Khawab Ankhon Sameet Bechay Hai by Kashaf Chaudhary NovelR50718 Khawab Ankhon Sameet Bechay Hai by Kashaf Chaudhary Last Episode
Rate this Novel
Khawab Ankhon Sameet Bechay Hai by Kashaf Chaudhary Episode 01 Khawab Ankhon Sameet Bechay Hai by Kashaf Chaudhary Episode 02 Khawab Ankhon Sameet Bechay Hai by Kashaf Chaudhary Episode 03 Khawab Ankhon Sameet Bechay Hai by Kashaf Chaudhary Episode 04 Khawab Ankhon Sameet Bechay Hai by Kashaf Chaudhary Last Episode (Watching)
Khawab Ankhon Sameet Bechay Hai by Kashaf Chaudhary Last Episode
کیسی ہو حباء؟ شہروز آج اس کے سامنے بیٹها تها. حباء کو امید تهی کہ وہ فوراً یہاں آئے گا اس لیے وہ سوچ چکی تهی اسے آگے کیا کرنا ہے.
ٹهیک ہوں. حباء نے مختصر الفاظ میں جواب دیا.
میں تمہیں لینے آیا ہوں حباء. اپنا سامان پیک کرو اور اپنے گهر چلو. شہروز کا لہجہ بکهرا ہوا تها یقیناً وہ بہت سٹریس میں تها
اور تم نے یہ کیسے سوچ لیا کہ میں تمہارے ساته چل پڑوں گی؟ حباء طنزیہ نظروں سے اسے دیکها
حباء مت کرو ایسا کچه پلیز…. ایسا کچه مت کرو کہ ہمارا گهر برباد ہو جائے. شہروز نے التجائیہ لہجے میں اسے سمجهایا
میں اس بحث کے موڈ میں نہیں ہوں شہروز میں تمہیں اپنا فیصلہ سنا چکی ہوں.حباء کے لہجے میں کوئی لچک نہیں تهی. اور شہروز کو یہی بات تکلیف دے رہی تهی
تم مذید ٹائم لو سوچو تم فی الحال جذباتی ہو رہی ہو. کچه دن بعد تم اپنا فیصلہ بدل لو گی مجهے یقین ہے. شہروز خود کو امید دلا رہا تها یا اسے وہ خود نہیں سمجه پا رہا تها. اور جتنی تکلیف اسے ہو رہی تهی یہ بس وہی جانتا تها.
شہروز تم مجهے طلاق دے رہے ہو یا نہیں؟ مجهے اور کوئی بحث نہیں چاہیئے. حباء نے کوفت سے کہا
حباء مت کرو ایسا تم جانتی ہو اس فیصلے کا اثر کس کس کی زندگی پر پڑے گا اور……
مجهے سب پتا ہے پلیز مجهے طلاق دے دو. حباء نے اس کی بات کاٹتے ہوئے بے زاری سے کہا
جب تک اس رشتے سے میری جان نہیں چهوٹ جاتی میں نا اس سے شادی کر سکتی ہوں اور نا ہی اس رشتے میں مزید رہنا چاہتی ہوں. حباء کے لہجے کی کڑواہٹ سے اسے اپنا دل کٹتا ہوا محسوس ہو رہا تها. مگر یہ طئے کر چکا تها اب مذید اس کے سامنے نہیں جهکنا
ٹهیک ہے. شہروز اس کے سامنے کهڑا ہو گیا اور اس کا بازو کهینچتے ہوئے اسے آگے بڑهتا گیا
یہ کیا طریقہ ہے شہروز تم میرے ساته اسطرح زبردستی نہیں کر سکتے. حباء اس حرکت کے لیے تیار نہیں تهی بوکهلا گئی مگر شہروز خاموشی سے اسے بازو سے پکڑے کمرے سے باہر نکل آیا
شہروز چهوڑو مجهے تم اس جنگلی پن سے کیا ثابت کرنا چاہتے ہو. کہ تم مجهے ذبردستی گهر لے جاو گے؟ حباء اس کی گرفت سے اپنا بازو چهڑانے کی کوشش کرتی رہی مگر اس کی گرفت مضبوط تهی وہ ایسے ہی چلتا ہوا ٹی وی لاونج سے ہوتا باہر کی طرف بڑهنے لگا
میں تم سے نفرت کرتی ہوں میں تمہارے ساته کبهی نہیں رہوں گی تم سمجه لو. میں تمہارے گهر سے بهاگ جاوں گی مجهے جب بهی موقع ملا… سنا تم نے؟ حباءمسلسل اس کی گرفت سے خود کو آزاد کرنے کی کوشش کرتی رہی. مگر تم اس کی آواز اس کے گلے میں رندهه گئی جب شہروز کے قدم لان کی طرف بڑهنے لگے اور وہاں بیٹهے ابو حیرت سے انہیں آتا دیکه رہے تهے. شہروز نے ان کے پاس جا کر آہستہ سے حباء کا بازو چهوڑ دیا.
کیا ہوا شہروز یہ کیا طریقہ ہے بیٹا. ابو پریشانی سے اسے دیکه کر شکوہ کناں نظروں سے اسے دیکهنے لگے
ابو معاف کیجئے گا…. مگر حباء کچه کہنا چاہ رہی ہے میں چاہتا ہوں آپ کے سامنے کہے. بولو حباء. شہروز نے ابو کی طرف معذرت سے دیکها اور حباء کی طرف رخ کر لیا. حباء کو لگا اس کی جان نکال دی گئی ہے اس نے وحشت سے شہروز کو دیکها. اس کی نظروں میں شکوہ تها خوف تها التجا تهی. مگر شہروز کی نظروں میں اب دکه کے علاوہ کچه نہیں تها.
کیا ہوا حباء بولو بیٹا. ابو نے پریشانی سے دونوں کو دیکها
حباء کو لگا وہ کچه بول نہیں پائے گی. مگر نا بولنا کا مطلب تها شہروز کے ساته جانا جو وہ ہرگز نہیں کر سکتی تهی. اسے یہ فیصلہ آج کرنا تها آج نہیں تو کبهی نہیں کر سکے گی.
مجهے شہروز کے ساته نہیں رہنا. حباء نے بمشکل وہ لفظ ادا کئیے
کیا مطلب ہے اس بات کا ؟ تم لوگوں کا کوئی جهگڑا ہوا ہے؟ ابو کا دل ہولنے لگا
حباء تم فیصلہ کرنے کی ہمت رکهتی ہو تو بولنے کی بهی رکهو. شہروز نے اس کی آنکھوں میں دیکهتے ہوئے کہا
حباء کو لگا وہ اس کی انسلٹ کر رہا ہے. اس نے نفرت سے شہروز کو دیکها اسے لگا تها شہروز اسے طلاق دے گا مگر اسے نہیں پتا تها وہ پوری بات اس پہ ڈال دے گا
مجهے شہروز سے طلاق چاہیے ابو. حباء نے سوچ کر حتمی لہجے میں کہا
کیا کہہ رہی ہو تم تمہارا دماغ ٹهیک ہے تم پاگل ہو چکی ہو؟ ابو کی آواز غصے سے کانپنے لگی
ابو میں اس کے ساته نہیں رہنا چاہتی مجهے طلاق چاہیے اگر اس نے نا دی تو میں خلع لے سکتی ہوں. حباء نے ہٹ دهرمی سے کہا اب وہ اس سٹیج پہ آ کر پیچهے نہیں ہٹنا چاہتی تهی.
تم پاگل ہو چکی ہو…. شہروز بیٹا تم پلیز حوصلے سے کام لو میں اسے سمجهاوں گا….
مجهے آپ جو بهی سمجهائیں ابو مگر میں اس کے ساته نہیں رہوں گی اب. حباء نے ان کی بات کاٹ دی. وہ اب شہروز کا نام بهی نہیں لینا چاہتی تهی اور یہی چیز شہروز کو تکلیف دے رہی تهی
بیٹا تم میری بات سنو تم پلیز ایسا مت کرو یہ تو بے وقوف ہے…ابو نے شہروز کے آگے ہاته جوڑ لیے جنہیں شہروز نے اپنے ہاتهوں میں تهام لیا
ابو میں آپ کی بہت عزت کرتا ہوں آپ حکم کریں گے پوری لائف آپ کی بات مان لوں گا مگر ابو میری انا، خوداری اور عزت نفس کو اسطرح اس عورت کے پیروں میں کچلنے کے لیے مت کہیں. ابو میں اس کے سامنے مذید نہیں جهک سکتا پلیز مجهے مجبور مت کریں.شہروز کے لہجے میں التجا تهی ابو نے بے بسی سے اسے دیکها اور نفرت سے اس بد بخت کو دیکها جو اندهی ہو چکی تهی اور اس کی آنکھوں پہ پردہ پڑ چکا تها جو ایسے انسان کو ٹهکرا رہی تهی. شہروز نے ابو کے ہاته مضبوطی سے تهام کر انہیں گلے سے لگا لیا. شہروز نے آنکهیں بند کر لیں چند لمحے ایسے گزرے تینوں نفوس کی دل کی دھڑکن تهم رہی تهی. اس خاموشی کو شہروز کی آواز نے توڑا ایسے الفاظوں سے جو ایک عزت دار باوفا عورت کبهی نہیں سن سکتی.
حباء!…. میں شہروز حیات…. تمہیں اپنے پورے ہوش و حواس میں …..طلاق دیتا ہوں…. شہروز نے تکلیف سے آنکهیں بند کر لی کوئی بهٹکتا ہوا آنسو سے آنکه کے پوروں سے نکلا ابا باقاعدہ رونے لگے اور حباء اس کا بهی دل ایک لمحے کو کانپ گیا.
طلاق دیتا ہوں….. پهر آواز ابهری مگر اس بار اس آواز میں کپکپاہٹ تهی دکه کی انتہا… ابو کے گرد شہروز نے اپنے بازو اور مضبوط کر لیے جیسے انہیں سہارا دیا ہو تسلی دی ہو..
حباء نے خوفزدہ نظروں سے شہروز کو دیکها جس کی آنکهیں اب بهی بند تهیں
طلاق دیتا ہوں…… شکست خوردہ سی آواز ابهری تینوں نفوس تهکن سے بے حال ہو چکے تهے جیسے صدیوں کا سفر طئے کیا ہوا ہو…. تهکن سے سانس تیز چل رہی ہو …. صدیوں کی مسافت….. شہریار کی گرفت ڈهیلی پڑ گئی اب اس میں اتنی طاقت نہیں رہی تهی کہ وہ کسی کو سہارا دیتا اس نے ہاته گرا دئیے اور ابو کرسی پہ گر سے گئے.
تمہیں پیپرز بهجوا دوں گا…. اس نے اب بهی حباء کی طرف نہیں دیکها تها. کتنی آسانی سے ہر حق سے دستبردار ہو چکا تها وہ تین لفظ اسے شہروز کے پاس لائے تهے…. تین لفظ اسے اس عورت سے بہت دور لے گئے تهے… وہ عورت جس سے اس نے بے حد محبت کی تهی……. وہ آگے بڑهتا جا رہا تها حباء پیچهے چهوٹتی جا رہی تهی حباء نے مڑ کے اسے جاتے ہوئے دیکها مگر آنسوؤں نے اس کا وجود دهندلا کر دیا تها. وہ اب صاف نظر نہیں آرہا تها.
وہ قدم بڑهاتا گیا اس کی آنکھوں میں جلن بڑهتی گئی. قرآن میں ہے کہ نیک مردوں کے لیے نیک عورتیں ہیں اور بری عورتوں کے لیے برے مرد…. شہروز گیٹ سے باہر نکل آیا اور آسمان کی طرف دیکها.
کہتے ہیں اللہ نے طلاق کا حق دینے کے باوجود بهی اس عمل کو نا پسندیدہ قرار دیا ہے. جب کہیں طلاق ہو تو اللہ کا عرش ہل جاتا ہے…. شہروز نے عرش کو ہلتے محسوس کیا اس کا دل ٹوٹ رہا تها اس کا دل رو رہا تها اس نے آنکھوں کو مسلا…. گلاسز لگائے اور گاڑی کی طرف بڑه گیا سب پیچهے رہ گیا طوفان آ کر گزر چکا تها….. ہر طرف موت کی سی خاموشی تهی
####
حباء خود کو بہت آزاد محسوس کر رہی تهی دکه کا جو تاثر اس کے چہرے پہ تها اب ختم ہو چکا تها ہر چیز صاف نظر آرہی تهی. اسے آج سر تیمور سے بات کرنی تهی آج وہ دو دن بعد یونیورسٹی جا رہی تهی اس کی منزل قریب تهی سر تیمور کو پا لینا اب آسان لگنے لگا تها ایک بار یہ رشتہ طئے ہو جائے میں انہیں سب بتا دوں گی پهر وہ میری بات سمجه جائیں گے میں انہیں اپنی محبت کا یقین دلاوں گی وہ سب سمجه جائیں گے. اس کا ارادہ مضبوط تها
السلام علیکم سر…. حباء نے کلاس کے بعد انہیں نکلتے دیکها تو پیچهے آ گئی.
وعلیکم السلام. … کیسی ہیں مس حباء. انہوں نے جواب دینے کے ساته ہی اس کا حال پوچها.
میں بلکل ٹهیک ہوں سر آپ کیسے ہیں؟ حباء کی خوشی کا کوئی ٹهکانا نہیں تها
آئیں اس طرف چلتے ہیں. تیمور نے اس کا سوال نظر انداز کر دیا
شیور… وہ اس طرف چل دی وہ بهی ساته ساته چلنے لگا
نسبتاً خاموش گوشے میں آکر وہ رک گئے. حباء بهی وہیں رک گئی.
تو کیسے ہیں آپ کے ابو؟ اور کب ملوا رہی ہیں ان سے. شہروز نے کهڑے کهڑے ہی سوال پوچها
سر بہت جلد نیکسٹ ویک تک ضرور. حباء سے اپنی خوشی چهپائے نہیں چهپ رہی تهی
اور آپ کے ہزبینڈ سے کب ملوائیں گی. تیمور نے نارمل سے لہجے میں اسے دیکهتے ہوئے کہا. جبکہ حباء پہ جیسے بجلی سی گر پڑی.
جی…؟ میں سمجهی نہیں… حباء نے خوف سے ان کی آنکھوں میں دیکها
میں سمجهاتا ہوں…. آپ کے شوہر مسٹر شہریار حیات … جن سے ایک سال پہلے آپ کی شادی ہوئی تهی مش حباء شہریار.تیمور کا لہجہ اب بهی نارمل تها مگر ان کا ایک ایک لفظ زہر میں ڈوبا تها جو حباء کو قطرہ قطرہ کر کے موت کہ منہ میں لے جا رہا تها اس کا چہرہ سفید پڑ گیا
سر میں آپ کو بتانے والی تهی…..
اور اس کے بعد آپ مجه سے بات کرنے کی کوشش بهی نہیں کریں گی اب. تیمور نے اس کی بات کاٹ دی.اور واپس جانے کے لیے مڑا سر پلیز میری بات تو سن لیں میری اس سے طلاق ہو چکی ہے میں اب اس کے ساته نہیں رہتی. یہ نام کی شادی تهی جو میرے ابو نے زبردستی کروائی تهی وہ شخص ایک اچها انسان نہیں تها…. وہ شراب پیتا تها وہ مجه پہ تشدد کرتا تها سر پلیز میری بات سن لیں کوئی بهی غلط فیصلہ کرنے سے پہلے. حباء باقاعدہ رونے لگی
اوہ اس لیے وہ آپ کو یونیورسٹی میں بهیج رہا تها کیونکہ وہ بہت برا تها؟ اور آپ بے فکر رہیں میں کوئی غلط فیصلہ نہیں کروں گا.. تیمور کا لہجہ اب بهی نارمل تها حباء الجهن سے انہیں دیکه رہی تهی اسے ان کے رویے سے کچه بهی سمجه نہیں آ رہا تها.
سر آپ مجه سے شادی کریں گے نا؟ حباء نے ان کی بات نظر انداز کرنا چاہی
مس حباء وہ انسان بہت برا تها وہ واقعی بہت برا تها ایسے انسان آپ جیسی عورتوں کو نہیں سمجه پاتے…. مجهے حیرت ہے اس نے کیسے آپ کے ساته ایک سال گزار لیا؟ تیمور کے چہرے پہ مسکراہٹ تهی کڑوی اور طنزیہ مسکراہٹ…. حباء الجهن سے بس ان کو دیکه رہی تهی اس کے پاس کہنے کو کچه تها ہی کہاں…
میں گنہگار ہوں گا مگر اتنا نہیں کہ آپ جیسی عورت میرے نصیب میں لکه دی جائے….. حباء کے آنسو رک چکے تهے وہ اب بهی تیمور کے چہرے کو دیکه رہی تهی کهوجنے کی کوشش کر رہی تهی… اور وہ ٹهر ٹهر کر مضبوط لہجے میں بول رہا تها
اس نے آپ کو طلاق دی کیونکہ آپ اس کے قابل نہیں تهی…. ایک اور تمانچہ اس نے ٹهنڈے لہجے میں حباء کے منہ پہ مارا
آپ نے سوچ بهی کیسے لیا میں آپ سے شادی کروں گا یہ سب جان کر. تیمور نے ہاته سینے پہ بانده لیے اور نظریں اس کے چہرے پہ ٹکا دیں
مجهے لگا تها آپ ایک سادہ اور معصوم لڑکی ہیں. مگر نہیں آپ تو ایک شاطر مکار اور بے وفا عورت ہیں… جو ہزبینڈ سے دهوکہ کر گئی کیونکہ وہ اپنے نفس پہ قابو نہیں رکه سکی…. میں اپنی لمٹس نا بنائے رکهتا تو آپ تو کچه بهی کر گزرتی….
حباء نے تڑپ کر انہیں دیکها ایسی ذلت اتنی کیچڑ
سر آپ میرے کریکٹر پہ بات نہیں کر سکتے آپ میری انسلٹ کر رہے ہیں. حباء نے آواز اونچی کر لی.
آواز نیچے…. میں نے آواز اونچی کر لی نا تو یہاں کسی کو منہ دکهانے کے قابل نہیں رہیں گی آپ….تیمور نے ٹهوس مگر سخت لہجے میں اسے تنبیہ کی.
اور کونسا کریکٹر؟ میں آپ کو ہر بار نا دهتکارتا تو آپ کسی بهی حد تک چلی جاتی… کیونکہ آپ تو ماڈرن ہیں نا؟ اور ایسی دوستیاں تو عام سی بات ہیں آپ کے لیے….
آپ کی سوچ اتنی گهٹیا ہو گی میں سوچ بهی نہیں سکتی تهی اتنا چهوٹا ذہن ہے آپکا اور آپ ایک نہایت ہی………. آدهی بات اس کہ منہ میں رہ گئی تیمور نے ایک زور دار تهپڑ اس کے منہ پہ مارا حباء نے شاک کی کیفیت میں اسے دیکها
گهٹیا میں نہیں تم ہو…. تمہاری سوچ ہے بلکل تمہارے اس گهٹیا حلیے کی طرح. … میں پهر بهی تمہیں معاف کر دیتا اگر آج تم اپنے شوہر کے لیے یہ بکواس نا کرتی… تمہیں شرم سے ڈوب کر مر جانا چاہیئے تمہارے جیسی عورتیں عزت کے قابل نہیں ہوتی… اگر یہی تهپڑ تمہاری فیملی یا تمہارا ہزبینڈ نے تمہیں مارا ہوتا تو آج تم اسطرح میرے سامنے بکواس نا کر رہی ہوتی. آئیندہ تم نے مجه سے بات بهی کرنے کی کوشش کی تو بہت برا پیش آوں گا تمہارے جیسی لڑکیوں سے مجهے سخت نفرت ہے…. ان کے لہجے اور آنکهوں سے نفرت صاف نظر آ رہی تهی
اب جاو پوری یونیورسٹی میں ڈهنڈورا پیٹو کہ میں نے تمہارے ساته یہ رویہ رکها مگر یہ ہرگز مت بتانا کہ تم نے کیا کیا کیونکہ لوگ تمہیں نفرت اور حقارت سے دیکهیں گے. میری جگہ کوئی اور ہوتا تو تم آج کتنا نقصان کروا چکی ہوتی تمہیں اندازہ بهی نہیں. مگر تمہارے لیے یہی سزا بہت ہے. وہ کہتے ہوئے لمبے لمبے ڈگ بهرتے وہاں سے نکل گئے. حباء کو زلت کی دلدل میں دهکا دے کر جس کا انتخاب اس نے خود کیا تها…. شہروز نے اسے کبهی اف نہیں کہا تها جبکہ وہ اس کا شوہر تها اور آج ایک اجنبی نے اس کے منہ پہ بے پناہ تهپڑ مارے تهے ذلت کے رسوائی کے، اس کی اوقات کیا تهی؟ یہی؟ کہ اس نے ایک مرد کو ٹهکرایا اور ایک نے اسے ٹهکرا دیا….. اتنا برا سودا ؟ وہ خالی ہاته تو نہیں رہی تهی ذلت اس کا مقدر بنا فی گئی تهی…. اس کے قدم من من بهر کے ہو رہے تهے کون اسے دیکه رہا تها کون اس پہ ہنس رہا تها وہ نہیں دیکه پائی…. ہاں دور کهڑی فاطمہ نے اسے افسوس بهری نظروں سے دیکها. اسے دکه تها اس نے سر تیمور کو سب بتا کر اس لڑکی کو اندهے کنویں سے بچانا چاہا تها مگر وہ نہیں جانتی تهی وہ اپنا گهر تو پہلے ہی اجاڑ چکی تهی تیمور نے تو اس تابوت میں بس آخری کیل ٹهونکی تهی….
####
حباء تم یہاں؟ شہروز آج دو مہینوں بعد اسے دیکه رہا تها وہ بہت کمزور لگ رہی تهی.
اندر آ جاوں؟ حباء نے اس سے اجازت چاہی
شہروز نے جهجکتے ہوئے اسے اندر آنے کو کہا اب اس کا یہاں آنا مناسب نہیں تها مگر وہ اسے انکار نہیں کر پایا.
کیا ہوا سب ٹهیک ہے نا؟ شہروز نے اس کے سامنے بیٹهتے ہوئے کہا جب کہ وہ گهر کے ایک ایک کونے کو حسرت سے دیکه رہی تهی کبهی یہ اس کا گهر ہوا کرتا تها اس گهر میں ہر چیز اب بهی ویسے ہی نفاست سے رکهی تهی بس اس کی ذات بکهر چکی تهی.
کچه ٹهیک نہیں….. جس کے لیے میں نے تمہیں ٹهکرایا اس نے مجهے ٹهکرا دیا…. حباء کی آواز اور آنکهیں بهرا گئیں
اوہ گاڈ…. شہروز کو واقعی دکه ہوا
تمہارے ساته جو کیا اس کی سزا مجهے مل گئی شہروز…. تمہاری آہ مجهے لگ گئی… حباء کے رونے میں تیزی آگئی.
حباء میں نے کبهی تمہارے لیے برا نہیں سوچا ہمیشہ دعا کی کہ تم خوش رہو..میں کبهی تمہارا برا چاہ ہی نہیں سکتا. شہروز کو اس سے ہمدردی ہو رہی تهی اس کو اس پہ ترس آرہا تها
شہروز مجهے معاف کر دو پلیز مجهے معاف کر دو. حباء نے اس کے آگے ہاته جوڑ لیے
پلیز حباء ایسے مت کرو میں تمہیں کب کا معاف کر چکا ہوں تم پلیز رونا بند کرو. شہروز نے اس کو اسطرح روتے دیکه کر اپنے دل میں اس کی تکلیف محسوس کی.
تو پهر مجه سے شادی کر لو مجهے پهر سے اپنی لائف میں شامل کر لو. میں اب ہر سبق سیکه چکی ہوں… میں بہت شرمندہ ہوں حباء کے ہاته اب بهی بندهے ہوئے تهے.
تم کیا کہہ رہی ہو حباء اب یہ نہیں ہو سکتا. شہروز نے اٹهتے ہوئے کہا
کیونکہ نہیں ہو سکتا؟ تم چاہو تو حلالہ….
جسٹ شٹ اپ اس کے آگے ایک لفظ بهی مت بولنا. تم نے مجهے اتنا گرا ہوا سمجه لیا. مجهے اب تک تم سے گلہ تها اب مجهے تم سے نفرت محسوس ہو رہی ہے. شہروز کی آنکھوں میں نفرت تهی…. آج پہلی بار نفرت تهی
شہروز پلیز اس کی اجازت تو اسلام بهی دیتا ہے تم مجه سے نفرت مت کرو پلیز مجهے اپنا لو…حباء گڑگڑائی
اسلام کوبیچ میں مت لاو اسلام یہ نہیں کہتا کہ اپنے نفس کے ہاتهوں مجبور ہو کر طلاق لو پهر حلالہ کرو.
نکلو میرے گهر سے اس سے پہلے کہ تم میری نظروں میں اور گرو جاو یہاں سے. شہروز نے اپنا سر ہاتهوں میں پکڑ لیا
نہیں شہروز مجهے احساس ہے میں….. اس کی بات درمیان میں رہ گئی اور شہروز نے اسے بازو سے پکڑ کے دروازہ سے باہر کهڑا کر دیا اور دروازہ بند کر دیا وہ رو رہی تهی گڑ گڑا رہی تهی مگر اس نے اپنے ہاتهوں سے سب گنوا دیا تها.
نفس کے ہاتهوں مجبور لوگ ہمیشہ خالی ہاته ہی رہ جاتے ہیں.
میں اس کہانی کو بدل کر اس میں تیمور کے کردار کو برا بهی دکها سکتی تهی کہ مرد یہ کرتا ہے مگر میں نے نہیں کیا کیونکہ میں یہ تصویر کا یہ رخ آپ لوگوں کو دکهانا چاہتی تهی کہ ہر مرد غلط نہیں ہوتا. ایسے مرد بهی ہیں جو اپنے آپ کو ہر غلازت سے پاک رکهتے ہیں ہمیشہ مرد برا نہیں ہوتا بعض اوقات عورت بهی اپنی حدود پار کر دیتی ہے. اور حدوں کو پار کرنے والی عورتیں صرف رسوا ہوتی ہیں جو شہروز جیسے شوہروں کی قدر نہیں کرتیں پهر انہیں بهی اس معاشرے میں سوائے ذلت اور دهتکار کے کچه نہیں ملتا. میری بہنو سنبهل جاو اپ سنمبهل سکتی ہو ہر چیز آپ کے اپنے ہاته میں ہوتی ہے کوئی بهی ہمارے ساته برا یا اچها نہیں کرتا یہ ہم خود ہوتے ہیں جو اپنے ساته برا کرتی ہیں. دعاؤں میں یاد رکهئیے گا.
ختم شد
