Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode15

Khata Meetha Ishq by Tayyba Zainab Episode15

ذوالقرنین نے فوراً موڑ کر اسکی طرف دیکھا وہ آنکھوں میں آنسو لیے اسے ہی دیکھ رہی تھی
” بولو جو کہہ رہی وہ سچ ہے “
اس نے فرط جزبات میں آکر اسکا چہرہ تھام لیا اسے کوئی پرواہ نہیں تھی کے اردگرد کون ہے کون نہیں اسی فکر تھی تو بس اسکی معافی کو سننے کے لیے تڑپتے دل کو قرار دینے والے الفاظ کی
ارحام اور ہانی ناسمجھی کے انداز میں انہیں دیکھنے لگے کے وہ کس معافی کی بات کررہے ہیں جبکہ تابش اور زینیا اس معافی کے متعلق جانتے تھے
” میں سچ کہہ رہی ہوں زوالقرنین بس بدلے میں مجھے میری بیٹی اور بھتیجے کی خوشی دے دیں “
وہ روتے ہوئے بول رہی تھی آنسو گال پر بکھر رہے تھے اس کو اپنا یہ بھتیجا بہت پیارا تھا جب وہ مشکل دور سے گزر رہی تھی تو اسکی کلکاریاں اور شرارتیں ہی اسے تکلیف دہ سوچوں سے باہر نکالتی تھیں
” بہت یوشیار ہو کبھی گھاٹے کا سودا نہیں کرتی جان گئی ہو کے میں کہاں کمزور پڑتا ہوں “
زوالقرنین کی خود کی آواز آنسوں میں گھلی تھی مگر وہ مسکراتے ہوئے بولا اسکی بات پر سب کے ہلکے ہلکے سے قہقے گونجے کیونکہ اسکی بات میں نیم رزا مندی شامل تھی وہ آبش کو چھوڑ ارحام کے پاس آیا
” میں آج ہی تمہارا نکاح اپنی بیٹی کے ساتھ پڑھوا دوں گا مگر ایک شرط کے ساتھ کے تم میری بیٹی کو کبھی تم سے محبت کرنے پر پچھتانے نہیں دو گے کیوں کے میں جانتا ہوں کے یہ پچھتاوے زندگی بھر کے روگ کے سوا اور کچھ نہیں دیتے “
زوالقرنین بیٹی کا باپ بن کر اب اس سے عہدو پیمان کر رہا تھا جبکہ اس نے آخری بات آبش کو دیکھ کر کی جس نے اسے آنکھوں سے اشارہ کیا کے آپکا فیصلہ درست ہے
اور پھر سب ہی ہلکے پھلکے ہوگئے اب تھا آخری مرحلہ یعنی ضرغام، ناجانے اسکا کیا ریکشن ہوگا سب ہی اسکو لے کر سوچنے لگے
*******************
سب اس وقت اماں بی کے کمرے میں موجود تھے ضارب کو آبش نے منا لیا تھا اور رانیہ تو ویسے بھی ضرغام کے لیے فری کو سوچے ہوئے تھیں مگر ضرغام اس وقت ایسے بپھرا کھڑا تھا جیسے وہ ہانی کے عشق میں گوڈے گوڈے ڈوبا ہو
” آپ سب لوگ میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں میرے بارے میں بھی تو سوچیں میں کتنا خوش تھا کے آج میرا نکاح ہے میری بھی بیوی ہو گی میں بھی دلہا بنوں گا “
وہ معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑتا اس وقت سب کی ہمدردی سمیٹ رہا تھا اور فری کا دل کر رہا تھا اس نوٹنکی کا سر پھوڑ دے جو ناجانے کیا سے کیا بکواس کیے جارہا تھا
” ہاں میں جانتی ہوں میرے بیٹے کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے مگر میں نے اپنے بیٹے کے لیے بھی بہت اچھا سوچ رکھا ہے “
آبش کی بات سن سب کے کان کھڑے ہو گیے جبکہ ضرغام کو پتہ چل گیا کے اب اسے اپنے ناٹک کا انتہائی میٹھا پھل ملنے والا ہے آبش نے سوالیہ نظروں سے ارش کی طرف دیکھا جس نے بہن کے نظروں کا سوال سمجھ اسکے فیصلے پر ہاں کی مہر رکھ دی
” میں نے اپنے بیٹے کے لیے فری کا سوچا ہے کیوں بھی ویرا بھابھی ضرغام آپکو اپنی فرزندی میں قبول ہے “
وہ اپنی بات کر ویرا کی طرف دیکھنے لگی جس نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلا دیا اور ہر طرف ہی خوشی کی لہر دوڑ گئی
” آپ بڑوں کا ہر فیصلہ مجھے دل وجان سے قبول ہے “
وہ انتہائی شریفانہ انداز میں بولا جبکہ فری کی تو حواس ہی مختل ہو گیے کسی نے اسکی مرضی تو پوچھنا تک دور اسکی طرف دیکھا تک نہیں وہ ایک دم چٹخ کر بولی
” میری مرضی کے بغیر آپ سب اتنا بڑا فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں “
اسکی آواز پر ایک دم ہوا میں سکوت سا چھا گیا سب ہی ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے کے واقع اس بارے میں کسی نے سوچا تک نہیں
ویرا نے تنبہہ کرتی نگاہوں سے اسکی طرف دیکھا مگر اس پر آج ویرا کی گھوریاں بھی اثر نہیں کر رہی تھی
” اور تم یہ ڈرامے بند کرو یہ سب پہلے سے طے تھا کے جیسے ہی ارحام کو اپنی محبت کا احساس ہو گا تم پیچھے ہٹ جاو گے پھر اس سب بکواس کا مطلب “
وہ غصے میں جو منہ میں آیا بولتی چلی گئی جبکہ ضرغام اسے گھوریاں ڈالے جا رہا تھا کے خاموش ہو جاو مگر وہ اس سب سے بے بہرہ بولتی ہی چلی گئی
” فری یہ سب تم نے میری وجہ سے کیا “
ارحام فوراً سے بولا اسے فری سے آج جتنی ہمدردی ہوئی اتنی شاید زندگی میں نہیں ہوئی
” میری بہن نے میرے لیے یہ سب کیا ہے تو پھر ٹھیک ہے اب میرا بھی فرض بنتا ہے کے میں اپنے بھائی ہونے کا فرض ادا کروں تو بولو فری کیا تم ضرغام سے رشتہ نہیں چاہتی “
فری کو بھی ٹوٹ کر ارحام پر پیار آیا کہ سب میں اسی ایک نے تو اسکی مرضی پوچھی تھی اور ضرغام کو اس وقت ارحام زہر لگا اور وہ سوچ رہا تھا کے وہ کونسی گھڑی تھی جب اس نے اسکی مدد کرنے کی سوچی
فری نے ارحام کے سوال کرنے پر فوری نفی میں سر ہلا دیا
” تو پھر ٹھیک ہے فری اور ضرغام دونوں میں سے کسی کے ساتھ زبردستی نہیں کی جائے گی “
ارحام نے فری کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا اور وہ مسکرا دی ضرغام کا دل کیا چیخ چیخ کر کہے کے اسکے ساتھ کوئی زبردستی نہیں ہو رہی اسے اپنے ساری پلاننگ پر پانی پھیرتا نظر آیا
” چلئے ضرغام بھائی اب آپ دلہا نہیں رہے اور اپنی شیروانی میرے بھائی کو دے دیں “
حزیفہ اسکے سامنے آکر کمر پر ایک ہاتھ رکھے اور دوسرا اسکے سامنے کیے بولا اسکے انداز پر سب مسکرا دیے
” کیوں میں کیوں دوں تمہارا بھائی دلہن بھی میرے لے اور شیروانی بھی میری میں نہیں دوں گا کرے اس ٹراوزر شرٹ میں ہی نکاح “
وہ جل کر کہتا کمرے سے نکل گیا اور اسکے اسطرح جانے پر سب کی دبی دبی ہنسی چھوٹ گئی
” ہنہہ …….. نہیں دیتا تو نا دے میں خود جا کر اپنے بھائی کے لیے شیروانی لے کر آوں گی چلو فائق جلدی چلو “
وہ ضرغام کے اسطرح کہنے پر ناک چڑھا کر بولی اور فائق کو اشارہ کیا
باہر نکلتے ضرغام نے بھی اسکی بات سن لی تھی وہ سر جھٹک کر آگے بڑھ گیا وہ سمجھ گیا تھے کے اس پہاڑ کو کیسے سر کرنا ہے اسلیے خاموشی سے نکل گیا
” میں کیوں چلوں تھوڑی دیر میں میرا نکاح ہے “
وہ متحیر سا بولا
” تم چل رہے ہو یا تمہارا بھی نکاح رکواوں “
وہ تڑخ کر بولی
” اچھا بھئی چل رہا ہوں تم تو دھمکیوں پر اتر آتی ہو “
وہ بھی چارو ناچار اسکے ساتھ چل دیا
*******************
سب اس وقت ارحام اور ہانی کے پاس تھے نکاح اور مہندی دونوں کا انتظام ہی لان میں کیا گیا تھا پورا لان لائٹوں سے جگمگ کر رہا تھا دولہے کے تبدیل ہو جانے پر سب ہی حیران پریشان سے باتیں بنا رہے تھے مگر اس سب سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا تھا
ارحام نے پردے کے اس پار بیٹھی ہانی کو ڈوپٹے کے ہالے سے دیکھا اسکا معصوم حسن دیکھ اسکے ہونٹ مسکرا دیے وہ نکاح نامے پر دستخط کر چکا تھا اب ہانی کا اقرار باقی تھا وہ اسی ہی دیکھ رہا تھا جس نے دھیرے سے قبول ہے کہا اور دستخط کرنے کے لیے ہاتھ بڑھائے کے اچانک ہاتھ روک اس نے اسکی طرف دیکھا
ہانی نے ہاتھ روک اس کی طرف دیکھا جو محبتوں کا سمندر آنکھوں میں سموئے اسے ہی دیکھ رہا تھا آج اسکی محبت کی تکمیل تھی بلکل اس خواب کی طرح جسے ہر کوئی پورا کرنا چاہتا ہے اس نے بھی ایک خواب دیکھا تھا ارحام آغا کا خواب اسکی محبت کی حقدار ہونے کا خواب اور آج اسکی آنکھوں میں دیکھ اسے احساس ہو گیا کے جہاں اللہ کی مرضی ہوں وہاں خواب پورے ہوتے ہیں وہاں سچی محبتوں کو منزل ملتی ہے اسکی مسکراتی آنکھوں کو دیکھ وہ بھی مسکرا دی
” بےشرم دلہن اب سائن کر بھی دو بعد میں جتنا مرضی دیکھ لینا “
فری نے اسے ٹہوکا دیا تو وہ اس خواب سے جاگی جو اب ساری زندگی اس نے دیکھنا تھا جاگتی اور سوتی آنکھوں سے ارحام نے آنکھوں سے اسے دستخط کرنے کا اشارہ کیا گویا پیغام تھا آو میری ہو جاو ………
مل کر عشق کی دنیا میں
آو ہم شہرِ محبت آباد کریں
کر کے تکمیل عشق کی
آو ہم عبادتِ محبت کریں
ابتدائے عشق کی انتہا کریں
آو ہم ایک اور داستانِ محبت لکھیں
پا کر ایک دوسرے کا ساتھ
آو ہم باہم گیتِ محبت لکھیں
دے کر عشق کو تصویرِ حقیقت
آو ہم اس میں رنگِ محبت بھریں
کرکے تسخیر اس ایک جنگ کو
آو ہم اسے امنِ محبت کا پیغام دیں
کرکے فنا ان رسموں کو
آو اسے نکاحِ محبت کا نام دیں
از طیبہ زینب
اس کی نظروں کے پیغام پر اس نے مسکراتے ہوئے نکاح نامے پر دستخط کر دیے
ہر طرف مبارک باد کا شور اٹھ گیا حالانکہ ہانی کو اسی گھر میں رہنا تھا مگر پھر بھی سب کی آنکھیں اس وقت اشک بار تھیں دونوں جوڑیوں کو سٹیج پر لے جایا گیا فضا نے نکاح کی مناسبت سے جوڑا زیب تن کیا ہوا تھا اور ہانی نے مہندی کی مناسبت سے رسمیں ختم ہوئی تو دونوں کو اپنے اپنے کمرے میں لے جایا گیا ارحام کا تو دل تھا کے آج ہی اس کا ہاتھ پکڑ اسے اپنے ساتھ لے جائے مگر معاشرے کی رسموں کو بھی نبھانا ضروری تھا اسکے لیے یہ ہی بہت تھا کے وہ اسکے نصیب میں لکھ دی گئی تھی وہ باقاعدہ اسے کے نام کر دی گئی تھی اس نے ہنی سے وہ محبت کی تھی جس میں شراکت کی گنجائش نہیں تھی اور آج وہ محبت اسکے سامنے مجسم مسکرا رہی
تھی وہ پر سکون سا بیڈ پر لیٹ گیا کل اسکی ہانی اسکے پاس ہو گی اسکی آغوش میں ان لمحوں کے تصور نے ہی اسی نیند کی تھپکی دے کر سلا دیا
*****************
وہ اس وقت کمرے میں بیٹھی ارحام کا انتظار کررہی تھی اسکا انتظار طویل ہوتا جارہا تھا اور انتظار کے دھڑکنوں کا شور بھی زور پکڑ رہا تھا وہ ابھی اپنے آپ کو ابھی کمپوز کر ہی رہی تھی جب ارحام کے بھاری قدموں کی آواز اسے اپنے قریب آتی سنائی دی سانسوں نے ساتھ دینے سے انکار کر دیا وہ ایسے اکھڑ رہی تھی جیسی بند ہو جائیں گی
” سلام جاناں “
ارحام آرام سے اسکے قریب بیٹھ گیا اور اپنے مخصوص لب ولہجے میں اسے سلام کیا اس نے دھیرے سے اسکے چہرے سے گھونگٹ ہٹایا
” ماشاءاللّه “
بے اختیار ہی اسکے منہ سے یہ الفاظ ادا ہوئے تھے وہ لگ ہی اتنی پیاری رہی تھی آج اس کی روشن پیشانی واضح تھی کیونکہ اسکو ڈھانپے ہو بالوں کو آج پیچھے قید کر دیا گیا اس کی جھکی نظریں اور کناروں سی جھلکتی آئی لائنر کی نوک اسے اپنے دل میں کسی کیل کی طرح پیوست ہوتی محسوس ہو رہی تھی لبوں کو گہرے سرخ رنگ کی لپسٹک سے سجایا ہوا تھا اور اسکی ننھی سی ناک میں گول نتھ جھول رہی تھی ارحام نے بےخود ہوکر ہاتھ بڑھا کر اس نتھ کو نکال دیا جس کی وجہ سی اس کی چھوٹی سی ستواں ناک لال ہو رہی تھی ہانی کے منہ سے سی کی آواز نکلی
” کیا ہوا درد ہوا ہے _______”
وہ اسکے ہاتھ پکڑ سہلاتے ہوئے بولا اسکے پوچھنے پر اس نے اثبات میں سر ہلا دیا ارحام سنجیدہ چہرے سے اسکے تاثرات جان رہا تھا
” روکو میں تمہاری منہ دکھائی دینا تو بھول ہی گیا “
وہ اسکو ریلیکس کرنے کے لیے اٹھا تاکہ وہ کمفرٹیبل فیل کرے اور پھر تھوڑی دیر بعد اسکے سامنے آیا
” یہ دیکھو میں نے میری ہنی کے لیے ایک بہت ہی خوبصورت بلکل میری ہنی جیسا نیکلس لیا ہے یہ جب لیا تھا جب میں اسلام آباد یونی ٹرپ پر گیا تھا مجھے نہیں معلوم تھا کے تمہیں اس طرح دوں گا کیا مجھے پہنانے کی اجازت ہے “
وہ اس سے ہلکے پھلکے انداز میں بات کر رہا تھا اس کی آنکھوں میں دیکھ وہ اس سے سوال کر رہا تھا ہانی نے پلکوں کی باڑ گرا کر گویا اسے اجازت دی وہ آگے اسکی گردن پر جھک اسے نیکلس پہنانے لگا جب ہانی نے گھبرا کر دونوں ہاتھوں سے بیڈ شیٹ تھام لی وہ پیچھے ہوا تو دیکھا وہ آنکھیں بند کیے ڈری ہوئی ہے اس کی نظر اسکی گردن میں جگمگاتے نیکلس پر پڑی جو پوری آب و تاب سے اسکی صراحی دار گردن کی شان بڑھا رہا تھا اس نے ایک فیصلہ کیا اور پھر اسکے پاس سے اٹھ گیا
” جاو اٹھ کر چینج کر لو “
وہ اپنے جزبات پر بندھ باندھتا اسکے گال تھپتھپا کر اٹھ گیا اس کے لیے خود پر ضبط کرنا مشکل تھا لیکن وہ اسکے لیے کچھ بھی کرسکتا تھا اسکے کہنے کے بعد ہانی کی روکی ہوئی سانس بہال ہوئی اور وہ اپنا بھاری لہنگا سنبھالتی وہ واشروم کی طرف بڑھ گئی
” یاالله یہ کیا ہو رہا ہے ایسا تو کبھی نہیں ہوا ایمی جب جب میرے قریب آئے مجھے ایسا کبھی محسوس نہیں ہوا جیسا آج ہو رہا ہے “
وہ اپنی سوچوں میں گم تھی پھر جلدی سی چینج کر منہ پر پانی کے چھپکے مار وہ باہر آگئی جب باہر آئی تو ارحام چینج کر کے لیٹ چکا تھا وہ بھی قدم قدم چلتی بیڈ کے دوسرے کونے پر آکر لیٹ گئی
ابھی اس نے آنکھیں بند کی ہی تھی جب ارحام نے اسے بازو سے پکڑ اپنی سائیڈ پر کھینچ لیا اور اسے اپنی نرم گرم آغوش میں لے لیا وہ جو پر سکون ہو کر آنکھیں موند پر سکون سی لیٹ گئی تھی کے اس اچانک افتاد پر بوکھلا کر اسے دیکھنے لگی
جاری ہے _______

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *