Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab

وہ روتی ہوئی باہر لان میں آئی جہاں فری گود میں کتاب رکھے کانوں میں ہیڈ فون لگائے اپنی دنیا میں گم تھی وہ بھاگتی ہوئی آئی اور اسکے گھٹنے پر سر رکھ زوروں سے رونا شروع ہو گئی
فری نے بوکھلاہٹ میں آنکھیں کھولی اور سامنے سسکیوں سے روتی ہانی کو دیکھا
ضرغام جو اپنی کھڑکی سے فری کو اکیلا دیکھ اس سے بات کرنے آرہا تھا سامنے کے منظر نے اسے بھی تشویش میں مبتلا کر دیا
" اسے کیا ہوا ہے یہ اسطرح کیوں رو رہی ہے "
ضرغام نے ہانی کو کندھوں سے پکڑ کر کھڑا کیا اور اسے پاس پڑی کرسی پر بیٹھایا
" ہونا کیا ہے یہ دیوداس کا میل ورژن ہے اور یقیناً اسکی پارو نے اس وقت اسے ناکام لوٹا دیا ہے "
وہ ہانی کی طرف اشارہ کرکے بولی جو اس کی بات سن زارو قطار رونا شروع ہو گئی تھی
" میں سمجھا نہیں کیا مطلب ہے اس بات کا "
وہ نا سمجھی سے فری کو دیکھنے لگا
" ہاں جی تم جیسے مردوں کو کوئی اور بات سمجھ ہی کہاں آتی ہے تم لوگوں کو تو صرف لڑکیوں کو کیسے بہلانا پھسلانا ہے بس یہ ہی سب آتا ہے ، اٹھو ہانی اس کے سامنے تمہیں اپنے یہ قیمتی آنسو ضائع کرنے کی ضرورت نہیں ہے "
فری پہلے غصے سے ضرغام سے تڑخ کر بولی اور پھر ہانی کا ہاتھ پکڑا اور اسے لیے اندر بڑھ گئی اور پیچھے ضرغام سوچتا ہی رہ گیا کے اس نے کیا کیا ہے

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *