔۔

سنی رپورٹس دیکھ کر کچھ میڈیسن لکھ کر دیتا ہے۔۔اچانک نرس گھبرا کر آتی ہے۔

سر وہ فرحان بے بی کے ناک منہ سے بہت زیادہ خون نکل رہا ہے۔۔۔وہ سب گھبرا کر اٹھتے ہیں۔۔

۔منال بھاگتی ہوٸی وارڈ میں داخل ہوتی ہے۔۔۔

اور اپنا دوپٹہ اس بچے کے منہ کے آگے رکھتی۔۔۔

سنی جلدی سے آگے بڑھتا۔أسکو ایمرجنسی وارڈ میں جلدی سے منتقل کرتے ہیں۔۔

اس بچے کے پیرنٹس زارو قطار رو رہے ہوتے ہیں۔منال کو اپنا دل بیٹھتا محسوس ہو رہا ہوتا ہے۔

وہ اندر وارڈ میں نہی جاتی۔وہی سامنے ٹیک لگا کر کھڑی ہو جاتی۔۔۔

ڈاکٹر منال کدھر ہے۔۔۔سنی پوچھتا ہے۔۔

وہ نہی اندر آٸے گی۔۔اس بچے کے ساتھ بہت اٹیچمنٹ اسکی۔وہ اندر نہی آتی۔۔اور اس بار اس کی حالت زیادہ خراب ہے۔۔۔عظیم سنی کو بتاتا ہے۔

اچانک فرحان کے سانس اکھڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔

اور اسکے ساتھ ہی وہ اپنا آخری سانس لیتا ہے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔اعظم سر کیوں بیچ رہے یہ ھوٹل۔مشال جھنجھلا کر کہتی ہے۔۔میں بھی یہاں کام نہی کروں گی وہ حتمی انداز میں کہتی ہے۔۔

نہیں نہیں یہ مت کرنا۔۔وہ تمہیں میرے ساتھ بدنام کرنے کی کوشش کرے گا۔۔اعظم پریشان ہو کر کہتا ہے۔۔وہ جو میں نے تمہارے ساتھ کرنے کی کوشش کی تھی اسکو لیکر دھمکی دے رہا مجھے۔۔۔

وہ ماتھا مسلتے ہوۓ کہتا ہے۔مشال لب بھینچ کر اٹھ کر چلی جاتی ہے۔۔

۔۔۔اذان شاہ اندر داخل ہوتا حمیر کے ساتھ۔۔اور اسکے ٹیبل پر چیک رکھتے ہوۓ کہتا۔چلے پھر اٹھو چیک اٹھاٶ اور جاٶ۔۔۔۔

اور میں بھی یہاں سے جاٶں گی مسٹر اذان شاہ۔۔

مشال کی آواز پر اذان شاہ جلدی سے اٹھ کر کھڑا ہو کر اسکی طرف مڑتا۔۔مشال آنکھوں میں نفرت لٸے اسکو دیکھ رہی ہوتی ہے۔۔۔

مجھے بدنام کرو گے۔کرو نا بدنام۔برباد تو کر چکے ہو مجھے۔وہ چلا کر بولتی ہے۔۔اور آج تم سے نفرت دل کی گہراٸیوں سے محسوس کر رہی ہوں۔۔۔

تم گھٹیا تھے اب تو حد ہی ہو گٸ۔۔جب کوٸی نہ کرتا ہے نہ تو نہ ہی ہوتی ہے۔انکو ہوٹل نہی بیچنا۔

تو نہی بیچنا۔۔وہ چیک اٹھا کر پھاڑ کر اسکے چہرے پہ مارتی۔اور دفع ہو جاٸیں یہاں سے۔اگر بدنام کرنے کا بہت شوق ہے نہ تو کہو تو ننگی تصویریں بھیج دوں گی۔پورے شہر میں لگانا۔اور اگر کہتے ہو تو تمہارے ساتھ ایک گندی سے ویڈیو بنا لیتی ہوں اور اسکو ہر جگہ دیکھا کر واہ واہ کروانا۔۔اذان شاہ اسکی باتوں پر ایک زوردار تھپڑ مارتا ہے۔۔۔بند کرو اپنی بےہودہ بکواس۔۔اور لمبے لمبے ڈنگ بھرتا وہ وہاں سے نکلتا جاتا ہے۔۔

یہ تم نے کیا کیا مشال وہ گھٹیا آدمی ہے وہ تمہیں بدنام کر دے گا۔اعظم ہونٹ کاٹتے ہوۓ کہتا ہے۔۔۔

نہی کرے گا بدنام۔وہ آنکھوں کے آنسو صاف کرتے ہوۓ کہتی ہے اور وہاں سے نکل جاتی ہے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

سنی اور ڈاکٹر عظیم باہر آتے ہیں۔۔

منال جلدی سے آگے بڑھتی ہے۔کیسا ہے وہ منال جلدی سے پوچھتی۔۔۔

ہی از نو مور۔۔ڈاکٹر عظیم کہتا ہے۔۔منال ہونٹوں پر ہاتھ رکھے دیوار کے ساتھ لگ جاتی ہے۔۔۔

سنی جلدی سے آگے بڑھتا۔منال پلیز سنبھالو خود کو۔وہ روتے ہوۓ اسکے کندھے کے ساتھ لگ کر جاتی۔سنی اسکو چپ کروا رہا تھا۔۔۔مگر وہ سنبھل نہی پا رہی تھی۔۔اکچوٸلی میں چھوڑ کر آتا ہوں گھر۔۔وہ عظیم سے کہتا ہے۔۔اور اسکو گاڑی میں بیٹھاتا ہے۔۔

اور گاڑی سکول کے سامنے روک کر کہتا ہے۔تمہاری بیٹی کو لینا تھا کیا سکول سے۔۔وہ سر ہلا دیتی۔مگر ابھی چھٹی کا ٹاٸم نہی ہوا۔۔

وہ اسکو گھر کے سامنے اتارتا ہے۔تو مشال بھی دروازہ کھول رہی ہوتی ہے۔۔وہ جلدی سے آگے بڑھتی۔۔منو کیا ہوا۔وہ گھبرا کر پوچھتی ہے۔۔

سنی آگے بڑھ کر دروازہ کھولتا ہے۔۔تو مشال منال کو صحن میں بچھے تخت پر بٹھاتی ہے۔اور سنی سب کچھ بتاتا ہے۔۔منو یہ کیا ہے۔زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔اور ہر مریض کو دل پہ لو گی تو کیا ہوگا۔۔۔۔وہ ڈانٹتے ہوۓ کہتی ہے۔

چلو اٹھ کر منہ ہاتھ دھو پری آنے والی ہو گی وہ پریشان ہو جاۓ گی۔۔۔اور سنی آپ کیا کھاٶ پیو گے۔۔

مشال منال کو منہ ہاتھ دھونے کا کہہ کر سنی سے پوچھتی ہے۔۔نہی کچھ نہی بھابھی۔میں چلتا ہوں۔

مشال اسکو دروازے تک چھوڑنے آتی ہے۔۔تو بی بی جی کا پوچھتی ہے۔۔

بہت روتی آپ کو یاد کر کے۔۔۔۔وہ بتاتا ہے۔۔۔

اگر یاد کرتے ہوتے تو ملنے آتے۔دبٸ نہ چلے جاتے۔۔

وہ شکوہ کرتی ہے۔۔بھابھی ہم آنا چاہتے تھے۔مگر بھاٸی نے ھمیں دھمکی دی تھی۔وہ اپنی جان دے دیں گے۔۔۔سنی کہتا ہے۔۔تمہارا بھاٸی بہت خودغرض ہے۔۔۔وہ سر جھکا کر باہر نکل جاتا ہے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

اذان شاہ گھر آتا ہے وہ سیڑھیاں پھلانگتا ہے ہوا اوپرروم میں جاتا ہے۔زمین پر بیٹھ کر رو پڑتا ہے۔روتے روتے اسکے ذہن میں بیرے کی باتیں گھومتی ہے۔اسکا دماغ کھول اٹھتا ہے۔۔میں نہی چھوڑو گا اسے وہ میری مشال پر گندی نظر رکھتا ہے۔۔۔

میرا کوٸی بچہ ہے شاید وہ تڑپ کر اٹھ کر بھاگتا نیچے۔۔۔بی بی جی اٹھے ابھی مجھے مشال کیطرف جانا ہے۔وہ بی بی جی کے پاس جا کر بولتا ہے۔۔

کیا اب کیوں جانا چاہتا ہے۔۔بی بی جی حیرت سے پوچھتی ہے۔۔آپکو اپنے پوتے یا پوتی سے نہی ملنا کیا۔وہ بی بی جی سے کہتا ہے۔۔کیا کہہ رہے ہو بھاٸی۔میں ابھی آیا ہوں بھابھی سے ملکر۔کوٸی بچہ نہی انکار۔منال کی بیٹی ہے۔۔سنی جلدی سے کہتا ہے۔۔

نہی میری بیٹی ہو گی۔وہ جلدی سے کہتا ہے۔۔۔

اوووہ ۔۔یہ میں نے کیوں نہی سوچا۔۔۔سنی کہتا ہے۔۔

میں پری کے سکول کے بارے میں جانتا ہوں۔۔سنی بتاتا ہے اذان کو۔۔۔

چلو۔۔ابھی چلو مجھے لیکر۔اذان بےقراری سے کہتا ہے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اذان شاہ گاڑی کے رکتے ہی جلدی سے اندر داخل ہوتا۔۔اندر پرنسپل اسکو دیکھ کر کہتا ارےےے یار تو۔۔اوہ۔سرمد تم یہاں کے پرنسپل ہو۔۔وہ جلدی سےپوچھتا۔پری نام ہے۔۔۔

پریشے نام کی ایک بچی تو ہے میں بلواتا ہوں۔۔ایک بچی کی فنگر پکڑ کر ٹیچر اندر داخل ہوتی۔یہی ہے بچی سنی جلدی سے کہتا ہے۔۔۔وہ جلدی سے اٹھ کر اسکی طرف بڑھتا ہے اونچے بیٹھ کر اسکے ہاتھ تھام لیتا ہے۔۔اور اسکے ھاتھوں کو چوم لیتا ہے۔۔

آپ تون ہو۔۔پری حیرانگی سے پوچھتی ہے۔۔

میں آپکا بابا ہوں۔۔اذان کہتا ہے۔۔۔

سچ میں۔۔اور ماسی اور ماما بولتے تھے آپ میرے لٸے بڑا سا ڈول ھاٶس اور ڈول لاٶ گے۔۔وہ کدھر ہے۔وہ چمکتی آنکھوں سے پوچھتی ہے۔

ابھی بابا دلواۓ گے۔وہ اسکو گود میں اٹھا لیتا ہے۔۔

سرمد میں لیکر جا رہا ہوں اسے۔۔اذان شاہ کہتا ہے۔

لیکن یار اسکی ماما کو بتاۓ بغیر کیسے۔۔سرمد پریشان ہو کر کہتا ہے۔۔یار اسکی ماں کے ساتھ کچھ ایشو چل رہے۔مگر میں چھٹی سے پہلے چھوڑ دوں گا۔۔وہ کہہ کر اسکو لیکر چلا جاتا۔۔

ٹواٸز شاپ پر جا کر وہ پاگل ہو جاتے۔جس جس چیز پر انگلی رکھتی۔لیکر دیتا ہے۔۔

پھر اسکو لیکر بی بی جی سے ملوانٕے لاتا ہے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

کدھر ہے میری بیٹی۔مشال چلا کر بول رہی ہوتی ہے ۔۔دیکھٸے مس پلیز بیٹھ جاٸیں۔۔پری کے فادر اذان شاہ لیکر گے ہے۔۔واااہ قربان جاٶں۔۔

کوٸی بھی آکر میری بیٹی کا باپ بن کر اسکو لیکر جانا چاہے گا آپ بھیج دو گے۔۔میں کیس کروں گی آپ کے سکول پر۔۔۔۔۔وہ کہہ کر باہر نکل آتی ہے۔۔

اور ٹیکسی والے کو شاہ ولا کیطرف جانے کو کہتی ہے۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

شاہ ولا کے سامنے ٹیکسی رکتی۔وہ گارڈ کو دھکا دیکر اندر بھاگتی چلی جاتی۔لاٶنج میں اذان شاہ سنی اور بی بی جی کے ساتھ پری کو کھیلتے دیکھ کر وہ سیدھی پری کیطرف بڑھتی۔۔۔اور اسکو گلے لگا کر رو پڑتی ہے۔۔۔

پھر وہ ایک اذان شاہ کے پاس آ کر ایک زوردار تھپڑ رسید کرتی ہے۔اور نفرت بھرے انداز میں بولتی ہے۔

تم انتہاٸی گھٹیا انسان ہو۔ہمت کیسے ہوٸی میرے بیٹی کو لیکر آنے کی۔۔۔میری بھی بیٹی ہے وہ چلا کر بولتا ہے۔یہ صرف میری بیٹی ہے۔۔۔وہ کہہ کر مڑتی ہے پری کا بیگ اور اسکا ہاتھ تھامتی ہے۔وہ ہاتھ چھڑوا کر اذان شاہ کی ٹانگوں کو چمٹ جاتی ہے۔۔

مشال اسکو زور سے کھینچ کر الگ کر کے لیکر جانے لگتی۔۔۔میں نہی جاٶں گی وہ ضدی انداز میں کہتی ہے۔مشال اسکے بھی ایک تھپڑ لگاتی۔اذان شاہ تڑپ کر آگے بڑھتا ہے۔۔اور غصے میں چلاتا ہے۔۔۔تم نے میری بیٹی کو چھپا کر رکھا۔اور اب مجھ سے الگ نہی کر سکتی سمجھی تم۔۔چھپے تم تھے بلکہ بھاگ گے تھے دبٸ۔میں بتانے آٸی تھی۔وہ تلخ انداز میں بولتی ہے۔۔اور کیا کیا بیتا مجھ پر۔ہر آدمی میرے جسم کا پیاسا تھا۔۔ایک کو مجھ پر اگر رحم آف گیا تھا۔تو تم آف گٸے میری جسم فروشی کرنے وہ غصے سے بولتی۔۔۔بکواس بند کرو اپنی۔۔وہ چلا کر بولتا ہے۔۔اور اسکی طرف بڑھتا ہے اسکو بازو سے کھینچتا ہوا باہر لیکر جا کر کھڑا کر دیتا ہے۔۔۔

اور گارڈ سے کہتا یہ اندر داخل نہ ہو وہ روتے ہوۓ سڑک پر بیٹھ جاتی۔اور آسمان بھی برس پڑتا یوں لگتا جیسے اسکے غم میں رو رہا ہو۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *