Khawab Ankhon Sameet Bechay Hai by Kashaf Chaudhary NovelR50718 Khawab Ankhon Sameet Bechay Hai by Kashaf Chaudhary Episode 03
Rate this Novel
Khawab Ankhon Sameet Bechay Hai by Kashaf Chaudhary Episode 01 Khawab Ankhon Sameet Bechay Hai by Kashaf Chaudhary Episode 02 Khawab Ankhon Sameet Bechay Hai by Kashaf Chaudhary Episode 03 (Watching)Khawab Ankhon Sameet Bechay Hai by Kashaf Chaudhary Episode 04 Khawab Ankhon Sameet Bechay Hai by Kashaf Chaudhary Last Episode
Khawab Ankhon Sameet Bechay Hai by Kashaf Chaudhary Episode 03
وہ ایک اچهی سٹوڈنٹ تهی مگر اس کی دلچسپی اب کتابوں سے مکمل ختم ہونے لگی تهی اسے لگتا تها لائف تیمور سے شروع ہو کر تیمور پہ ختم ہونے لگی تهی. کلاس میں وہ اس کے چہرے سے نظریں ہٹانا نہیں چاہتی تهی. اب اس نے ہر چیز کو پس پشت ڈال دیا تها. شہروز کو بهی……
شہروز جو اس کا شوہر تها جس سے اس کا نکاح ہوا تها… جو رشتہ خدا نے جوڑ دیا تها اسے اپنے نفس کے ہاتهوں مجبور ہو کر اس نے ٹهوکر مارنی چاہی…. کیسے کوئی خدا کے بنائے ہوئے رشتے میں خیانت کر سکتا ہے؟ ایک ایسا رشتہ کے لیے جس سے اسلام نے مکمل منع کیا ہے؟ چاہے بیوی ہو یا شوہر…. نا محرموں سے رشتے…. محرموں کے رشتوں کو کهوکهلا کر دیتے ہیں اور یہی حباء کر رہی تهی…..
شہروز مجهے الجهن ہونے لگی ہے تمہارے پیار سے. کوئی اتنا اچها نہیں ہوتا کوئی اتنا اچها کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ ہماری ہر غلطی کو نظر انداز کر دے جیسی بهی غلطی ہو معاف کر دے… تم نے اپنے اوپر اچهائی کا خول چڑها رکها ہے تاکہ تم پوری دنیا کو اچهے دکهو. حباء کے لہجے کا زہر اس کے دل کو چهلنی کر رہا تها. یہ وہ عورت تهی جس کے لیے وہ کبهی حرام رشتوں کی طرف نہیں بڑها تها… اس نے اپنے احساسات بچا کے رکهے تهے اپنی زندگی کی اس ساتهی کے لیے جس نے اس کی لائف میں شامل ہونا تها
حباء میں کوئی خول نہیں چڑها رکها میں تمہارا شوہر ہوں تم سے پیار کرنا میرا فرض بهی ہے اور تمہارا حق بهی. تم ایسی بات کر بهی کیسے سکتی ہو؟
ہاں میں تمہاری ہر غلطی معاف کر سکتا ہوں کیونکہ تم میری بیوی ہو. تم میری کوئی گرل فرینڈ نہیں کہ میں جهوٹا خول چڑها کر تمہیں متاثر کرنے کی کوشش کروں گا. پلیز مجهے بتاو کیا پرابلم ہے تمہارے ساته. کیونکہ اس سے ہمارا رشتہ خراب ہو رہا ہے. حباء پلیز مجهے بتاو میں بہت ڈسٹرب ہو رہا ہوں اس سب سے. شہروز نے بے بسی سے اسے دیکها.وہ اس کے روز روز کے بگڑتے رویے سے تهک چکا تها.
میں کسی اور میں انٹرسٹڈ ہوں….. حباء نے اس کے سر پہ دهماکا کیا جس نے شہروز کی روح کے پرخچے اڑا دئیے اس کا اعتماد محبت، یقین سب کو اس عورت نے ایک جملے میں ٹهوکر مار دی تهی.
یہ کیسا مذاق ہے حباء. شہروز کو اس کی بات پہ یقین نہیں آیا وہ ان دنوں میں اس کے رویے کی ہر ممکنہ وجہ سوچ چکا تها مگریہ اس نے ایک بار بهی نہیں سوچا تها وہ کسی اور میں انٹرسٹڈ تهی؟ اس کی بیوی کسی اور شخص میں انٹرسٹڈ تهی… کیسا مقام ہوتا ہے ایک شوہر کے لیے یہ جاننا کہ جو اس کی عزت ہے وہ کسی اور کے لیے دل میں جزبات چهپا کر بیٹهی ہے.
یہ مذاق نہیں یہ سچ ہے. میں کسی اور میں انٹرسٹڈ ہوں. مجهے اس کے علاوہ کچه نظر نہیں آتا میں اس کو ایک نظر دیکه کر سب بهول جاتی ہوں. مجهے تم بهی بهول جاتے ہو.. جب وہ نظر آتا ہے تم نہیں نظر آتے…. مجهے شرمندگی ہوتی ہے بتانا کہ میں میریڈ ہوں. مجهے سب سے زیادہ یہی جملہ تکلیف دیتا ہے کہ تم میری بیوی ہو” تمہارے منہ سے بیوی سننا اب مجهے بس تکلیف دیتا ہے…. حباء نے ایکدم سے بڑا فیصلہ کر لیا اب اس کا نتیجہ کچه بهی ہو. اس نے حقارت سے سامنے بیٹهے شہروز کو دیکها. اسے اس انسان سے نفرت نہیں تهی مگر اب اس کے دل میں اس کے لیے کوئی جزبہ نہیں بچا تها…. ہاں غیر محرم کی محبت ہر محرم رشتہ کها جاتی ہے. اسے اس لمحے شہروز پہ ترس بهی آیا مگر اسے اب تیمور چاہیے تها اور جب تک شہروز اس کی لائف میں تها وہ اسے کبهی حاصل نہیں کر سکتی تهی.
بولو اب کر سکتے ہو میری غلطی معاف؟ اتنا بڑا دل ہے تمہارا؟ ہونہہ…. نہیں ہے نا؟ کسی شوہر کا دل اتنا بڑا نہیں ہوتا تمہارا بهی نہیں ہے. اس لیے اب یہ بولنا بند کر دو کہ تمہیں کتنی محبت ہے تم کیا معاف کر سکتے پلیز. مجهے اب تمہاری ہر بات دوغلی لگنے لگی ہے. حباء اپنی زبان سے زہر اگلتی رہی یہ سوچے بغیر کہ اس کے الفاظ کسی کے دل کو چهلنی کر گئے ہیں
####
سر دو منٹس مل سکتے ہیں؟ وہ آج بہت دن کے بعد ان سے مخاطب ہوئی تهی. وہ کلاس سے باہر نکل رہے تهے تو وہ ان کی طرف بڑه گئی.
جی کریں. نا چار تیمور کو رکنا پڑا یہ لڑکی یا تو بہت ڈهیٹ تهی یا بہت معصوم وہ اس کی انسلٹ کر کر کے تهک چکا تها اب تو اسے خود بهی شرمندگی ہونے لگی تهی.
تهینکس…. کینٹین چلیں… پلیز.. .. بس پانچ منٹس… حباء نے ریکویسٹ کی تیمور جانتا تها اس نے انکار کیا تب بهی وہ اگلے دن اس کے سامنے ہو گی.
چلیں.. تیمور نے ہار مانتے ہوئے کہا اور قدم قدم اس کے ساته چلنے لگا
تهینکس اگین سر… اس کی خوشی کا کوئی اندازہ نہیں تها اس لیے بار بار تهینکس بول کر اپنی خوشی ظاہر کر رہی تهی.
اٹس اوکے مس اب کوئی اتنی بڑی فیور بهی نہیں دی میں نے. تیمور اب شرمندہ ہونے لگا
آپ نہیں جانتے مگر میرے لیے یہ بہت بڑی بات ہے آپ کے ساته تهوڑا سا بهی ٹائم سپینڈ کرنا میرے لیے بہت اہم ہے. حباء نے ان کے چہرے کو دیکهتے ہوئے کہا جب کہ تیمور اس کی طرف دیکهنے سے گریز کر رہا تها.
خیر آپ بتائیں کیا بات کرنی تهی آپ نے؟ تیمور نے اس کی بات کو بدلنا چاہا اسے اس کی بات بلکل اچهی نہیں لگی تهی اسے ایسی بولڈ لڑکیاں پسند نہیں تهیں جو مردوں سے اتنے کهلے دل سے اظہار کریں.
بات تو کوئی نہیں تهی سربس آپ کے ساته کچه وقت گزانا تها. حباء کی بات سے وہ جی بهر کر بدمزہ ہوا
دیکهیں مس حباء آپ کی فیلنگز جو بهی ہیں مجهے نہیں پتا اور مجهے جاننے میں کوئی دلچسپی بهی نہیں ہے. اگر آپ کے دل میں کچه ہے بهی تو کم از کم آپ کو یہ نہیں کرنا چاہیئے کہ اسطرح آپ اپنے دل کی بات کسی سے کرنے بیٹه جائیں. آجکل کے بچوں کی سوچ اتنی خراب ہو چکی انہیں لگتا یہ معمولی بات ہے اور یقیناً آپ بهی یہی سوچ کر بار بار مجه سے ایسی بات کر جاتی ہیں کہ میرا دل کرتا ہے آپ کو اتنی سناوں کہ آپ کا دماغ ٹهکانے آ جائے. مگر میں آپ کی انسلٹ کر کے بهی تهک چکا ہوں آپ یا تو بہت ڈهیٹ ہیں یا پهر بہت معصوم بچوں کی طرح. تیمور نے اسے سمجهانا چاہا
سر تو آپ کی خیال میں مجهے کیا کرنا چاہیئے؟ مجهے آپ اچهے لگتے ہیں سو میں کیا کروں؟ حباء نے الٹا ان سے سوال کیا تیمور ایک لمحے کے لیے چپ ہو گیا اسے کیا کہنا چاہیے تها
آپ کو پهر بهی اس طرح نمائش نہیں کرنی چاہیئے لڑکیاں دل پہ پردہ رکهیں تو اچهی لگتی ہیں…. چہرہ کا پردہ تو ختم ہو چکا کم از کم دل کا پردہ تو رکهیں. تیمور نے بڑی خوبصورتی سے اس کے ماڈرن ہونے پہ طنز کیا.
ٹائٹ جینز پہ کرتا سٹائل شرٹ اور ایک سکارف گردن کے گرد لپیٹے وہ خود کو پرفیکٹ لگی تهی
آپ چاہتے ہیں میں پردہ کیا کروں؟ میں اپنا حلیہ بدل لوں؟ حباء نے ان کے طنز کو اگنور کر دیا
میں کیوں چاہوں گا؟ میں آپ کے لیے کچه کیوں چاہوں گا مس حباء؟ جب آپ کی فیملی کو اعتراض نہیں تو میں کون ہوں؟ میں چاہتا ہوں آپ یہ بچکانہ حرکتیں چهوڑ کر اپنی سٹڈیز پہ دهیان دیں جس کے لیے آپ کے پیرنٹس آپ کو یہاں بهیجتے ہیں مکمل اعتبار کے ساته. آپ کو چاہیے بجائے ان کا اعتبار اس طرح مجروح کرنے کے آپ اپنی بکس اٹهائیں جو پڑهنے کے لیے ہوتی ہیں اپنا فیوچر ان فضول چیزوں پہ برباد نا کریں. تیمور نے نرم لہجے میں اسے سمجهایا
بٹ سر……
اب آپ کو یہاں سے چلے جانا چاہیے. تیمور نے اس کی بات کاٹ دی اور دو ٹوک لفظوں میں اسے وہاں سے اٹه جانے کو کہا. حباء بکس اٹها کے کهڑی ہوئی اور نا چاہتے ہوئے بهی وہاں سے چلی گئی.
تیمور وہاں بیٹها اس کی بچکانہ باتیں سوچتا رہا وہ یقیناً بری لڑکی نہیں تهی معصوم تهی. تیمور کا دل اس کی طرف صاف ہو چکا تها
####
تم میرڈ ہو؟؟؟؟؟ ذینب نے اس کے سر پہ دهماکا کیام حباء کے ہاته میں چلتا پین ایکدم سے رک گیا. اس نے حیرت سے ذینب کو دیکها.
کیا مطلب ہوا اس بات کا؟ حباء نے اپنا لہجہ سخت رکهنا چاہا
سمپل سوال پوچها میں نے اس میں کوئی مشکل بات نہیں تهی کہ تم اس طرح ری ایکٹ کر رہی ہو. زینب کا لہجہ بہت کڑوا تها
یہ بات تم کیسے کہہ سکتی ہو. حباء نے محتاط لہجے میں پوچها
یہ بات چهوڑو میں نے کہاں سے جانا تم یہ بتاو یہ سچ ہے؟ اور جهوٹ مت بولنا کیونکہ میں سچ جانتی ہوں. تم نے کبهی مجهے اپنے گهر نہیں بلایا جب بهی میں نے آنے کو کہا تم بات کو گهما دیتی ہو.اس وجہ سے کہ تم چاہتی تهی یہ بات مجهے پتا نا چلے؟ ذینب نے تیز لہجے مگر آہستہ آواز میں اس پہ نظریں گاڑ کر کہا
ہاں میں میرڈ ہوں… تو؟ حباء نے ایکسیپٹ کر لیا کیونکہ اسے پتا تها اب چهپانا کا کوئی مطلب نہیں.
تو تم نے یہ بات چهپائی کیوں؟ ذینب نے حیرت سے پوچها
کیونکہ میں بتانا نہیں چاہتی تهی. حباء نے اسی ٹون میں جواب دیا
یہ کوئی جواب نہیں ہوا. زینب نے خفا لہجے میں کہا
یہ تمہارا مسئلہ ہے کہ تم میرے جواب سے مطمئن نہیں ہوئی.حباء پهر سے نوٹس بنانے لگی ذینب حیرت سے اس ڈهیٹ لڑکی کو دیکهتی رہی.
اور یہ جو سر تیمور والا معاملہ ہے؟ ذینب نے وہی سوال کیا جس سے وہ ڈر رہی تهی
کیا معاملہ ہے؟ میرا اور ان کا کوئی معاملہ نہیں. حباء نے ڈهٹائی کی انتہا کر دی
تمہیں شرم آنی چاہیئے حباء تم میریڈ ہو کر اسطرح کی حرکتیں کرتی پهر رہی ہو. تمہیں زرا بهی احساس نہیں کہ تم.کسی کی بیوی ہو کسی کی عزت ہو. یوں اسطرح تم کسی کی عزت رولتی پهر رہی ہو؟ ذینب کو اس پہ بے حد افسوس ہوا.
کیا کر دیا میں نے ایسا کہ تم اس طرح ری ایکٹ کر رہی ہو؟ حباء نے پین پٹختے ہوئے اس کی طرف رخ کر لیا
بتاو کیا کر دیا میں نے ایسا؟ ان کے ساته گهومتی پهرتی ہوں اکیلے میں ملتی ہوں کیا کرتی ہوں میں؟ حباء نے اب کهل کے ہر بات مان لی تهی
وہ بهی تم کر گزرتی اگر سر تیمور ہر بار تمہارا دماغ ٹهکانے نا لگا دیتے. تمہیں شرم آنی چاہیئے ایک تو غلطی کرتی ہو اوپر سے ڈهیٹوں کی طرح مان بهی رہی ہو؟ شوہر کا مرتبہ جانتی بهی ہو کیا ہوتا ہے؟ مجازی خدا ہوتا ہے وہ… اللہ نے فرمایا ہے اگر میرے بعد کسی کو سجدہ کرنے کا میں حکم دیتا تو میں کہتا شوہر کو سجدہ کرو. اس سے ثابت کیا گیا کہ شوہر کا مقام کیا ہے…. اور جب شرک خدا کے ساته جائز نہیں تو تم کیسے شوہر کی محبت میں شرک کرنے لگ گئی؟ زینب اسے بہت واضح اور صاف آئینہ دکها رہی تهی جس میں اس کا وجود کسی گندگی کا ڈهیر لگ رہا تها
تمہارا شوہر تم سے پیار نہیں کرتا؟ تمہاری کئیر نہیں کرتا؟ تمہارے ناز نہیں اٹهاتا؟ بتاو وہ کونسی کمی ہے جو تم غیر محرموں میں ڈهونڈتی پهر رہی ہو؟ زینب بولنے پہ آئی تو چپ نہیں ہوئی
میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا زینب… میں جسٹ فرینڈشپ…..
بهاڑ میں گئی تم اور بهاڑ میں گئی تمہاری یہ سوچ…. تمہیں شرم نہیں آتی مگر مجهے شرم آ رہی ہے روز قیامت کیا حساب دو گی خدا کو کہ تم دوستی کر رہی تهی غیر محرم سے؟ شوہر تمہاری لیے دوست نہیں تها ؟ کافی نہیں تها؟ مجهے افسوس ہے تم پہ تمہاری سوچ پہ اور تمہارے جیسی ہر لڑکی پہ جو شوہر کے ہوتے ہوئے کسی غیر محرم کا خیال بهی دل میں لائے. زینب نے اسے حقارت سے دیکها.
زینب تم میری انسلٹ کر رہی ہو…..احساس ذلت سے اس کا چہرہ سرخ پڑ گیا
تمہاری انسلٹ تم بہت پہلے خود کر چکی ہو اور سوری تمہیں برا لگا مگر تمہارے جیسی لڑکی کی عزت کوئی نہیں کرتا کم از کم میں تو نہیں کر سکتی. اور آئیندہ ہماری کوئی بات نہیں ہو گی. میں تم جیسی لڑکی سے دوستی رکه کر اپنے کردار پہ تمہاری غلطیوں خے چهینٹے ہر گز نہیں برداشت کر سکتی. ذینب نے بکس اٹهائیں اور اٹه گئی.
حباء شاک سے اسے جاتا دیکهتی رہی…. میرے جیسی لڑکی؟؟؟؟، میں کیسی لڑکی ہوں؟؟ وہ بڑبڑائی
__________
سر تیمور نے اس سے دوستی تو نہیں کی مگر ان کا لہجہ اب نرم ہو گیا تها اور اس کے لیے یہی بات بہت تهی… عجیب بات تهی حباء کا لہجہ شہروز کے ساته سخت ہوا تو تیمور کا لہجہ اس کے لیے نرم کر دیا….. یہ خسارا تها یا منافع تها؟ ……. یہ کیسا سودا تها جس میں محرم کے بدلے نا محرم کو چنا گیا تها…. اور بخوشی چنا گیا تها……
قرآن پاک میں ہے “بے شک انسان خسارے میں ہے” بلکل انسان خسارے میں ہے. اس سے بڑا خسارا اور کیا ہو گا کہ آپ حلال کے بدلے حرام خرید لو…… جائز کے بدلے نا جائز خرید لو……. حباء نے اس کو ٹهکرا دیا تها جو اس کی محبت میں دیوانا تها اس کو چن لیا تها جس کی محبت میں وہ دیوانی تهی….. اسے چهوڑ دیا جو اس کی قدر کرتا تها اسے چن لیا جس کے لیے وہ کوئی اہمیت نہیں رکهتی تهی…. اس سے بڑا خسارا اور کیا ہو گا؟
بے شک گناہ میں لذت ہے…. اور اس لذت کے لیے ہم کیسے کیسے گناہ کر رہے ہم سوچتے بهی نہیں. ماڈرن ہونا اچها ہے مگر جاہل ہونا برا ہے افسوس کہ ہم ماڈرن ازم کے چکر میں جہالت کی طرف چل پڑے ہیں اور اس کا ہمیں احساس بهی نہیں
####
شہروز اس دن کے بعد ہو گیا تها مکمل خاموش. اس نے حباء کی طرف دیکهنا بهی چهوڑ دیا تها. نا اس نے غصہ کیا نا وہ چلایا نا اس نے یہ پوچها کہ اس کی بیوی کس میں انٹرسٹڈ ہے….. شرم آ رہی نا یہ جملہ پڑه کر کہ “بیوی کس میں انٹرسٹڈ ہے؟” اگر آپ کو اس جملہ سے شرمندگی ہو رہی سمجه لیں آپ “زندہ” ہیں….. آپ کو اس جملہ میں کشش نہیں لگی تو آپ مردہ ہیں…..
وہ چپ تها مگر اس کا دل ماتم کناں تها ایک پاک مرد…. ہاں پاک مرد…. وہ پاک مرد تها…. صرف اچهی عورت پاک نہیں ہوتی غلاظت سے دور رہنے والا مرد بهی پاک مرد ہی کہلاتا ہے……… وہ بهی تها…. اور اس کو ایک ایسی بیوی ملی تهی جو کسی اور کو دل میں بسائے بیٹهی تهی جس پہ سراسر اسی کا حق تها…. جسم تو ایک وحشیہ بهی دیتی ہے….. مگر وفا اور دل یہ تو ایک محرم رشتہ ہی دیتا ہے… ایک بیوی دیتی ہے….. اور اس کی بیوی اپنے کهوکهلے جسم کے علاوہ اسے کچه نہیں دینا چاہتی تهی…. مگر ان مردوں میں سے نہیں تها…. جب وفا دی جائے بدلے میں وفا کی طلب رکهنا ہر مرد کا حق ہے اس کا بهی تها. وہ اسے اب بهی معاف کر سکتا تها بنا کچه پوچهے بنا کچه کہئ بنا اسے شرمندہ کیئے……
مگر حباء کو اس کی ضرورت نہیں تهی بهٹکنے والے کو واپس پلٹنے کی ضرورت نا ہو تو کوئی کیسے واپس لا سکتا جب تک وہ ٹهوکر نا کها لے…..حباء بهی انہی لوگوں میں سے تهی…
####
زینب نے اس سے بات کرنا چهوڑ دیا تها شہروز نے اس سے بات کرنا چهوڑ رکها تها مگر سر تیموع اب اس کے بات کرنے پہ اس سے ٹهیک سے بات کر لیتے تهے انہیں وہ ایک معصوم لڑکی لگی اور وہ اب اس کے ساته مذید برا سلوک نہیں کرنا چاہتے تهے. وہ ایک اچهی لڑکی تهی اور آجکل لڑکیاں اس انسان میں زیادہ کشش محسوس کرتی ہیں جو اس کے لیے ایک پہیلی ہوں جب تک وہ بند کتاب ہوں دلچسپی بڑهتی رہتی ہے جب کتاب کهل جائے اس کا ایک ایک پیج پڑه لیا جائے تو اس کتاب میں دلچسپی ختم اور اگر کتاب کا موضوع دلچسپ نا لگے تو درمیان میں چهوڑ دی جاتی ہیں…… کوئی بهی انسان ہمارے کیے تب تک کشش رکهتا ہے جب تک وہ کهل نا جائے. تیمور کو بهی یہی لگتا تها کہ وہ اس کی لاپرواہی سے جلد مایوس ہو جائے گی بیزار ہو جائے گی مگر یہ طئے تها وہ اس کو غلط راستے پہ ہر گز نہیں ڈالے گا کیونکہ اس کی بهی ایک بہن تهی اور دنیا مکافات عمل کا نام ہے جیسا کریں گے ویسا ہیں ملے گا جو بویا وہی کاٹنا ہے.
اور حباء بہت خوش تهی کہ برف پگهل رہی ہے وہ بہت جلد تیمور کے بہت قریب آجائے گی. ہمدردی اور محبت میں فرق ہم کب سمجه سکے ہیں حباء نے بهی یہی سمجه لیا تها. اور یہی سوچ کر اس نے ایک اور غلطی کر دی
تمہاری خاموشی کا کیا مطلب سمجهوں میں؟ حباء نے تنگ آکر شہروز کو مخاطب کر ہی لیا آخر. شہروز بنا کچه بولے آفس کے لیے تیار ہوتا رہا.
میں تم سے بات کر رہی ہوں شہروز…. مجهے جواب دو. حباء نے اسے پهر مخاطب کیا
میرے پاس تمہارے کسی سوال کا جواب نہیں حباء… شہروز نے بالوں میں برش کرتے ہوئے کہا اس نے حباء کی طرف دیکهنے سے اب بهی گریز کیا
کیوں؟ کہاں گئے تمہاری محبت کے وہ بڑے بڑے دعوے. . معاف کر دوں گا اتنی محبت ہے.. بس یہی تک تهی تمہاری محبت؟ حباء نے ہاته سینے پہ بانده کر طنز سے اس کے عکس کو شیشے میں دیکها. شہروز کا برش کرتا ہاته رک گیا. وہ اس کی طرف مڑا اور اسے افسوس بهری نظروں سے دیکها
میں اب بهی تمہیں معاف کرنے کو تیار ہوں…. میں اب بهی اس رشتہ کے بگاڑ کو سدهارنے کو تیار ہوں…. میں اب بهی تمہیں وہی محبت دے سکتا ہوں جو اب تک تم سے کرتا آیا ہوں….. میں آج بهی تمہیں وہی عزت دینے کو تیار ہوں جو میری بیوی کی ہے…. میں پیچهے نہیں ہٹوں گا کبهی حباء تم ہمیشہ مجهے اپنے حق میں بہتر پاو گی…. وہ آہستہ آہستہ بولتا ایک ایک لفظ پہ زور دیتا اس کی آنکھوں میں دیکه کر بول رہا تها پوری سچائی کے ساته. ہر بات میں سچائی تهی… مگر بهٹکے ہوئے لوگ اس سچائی کو دیکه کر بهی اس کی پہچان نہیں کر پاتے حباء بهی انہی میں سے تهی
تو پهر اس خاموشی کا کیا مطلب ہے؟منافقت ہے نا یہ کہ تم دل میں مجهے برا جانو اور زبان تمہاری میرے لیے شیرینی ہو. حباء نے گلہ کیا یا طنز وہ سمجه نہیں پایا
تم کیا چاہتی ہو؟ شہروز نے مدهم اور نرم لہجے میں پوچها
مجهے نہیں پتا…. وہ میرا ٹیچر ہے اور میں اس سے بہت محبت کرنے لگی ہوں میرا دل کرتا ہے میں اس کو دیکهتی جاوں بس اور اب اس سے میری دوستی بهی ہو رہی ہے. حباء نے بیڈ پہ بیٹهتے ہوئے کہا اسے لگا شہروز کی نرمی اس کا مطلب ہے وہ اس سے کهل کر شئیر کر لے اور اسے کوئی افسوس بهی نہیں تها کسی نقصان کا.
تم کیا چاہتی ہو مجهے بس وہ بتاو. شہروز نے اس ناگوار ذکر کو گول کر دیا.
میں بس اسے چاہتی ہوں مجهے اور کچه نہیں پتا. حباء واقعی نہیں جانتی تهی اسے کیا کرنا ہے.
اور مجهے؟ میرے لیے تمہاری کیا فیلنگز ہیں؟ شہروز نے اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ کو غور سے دیکهتے ہوئے پوچها
تمہارے لیے اب میرے دل میں کوئی جزبہ نہیں رہا شہروز… حباء نے اتنی کڑوی بات آسانی سے اسے کہہ دی
مجهے افسوس ہے تمہارے ساته جو کیا غلط ہے مگر میرے بس میں نہیں کہ میں اس کو بهول جاوں اب. حباء نے ترحم بهری نظروں سے اسے دیکها
نہیں حباء مجه پر ترس مت کهاو…. کیونکہ نقصان میرا نہیں ہوا نقصان سراسر تمہارا ہوا تمہیں خود پہ افسوس کرنا چاہیے اور تم ایک دن ضرور کرو گی. شہروز کے چہرے پہ تکلیف کے آثار نمایاں تهے
اپنا سامان پیک کر لو آفس سے واپسی پہ تمہیں ابو کے پاس چهوڑ دوں گا. شہروز ایک دم سے کهڑا ہوگیا
ابو کے گهر؟؟؟؟ مگر… حباء کے وہم و گمان میں بهی نہیں تها وہ ایسی بات کرے گا اسے تو لگا تها وہ اتنا اچها ہے تو پهر وہ سب اپنی مرضی سے کروا لے گی
ہاں ابو کے گهر….. تمہارے دل میں میرے لیے کوئی جزبہ نہیں تو سوری حباء میرے گهر میں ایک ایسی عورت کے لیے جگہ نہیں جس کا دل کسی اور کی ملکیت ہو….. میں اتنا اچها نہیں ہوں کہ ایسی عورت کے ساته رہوں جس کے دل میں میرے لیے کوئی جذبہ نہیں. تیار رہنا تمہیں شام میں چهوڑ دوں گا وہاں واپسی پہ. شہروز نرم لہجے میں کہتا ہوا باہر نکل گیا. حباء کو لگا چهت اس پہ آگری ہے اس نے تو سوچا بهی نہیں تها کہ شہروز ایسا بهی کر سکتا ہے. ایسا تو وہ بلکل نہیں چاہتی تهی اسے لگا تها وہ اس سے پیار کرتا ہے اس کی ہر بات مانتا جائے گا مگر وہ بهول گئی تهی یہ کوئی فلم نہیں تهی یہ حقیقی زندگی تهی جہاں ایک شوہر کی غیرت یہ بات گوارہ نہیں کرتی کہ اس کی بیوی کسی اور کو دل میں رکه کہ اسے ٹهکرا دے ایک مرد کی غیرت یہ برداشت نہیں کرتی کہ جس عورت کو وہ عزت دیتا رہا وہ اس کی عزت خاک میں ملانے لگی تهی وہ بری طرح پهنس گئی تهی ابو کے گهر جانا مطلب ہر الزام اس کے سر آجانا تها جب کہ وہ چاہتی تهی یہ بندوق وہ شہروز کے کندهے پر رکه کر چلائے
