Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab NovelR50811 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode05
No Download Link
770.7K
22
Rate this Novel
Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode01 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode02 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode03 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode04 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode05 (Watching)Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode06 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode07 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode08 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode09 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode10 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode11 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode12 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode13 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode14 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode15 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode16 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode17 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode18 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode19 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode20 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode21 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Last Episode
Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode05
Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode05
ارحام ہمیشہ کی طرح گاڑی سے اتر اسکی طرف آیا اور اسکا ہاتھ تھام آگے بڑھ گیا
” ویسے ارحام یونی گیٹ پر تو تم نے اسکا ہاتھ چھوڑ دینا ہوتا ہے پھر یہاں تک کی فارمیلٹی کیوں کرتے ہو کیوں کے آگے تو وہ تمہاری کچھ لگتی ریا وہاں ہوتی ہے اور اسے تمہارا ہانی کے ساتھ رہنا تو بالکل نہیں پسند “
فری نے بڑے چھبتے ہوئے لہجے میں کہا تھا جس سے ارحام کے ساتھ ساتھ ہانی کو بھی تکلیف ہوئی تھی
” فری میں صبح سے تمہاری فضول بکواس برداشت کر رہا ہوں اب اور نہیں کروں گا تو تم مجھے بتا تو دو خود ہی کے تم کیا چاہتی ہو”
اب کے ارحام کا ضبط جواب دے گیا تھا وہ اور اسکی فضول گوئی برداشت نہیں کر سکتا تھا مگر وہ شاید کچھ سن کر ہی ماننے والی تھی
فری دو قدم چل کر انکے پاس آئی اور ہانی کا ہاتھ جھٹکے سے ارحام کی گرفت سے نکالا
” یہ تم خود سے پوچھو کے تم کیا چاہتے ہو “
وہ ہانی کے ہاتھ پکڑے آگے بڑھ گئی جبکہ ارحام کو سمجھ نہیں آرہا تھا کے وہ کیا کرے وہ وہیں لب کچلتا کھڑا تھا وہ ان سوچوں سے چھٹکارہ چاہتا تھا اس نے سوچ لیا تھا کے وہ آگے کیا کرے گا
******************
” ہنی تمہیں اور فری کو لینے ڈرائیور آرہا ہے تم اسکے ساتھ چلی جانا مجھے آج ریا کے ساتھ لنچ پر جانا ہے “
وہ مصروف سے انداز میں فون پر انگلیاں گھماتا ہوا بولا
ہانی اور فری نے اسے ایسے دیکھا جیسے اس نے شاید کوئی غلط بات کہہ دی ہو
” ایمی کیا ہوا ہے آپ ایسے کیسے جا سکتے ہیں آج گھر پر مہمانوں نے بھی آنا ہے تو آپ پلیز ہمارے ساتھ چلیں “
ہانِی نے اسے بازو سے پکڑ کر کھینچا
” ہانی میرا جانا ضروری ہے تم فری کے ساتھ گھر جاو “
ارحام نے نرمی سے اپنا بازو اسکی گرفت سے نکالا اور اس کے گال تھپتپھا کر آگے بڑھ گیا
ہانی نم آنکھوں سے اسے دور جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی
” ہانی اداس مت ہو چلو ڈرائیور آگیا ہے ہمیں گھر جانا ہے تائی اماں نے کہا تھا کے جلدی گھر آنا ہے “
فری اسکا ہاتھ پکڑے یونی گیٹ سے باہر لے آئی جہاں ارحام بھی ابھی نکل رہا تھا
” فری ایمی کو کیا ہوا ہے وہ تو ہمیشہ میرے ساتھ ہی گھر جاتے ہیں تو پھر آج کیا ہو گیا ہے انہیں “
ہانی وہیں دیکھ رہی تھی جہاں سے ابھی ابھی ارحام کی گاڑی گئی تھی
” اسکو جن چڑھ گئے ہیں اب اگر اس بے مروت انسان کے لیے ایک آنسو بھی نکالا تو رکھ کے ایک تھپڑ لگاوں گی “
فری اسکی ہاتھ پکڑ کر گاڑی کی طرف بڑھ گئی
***************
وہ دونوں گھر داخل ہوئی تو ہانی اردگرد کی پرواہ کیے بغیر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی
فری بھی سر جھٹک کر آگے جا رہی تھی جب ویرا نے اسے آواز دی
” فری میرے ساتھ کچن میں مدد کرواو آ کے “
” اماں کیا ہو گیا ہے ابھی تو آئی ہوں مجھ سے کچھ نہیں ہو رہا اب “
وہ کہہ کر آگے بڑھ گئی
” تم آ رہی ہو یا میں لگاوں آکر “
ویرا اونچی آواز میں بولیں
” اچھا بھئی آرہی ہوں کیا ہو گیا ہے ………اماں بھی کسی ہیٹلر سے کم نہیں ہیں “
آخری بات منہ میں بڑبڑاتے ہوئے وہ کچن کی طرف چل دی
****************
سب ہی لاونج میں موجود تھے اور ضارب اور اسکی فیملی کا انتظار کر رہے تھے مگر زوالقرنین کے چہرے کے تاثرات ایسے تھے کے اگر وہ اسکے سامنے آجائے تو وہ اپنی دانتوں کی ہی چکی بنا کر اسے پیس دے
” لو آگیے ۔۔۔۔۔۔۔”
سب سے پہلے آبش ہی آگے بڑھی جہاں وہ سب کھڑے تھے پھر تابش بھی اسکے پیچھے ہی چل دیا
” اسلامُ علیکم بھائی کیسے ہیں آپ؟”
ضارب تابش کے گلے لگ کر گرم جوشی سے ملا
سب ہی پیار سے ضارب کو مل رہے تھے اماں بی نے پیار سے اسکے سر پر اپنا نحیف ہاتھ پھیرا
” بھئی کیا سب ڈیڈ سے ہی ملیں گی انکی اولاد کیا واپس چلی جائے “
ضرغام اور فضا اپنی نیلی آنکھوں میں شرارت لیے پوچھ رہے تھے
انکی آواز پر سب نے رانیہ کی طرف دیکھا جہاں وہ دونوں ہی اسکے دائیں بائیں کھڑے مسکرا رہے تھے
” ارے نہیں نہیں میرے بچوں آو تم ہم تو کب سے آپ سب کا انتظار کر رہے تھے “
زینیا ان سب کو لے کر آگے بڑھ گئی
اتنے میں حزیفہ اپنی باریک آواز کے جوہر دیکھاتے ہوئے آراہا تھا کے لاونج میں نئے چہرے دیکھ کر وہیں رک گیا اور ضرغام اور فضا کی طرف آیا
” موم یہ نیلی آنکھوں والے جن میرے کزنز ہیں”
حذیفہ ان دونوں کی آنکھوں میں جھانک کر کہا
ضرغام اور فضا دونوں کی ہی آنکھیں نیلی تھی دونوں نے آنکھوں کی رنگت ماں سے لی تھی دونوں ہی بہن بھائی میں مغربی حسن کی جھلک تھی
” یہ آپ اپنی گندی اولاد کو یہاں سے خود بھیج رہے ہیں یا میں ہی اپنے یاتھوں سے اسکی تواضع کروں “
ذینیا نے دانت پیس کر تابش کی کان میں کہا اسے حزیفہ کا اسطرح سے سب کے سامنے اپنی زبان کے جوہر دیکھانا ایک آنکھ نا بھایا
” موم میں نے سن لیا ہے لیکن یاد رکھیں سب کہتے ہیں کے آپکے بچے ہو بہو آپکی کاپی ہیں”
وہ ماں کی ساتھ ہی شروع ہو گیا
” حزیفہ جاو ہانی اور فری کو بلا کر لاو “
تابش نے جب دیکھا کے زینیا غصے میں اٹھ رہی ہے تو حزیفہ کو یہاں سے بھگانے کی ہی کی
” ڈیڈ ہانی آپا کو تو لے آوں گا لیکن فری آپا کی گارنٹی نہیں ہے وہ تو مردوں سے بھی شرط باندھ کر سوتی ہیں کے دیکھنا تم تو اٹھ جاو گے پر میں نہیں اٹھنے والی “
وہ ہاتھ نچا کر جا رہا تھا جب زینیا کا دھپ اسکی کمر میں لگا
” کبھی اس قینچی کی طرح چلتی زبان کو بند بھی کر لیا کرو “
ذینیا خود اسکا ہاتھ پکڑ لاونج سے نکل گئیں کیوں کے اس سے کوئی بعید نہیں تھی کے وہ کوئی اور بکواس بھی کرتا
جب کے ضرغام اور فضا اس لڑائی کو انجوائے کرہے تھے
*****************
ذینیا حزیفہ کو بھیج کر خود ہی فری کو اٹھانے آئیں تھی کیونکہ وہ جانتی تھیں کے حزیفہ سہی کہہ رہا ہے اسے اٹھانا محاز سر کرنے کے ہی برابر ہوتا ہے
” فری بیٹا اٹھ جاو باہر تمہارے ضارب چاچو کی فیملی بیٹھی ہے سب انتظار کر رہے ہیں “
ذینیا اسکے ساتھ ہی بیٹھ گئی
” فری…..فری……..فری۔ی۔ی۔ی “
آوآذیں تو کیا وہ تو جھنجھوڑنے پر بھی نہیں اڑھ رہی تھی
جب انہیں لگا کے اس نے نہیں اٹھنا تو انہوں نے آخری حربہ آزمایا
” فری اٹھ جاو تمہاری اماں اتنے غصے میں ہیں کہہ رہی ہیں کے اگر تم نا اُٹھی تو آج پورے لان کی صفائی تم سے کروایں گی “
یہان زینیا کی بات مکمل ہوئی وہیں وہ چادر پھینک فوراً سے اٹھ گئی
” ایسا ظلم تو نا کریں ۔۔۔۔۔۔”
وہ مسکین صورت بنا کر بولی
اور زینیا اسکے انداز پر مسکرا دیں کونکہ پورا گھر ہی جانتا تھا کے ہانی اور فری کام سے کیسے بھاگتی ہیں
” اچھا چلو آجاو کوئی ظلم نہیں ہو رہا تم پر آجاو باہر تمہارے ضارب چاچو کی فیملی ویٹ کر رہی ہے “
وہ اسے بیڈ سے اٹھاتے ہوئے بولیں کیونکہ وہ جانتی تھیں کے اگر وہ واپس چلی گئیں تو اس نے پھر سے پڑ جانا ہے
اور پھر وہ چارو ناچار جوتی پہن انکی ساتھ باہر ہی چل دی
*******************
وہ اسے لے کر باہر آئیں اور ہانی کے دروازے کے باہر روک گئیں ۔ ہانی اور فری دونوں کے کمرے ساتھ ساتھ ہی تھے
تم چلو میں ہانی کو لے کر آئی
” نہیں میں بھی آپ کے ساتھ ہی چلوں گی “
وہ بھی انکے ساتھ ہی کمرے میں داخل ہوئی اور بار بار اپنے منہ پر ہاتھ رکھ وہ جمائیاں روکنے کی کوشش کررہی تھی
” ہانی بیٹا کیا ہوا ہے آنکھیں کیوں لال کی ہوئی ہیں “
زینیا تڑپ کر ہانی کی طرف بڑھیں جہاں وہ بیڈ پر بیٹھی ٹشو سے اپنے موٹے موٹے آنسو چن رہی تھی
” کچھ خاص نہیں آج آپ کے سپوت اس میڈم کو چھوڑ ریا میڈم کے ساتھ چل دیے “
وہ اکتائی ہوئی سی بولی
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
