Khawab Ankhon Sameet Bechay Hai by Kashaf Chaudhary NovelR50718 Khawab Ankhon Sameet Bechay Hai by Kashaf Chaudhary Episode 04
Rate this Novel
Khawab Ankhon Sameet Bechay Hai by Kashaf Chaudhary Episode 01 Khawab Ankhon Sameet Bechay Hai by Kashaf Chaudhary Episode 02 Khawab Ankhon Sameet Bechay Hai by Kashaf Chaudhary Episode 03 Khawab Ankhon Sameet Bechay Hai by Kashaf Chaudhary Episode 04 (Watching)Khawab Ankhon Sameet Bechay Hai by Kashaf Chaudhary Last Episode
Khawab Ankhon Sameet Bechay Hai by Kashaf Chaudhary Episode 04
سر تیمور نے اس سے دوستی تو نہیں کی مگر ان کا لہجہ اب نرم ہو گیا تها اور اس کے لیے یہی بات بہت تهی… عجیب بات تهی حباء کا لہجہ شہروز کے ساته سخت ہوا تو تیمور کا لہجہ اس کے لیے نرم کر دیا….. یہ خسارا تها یا منافع تها؟ ……. یہ کیسا سودا تها جس میں محرم کے بدلے نا محرم کو چنا گیا تها…. اور بخوشی چنا گیا تها……
قرآن پاک میں ہے “بے شک انسان خسارے میں ہے” بلکل انسان خسارے میں ہے. اس سے بڑا خسارا اور کیا ہو گا کہ آپ حلال کے بدلے حرام خرید لو…… جائز کے بدلے نا جائز خرید لو……. حباء نے اس کو ٹهکرا دیا تها جو اس کی محبت میں دیوانا تها اس کو چن لیا تها جس کی محبت میں وہ دیوانی تهی….. اسے چهوڑ دیا جو اس کی قدر کرتا تها اسے چن لیا جس کے لیے وہ کوئی اہمیت نہیں رکهتی تهی…. اس سے بڑا خسارا اور کیا ہو گا؟
بے شک گناہ میں لذت ہے…. اور اس لذت کے لیے ہم کیسے کیسے گناہ کر رہے ہم سوچتے بهی نہیں. ماڈرن ہونا اچها ہے مگر جاہل ہونا برا ہے افسوس کہ ہم ماڈرن ازم کے چکر میں جہالت کی طرف چل پڑے ہیں اور اس کا ہمیں احساس بهی نہیں
####
شہروز اس دن کے بعد ہو گیا تها مکمل خاموش. اس نے حباء کی طرف دیکهنا بهی چهوڑ دیا تها. نا اس نے غصہ کیا نا وہ چلایا نا اس نے یہ پوچها کہ اس کی بیوی کس میں انٹرسٹڈ ہے….. شرم آ رہی نا یہ جملہ پڑه کر کہ “بیوی کس میں انٹرسٹڈ ہے؟” اگر آپ کو اس جملہ سے شرمندگی ہو رہی سمجه لیں آپ “زندہ” ہیں….. آپ کو اس جملہ میں کشش نہیں لگی تو آپ مردہ ہیں…..
وہ چپ تها مگر اس کا دل ماتم کناں تها ایک پاک مرد…. ہاں پاک مرد…. وہ پاک مرد تها…. صرف اچهی عورت پاک نہیں ہوتی غلاظت سے دور رہنے والا مرد بهی پاک مرد ہی کہلاتا ہے……… وہ بهی تها…. اور اس کو ایک ایسی بیوی ملی تهی جو کسی اور کو دل میں بسائے بیٹهی تهی جس پہ سراسر اسی کا حق تها…. جسم تو ایک وحشیہ بهی دیتی ہے….. مگر وفا اور دل یہ تو ایک محرم رشتہ ہی دیتا ہے… ایک بیوی دیتی ہے….. اور اس کی بیوی اپنے کهوکهلے جسم کے علاوہ اسے کچه نہیں دینا چاہتی تهی…. مگر ان مردوں میں سے نہیں تها…. جب وفا دی جائے بدلے میں وفا کی طلب رکهنا ہر مرد کا حق ہے اس کا بهی تها. وہ اسے اب بهی معاف کر سکتا تها بنا کچه پوچهے بنا کچه کہئ بنا اسے شرمندہ کیئے……
مگر حباء کو اس کی ضرورت نہیں تهی بهٹکنے والے کو واپس پلٹنے کی ضرورت نا ہو تو کوئی کیسے واپس لا سکتا جب تک وہ ٹهوکر نا کها لے…..حباء بهی انہی لوگوں میں سے تهی…
####
زینب نے اس سے بات کرنا چهوڑ دیا تها شہروز نے اس سے بات کرنا چهوڑ رکها تها مگر سر تیموع اب اس کے بات کرنے پہ اس سے ٹهیک سے بات کر لیتے تهے انہیں وہ ایک معصوم لڑکی لگی اور وہ اب اس کے ساته مذید برا سلوک نہیں کرنا چاہتے تهے. وہ ایک اچهی لڑکی تهی اور آجکل لڑکیاں اس انسان میں زیادہ کشش محسوس کرتی ہیں جو اس کے لیے ایک پہیلی ہوں جب تک وہ بند کتاب ہوں دلچسپی بڑهتی رہتی ہے جب کتاب کهل جائے اس کا ایک ایک پیج پڑه لیا جائے تو اس کتاب میں دلچسپی ختم اور اگر کتاب کا موضوع دلچسپ نا لگے تو درمیان میں چهوڑ دی جاتی ہیں…… کوئی بهی انسان ہمارے کیے تب تک کشش رکهتا ہے جب تک وہ کهل نا جائے. تیمور کو بهی یہی لگتا تها کہ وہ اس کی لاپرواہی سے جلد مایوس ہو جائے گی بیزار ہو جائے گی مگر یہ طئے تها وہ اس کو غلط راستے پہ ہر گز نہیں ڈالے گا کیونکہ اس کی بهی ایک بہن تهی اور دنیا مکافات عمل کا نام ہے جیسا کریں گے ویسا ہیں ملے گا جو بویا وہی کاٹنا ہے.
اور حباء بہت خوش تهی کہ برف پگهل رہی ہے وہ بہت جلد تیمور کے بہت قریب آجائے گی. ہمدردی اور محبت میں فرق ہم کب سمجه سکے ہیں حباء نے بهی یہی سمجه لیا تها. اور یہی سوچ کر اس نے ایک اور غلطی کر دی
تمہاری خاموشی کا کیا مطلب سمجهوں میں؟ حباء نے تنگ آکر شہروز کو مخاطب کر ہی لیا آخر. شہروز بنا کچه بولے آفس کے لیے تیار ہوتا رہا.
میں تم سے بات کر رہی ہوں شہروز…. مجهے جواب دو. حباء نے اسے پهر مخاطب کیا
میرے پاس تمہارے کسی سوال کا جواب نہیں حباء… شہروز نے بالوں میں برش کرتے ہوئے کہا اس نے حباء کی طرف دیکهنے سے اب بهی گریز کیا
کیوں؟ کہاں گئے تمہاری محبت کے وہ بڑے بڑے دعوے. . معاف کر دوں گا اتنی محبت ہے.. بس یہی تک تهی تمہاری محبت؟ حباء نے ہاته سینے پہ بانده کر طنز سے اس کے عکس کو شیشے میں دیکها. شہروز کا برش کرتا ہاته رک گیا. وہ اس کی طرف مڑا اور اسے افسوس بهری نظروں سے دیکها
میں اب بهی تمہیں معاف کرنے کو تیار ہوں…. میں اب بهی اس رشتہ کے بگاڑ کو سدهارنے کو تیار ہوں…. میں اب بهی تمہیں وہی محبت دے سکتا ہوں جو اب تک تم سے کرتا آیا ہوں….. میں آج بهی تمہیں وہی عزت دینے کو تیار ہوں جو میری بیوی کی ہے…. میں پیچهے نہیں ہٹوں گا کبهی حباء تم ہمیشہ مجهے اپنے حق میں بہتر پاو گی…. وہ آہستہ آہستہ بولتا ایک ایک لفظ پہ زور دیتا اس کی آنکھوں میں دیکه کر بول رہا تها پوری سچائی کے ساته. ہر بات میں سچائی تهی… مگر بهٹکے ہوئے لوگ اس سچائی کو دیکه کر بهی اس کی پہچان نہیں کر پاتے حباء بهی انہی میں سے تهی
تو پهر اس خاموشی کا کیا مطلب ہے؟منافقت ہے نا یہ کہ تم دل میں مجهے برا جانو اور زبان تمہاری میرے لیے شیرینی ہو. حباء نے گلہ کیا یا طنز وہ سمجه نہیں پایا
تم کیا چاہتی ہو؟ شہروز نے مدهم اور نرم لہجے میں پوچها
مجهے نہیں پتا…. وہ میرا ٹیچر ہے اور میں اس سے بہت محبت کرنے لگی ہوں میرا دل کرتا ہے میں اس کو دیکهتی جاوں بس اور اب اس سے میری دوستی بهی ہو رہی ہے. حباء نے بیڈ پہ بیٹهتے ہوئے کہا اسے لگا شہروز کی نرمی اس کا مطلب ہے وہ اس سے کهل کر شئیر کر لے اور اسے کوئی افسوس بهی نہیں تها کسی نقصان کا.
تم کیا چاہتی ہو مجهے بس وہ بتاو. شہروز نے اس ناگوار ذکر کو گول کر دیا.
میں بس اسے چاہتی ہوں مجهے اور کچه نہیں پتا. حباء واقعی نہیں جانتی تهی اسے کیا کرنا ہے.
اور مجهے؟ میرے لیے تمہاری کیا فیلنگز ہیں؟ شہروز نے اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ کو غور سے دیکهتے ہوئے پوچها
تمہارے لیے اب میرے دل میں کوئی جزبہ نہیں رہا شہروز… حباء نے اتنی کڑوی بات آسانی سے اسے کہہ دی
مجهے افسوس ہے تمہارے ساته جو کیا غلط ہے مگر میرے بس میں نہیں کہ میں اس کو بهول جاوں اب. حباء نے ترحم بهری نظروں سے اسے دیکها
نہیں حباء مجه پر ترس مت کهاو…. کیونکہ نقصان میرا نہیں ہوا نقصان سراسر تمہارا ہوا تمہیں خود پہ افسوس کرنا چاہیے اور تم ایک دن ضرور کرو گی. شہروز کے چہرے پہ تکلیف کے آثار نمایاں تهے
اپنا سامان پیک کر لو آفس سے واپسی پہ تمہیں ابو کے پاس چهوڑ دوں گا. شہروز ایک دم سے کهڑا ہوگیا
ابو کے گهر؟؟؟؟ مگر… حباء کے وہم و گمان میں بهی نہیں تها وہ ایسی بات کرے گا اسے تو لگا تها وہ اتنا اچها ہے تو پهر وہ سب اپنی مرضی سے کروا لے گی
ہاں ابو کے گهر….. تمہارے دل میں میرے لیے کوئی جزبہ نہیں تو سوری حباء میرے گهر میں ایک ایسی عورت کے لیے جگہ نہیں جس کا دل کسی اور کی ملکیت ہو….. میں اتنا اچها نہیں ہوں کہ ایسی عورت کے ساته رہوں جس کے دل میں میرے لیے کوئی جذبہ نہیں. تیار رہنا تمہیں شام میں چهوڑ دوں گا وہاں واپسی پہ. شہروز نرم لہجے میں کہتا ہوا باہر نکل گیا. حباء کو لگا چهت اس پہ آگری ہے اس نے تو سوچا بهی نہیں تها کہ شہروز ایسا بهی کر سکتا ہے. ایسا تو وہ بلکل نہیں چاہتی تهی اسے لگا تها وہ اس سے پیار کرتا ہے اس کی ہر بات مانتا جائے گا مگر وہ بهول گئی تهی یہ کوئی فلم نہیں تهی یہ حقیقی زندگی تهی جہاں ایک شوہر کی غیرت یہ بات گوارہ نہیں کرتی کہ اس کی بیوی کسی اور کو دل میں رکه کہ اسے ٹهکرا دے ایک مرد کی غیرت یہ برداشت نہیں کرتی کہ جس عورت کو وہ عزت دیتا رہا وہ اس کی عزت خاک میں ملانے لگی تهی وہ بری طرح پهنس گئی تهی ابو کے گهر جانا مطلب ہر الزام اس کے سر آجانا تها جب کہ وہ چاہتی تهی یہ بندوق وہ شہروز کے کندهے پر رکه کر چلائے
####
اس کا موڈ بہت خراب تها وہ سر تیمور سے بات کرنا چاہتی تهی اب اس تعلق کو آگے بڑهانا ضروری ہو گیا تها
سر میری اب بهی وہی ریکویسٹ ہے کیا مجهے آپ کا نمبر مل سکتا ہے؟ حباء نے ہر بار کی گئی ریکویسٹ آج پهر دوہرائی
آپ کو میرے نمبر کی کوئی ضرورت نہیں جو بات کرنی ہو آپ یہاں بهی کر سکتی ہیں. اور ویسے بهی مجهے نہیں پسند کوئی لمبی لمبی کالز کرنا. تیمور نے ہمیشہ کی طرح انکار کر دیا
سر آپ مجه سے شادی کریں گے؟ حباء نے ایکدم سے ان کے سر پہ دهماکا کیا انہیں لگا انہیں سننے میں کوئی غلطی ہوئی.
میں سمجها نہیں سوری؟؟؟ تیمور نے حیرت کا بهرپور اظہار کرتے ہوئے کہا اس کے ماتهے پہ بل صاف دیکهے جا سکتے تهے
سر آپ کو دوستی پسند نہیں تو کیا آپ مجه سے شادی کریں گے؟ حباء نے لفظوں کے ہیر پهیر سے اپنی بات پهر دوہرائی
آپ پاگل ہو مس حباء؟ شہروز کے پاس اس بے تکے سوال کا کوئی جواب نہیں نظر آیا
سر پلیز…. میں آپ کو بہت پسند کرتی ہوں آپ کوئی رشتہ بنانا نہیں چاہتے تو پلیز مجه سے شادی کر لیں. شہروز کو اس لڑکی پہ ترس آیا وہ کیا چاہتی تهی آخر
آپ خود کو میری نظر میں اتنا کیوں گرا رہی ہیں مس حباء. آپ جانتی بهی ہیں آپ کیا کہہ رہی ہیں؟ اپنی انا کو کیوں ٹهیس پہنچانا چاہتی ہیں؟ تیمور نے افسوس سے اسے دیکها
سر میں بہت بے بس ہو چکی ہوں آپ کے معاملے میں. شادی تو غلط چیز نہیں نا پهر شادی کر لیں مجه سے. حباء نے مزید وضاحت کی
یہ نہیں ہو سکتا مس. آپ بہت بچکانہ بات کر رہی ہیں. تیمور کو سمجه نہیں آرہا تها کیا کہے اسے
آپ کسی اور میں انٹرسٹڈ ہیں؟ حباء نے ان کے انکار کی وجہ جاننا چاہی
میں ان خرافات میں نہیں پڑتا مس. تیمور اب بیزار ہونے لگا تها
تو پهر مجه سے شادی کر لیں سر. آپ اس معاملے میں سوچ تو سکتے ہیں نا. حباء نے اسے لاجواب کر دیا تیمور الجهی ہوئی نظروں سے اسے دیکهنے لگا اس کے پاس کہنے کو کچه نہیں تها
آپ سوچئیے گا سر اور پلیز جواب ہاں میں ہونا چاہیئے جب کسی سے کرنی ہے تو میں کیوں نہیں. حباء نے آخری کیل ٹهونکی اور اٹه کهڑی ہوئی. انہیں الجها پریشان حیران چهوڑ کر.
####
شہروز پلیز میرے ساته ایسا مت کرو. حباء نے اپنا لہجہ نرم کر لیا وہ نرم لہجے میں اسے سمجها سکتی تهی
حباء یہ سب تم نے شروع کیا میں نے نہیں. تم کیوں نہیں بس کر دیتی؟ شہروز اس کے کپڑے اور ضروری سامان بیگ میں ڈالنے لگا
شہروز ان چیزوں میں زبردستی نہیں ہوتی تم اسطرح مجهے بلیک میل کر کے اس رشتے کو واپس ویسا نہیں کر سکتے. حباء کو سمجه نہیں آرہا تها وہ اسے کیسے اس عمل سے روکے.
میں تمہیں بلیک میل نہیں کر رہا. میں تمہیں وقت دے رہا ہوں تم جاو سوچو اچهی طرح. جب تمہیں لگے تمہارے دل میں واپسی کی گنجائش ہے تم ایک آواز دینا میں بنا اف کیے تمہیں لینے آ جاوں گا. مگر اس طرح بٹی ہوئی عورت مجهے نہیں چاہیئے. میں تم سے اپنی محبت کے لیے بهیک نہیں مانگوں گا کیونکہ یہ میری محبت کی توہین ہو گی. شاید میری محبت میں کہیں کمی رہ گئی تهی تب ہی تم نے کسی اور کے لیے دروازے کهول دئیے. میں بهی یہی سوچنا چاہتا ہوں میں نے کہاں کمی کی اپنی محبت میں. اور یہ میں تمہارے ہوتے نہیں سوچ سکتا. شہروز نے بیگ بند کر دیا
شہروز پلیز میرے ساته ایسا مت کرو ابو کیا سوچیں گے. حباء نے اب آنسوؤں سے اسے پگهالنا چاہا
نہیں تم فکر مت کرو تمہاری عزت پہ کوئی حرف نہیں آئے گا جب تک تم میری بیوی ہو تم مجهے اپنی ذات کے ساته مخلص پاو گی. شہروز کو اس کے آنسو تکلیف دے رہے تهے بہت تکلیف مگر وہ اس فیصلہ سے ہٹنا نہیں چاہتا تها
میں گاڑی میں ویٹ کر رہا ہوں تم آ جاؤ. شہروز نے بیگ اٹها لیا اور بنا اس کی طرف دیکهے باہر نکل گیا. نا چار حباء کو اس کے پیچهے جانا پڑا. آج پہلی بار اسے شہروز اتنا مشکل لگ رہا تها. محبت کتنی عجیب چیز ہے ملتی رہی تو کوئی برائی نظر نہیں آتی کتنا آسان لگتا ہے محبت وصولنا….. جب محبت کو اس کے حقوق سے دستبردار کر دیا جائے اسے ٹهکرا دیا جائے کتنا مشکل ہو جاتا ہے اسے واپس اپنے مقام پہ لانا. محبت کو صرف محبت ہی واپس لا سکتی ہے سچی محبت خلوص وفا…. جو حباء نہیں دے سکتی تهی تو اس نے کیسے سوچ لیا تها کہ جب وہ ہر چیز سے دستبردار ہو جائے گی تو اسے کیسے وہ محبت مل سکتی تهی
####
وہ ایک گهنٹا سے اس بیوقوف لڑکی کو سوچ رہا تها وہ کیسی تهی کیا چاہ رہی تهی. وہ اتنی معصوم تهی؟ کہ میں بار بار دهتکارتا رہا ہوں اور وہ پهر بهی میری طرف بڑهتی رہی.
وہ اتنی بهی بری نہیں وہ صیح تو کہتی ہے جب کسی سے بهی کرنی ہے تو اس سے کیوں نہیں؟
کسی کو دکه اور روگ دینے کے بجائے اسے سکه اور خوشی اگر وہ دے سکتا تها تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں تها. اس نے ایک لمبی سانس لی اور کوئی فیصلہ کر کے مطئن ہو گیا. اسے حباء کے بارے میں انفارمیشن لینا چاہیئے وہ اچهی لڑکی ہے وہ مسلسل یہی سوچ رہا تها اور اپنے فیصلے کی پختگی کو سمجهنے کی کوشش کر رہا تها.
_______
شہروز نے گاڑی گیٹ کے سامنے روکی اور اور بیگ اٹها کر گهر کی طرف بڑه گیا حباء اسی طرح گاڑی میں بیٹهی رہی. اسے ابو کا سامنا کرنے سے ڈر لگ رہا تها وہ کیا سوچیں گے اس کے بارے میں. لڑکی جیسی بهی ہو باپ کا لحاظ تو ہوتا ہی ہے اس کی نظر میں گرنے کے ڈر سے ہی روح کانپ جاتی ہے. شہروز نے پیچهے مڑ کے دیکها وہ اسی طرح گاڑی میں بیٹهی تهی. وہ واپس اس کی طرف آیا
آ جاو حباء… اترو… شہروز نے نرمی سے کہتے ہوئے گاڑی کا دروازہ کهول دیا.نا چار حباء کو باہر آنا پڑا شہروز اس کے آگے چلنے لگا اور وہ سست قدموں سے چلتی اس کے پیچهے آگئی.دونوں آگے پیچهے اندر داخل ہوئے. ابو سامنے لان میں بیٹهے چائے پی رہے تهے شہروز ان کی طرف بڑه گیا
ارے میرے بچے آئے ہیں. ابو انہیں دیکهتے ہی ان کی طرف بڑهے
السلام علیکم ابو!طبیعت کیسی ہے آپکی. شہروز نے ان کے بڑهے ہوئے ہاته تهام لیے
مجهے کیا ہونا بیٹا اپنے بچوں کو دیکه کر بلکل ٹهیک ہو جاتا ہوں. ابو نے حباء کو سینے سے لگایا
شہروز وہیں کرسی پہ بیٹه گیا حباء کا دل تیزی سے دهڑک رہا تها پتا نہیں ابو کیسے ری ایکٹ کریں گے. وہ سر جهکائے خاموشی سے سوچے جا رہی تهی
کیا ہوا آج میری بیٹی چپ چپ ہے؟ ابو نے اس کی خاموشی کو نوٹ کرتے ہوئے پوچها وہ ایکدم سے بوکهلا گئی
ابو میں کچه دنوں کے لیے شہر سے باہر جا رہا ہوں اس لیے پریشان ہو رہی ہے. شہروز نے اسی اطمینان سے جواب دیا
اچها اچها… چهوٹا سا دل ہے میری بیٹی کا جلدی ڈر جاتی ہے. ابو نے پیار سے حباء کو دیکها
جی ابو اس لیے سوچا حباء کو یہاں چهوڑ دوں کچه دن آپ کے ساته رہ لے گی. شہروز نے مسکراتے ہوئے ابو کو مطمئن کیا
اچها اچها بلکل ٹهیک کیا بیٹا میں بهی مس کر رہا تها اپنی بیٹی کو تم تسلی سے جاو. ابو مطمئن ہو گئے
اوکے میں چلتا ہوں لیٹ ہو رہا ہوں. اپنا خیال رکهنا ہے آپ نے. اور حباء تم بهی اپنا خیال رکهنا. شہروز نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا. حباء نے اس کے چہرے پہ طنز ڈهونڈنا چاہا مگر وہاں ایسا کچه نہیں تها
اوکے بیٹا تم جاو اور اپنا خیال رکهنا ہے تم نے. ابو نے اسے پیار سے تنبیہ کی.
جو ابو ضرور. وہ مسکراتا ہوا اٹها گیا. حباء بهی اس کے پیچهے چلی آئی
واپس کب آو گے مجهے لینے؟ گیٹ پر آ کے حباء نے اسے مخاطب کیا
جب تم کہو گی حباء. شہروز نے اس کے چہرے کو دیکهتے ہوئے کہا
میں نے تو یہ بهی کہا تها مجهے یہاں نہیں آنا. حباء نے شکوہ کناں نظروں سے اسے دیکها
میں تمہیں یہاں اس لیے چهوڑ کے جا رہا ہوں کہ تم اچهے سے سوچ سکو… وہاں میری موجودگی میں تم کوئی فیصلہ نا کر پاتی. میں امید کرتا ہوں تم جلد مجهے بلاو گی اور ایسا فیصلہ کرو گی جو ہمارے حق میں بہتر ہو. شہروز نے مدهم لہجے میں کہا نظریں اب بهی اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ کو جانچ رہی تهی
یہ فیصلہ ہم وہاں بیٹه کر بهی کر سکتے تهے. حباء نے ایک اور شکوہ کیا
نہیں کر سکتے تهے حباء. میں تمہاری بے رخی برداشت نہیں کر سکتا تها اور تم میری خاموشی. تم پریشان مت ہو میں ہر حال میں تمہارے ساته ہوں یہاں چهوڑنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ میں تم سے غافل ہو رہا میں تمہارا انتظار کروں گا. مگر فیصلہ سوچ سمجه کے کرنا. بٹی ہوئی عورت کے لیے میرے دل میں گنجائش نہیں ہو گی. اب فیصلہ تم نے کرنا ہے تم ایک سراب کے پیچھے ہمارا گهر اجاڑ بیٹهو یا پهر سے اس گهر کو اور میری لائف کو جنت بنا دو. میں ہر فیصلہ میں تم سے راضی ہوں گا. شہروز کہتا ہوا پلٹ گیا وہ وہی کهڑی اسے جاتا دیکهتی رہی وہ قدم قدم اس سے دور ہو رہا تها شاید اس کی زندگی سے بهی…. کیا مجهے اسے روکنا چاہئے؟ اس کا دل زور سے دهڑکا اس کے لب اسے پکارنے کو کانپے، آنکھوں سے چپکے سے دو ننهے قطرے گرے. وہ کیوں رو رہی تهی؟
شہروز کا دل دکهانے پہ رو رہی تهی؟
اس کے چهوڑ کے جانے پہ رو رہی تهی؟
اپنا گهر اجڑنے پہ رو رہی تهی؟
آہ…. یہ نادان لڑکیاں….. کب محرموں کی پہچان کر پائیں گی؟ کب اپنی حیثیت کو سمجهیں گی؟…… کیوں ایک لڑکی نہیں سوچتی؟….. باپ کا…. بهائی کا…. شوہر کا…..یہ پستی کی انتہا ہے کہ شوہر کے مقابلے نامحرم کو چن لیا جائے…. … ہم کیوں نہیں سنمبهل جاتی؟…. محبت ہونا ہمارے بس میں نہیں مگر اس محبت کو دل تک رکهنا ہمارے بس میں ہے نا؟….. تو کیوں وقتی خوشی خواہشات کے لیے صیح غلط کو بهول جاتی ہیں؟
حباء نے دروازہ بند کر دیا… شہروز کے اور اس کے درمیان دیوار آگئی تهی بہت اونچی دیوار جسے گرانا حباء کے ہاته میں تها
####
ہیلو سر… تیمور تیزی سے اپنے سامنے رکهوں پیپرز پہ پین چلا رہا تها جب حباء اس کے پاس آئی. تیمور نے مصروف انداز میں سر اٹها کے اسے دیکها
ہیلو مس حباء… اور واپس اپنے کام میں بزی ہو گیا
میں بیٹه جاوں؟ حباء نے اداسی سے پوچها آج اس کا دل بہت بهاری ہو رہا تها وہ چاہتی تهی سب ٹهیک کر دے اب. ایک سائے کے پیچهے بهاگنے سے کچه حاصل نہیں ہونا تها جو اس کے پاس تها وہ اسے بهی کهو دے گی مگر وہ آخری کوشش کرنا چاہتی تهی آخری بار سر تیمور سے پوچهنا چاہتی تهی
جی بیٹهیں. سر تیمور نے سب ورق سمیٹ لیے اور پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہو گئے اور سوالیہ نظروں سے اسے دیکهنے لگے
سر میں اپنے سوال کا جواب لینے آئی ہوں آپ سے. حباء سمجه چکی تهی وہ کچه بهی بولنا نہیں چاہ رہے اس لیے خود ہی بات شروع کی
میں اس کے بارے میں بہت سوچ چکا ہوں. مگر اسطرح رشتہ نہیں بڑهائے جاتے میں اس پہ سوچوں گا پہلے میں آپ کی فیملی سے ملنا چاہوں گا. اور آئیندہ ہم یہ بات نہیں کریں گے اور آپ اسطرح میرے پاس نہیں آئیں گی. یہ میرا نمبر ہے اسے پاس رکهیں اور اپنے پیرنٹس سے میری ملاقات کروا دیں. تیمور کے سنجیدہ چہرے سے اسے اتنی بڑی خوشخبری دی اس لگا کسی نے ڈهیروں خوشی اس کے دل میں بهر دی ہے اسے لگا وہ ہواوں میں اڑنے لگی ہے
رئیلی سر؟؟؟؟ مجهے یقین نہیں ہو رہا…. مجهے بلکل امید نہیں تهی کہ آپ کا جواب ہاں میں ہو گا. خوشی سے اس کی آواز کانپنے لگی تیمور نے حیرت سے اس پاگل لڑکی کو دیکها اسی لمحے وہ اسے پیاری اور اپنی اپنی سی لگی مگر اس نے کمال مہارت سے اپنے تاثرات چهپا لیے
میں نے ہاں نہیں بولا میں نے کہا میں فیملی سے ملوں گا اس کے بعد یہ فیصلہ ہو گا. تیمور نے محتاط لفظوں میں کہا
سر یہی بہت بڑی خوشی ہے تهینک یو سو مچ سر. وہ خوشی اور تشکر سے انہیں دیکهنے لگی جواباً وہ بس مسکرا دئیے
کون کون ہے آپ کی فیملی میں. انہوں نے اگلا سوال کیا
بس ابو ہیں اور کوئی نہیں. حباء کے چہرے پہ ایک سایہ سا لہرا گیا اسے سب سے پہلے اس رشتے سے جسن چهڑانی تهی جلد از جلد
####
سر تیمور سے اب اکثر بات ہونے لگی تهی مگر وہ بہت محتاط گفتگو کرتے تهے کوئی امید کوئی وعدہ کوئی اظہار نہیں تها کبهی کال رسیو کرتے پهر کئی کئی بار اگنور کر دیتے تهے وہ جب بهی فیملی سے ملنے کو کہتے وہ آج کل پہ ٹال دیتی تهی
موبائل بار بار بج رہا تها شہروز نہا کے نکلا تو بجتے موبائل کو اٹهایا حباء کالنگ.. … انہیں خوشی ہوئی اور مسکراہٹ اس کے چہرے پہ بکهر گئی فائنلی حباء نے اسے بلا ہی لیا تها اس نے جلدی سے کال رسیو کی.
ہیلو حباء کیسی ہو… اس نے چهوٹتے ہی پوچها
مجهے تم سے طلاق چاہئے شہروز. اس نے پہلے جملے میں ہی اس کے سر پہ بم پهوڑ دیا شہروز کا دل ڈوب کے ابهرا. وہ کیا کہہ رہی تهی؟ وہ کیا مانگ رہی تهی
حباء تم کیا کہہ رہی ہو؟ شہروز کی آواز جیسے کسی گہری کهائی سے آئی.
ہاں مجهے طلاق چاہیئے. حباء نے اور بهی مضبوط لہجے میں کہا
تم ایسا سوچ بهی کیسے سکتی ہو پلیز ایسا مذاق بهی مت کرو. شہروز کے لیے کهڑے رہنا مشکل ہو گیا وہ صوفہ پہ ٹک گیا
تم نے یہاں مجهے سوچنے کے لیے ہی چهوڑا تها تو میں نے سوچ لیا…. میں تمہارے ساته مزید نہیں رہنا چاہتی مجهے طلاق دے دو. کتی آسانی سے وہ یہ لفظ بول رہی تهی جسے سننا شہروز کو تکلیف دے رہا تها. اس نے ان دنوں بہت سوچا تها مگر وہ سوچ بهی نہیں سکتا تها وہ اس سے طلاق مانگ لی
حباء تم.اپنے حواس میں نہیں ہو فی الحال اس لیے تم کچه بهی بول رہی ہو. شہروز کے جسم سے اس نے ایک جهٹکے میں روح کهینچ لی تهی بہت بے دردی سے. وہ اتنی کٹهور تهی؟ یا وہ اب ہو گئی تهی
میں بہت سوچ سمجه کر بول رہی ہوں ہم اب ساته نہیں رہ سکتے. بہتر ہے مجهے آزاد کر دو. حباء نے پتهر لہجے میں کہا
میں نہیں صرف تم حباء میں نے کبهی نہیں کہا میں تمہارے ساته نہیں رہنا چاہتا. شہروز کے لہجے کی تڑپ سے وہ زرا بهی متاثر نا ہوئی
جو بهی ہے مجهے طلاق بهجوا دو میں انتظار کروں گی. حباء نے برے دردی سے کہتے ہوئے کال کاٹ دی.
