Khawab Ankhon Sameet Bechay Hai by Kashaf Chaudhary NovelR50718 Last updated: 3 June 2026
Rate this Novel
Khawab Ankhon Sameet Bechay Hai by Kashaf Chaudhary Episode 01Khawab Ankhon Sameet Bechay Hai by Kashaf Chaudhary Episode 02Khawab Ankhon Sameet Bechay Hai by Kashaf Chaudhary Episode 03Khawab Ankhon Sameet Bechay Hai by Kashaf Chaudhary Episode 04Khawab Ankhon Sameet Bechay Hai by Kashaf Chaudhary Last Episode
Khawab Ankhon Sameet Bechay Hai by Kashaf Chaudhary
کهانا لگاو حباء بہت بهوک لگ رہی ہے. شہروز بازو کے کف فولڈ کرتا کهانے کی ٹیبل پہ آکر بیٹها
ہا کهانا تیار ہے لگوا رہی ہوں. حباء نے تیزی سے ہاته چلاتے ہوئے کہا
تم بهی بیٹه جاو ڈنر کر لو میرے ساته. ہمیشہ خی طرح نرم لہجے میں بولتا ہوا شہروز نے اسے پیار سے دیکها اور وہ مسکرا کر اس کے ساته بیٹه گئی.
کیسا رہا تمہارا پہلا دن یونیورسٹی میں. شہروز نے کهانا کهاتے ہوئے پوچها
ٹهیک تها. حباء نے پانی کا گهونٹ بهرتے ہوئے کہا ایکدم سے اس کے ذہن میں ایک چہرہ ابهرا... خوبصورت انداز میں بولتا...
بس ٹهیک تها؟ کسی سے فرینڈشپ نہیں ہوئی ادهر.وہ کهانا کهانے کے ساته بولتا رہا
ہوں ہوئی تهی ایک لڑکی زینب سے بات. وہ اپنے خیالوں سے چونکی.
دیٹس گڈ... شہروز کهانے میں بزی ہو گیا جبکہ حباء پانی گهونٹ گهونٹ اپنے اندر اتارتی مسلسل سر تیمور کو سوچ رہی تهی.مگر اس کی نظریں کهانا کهاتے شہروز پہ تهیں. شہروز جو اسکا شوہر تها
تم حجاب کیوں نہیں اوڑهتی ہو. ذینب نے ایکدم سے اس سے سوال کیا
حجاب؟؟..... میرے نہیں خیال یہ کوئی لازمی چیز ہے.... حباء کو سمجه نہیں آیا اس غیر ضروری بار پہ کیسے ری ایکٹ کرے.
غیر ضروری؟ حجاب کا حکم تو اسلام میں ہے نا؟ جس چیز کا حکم اسلام میں ہو وہ چیز غیر ضروری کیسے ہو سکتی ہے؟ ذینب نے حیرت سے حباء کا دیکها
ہمارا دین ہرگز اتنا تنگ نظر نہیں زینب کہ عورت کو ایسا گهٹن زدہ ماحول میں رکهے. اور پهر ٹینٹ جتنی چادر اوڑھ لینا یا سر ڈهانپ لینے سے ہم کونسے دین کے راستے پہ چل پڑیں گے میری سمجه سے تو باہر ہے. حباء نے بیزاری سے کہا
حباء یہ تو اسلام میں حکم ہے. اللہ نے قرآن میں فرمایا کہ ائے پیغمبرو اپنی عورتوں کہہ دیں کہ گهر سے باہر نکلیں تو گهونگٹ نکال لیا کریں... تو کیا ان کے لیے حکم ہے ہم جیسوں کے لیے نہیں ہو گا. زینب بحث پہ اتر آئی اور حباء کو اس سے کوفت ہونے لگی
خیر ہم دوست ہیں دوست ہی رہنے دو مذہب کو مت ملاو. حباء اٹه کهڑی ہوئی سر تیمور کی کلاس کا ٹائم ہو رہا تها.
مذہب ایک ہے ہمارا حباء.. مذہب الگ الگ نہیں ہوا کہ اسے مت ملاوں. ذینب اس کے ساته اٹه کهڑی ہوئی. حباء نے کوئی جواب دینے کے بجائے خاموش رہنا بہتر سمجها.
وہ دونوں کلاس میں داخل ہوگئیں ٹهیک پانچ منٹس بعد سر تیمور کلاس میں آئے اور حباء نے نوٹس کیا سب غیر ارادی طور پہ ایکٹو ہو گئے.
انہوں نے اپنا لیکچر شروع کیا اور حباء نے انہیں دیکهنا. اس میں اچهنبے کی بات نہیں تهی کیونکہ وہاں موجود ہر سٹوڈنٹ ان ہی کی طرف متوجہ تها. حباء کو وہ ایکدم سے بہت اچها لگنے لگا تها. وہ اس کے چہرے سے نظریں نہیں ہٹانا چاہ رہی تهی اور نا اس نے ہٹائیں. شاید سر تیمور نے اس کو نوٹس کیا اسے تهوڑی شرمندگی ہوئی.اس نے نظریں دوسری طرف پهیر لی. مگر 3 منٹس کے بعد وہ پهر انہیں دیکه رہی تهی
وہ لیکچر ختم کر کے کلاس سے نکلا اسے آج جلدی نکلنا تها سو وہ عجلت میں اگے بڑهتا گیا
ایکسکیوزمی سر؟؟ حباء نے انہیں پیچهے سے آواز دی. وہ آواز پہ رک گیا اور پیچهے مڑ کر دیکها جہاں حباء اسحاق چلتی اس کی طرف آ رہی تهی
یس...؟ اس کے پاس آتے ہی تیمور نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکها
سر مجهے آپ کے لیکچر میں کچه پوائنٹ سمجه میں نہیں آئے.... کچه ہیلپ چاہیئے تهی آپ سے. حباء نے جهوٹ گهڑتے ہوئے کہا
تو آپ کو چاہیئے تها آپ میرے لیکچر کے دوران مجه سے پوچهتیں جو بهی پرابلم تهی. انہوں نے سنجیدہ لہجے میں کہا حباء سمجه نہیں سکی کہ یہ غصہ تها یا نارمل سی بات.
سوری میرے ذہن سے نکل گیا. حباء نے بهونڈی وضاحت دی
خیر جو بهی پرابلم ہے کل میری کلاس میں ڈسکس کیجئے گا. تیمور کا لہجہ اب بهی ویسا ہی تها کسی بهی تاثر سے عاری.
اوکے سر تهینکس. حباء نے مایوسی سے مسکرا کے کہا
جواباً وہ بنا کچه کہے محض سر اثبات میں ہلا کے مڑ گئے اور تیز تیز چلتے ہوئے آگے بڑهنے لگے حباء ان کو جاتا دیکهتی رہی یہاں تک کہ وہ نظروں سے اوجهل ہو گئے. حباء نے لمبی سانس لی اور واپس مڑگئی
تیمور ایک متوسط گهرانے سے تعلق رکهتا تها اس کے فادر ایک غریب مزدور تهے. انہوں نے محنت کر کے اپنے دونوں بچوں کو اچهی تعلیم دلوائی مگر جب تیمور کو ایک یونیورسٹی سے جاب کال آئی تب تک وہ یہ دنیا چهوڑ کے جا چکے تهے. تیمور نے اپنی فیملی کی زمہ داری اپنے کندهوں پہ لے لی مشکل وقت دیکهتے دیکهتے وہ بہت کم گو اور کڑوا ہو چکا تها اس کے اپنے اصول تهے جن سے وہ کسی بهی قیمت پہ پیچهے نہیں ہٹنا چاہتا تها پهر چاہے کوئی کتنا ہی سر پیٹے
