Khawab Ankhon Sameet Bechay Hai by Kashaf Chaudhary NovelR50718 Khawab Ankhon Sameet Bechay Hai by Kashaf Chaudhary Episode 01
Rate this Novel
Khawab Ankhon Sameet Bechay Hai by Kashaf Chaudhary Episode 01 (Watching)Khawab Ankhon Sameet Bechay Hai by Kashaf Chaudhary Episode 02 Khawab Ankhon Sameet Bechay Hai by Kashaf Chaudhary Episode 03 Khawab Ankhon Sameet Bechay Hai by Kashaf Chaudhary Episode 04 Khawab Ankhon Sameet Bechay Hai by Kashaf Chaudhary Last Episode
Khawab Ankhon Sameet Bechay Hai by Kashaf Chaudhary Episode 01
آج کلاس کا پہلا دن تها. ہر طرف ہلچل مچی تهی. سب ایکدوسرے کے بارے میں جاننے کے لیے متجسس تهے. کهلکهلا تے جوان چہرے. زندگی سے بهرپور… ہنستے مسکراتے… کچه منچلے شوخ طبیعت کے سٹوڈنٹ کلاس میں خوب ہلڑ.مچائے ہوئے تهے اور کچه سنجیدہ طبیعت لوگ خاموشی سے بیٹهے ان ہنستے،قہقے لگاتے لوگوں کو دلچسپی سے دیکه رہے تهے اور کچه بیزاری سے انہیں گهور کر منہ ہی منہ میں بڑ بڑا رہے تهے. سب سے اگلی قطار میں بیٹهی لڑکی بهی ان خاموش لوگوں میں شامل تهی. مگر اس کی نظریں اپنے سامنے رکهی کتاب پر تهیں ہاته میں موجود پین اپنی ٹهوڑی پہ ٹکائے وہ سب سے بے نیاز تهی.
تبهی کلاس میں ایک خوش کل جوان کی اینٹری ہوئی
السلام علیکم! اس نے کلاس میں آتے ہی قدرے اونچی آواز میں سلام کیا.
وعلیکم السلام! پوری کلاس نے یک زباں ہو کے خوشدلی سے جواب دیا.
میں آپ کا Economics teachr… میرا نام تیمور حسن ہے. اس خوش شکل نوجوان نے مسکراتے ہوئے اپنا تعارف کروایا. ہر سٹوڈنٹ کی نظروں میں ستائش صاف نظر آرہی تهی اس کی پرسنیلٹی اور خوبصورت لب و لہجہ سے سب متاثر نظر آنے لگے.
سب سے پہلے تو میں چاہوں گا کہ آپ سب انسانوں کی طرح بیٹهنا سیکه جائیں…. کیونکہ بے ترتیبی مجهے پسند نہیں… چاہے کسی بهی معاملے میں ہو…. وہ چند سیکنڈ رکا اور مسکراتے ہوئے سب پہ نظر دوڑائی. سب غیر معمولی انداز میں سیدهے ہو گئے.
گڈ… اب میں چاہوں گا مختصر سا تعارف آپ لوگوں کی طرف سے بهی ہو جائے. شروع یہاں سے کرتے ہیں…. انہوں پہلی روو کی طرف اشارہ کیا ہاته میں پکڑی کتابیں ڈائس پہ رکه دیں.
حباء اسحاق نے دلچسپی سے انہیں دیکها بلیک پینٹ کے ساته بلیک شرٹ نفاست سے بنائے گئے بال، چہرے پہ سنجیدگی اسے بہت باوقار بنا رہی تهی.
مس آپ کا نام؟ وہ ایکدم سے اس سے مخاطب ہوا. حباء نے اپنی اس حرکت پہ شرمندگی سے آس پاس سٹوڈنٹس کو دیکها جو اپنی مسکراہٹ چهپانے کی کوشش کر رہے تهے.
سر حباء اسحاق. …. 89پرسنٹیج. حباء نے شرمندگی سے ان کی طرف دیکه کر اپنا تعارف کروایا مگر وہ بلکل سنجیدہ تهے نا اس کی اس حرکت پہ مسکرائے نا برا منایا.
ویری گڈ…. انہوں نے سراہتے ہوئے کہا اور نیکسٹ کی طرف متوجہ ہو گئے. حباء خاموشی سے بیٹه گئی. مگر اب وہ محتاط نظروں سے سب کو دیکه رہی تهی اس نے سر کی طرف دیکهنے سے گریز کیا.
تو آج کی کلاس شروع کرتے ہیں. انٹرویو کے بعد انہوں نے پوری کلاس سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا اور ڈائس پہ رکهی بک ہاته میں پکڑ لی. حباء کے ساته ساته سب اپنی بک کی طرف متوجہ ہوئے. کچه لوگ اپنی پرسنیلٹی سے ہی اپنا رعب واضح کر دیتے ہیں اور یقیناً تیمور سر ان لوگوں میں سے تهے
####
تهرڈ ائیر کی پہلی کلاس ہو چکی تهی حباء اپنی بکس اٹها کر کلاس سے باہر نکل آئی گراونڈ میں جگہ جگہ سٹوڈنٹس ٹولیوں کی شکل میں بیٹهے نظر آرہے تهے. حباء بهی نسبتاً اکیلے گوشے میں آکر بیٹه گئی. وہ اب بهی سر تیمور کے بارے میں سوچ رہی تهی وہ ایسی ہی تهی بہت کم لوگوں سے رشتہ بنا پاتی تهی بہت کم اپنے خول سے نکلتی تهی مگر اسے جب کوئی پسند آتا تها تو وہ اس کے لیے بچوں کے جیسی ہو جاتی تهی.
ہیلو… آواز پہ وہ چونکی اور سر اٹها کے سامنے کهڑی لڑکی کو دیکها
ہیلو.. وہ جواباً مسکرائی.
میں بیٹه جاوں؟ اس نے تکلف سے پوچها
یس شور… حباء نے مسکراتے ہوئے کہا اور وہ اس کے سامنے بیٹه گئی ہاته میں پکڑی کتابیں اس نے اپنے سامنے رکه لی.
میرا نام زینب ہے تم مجهے زینب کہہ سکتی ہو. زینب نے اس کی طرف ہاته بڑهایا جسے حباء نے تهام لیا
میں حباء. اس نے مختصر اپنا نام بتایا.
ہاں میں سن چکی ہوں تم نے کلاس میں بتایا تها. زینب نے خوشدلی سے جواب دیا حباء کو اس کا بولنے کا انداز بہت اچها لگا. اس نے زینب کے حجاب کو دیکها جو اس نے بہت خوبصورت انداز میں لپٹ رکها تها وہ یقینا کسی مڈل کلاس فیملی سے ہو گی. حباء نے اس کے حلیے سے اندازہ لگایا ڈهیلی ڈهالے سادہ کپڑوں پہ اپنے گرد دوپٹے کو اس نے کندهوں پہ پهیلا کے ڈالا ہوا تها اور سر پہ حجاب.
سب ٹولیوں کی شکل میں بیٹهے تهے میں نے سوچا تم سے بات کر لوں تم اکیلی بیٹهی تهی. اس نے اپنے آنے کی وضاحت پیش کی
ٹهیک کیا میں بور ہو رہی تهی. حباء نے مسکرا کے کہا.
####
وہ گهر میں داخل ہوا تخت پہ بیٹهی اماں پہ نظر پڑی تو ان کی طرف بڑه گیا
السلام وعلیکم اماں! ان کے ساته بیٹهتے ہوئے سلام کیا
وعلیکم السلام میرا بچہ. آج تم نے آنے میں بہت وقت لگا دیا. اماں نے روز کا بولا ہوا جملہ پهر سے دوہرایا
میری پیاری اماں میں ہمیشہ اسی وقت پہ آتا ہوں گهر آپ کو لگتا ہے ایسا. تیمور نے مسکراتے ہوئے اماں کے ہاته تهام لیے
بیٹا مجهے تو فکر لگی رہتی ہے نا جب تک گهر نا آ جاؤ میری نظریں دروازے پہ رہتی ہیں. اماں نے اس کے ہاته چوم لیے.
تو اور کیا بهائی آپ نے نا صرف اماں کو بلکہ کسی اور کو بهی بہت انتظار کروایا.صائمہ نے پیچهے سے آکر شرارتی لہجے میں کہا.
میرا انتظار کون کرنے لگا بهئی. اپنی اکلوتی بہن کو اس نے پیار سے دیکهتے ہوئے کہا
ہے کوئی بیچاری غم کی ماری جو آپ کے انتظار میں ایک گهنٹے سے اندر بیٹهی ہے. صائمہ کی بات پہ تیمور کے ماتهے پہ بل آئے.
کس کی بات کر رہی ہو؟ وہ ایکدم سے سنجیدہ ہو گیا
اپنی عدیلہ جو ساته والے گهر میں رہتی ہے اور اکثر اسے تب ہی ہمارے گهر کوئی کام یاد آتا ہے جب آپ گهر پہ ہوں. صائمہ نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا
صائمہ تم جانتی ہو مجهے ایسی چهچهوری حرکتیں سخت نا پسند ہیں. اور تم پہلے یہ سمجهو کہ تم اپنے بهائی سے بات کر رہی ہو اور کیسی بات کر رہی ہو. تیمور نے درشت لہجے میں اسے کہا
بهائی میں تو بس بتایا کہ وہ آپ کے لیے….
بکواس بند رکهو اپنی اور ایسی لڑکیاں مجهے سخت نا پسند ہیں جو اسطرح کهلم کهلا اپنی بے شرمی کی داستان سناتی پهریں. تیمور نے سختی سے اس کی بات کاٹ دی.
اور تم بهی سمجه لو آئیندہ ایسے مذاق اپنے بهائی سے مت کرنا. تیمور اسے سختی سے منع کرتے ہوئے اٹه گیا اور لمبے لمبے ڈگ بهرتا اندر چلا گیا. وہاں کهڑی عدیلہ کو مکمل نظر انداز کرتے ہوئے جس کا چہرہ خفت سے لال ہو رہا تها
####
کهانا لگاو حباء بہت بهوک لگ رہی ہے. شہروز بازو کے کف فولڈ کرتا کهانے کی ٹیبل پہ آکر بیٹها
ہا کهانا تیار ہے لگوا رہی ہوں. حباء نے تیزی سے ہاته چلاتے ہوئے کہا
تم بهی بیٹه جاو ڈنر کر لو میرے ساته. ہمیشہ خی طرح نرم لہجے میں بولتا ہوا شہروز نے اسے پیار سے دیکها اور وہ مسکرا کر اس کے ساته بیٹه گئی.
کیسا رہا تمہارا پہلا دن یونیورسٹی میں. شہروز نے کهانا کهاتے ہوئے پوچها
ٹهیک تها. حباء نے پانی کا گهونٹ بهرتے ہوئے کہا ایکدم سے اس کے ذہن میں ایک چہرہ ابهرا… خوبصورت انداز میں بولتا…
بس ٹهیک تها؟ کسی سے فرینڈشپ نہیں ہوئی ادهر.وہ کهانا کهانے کے ساته بولتا رہا
ہوں ہوئی تهی ایک لڑکی زینب سے بات. وہ اپنے خیالوں سے چونکی.
دیٹس گڈ… شہروز کهانے میں بزی ہو گیا جبکہ حباء پانی گهونٹ گهونٹ اپنے اندر اتارتی مسلسل سر تیمور کو سوچ رہی تهی.مگر اس کی نظریں کهانا کهاتے شہروز پہ تهیں. شہروز جو اسکا شوہر تها
__________
تم حجاب کیوں نہیں اوڑهتی ہو. ذینب نے ایکدم سے اس سے سوال کیا
حجاب؟؟….. میرے نہیں خیال یہ کوئی لازمی چیز ہے…. حباء کو سمجه نہیں آیا اس غیر ضروری بار پہ کیسے ری ایکٹ کرے.
غیر ضروری؟ حجاب کا حکم تو اسلام میں ہے نا؟ جس چیز کا حکم اسلام میں ہو وہ چیز غیر ضروری کیسے ہو سکتی ہے؟ ذینب نے حیرت سے حباء کا دیکها
ہمارا دین ہرگز اتنا تنگ نظر نہیں زینب کہ عورت کو ایسا گهٹن زدہ ماحول میں رکهے. اور پهر ٹینٹ جتنی چادر اوڑھ لینا یا سر ڈهانپ لینے سے ہم کونسے دین کے راستے پہ چل پڑیں گے میری سمجه سے تو باہر ہے. حباء نے بیزاری سے کہا
حباء یہ تو اسلام میں حکم ہے. اللہ نے قرآن میں فرمایا کہ ائے پیغمبرو اپنی عورتوں کہہ دیں کہ گهر سے باہر نکلیں تو گهونگٹ نکال لیا کریں… تو کیا ان کے لیے حکم ہے ہم جیسوں کے لیے نہیں ہو گا. زینب بحث پہ اتر آئی اور حباء کو اس سے کوفت ہونے لگی
خیر ہم دوست ہیں دوست ہی رہنے دو مذہب کو مت ملاو. حباء اٹه کهڑی ہوئی سر تیمور کی کلاس کا ٹائم ہو رہا تها.
مذہب ایک ہے ہمارا حباء.. مذہب الگ الگ نہیں ہوا کہ اسے مت ملاوں. ذینب اس کے ساته اٹه کهڑی ہوئی. حباء نے کوئی جواب دینے کے بجائے خاموش رہنا بہتر سمجها.
وہ دونوں کلاس میں داخل ہوگئیں ٹهیک پانچ منٹس بعد سر تیمور کلاس میں آئے اور حباء نے نوٹس کیا سب غیر ارادی طور پہ ایکٹو ہو گئے.
انہوں نے اپنا لیکچر شروع کیا اور حباء نے انہیں دیکهنا. اس میں اچهنبے کی بات نہیں تهی کیونکہ وہاں موجود ہر سٹوڈنٹ ان ہی کی طرف متوجہ تها. حباء کو وہ ایکدم سے بہت اچها لگنے لگا تها. وہ اس کے چہرے سے نظریں نہیں ہٹانا چاہ رہی تهی اور نا اس نے ہٹائیں. شاید سر تیمور نے اس کو نوٹس کیا اسے تهوڑی شرمندگی ہوئی.اس نے نظریں دوسری طرف پهیر لی. مگر 3 منٹس کے بعد وہ پهر انہیں دیکه رہی تهی
###
وہ لیکچر ختم کر کے کلاس سے نکلا اسے آج جلدی نکلنا تها سو وہ عجلت میں اگے بڑهتا گیا
ایکسکیوزمی سر؟؟ حباء نے انہیں پیچهے سے آواز دی. وہ آواز پہ رک گیا اور پیچهے مڑ کر دیکها جہاں حباء اسحاق چلتی اس کی طرف آ رہی تهی
یس…؟ اس کے پاس آتے ہی تیمور نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکها
سر مجهے آپ کے لیکچر میں کچه پوائنٹ سمجه میں نہیں آئے…. کچه ہیلپ چاہیئے تهی آپ سے. حباء نے جهوٹ گهڑتے ہوئے کہا
تو آپ کو چاہیئے تها آپ میرے لیکچر کے دوران مجه سے پوچهتیں جو بهی پرابلم تهی. انہوں نے سنجیدہ لہجے میں کہا حباء سمجه نہیں سکی کہ یہ غصہ تها یا نارمل سی بات.
سوری میرے ذہن سے نکل گیا. حباء نے بهونڈی وضاحت دی
خیر جو بهی پرابلم ہے کل میری کلاس میں ڈسکس کیجئے گا. تیمور کا لہجہ اب بهی ویسا ہی تها کسی بهی تاثر سے عاری.
اوکے سر تهینکس. حباء نے مایوسی سے مسکرا کے کہا
جواباً وہ بنا کچه کہے محض سر اثبات میں ہلا کے مڑ گئے اور تیز تیز چلتے ہوئے آگے بڑهنے لگے حباء ان کو جاتا دیکهتی رہی یہاں تک کہ وہ نظروں سے اوجهل ہو گئے. حباء نے لمبی سانس لی اور واپس مڑگئی
###
تیمور ایک متوسط گهرانے سے تعلق رکهتا تها اس کے فادر ایک غریب مزدور تهے. انہوں نے محنت کر کے اپنے دونوں بچوں کو اچهی تعلیم دلوائی مگر جب تیمور کو ایک یونیورسٹی سے جاب کال آئی تب تک وہ یہ دنیا چهوڑ کے جا چکے تهے. تیمور نے اپنی فیملی کی زمہ داری اپنے کندهوں پہ لے لی مشکل وقت دیکهتے دیکهتے وہ بہت کم گو اور کڑوا ہو چکا تها اس کے اپنے اصول تهے جن سے وہ کسی بهی قیمت پہ پیچهے نہیں ہٹنا چاہتا تها پهر چاہے کوئی کتنا ہی سر پیٹے
####
تمہاری ابو کی کال آئی تهی کہہ رہے تهے آج ڈنر ہمارے ساته کرنا. شہروز ابهی آفس سے واپس آیا چائے پیتے ہوئے وہ حباء کو بتانے لگا
کیوں؟ حباء نے چونکتے ہوئے پوچها
وہ یاد کر رہے ہوں گے اور بهلا کیوں. شہروز نے اس کے بے تکے سوال پہ حیرت سے اسے دیکها
ہاں مگر میراموڈ نہیں ہے. حباء نے چائے کا سپ لیا
کیوں موڈ نہیں ہے؟ تم اب بهی ناراض ہو ان سے؟ شہروز نے بغور اس کا چہرہ دیکهتے ہوئے پوچها
میں کیوں ناراض ہوں گی شہروز ان سے؟ حباء نے اکتا کر کہا
حباء انہوں نے تمہاری شادی صرف اس لیے کی کیونکہ وہ بیمار تهے اور وہ چاہتے تهے تم ان کی نظروں کے سامنے اپنے گهر کی ہو جاو. اور یہ شادی ہم دونوں کی مرضی سے ہوئی تو پرابلم کیا ہے تمہیں اب ان کی طرف سے دل صاف کر لینا چاہیئے. شہروز نے اس کا دل ابو کی طرف سے صاف کرنا چاہا.
شہروز مجهے کوئی پرابلم نہیں ان سے نا اس شادی سے تم خوامخواہ کی بحث کر رہے ہو. حباء کو اب یہ ٹاپک چڑا رہا تها
اوکے اوکے ریلیکس… جیسے تمہیں ٹهیک لگے ویسے ہی چلیں گے ڈونٹ وری. شہروز نے اس کا موڈ ٹهیک کرنا چاہا.
نہیں ٹهیک ہے چلیں گے آج. حباء نے بات ختم کر دی.
یہی بات مجهے تمہاری بہت پسند ہے تم بہت جلدی مان جاتی ہو. شہروز نے چائے کا خالی کپ میز پہ رکها
تمہیں کچه برا بهی لگتا ہے کبهی میرا. حباء نے میٹها طنز کیا
نا تمہاری کوئی بات مجهے کبهی بری نہیں لگ سکتی. شہروز نے مسکراتے ہوئے اس کے طنز پہ سر تسلیم خم کیا
اور اگر میں کچه برا کروں تو؟ حباء نے اسے گہری نظروں سے دیکهتے ہوئے کہا
تو بهی مجهے برا نہیں لگے گا. وہ اس کی ہر بات پہ جیسے انکار کرنا جانتا ہی نہیں تها اسے اتنی محبت کئیر پہ فخر سا محسوس ہونے لگتا وہ بلاشبہ ایک بہترین شوہر تها ہر لحاظ سے.
مگر میں پهر بهی کچه ایسا کروں جو تمہیں پسند نا ہو جو تمہیں تکلیف دے پهر تم کیا کرو گے. حباء نے عجیب سے لہجے میں سوال کیا جس پہ شہروز چونکا ضرور مگر اس نے اس بات کو ظاہر نہیں ہونے دیا وہ ہر ناگوار بات بهی چهپانے میں ماہر تها یا شاید اسے کوئی بات بری لگتی ہی نہیں تهی.
پهر بهی وہی ہو گا جو تم چاہو گی. شہریار نے مسکرا کر جواب دیا جبکہ حباء اس شخص پہ حیران تهی کیا وہ ہمیشہ ایسا ہی رہے گا؟ یا پهر چند سال بعد یہ بهی عام مردوں کی طرح عام سا مرد بن جائے گا؟
مگر….. کیا میں ویسی رہوں گی؟؟؟ ایکدم سے سر تیمور کا چہرہ اس کے سامنے آیا اس کی آنکھوں نے اس چہرے کو بہت توجہ سے دیکها جس کے پیچهے شہریار کا چہرہ کہیں گم ہو گیا تها.
###
سر آپ سے کچه بات کرنی تهی. حباء نے آج پهر انہیں مخاطب کر لیا.
جی ضرور مس حباء بولیں.وہ پوری توجہ سے اس کی طرف مڑے
سر ابهی نہیں کلاس ختم ہونے کے بعد. حباء نے تهوڑی ہلکی آواز میں کہا. سر تیمور کے ماتهے پہ ناگواری کا ہلکا سا تاثر ابهرا. انہوں نے کلاس میں نظر دوڑائی
یس شور… انہوں نے مسکرا کر اسے جواب دیا مصنوعی مسکراہٹ جو ان کے چہرے پہ موجود ناگوار تاثر کو چهپا گئی.
حباء کنفیوز بهی تهی اور ایکسائیٹڈ بهی تهی وہ کلاس ختم ہونے کا ویٹ کرنے لگی.
مگر کلاس ختم ہوتے ہی سر تیمور روز کی طرح تیزی سے باہر نکل گئے اور بنا رکے آگے بڑهتے گئے.
سر…. ایکسکیوزمی سر؟؟حباء تقریباً بهاگتی ہوئی ان کے پیچهے آئی. اس کا سانس پهول رہا تها
تیمور رکا اور مڑ کے خاموشی سے اسے سرد اور خالی نظروں سے دیکها.
سر میں نے آپ سے کہا بهی تها مجهے آپ سے بات کرنی ہے. حباء نے شکوہ کناں لہجے میں کہا
اور میں نے آپ سے کہا تها جو بهی بات کرنی ہو کلاس میں کی جائے مجه سے کلاس کے بعد نہیں. تیمور نے اپنی ناگواری چهپاتے ہوئے کہا
مگر سر یہ بات کلاس میں کرنے والی نہیں تهی نا. حباء نے ان کے رویے کو مکمل نظر انداز کر دیا. تیمور نے ناگواری سے اس لڑکی کو دیکها اور بنا کچه کہے مڑے اور آگے بڑهتے گئے. حباء اس انسلٹ پہ جی طهر کے شرمندہ ہوئی اب ان کے پیچهے جانا بےکار تها
###
تمہیں سر تیمور اچهے لگنے لگے ہیں اس بات کا کیا مطلب ہوا؟ زینب نے الجهتے ہوئے اس کی بات دوہرائی
اس کا یہ مطلب ہوا کہ وہ مجهے اچهے لگنے لگے ہیں. حباء نے ڈهٹائی سے جواب دیا
تم ان کو پرسنلی جانتی ہو؟ زینب کو یہ “اچها لگنا” سمجه نا آیا.
نہیں پرسنلی تو نہیں جانتی یہی ملی ہوں بس. حباء نے چپس کهاتے ہوئے لاپرواہی سے جواب دیا
تو تم ان سے محبت کرتی ہو؟ زینب جیسی لڑکی کے لیے یہ اچها لگنا کوئی اچهی بات نا تهی.
توبہ تم تو محبت تک پہنچ گئی. حباء نے استحزایا ہنستے ہوئے کہا
تو یہ اچها لگنا کیا ہے؟ ایک غیر محرم کا اچها لگنا مجهے تو بہت بے تکی بات لگ رہی. زینب کو یہ بات بلکل اچهی نہیں لگی تهی
اففففف ذینب واٹ نا محرم. وہ ہمارے ٹیچر ہیں مجهے اچهے لگے بس. حباء نے اس کی بونگی بات پہ چڑ کر رہا
اچهے تو وہ مجهے بهی لگتے ہیں ہمارے ٹیچر ہیں قابل احترام ہیں مگر اس کا مطلب یہ تو نہیں میں جا کر ان سے بات کروں کہ مجهے آپ اچهے لگتے ہیں. ذینب بحث پہ اتر آئی
تو یار اس میں پرابلم کیا ہے اگر میں ان سے بات کروں میں چاہتی ہوں ان کا نمبر لے لوں اور ان سے بات کروں بس سمپل اس میں نا محرم والا راگ مت الاپو میں کچه غلط نہیں کر رہی. حباء نے مشکل بات کو آسانی سے پیش کیا
تمہارا دماغ تو نہیں چل گیا تم ان سے نمبر لو گی؟ ذینب کو اس کی بات پہ شاک لگا
تمہارا مسئلہ کیا ہے ذینب اپنامائنڈ سیٹ رکهو اس میں کوئی پرابلم نہیں میں بس ان سے فرینڈشپ کرنا چاہتی ہوں. حباء اب پچهتا رہی تهی ذینب سے یہ بات شئیر کرنے پہ۔۔۔
