Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Last Episode

Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Last Episode

” سوری ۔۔۔۔۔۔۔۔”
ارحام کو لگا اس نے کچھ غلط سنا ہے وہ بے یقینی سے ڈاکٹر کو دیکھنے لگا
” سوری مسٹر ارحام ہم آپکے بےبی کو نہیں بچا پائے “
ڈاکٹر کو بھی ارحام کی حالت دیکھ کر ترس آ رہا تھا جو بلکل کی اجڑی ہوئی حالت میں لال آنکھوں سمیت انکے سامنے کھڑا تھا
” ڈاکٹر میری وائف کیسی ہیں اب ۔۔۔۔۔”
ارحام نے بے تابی سے پوچھا
” وہ اب بہتر ہیں لیکن انہیں بہت زیادہ کئیر کی ضرورت ہے “
ڈاکٹر نے اپنی بات مکمل کی اور وہاں سے چلا گیا پیچھے ارحام بے بس سا کھڑا تھا اس کا دل گہری کھائی میں ڈوب رہا تھا وہ کیسے ہانی کو یہ خبر دے گا کتنی خوش تھی وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیسے ایک لمحے میں انکی خوشیوں کو نظر لگ گئی تھی
ہانی کو آئی سی یو میں شیفٹ کر دیا گیا تھا وہ تھکے ہارے قدموں سے اندر داخل ہوا سب نے ہی اسے حوصلہ دیا
” تمہیں ہمت کرنی ہوگی ارحام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر تم ہی ایسے ہمت ہار جاو گے تو ہانی کو کون سنبھالے گا “
تابش اپنے لاڈلے بیٹے کی کندھے پر ہاتھ رکھ اسے سمجھا رہے تھے
اس نے صرف سر ہلا دیا وہ اور کرتا بھی کیا وہ ایک مرد تھا سب کے سامنے رو تو نہیں سکتا تھا
وہ اندر آیا تو سامنے ہی وہ مرجھائے ہوئے چہرے کے ساتھ آنکھیں بند کیے لیٹی ہوئی تھی وہ قدم قدم چلتا اس تک آیا اور اس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا
” تمہیں مجھ پر تھوڑا تو اعتماد کرنا چاہیے تھا ہنی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھ سے پوچھ ہی لیا ہوتا تو آج یہ سب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
اس نے دانستہ بات ادھوری چھوڑ دی
” ایمی میں کیا کروں کچھ بھی میرے بس میں نہیں ہے آپ کے معملے میں تو میں ایسی ہی ہو جاتی ہوں کچھ سمجھ ہی نہیں آتا ۔۔۔۔۔۔۔۔”
وہ اداسی سے بولی نظریں جھکی ہوئی تھیں
” تم اگر ایک بار مجھ سے پوچھتی تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
وہ بات کر رہا تھا جب ہنی نے بیچ میں ہی اسکی بات کاٹ دی
” ایمی آپ کے لیے میری محبت شفاف آئنے جیسی ہے جس میں صرف آپکا عکس ہے مگر ایمی ۔۔۔۔۔۔۔۔”
اس نے خاموش ہو کر اسکی طرف دیکھا
” مگر اس آئنے کی حفاظت بھی آپکو ہی کرنی ہے باہر سے پڑنے والا ایک پتھر بھی اسکو کرچی کرچی کر دے گا “
ارحام نے کچھ نہیں کہا بس جھک کر اسکی پیشانی پر بوسہ دیا ہانی نے خاموشی سے آنکھیں بند کر لیں ارحام اس کا سر تھپتھپا کر باہر آ گیا اسکا غصہ سے برا حال ہو رہا تھا
“کہاں جا رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
وہ غصے سے کوریڈور سے نکل رہا تھا جب زوالقرنین نے اسے روکا
” چاچو میں اس ریا کو چھوڑوں گا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمت کیسے ہوئی اسکی یہ سب کرنے کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسکی وجہ سے میری ہنی کی آنکھوں میں آنسو ہیں آج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جس کی زرا سی تکلیف میری جان پر بن جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آج اسکی خالی گود کی تکلیف میں کیسے برداشت کروں گا “
اس کی آواز میں دکھ کی آمیزش تھی جیسے کوئی چیز اندر ہی اندر اسے تڑپا رہی ہو
” تم پہلے ہی بہت کچھ کرچکے ہو ارحام اب سنبھل کر زندگی کے قدم اٹھانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بچپنا چھوڑ کر زمہ داریوں کی طرف آنا ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ سب کر کے ہی تم ہانی کو اسکی دائمی خوشیاں دے سکتے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن اگر جزباتی ہو کر فیصلے کرو گے تو ساری عمر پچھتاو گے ۔۔۔۔۔۔۔جو ہو گیا اسے بدلا نہیں جا سکتا مگر آنے والے وقت کو بہتر کیا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔امید ہے تم میری بات سمجھ رہے ہو گے “
ذوالقرنین نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھ رسان سے اسے سمجھایا
” تھینک یو چاچو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
ارحام سے اور ضبط نا ہوا تو زوالقرنین کے گلے لگ کر اپنا غم ہلکا کرنے لگا
” بس اب حوصلے سے کام لو ورنہ میں تم جیسے نالائق کے پاس اپنی بیٹی کو نہیں رہنے دوں گا “
انہوں نے اسے سیدھا کر اسکے کان کھینچ کر مزاح کے انداز میں کہا انکی بات پر وہ بھی ہلکے سے مسکرا دیا
**************************
ہانی کو تین دن بعد ڈسچارج کر دیا گیا وہ گھر تو آ گئی مگر دل تھا کے کسی چیز میں بھی نہیں لگ رہا تھا سب ہی اسکی ہمت بندھا رہے تھے
” ہانی بس بھی کرو سب تمہاری وجہ سے کتنا پریشان ہیں”
فری نے اسکے ساتھ بیٹھتے ہوئے اسے تسلی دی
” میں کیسے صبر کروں فری میری پہلی خوشی ہی اس دنیا میں آنے سے پہلے رخ موڑ گئی تو میں کیسے یہ سب برداشت کروں تم ہی بتاو کیا یہ سب میرے بس میں ہے “
وہ مایوسی سے بولی اور سامنے ضرغام اور فائق کے ساتھ بیٹھے ارحام کو دیکھا جو اسی کی وجہ سے حد درجہ پریشان تھا
” کوئی بات نہیں ہانی پہلا بچہ تھا تو کیا ہوا اللہ دوسرا بھی دے ہی دے گا “
وہ جو ہمیشہ ہی اپنی مستی میں بولتی جاتی تھی اب ایک بار پھر سب کی مو جودگی کا احساس کیے بغیر بولی
اس کی بات پر پانی پیتے ضرغام کو تو ایسا اچھو لگا کے اسے اٹھ کر ہی جانا پڑا فائق کو بھی کچھ عجیب سا لگا تو وہ بھی چل دیا جبکہ ارحام صرف پہلو بدل کے رہ گیا
” میرا مطلب تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں تو بس یہ کہہ رہی تھی کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔افففف کچھ نہیں کہہ رہی تھی “
اسے سمجھ نا آئی کے اپنی بات کی خفت کیسے مٹائے تو وہاں سے تلملا کر اٹھ آئی
ارحام فری کے جانے کے بعد اٹھ کر ہانی کے پاس آیا اور اسے اپنے بازوں کے حصار میں لے لیا
” میری جان تم اپنی یہ اداسی ختم کر دو پلیز ۔۔۔۔۔۔۔ اگر تم اسطرح ہی مایوس رہی تو سوچو تمہارے ایمی کا کیا ہوگا”
وہ آہستہ آہستہ اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے بولا
” مجھے بس تھوڑا سا وقت دے دیں ایمی تاکہ میں خود کو سنبھال سکوں پلیز “
وہ ملتجی نظروں سے ارحام کو دیکھنے لگی
” جتنا مرضی وقت لے لوں جان ارحام بس خود کو پہلے جیسا کر لو میں تمہیں اسطرح نہیں دیکھ سکتا “
اس نے ہانی کی پیشانی پر اپنی مہر محبت ثبت کی ہانی نے بھی اپنا سر اسکے سینے پر رکھ دیا اب انکا دکھ وقت ہی کم کرسکتا تھا
**********************
” فری کبھی بھی سوچ کر مت بولنا ہمیشہ الٹی سیدھی ہی ہانکنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ افف اللہ جی ضرغام کیا سوچتا ہو گا میرے بارے میں “
وہ اپنے منہ میں بڑبڑاتی وہاں سے گزر رہی تھی کے ضرغام نے بیچ میں ہی ہاتھ کر دیا وہ جو سکون سے چلتی جا رہی تھی ایک دم ہونے والے حادثے پر گھبرا گئی
” دیہان سے چلا کریں محترمہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کا تو کچھ نہیں جاتا مگر سامنے والے کا نقصان ضرور ہو جاتا ہے “
ضرغام کے کہنے پر اس نے سامنے دیکھا اگر وہ اسے نا روکتا تو وہ سیدھا دیوار میں جا کر لگتی اور جس سپیڈ سے وہ چل رہی تھی اسکا اپنا نقصان لازم تھا اس نے سوچتے ہی جھرجھری لی ضرغام نے اسے خود میں الجھے دیکھا تو وہاں سے جانے لگا
” روکو ضرغام مجھے بات کرنی ہے تم سے “
اس نے ضرغام کا بازو پکڑ لیا ضرغام نے پہلے اپنے بازو پر اسکا ہاتھ دیکھا اور پھر اسے
فری لب کچلتی ہوئی اسے دیکھ رہی تھی سمجھ نہیں آرہی تھی کے بات کہاں سے شروع کرے
ضرغام دو منٹ تک اسے دیکھتا رہا اور ہھر ٹھنڈی سانس خارج کر اسکی طرف موڑ گیا
” فاریہ تم جانتی ہو محبت کیا ہے یہ آزاد پرندہ ہے ایک ایسا پرندی جسے قید پسند نہیں لیکن تم ایک ایسی لڑکی ہو جس نے اسے اپنے دل کے قلعے میں مظبوط دیواروں کے پیچھے قید کر دیا ہے ، اگر تم نے اسے آزادی کا عندیہ نا دیا تو وہ وہیں گھٹ گھٹ کر مر جائے گا “
ضرغام اسکے چہرے کی طرف دیکھ کر بات کررہا تھا مگر وہ کسی بھی طریقے سے اس کے تاثرات سمجھنے سے قاصر رہا اسے اپنا یہاں رکنا بے کار لگا اس لیے موڑ کر جانے لگا
” ضرغام روکو۔۔۔۔۔۔۔”
اس نے ایک بار پھر اسے روکا ضرغام روک ضرور گیا مگر اسکی طرف موڑا نہیں فری خود ہی اسکے سامنے آئے
” تم انتہائی آوارہ قسم کے انسان ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم میں لوفرانہ عادات کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم جانتے ہو کے لڑکیوں کو کیسے پھنسایا جاتا ہے “
وہ انگلی اٹھا کر بولی آنسو ایک تواتر سے بہنا شروع ہو گیے تھے ضرغام ششدر سا اسے دیکھ رہا تھا “مطلب سریسلی”
” لیکن جانتے ہو کیا مجھے اس آوارہ ، لوفر اور فلرٹ انسان سے محبت ہو گئی ہے “
یہ کہتے ساتھ ہی وہ زارو قطار رونا شروع ہو گئی اس نے اپنی انا کو کچل کر اظہار محبت کیا تھا اور اب اسے رونا آرہا تھا
” فری مجھے بس ایک بات بتا دو۔۔۔۔۔۔۔۔”
ضرغام نے اسے کندھوں سے پکڑا اور اسکی طرف جھک کر بولا فری نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا
” مجھے سمجھ نہیں آ رہی کے تم رو رہی ہو یا ہنس رہی ہو پلیز یہ بات کلیئر کردو تاکہ میں اندازہ کرسکوں کے تم ہوش میں تو ہو “
فری نے نا سمجھی سے اسے دیکھا کے وہ کیا کہہ رہا ہے مگر جیسے ہی اسکی بات سمجھ میں آئی اسکا میٹر پھر سے آوٹ ہو گیا
” تم ۔۔۔۔۔۔۔تم بہت ہی گھٹیا قسم کے انسان ہو “
ضرغام نے اسکے جارحانہ تیور دیکھے تو فوراً سے بھاگا فری اپنا جوتا لیے اسکی پیچھے تھی
” فری کیا کر رہی کوئی شوہر کے پیچھے بھی جوتیاں لے کر بھاگتا ہے “
ویرا جو اپنے کمرے سے نکل رہی تھی بیٹی کی یہ حرکت دیکھ دھک سے رہ گئی انہیں فری سے ہر قسم کی امید تھی مگر اس حد تک انکا تو دماغ ہی پھیر گیا
” اماں تم نہیں جانتی یہ انتہائی دوغلا انسان ہے میں آج اسکا خون پی جاوں گی “
وہ غصے سے آگے بڑھ رہی تھی جب ویرا نے اسے بیچ میں ہی ٹوک دیا
” فری ابھی کے ابھی اپنے کمرے میں جاو ورنہ اسی جوتی سے ایسی درگت بناوں گی کے یاد رکھو گی “
ویرا نے کڑے تیوروں سے فری کو دیکھا فری نے رونی صورت سے ماں کو دیکھا اور پیر پٹختی وہاں سے چلی گی
” ضرغام بیٹا اسکے رویے کی میں تم سے معافی مانگتی ہوں یہ لڑکی تو ناجانے کب سدھرے گی “
وہ پشیمان سے ضرغام سے کہہ رہی تھیں
” ارے ساسو اماں آپکو شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے اسکی یہ ہی حرکتیں تو مجھے اسکا دیوانہ بناتی ہیں “
وہ آنکھ دبا کر بولا اسکی بات ہر ویرا پرسکون ہو گئیں وہ فری کو ہمیشہ اسی لیے ٹوکتی تھیں کے ناجانے آگے اسے کیسا شوہر ملے جو اس کی ان حرکتوں کو برداشت کرے نا کرے مگر ضرغام کی باتوں سے انہیں ایک دم سکون سا محسوس ہوا انکی بیٹی جیسی بھی تھی اسے پسند تھی اسے اپبے آپ کو بدلنے کی ضرورت نہیں پڑے گی
ہر ماں اسی بات سے ڈرتی ہے کے آگے ناجانے بیٹی کے نصیب کیسے ہوں گے اسی لیے اسکی تربیت کڑے طریقے سے کرتی ہے لیکن اگر یہ ہی تربیت وہ بیٹوں کی کریں کے آگے آنے والی لڑکی کو خود کو بدلنا نا پڑے تو بہت سی ماوں کی ہریشانیاں خود ہی ختم یو جائیں گی
**************************
ہانچ سال بعد
آغا ہاوس کے لان میں بہت خوبصورت شام اتری تھی پورا لان رنگ برنگے قمقموں سے جگمگ کر رہا تھا آج ارحام اور ہانی کی بیٹی کی پہلی سالگرہ تھی ہر ایک کے چہرے پر مسکراہٹ تھی زندگی سے بھرپور مسکراہٹ
” اس بندر کی اولاد کو میں آج نہیں چھوڑوں گی”
فری غصے سے تلملاتی ہوئی اپنے چار سال کے بیٹے ولید کی طرف بڑھی جس نے اپنی سفید شرٹ مٹی سے کالی کر لی تھی
” ارے بھاگو بھاگو نہیں تو چڑیل مما سے کوئی امید نہیں وہ تمہارا بھی خون پی جائیں گی”
اس سے پہلے کے فری ولید کو پکڑتی ضرغام ولید کو اٹھا کر بھاگ گیا
” تم آج ختم ہو جائے گے میرے ہاتھوں سے ضرغام صرف تمہاری ہی شے پر تمہاری یہ دونوں گندی اولادیں بگڑی ہیں “
فری نے گود میں موجو چھوٹی سی نبہیہ کی انگلی منہ سے کھینچی جو وہ کب سے چبائے جا رہی تھی سب کہتے تھے کے ویرا کے صفائی والے کیڑے نے اب فری کو کاٹ لیا ہے
” فری تم باز نہیں آو گی کتنی دفعہ تمہیں کہا کے شوہر کے ساتھ تو تڑاخ نا کیا کرو “
ویرا نے پیچھے بیٹھے بیٹھے اسے ہانک لگائی اور یہاں فری کو خاموش ہونا پڑا وہ اب اپنی اماں کا لیکچر نہیں سن سکتی تھی بس میں میں ہی بڑبڑا کر خاموش ہو گئی اور کڑی نظروں سے ضرغام کو دیکھا جو بیٹے کو اونچا اونچا اوچھال رہا تھا
” اماں اب اسے تو روکو میرے بیٹے کی جان لے گا “
فری نے ننھا سا احتجاج کیا ضرغام نے دور سے ہی اسکی بات سن لی تھی اس لیے ولید کو بغل میں دبائے جیسے وہ کوئی بچہ نہیں کھلونا ہو اسکی طرف آیا
” زوجہ صاحبہ بیٹے کی تو بڑی فکر ہے کبھی ہم پہ بھی نظر کرم کیا کریں جسکی جان آپ مٹھی میں لے کر گھومتی ہیں “
ضرغام اسکی طرف جھک کر بولا فری نے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا مگر سب ہی اپنی باتوں میں مصروف تھے ضرغام اسکے گھبرا جانے پر دل کھول کے ہنسا اسکو تنگ کرنے میں ناجانے کیوں اسے بہت مزا آتا تھا فری نے خفگی سے اسکی طرف دیکھا
” اچھا ناراض نہیں ہو یار اور وہ دیکھو وہ آرہی آئن سٹائن کی اولاد “
سامنے ہی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا حزیفہ انکی طرف آرہا تھا جسکے چہرے پر خوبصورت سے نظر کے چشمے لگے ہوئے تھے
” عنی بھائی آپ نے میرے شوہر کو آئن سٹائن کہا”
فضا نے ناراضگی سے بھائی کی طرف دیکھا اس نے پیچھے سے اسکی بات سن لی تھی
” بی بی آئن سٹائن ہی کہا ہے جمعدار تو نہیں کہا “
ضرغام نے گویا ناک سے مکھی اڑائی
ایک دم سے سب لائٹس اوف ہوگئی پورا لان میں اندھرے چھا گیا
پھر ایک سپوٹ لائٹ اون ہوئی ارحام اور ہانی ایک ساتھ کھڑے تھی ارحام کی گود میں اسکی ننھی سی گڑیا تھا اسکی جان اسکی پریا تھی وہ تینوں ایک مکمل تصویر لگ رہے تھے وہ دونوں آہستہ آہستہ چلتے سب کی طرف آئے
” خوشیوں کی تکمیل میں دیر ضرور لگتی ہے مگر یہ مکمل ہوتی ہیں “
ارحام نے ہانی کے گرد اپنے بازو پھیلائے اور سب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا سب نے ہی مسکرا کر اسکی بات کی تائید کی
تجھے ناراض کر کے
پیار سے منا لینا
کبھی آنسو دے کر
انہیں پونچھ ڈالنا
یہ میرا عشق ہے
تیرے واسطے
تھوڑا کھٹا سا
تھوڑا میٹھا سا
از طیبہ زینب
ختم شد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *