Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab NovelR50811 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode10
No Download Link
770.7K
22
Rate this Novel
Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode01 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode02 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode03 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode04 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode05 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode06 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode07 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode08 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode09 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode10 (Watching)Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode11 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode12 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode13 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode14 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode15 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode16 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode17 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode18 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode19 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode20 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode21 Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Last Episode
Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode10
Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode10
ہنی کے ہوش میں آنے کے بعد سب اس سے آکر ملے تھے مگر وہ جس کی منتظر تھی وہ آج ایک ہفتے بعد بھی اس سے ملنے نہیں آیا تھا
وہ خود کو ہی قصور وار سمجھ رہی تھی کے یہ سب اس کی وجہ سے ہوا ہے اسے ریا سے کچھ نہیں کہنا چاہیے تھا شاید ارحام سچ میں اسکے لیے سیریس تھا وہ اب سوچ چکی تھی کے وہ اب اسکے پیچھے نہیں جائے گی مگر اس کا دل اسکی سن ہی کہاں رہا تھا اسکے ننھے دل پر تو وہ ایسا قابض ہوا تھا کے وہ اس سے کوئی جنگ لڑ بھی نا پائی تھی
وہ آنکھیں موندے لیٹے ہوئی تھی جب کے فری اسکے سرہانے بیٹھی تھی اور فائق اور ضرغام زینیا اور آبش کو گھر چھوڑنے گئے تھے
” اب کیسا محسوس کر رہی ہو کیوٹی “
ضرغام اندر آتے ہی بولا
میں اب بہت بہتر محسوس کر رہی ہوں________”
اسکی نظریں سائڈ دروازے پر ہی جمی تھی جہاں سے ضرغام فضا اور فائق آئے تھے اور جب کافی دیر بعد بھی وہ نا آیا تو اس نے نظروں کا زاویہ موڑ سامنے کر لیا
” مجھے گھر جانا ہے بس اب مجھ سے اور نہیں رہا جا رہا یہاں “
وہ چہرہ ہاتھوں میں گرا کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی
” ہانی تم رو تو مت میں جانتی ہوں تم کیوں رو رہی ہو یقین کرو ارحام ان دنوں تمہارے لیے جتنا پریشان رہا ہے اتنا تو شاید پھوپھو اور زی چاچو بھی نہیں ہوئے “
وہ اسکے آنسو صاف کرتی ہوئی بولی
” تو پھر وہ آئے کیوں نہیں مجھ سے ملنے “
وہ ہچکیوں کے درمیان بولی
اور اس سوال کے آگے تو فری بھی خاموش ہو گئی
” میرے پاس ایک آئڈیا ہے اگر تم لوگ میرا ساتھ دو تو میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کے ارحام خود تمہارے پاس آکر تم سے معافی بھی مانگے گا اور اظہار بھی کرے گا “
بات کرتے ہوئے فری کی آنکھوں کی چمک ہی اور تھی
” تم خاموش نہیں رہ سکتی اتنے سیریس ماحول میں بھی تمہیں مزاق سوجھ رہے ہیں “
فائق اسکی عقل پر ماتم کرتا ہوا بولا
” تم مجھ سے چھوٹے ہو ………”
وِہ انگلی اٹھا کر اسے وارن کر رہی تھی جب فائق بیچ میں ہی بولا
” ہاں پانچ منٹ “
اس نے باقاعدہ دو انگلیاں اسے دیکھائیں
” تو ہو تو چھوٹے ہی نا اور اب سب خاموشی سے میری بات غور سے سنو “
اس نے فائق کو گھوری دکھائی اور بولنا شروع کیا
” تم میرے ساتھ یہ ظلم کیسے کر سکتی ہو فاریہ “
اسکی بات سننے کے بعد سب سے پہلے سکتے کو توڑنے والی آواز ضرغام کی تھی
” میں تو کر چکی ہوں اور تمہیں میری بات ماننی ہی پڑی گی اور مجھے یقین ہی کے تم مجھے انکار نہیں کرو گے “
وہ اس شان بے نیازی سے بولی جیسے اسکی بات واقعی میں رد نہیں کی جائے گی اور ایسا ہی ہوا لیکن ہانی کے لیے اسکی بات ہضم کرنا تھوڑا مشکل تھا
” فری تم سب جانتی تو ہو پھر بھی ______”
ہانِ فری کو ایسے دیکھ رہی تھی جیسے کے تم پاگل ہو چکی ہو
” سب جانتی ہوں اسلیے ہی کہہ رہی ہوں ، اور اب تم اپنا بوریا بسترا یہاں سے گول کرو ہم آج ہی گھر جا رہے ہیں ___”
وہ کہتے ساتھ ہی سب سامان سمیٹنے لگی اور اس نے ضرغام کو اشارہ کیا کے وہ جا کے ڈسجارج پیپرز ریڈی کروائے
وہ اس کے حکم کی تکمیل کرتا باہر چل دیا
*******************
ہانی کو سب گھر لے آئے تھے ایک نرس اس کے لیے اپائنٹ کی گئی جو ہر وقت اسکے ساتھ موجود ہوتی گھر میں بھی کوئی نا کوئی اس کے ساتھ ہر وقت مو جود ہوتا کے کہیں وہ خود کو بے بس محسوس نا کرے لیکن ارحام اس عرصے میں بھی اس ملنے نا آیا وہ اب آہستہ آہستہ ریکور کر رہی تھی وہ کمرے سے باہر بھی جاتی تھی مگر زیادہ تر وہ کمرے میں ہی رہتی
*****************
ضرغام کنفیوز سا اس وقت ضارب اور رانیہ کے سامنے کھڑا تھا مگر جب بھی کچھ کہنے کے لیے منہ کھولتا اس کے الفاظ زبان پر آکر ہی دم توڑ جاتے
” غنی اب کچھ منہ سے پھوٹ بھی دو کب سے منہ لٹکائے کھڑے ہو “
رانیہ نے اسکی جھکی گردن پر طنز کیا
” وہ موم میں یہ کہہ رہا تھا ………”
” ہاں کیا کہہ رہے تھے تم ……….”
ضارب نے اسکی بڑبڑاہٹ سے تنگ آکر کہا
” ڈیڈ آپ کچھ بولنے تو دیں مجھے “
وہ جھلا کر بولا
” ٹھیک ہے صاحب زادے بولیں آپ “
وہ کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولے
” میں ہانی سے شادی کرنا چاہتا ہوں “
وہ آنکھیں بند کیے جلدی جلدی بولا اس نے آہستہ سے ایک آنکھ کھولی مگر سامنے کا منظر دیکھ اس نے پٹ سے دوسری آنکھ بھی کھول لی ضارب جو ابھی بیٹھا ہی تھا اپنے نواب زادے کے فرمان پر پھدک کر اٹھ گیا
ضارب اور رانیہ پلک جھپکائے اسے ایسے دیکھ رہے تھے جیسے وہ دنیا کا آٹھواں عجوبہ ہو
” میں نے کچھ غلط کہہ دیا ہے کیا “
وہ دونوں آبرو اونچی کیے ان دونوں سے پوچھنے لگا
” تم نے اس ساری بات میں کوئی درست بات بھی کی ہے “
ضارب نے اسے گھرکتے ہوئے کہا
” لیکن میں تو فاریہ بچی کو اپنی بہو بنانا چاہتی تھی “
رانیہ آسودگی سے بولیں
” کیا سچ میں موم آپ نے تو میرے منہ کی بات چھین لی “
وہ انکے ہاتھ پکڑ کر چومنے لگا
ضارب نے ایک تھپڑ اسکے سر پر کھینچ کر دے مارا
” لگتا ہے دماغ سے فارغ ہو گیے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
ضارب نے اسے کالر سے پکڑ اسے پیچھے کیا جو خوشی سے ماں کے ہاتھ چومے جا رہا تھا
” اوہ سوری میرا مطلب تھا کے موم یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں میں بس ہانی سے شادی کروں گا نہیں تو کنوارہ مر جاوں گا “
وہ سر پر ہاتھ رکھے ڈرامائی انداز میں بولا
” تو بیٹا جی کنوارے ہی مر جائیں کیونکہ زوالقرنین تو اپنی بیٹی تمہیں نہیں دینے والا “
ضارب جو اس کی بات سن شاک میں کھڑا ہو گیا تھا اب بات کرتے کرتے پھر پرسکون سا بیٹھ گیا
” تو ڈیڈ آپ بات کریں نا آبش پھوپھو سے وہ آپ کی بات کو اہمیت دیں گی اور انکی بات کو اہمیت زوالقرنین چاچو “
وہ چٹکی بجاتے ہوئے ایسے بولا جیسے یہ کام چوٹکیوں میں ہی ہو جانا ہے
” ٹھیک ہے میں کرتا ہوں بات آبش سے لیکن آگر اس نے انکار کر دیا تو میں ایک بات بھی آگے نہیں کروں گا “
وہ رانیہ اور ضرغام دونوں کو دیکھتے ہوئے بولے
” ٹھیک ہے ڈیڈ جیسے آپکی مرضی “
وہ اسی بات پر خوش ہو گیا کے چلو مان تو گیے
****************
” آبی تم پاگل ہو گئی ہو میں اپنی بیٹی کسی صورت بھی ضارب کے بیٹے کو نہیں دوں گا “
ذوالقرنین آبش کی بات سنتے ہی ہتھے سے اکھڑ گیا
” زوالقرنین کیا ہو گیا ہے اب آپ کو ضارب کے بیٹے سے کیا مسئلہ ہے اتنا اچھا بچہ ہے اور کتنے پیار سے ضارب نے ہانی کا ہاتھ مانگا ہے “
آبش نے زوالقرنین کے کندھے پر ہاتھ رکھااور وہیں اسکے پاس بیٹھ گئی
” آبی مجھے مسئلہ ضرغام سے نہیں ضارب سے ہے “
وہ جھنجھلا کر بولا
” ناٹ اگین زوالقرنین میں اب کچھ نہیں سنوں گی میں نے ضارب کو ہاں کہہ دی ہے اور تابش بھائی سے بھی میں بات کر چکی ہوں ویسے بھی ہانی ارحام کی وجہ سے بہت ڈسٹرب ہے وہ اسی وجہ سے مکمل ٹھیک نہیں ہو پارہی ہے اور میں نے دیکھا ضرغام کے ساتھ وہ خوش ہوتی ہے اسی لیے میں نے ضارب کو ہاں کہہ دی ہے اور اب آپ نے کوئی ایسی ویسی بات کی تو میں آپ سے ناراض ہو جاؤں گی “
وہ باقاعدہ رخ موڑ کر بیٹھ گئی
” ٹھیک ہے بھئی میں کچھ نہیں کہتا یہ سہی طریقہ ہے کے میں اگر کچھ اپنے منوانے کی کروں تو تم ناراض ہو جایا کرو اور ایک یہ ہی بات ہے جو مجھ سے برداشت نہیں ہوتی “
اسنے اسکا رخ اپنی طرف موڑ کر خفگی سے کہا
” زوالقرنین آپ بہت اچھے ہیں “
وہ فرط جزبات سے اسکے گلے لگ گئی
” ہاں بھئی میں بہت اچھا ہوں “
ذوالقرنین کی شوخ سی آواز جب آبش کے کانوں میں پڑی تو وہ ایک دم اس سے پیچھے
ہوئی
” آپ ہر دفعہ مت شروع ہو جایا کریں “
وہ خفا سی اٹھ کر جانے لگی جب زوالقرنین نے اسکا ہاتھ پکڑ اسے بیٹھایا
” اب یہ الزام تو مت دو میں نے تو ابھی کچھ کیا بھی نہیں ہے “
وہ آنکھوں میں شوخی لیے اسے دیکھنے لگا
” جوان بیٹی کے باپ ہیں آپ یہ سب آپکو زیب نہیں دیتا “
اس نے زوالقرنین کی ناک کھینچی اور اٹھ گئی
” ارے یہ کہاں لیکھا ہے کے جوان بیٹیوں کے باپ انکی ماوں سے رومینس نہیں کر سکتے ……..آبی …….آبی “
وہ آوازیں ہی دیتا رہا لیکن وہ ان سنی کرتی کمرے سے مسکراتے ہوئے نکل گئی اسکی زندگی مکمل تھی جان نثار کرنے والا شوہر اور ایک معصوم سی چاند سی اسکی بیٹی
******************
آج آبش سب کے ساتھ کھانے کی ٹیبل پر ناشتے کے لیے آئی تھی
” ارش تم چار دن سے نائیٹ ڈیوٹی پر تھے اور دن میں آکر ریسٹ کرتے تھے اس وجہ سے تم سے بات نہیں ہو سکی تو بات یہ ہے کے ہم سب نے مل کر ضرغام اور آبش بیٹی کا رشتہ طے کر دیا ہے اور آج سے ٹھیک ایک مہنے بعد انکی شادی ہو نا طے پائی ہے “
تابش پر سکون سے ارش کو بتا رہے تھے مگر یہاں ارحام کا سکون غارت ہو گیا اس نے چونک کر سب سے پہلے ہانی کی طرف دیکھا وہ اسی کی طرف دیکھ رہی تھی اور اسکے دیکھتے ہی اس نے اپنا سر جھکا لیا اور اس کے چہرے پر شرمیلی سی مسکان سج گئی ارحام کو لگا اسے اگلا سانس نہیں آئے گا وہ ایک دم سے کرسی کھینچ کر اٹھ گیا
” تم کدھر جا رہے ہو “
ذینیا نے اس سے پوچھا
” موم میں یونی جا رہا ہوں آج بہت امپورٹنٹ آسائمنٹ سبمٹ کروانی ہے اس لیے دیر نہیں کر سکتا ، تم بھی جلدی آجاو فری “
وہ جلدی سے یہاں سے جانا چاہتا تھا لیکن زینیا کی آواز پر وہ رک گیا
” آج ہانی بھی جائے گی اسے شادی کے لیے بھی چھٹیاں کرنی ہوں گی اور پہلے ہی اسکا بہت نقصان ہو گیا ہے “
انہوں نے کہتے ساتھ ہی ہانی کو بھی اشارہ کیا اور ارحام کو سمجھ نہیں آئی کے وہ کونسے نقصان کی بات کر رہی ہیں
” تائی امی ہانی آج میرے ساتھ چلی جائے گی آج فضا نے لیٹ جانا ہے تو اسے فائق چھوڑ دے گا تو ہانی کو میں لے جاتا ہوں “
ضرغام بھی انکے ساتھ ہی باہر آ گیا اور ہانی اسکے پیچھے چلنے لگی ارحام ایک دم سے پلٹا اور اسکی نظر ضرغام کے ساتھ چلتی ہانی پر پڑی اسے ایک دم سے ہانی پر غصہ آیا کے وہ کیوں اسکے ساتھ جانے پر راضی ہو گئی
” تم دونوں ایسا کرو ہماری گاڑی میں آجاو ویسے بھی سب نے ایک ہی جگہ جانا ہے “
وہ موبائل کو ہاتھ میں گھماتے خود کو لاپرواہ ظاہر کرتے ہوئے بولا جبکہ اس کا دل کر رہا تھا کے ہانی کو کھینچ کے ضرغام سے دور کر اپنے پاس کر لے
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
