Kaho Mujh Sy Muhabbat Hai by Iqra Khan NovelR50636 Kaho Mujh Sy Muhabbat Hai (Episode 17)
Rate this Novel
Kaho Mujh Sy Muhabbat Hai (Episode 17)
Kaho Mujh Sy Muhabbat Hai by Iqra Khan
کیا ہوا ہے شہوار تم کچھ پریشان لگ رہی ہو روہان نے اپنا بستر بیڈ سے لیتے ہوئے کہا
ن۔۔نہیں نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے میں ٹھیک ہوں وہ بس ایک کیس آیا ہے اس میں زرا مصروفیات زیادہ ہیں ۔۔اسنے جان بھوج کر مسکراتے ہوئے کہا جواب سنتے ہی وہ مسکرایا اور بولا
ائیڈوکیٹ در شہوار کے لیے کونسا مشکل کام ہے وہ ہر کیس جیتی ہے ۔۔اور انشااللہ یہ بھی جیتے گی
تھیک یوں ۔۔میری اتنی تعریف کرنے کے لیے
جو تعریف کرنے کے قابل ہو اسکی تعریف کی جاتی ہے اور یہ تعریف میں ہی نہیں بلکے سارے لوگ کرتے ہیں وہ یہ کہتے ہوئے آگے بڑھا کہ شہوار نے اسے روکا
و۔۔۔وہ تم بیڈ پہ سو سکتے ہو ۔۔روہان ! اسنے اٹکتی ہوئی آواز میں کہا
نہیں ۔۔میں صوفہ پر کمرفٹیبل ہوں ۔۔اسنے آئیستہ سے کہا
ن۔۔نہیں ۔لاو تم وہ جلدی سے آگے بڑھی اور اسکے ہاتھ سے بستر لیا اور بیڈ پر رکھ دیا ۔
______________________________
رات کے بارہ بجے جب روہان نے شہوار کو اٹھایا ۔۔
جیسے اسنے آنکھ کھولی وہ ہاتھ میں کیک لیے کھڑا تھا ۔
ہیپی برتھڈے مسسز روہان اسنے مسکراتے ہوئے کیک اسکے آگے کیا ۔
وہ بلکل چونک گئ ۔۔
تمھیں میری برتھڈے کا کس نے بتایا روہان ؟
زرش نے بتایا تھا صبح ۔۔اچھا تم کیک کاٹو ۔۔روہان نے کہا تو اسنے کیک کاٹا اور ساتھ ایک پیس اسے کھلایا ۔
تھینک یوں ! آج تک زرش کے علاوہ تم پہلے انسان ہو جس نے مجھے برتھڈے وش کی ہے ٹھیک بارہ بجے ۔
اچھاجی! روہان نے اسکی طرف دیکھتے ہوئے کہا
اسنے مسکراتے ہوئے سر ہلایا
میں تمھارے لیے کچھ لایا ہوں اپنا ہاتھ آگے کرو ۔روہان نے شہوار کے بازو پہ ایک نفیس اور بہت ہی پیاری چمکتی ہوئی برسلٹ پہنائی جو ۔۔دیکھنے میں بہت مہنگی لگ رہی تھی ۔۔اسے ہمیشہ اپنے پاس رکھنا ۔میرا پہلا گفٹ ۔۔
بہت پیاری ہے برسلٹ اسنے اسے دیکھتے ہوئے کہا
لیکن تم سے کم! روہان نے بے اختیار اسے دیکھا
نہیں مجھ سے زیادہ پیاری ہے ۔۔جیسے شہوار نے کہا ان دونوں نے قہقا لگایا ۔
اب میگی کھائیں ۔۔روہان نے کہا تو وہ دونوں اٹھے اور نیچے ۔آئے ۔۔
اب ان دونوں کے درمیان کوئی تلخی کی جگہ نہیں تھی ۔۔کوئی نفرت اب انکی محبت میں نہیں تھی ۔۔وہ دونوں اب ایک دوسرے کو اپنی دنیا مان چکے تھے کیونکہ روہان کی محبت کے آگے در شہوار کی محبت نے گھٹنے ٹیک دیے ۔۔
___________________________
امی میں نے کہا نہ میں نہیں کر سکتی نکاح آپ کیوں خوامخواہ ایک فضول سی بحث میں الجھی ہیں ۔۔زرش نے اکھڑتے ہوئے لہجے میں کہا
کیا کمی ہے شیان میں زری تم کیوں نہیں سمجھ رہی سکینہ بیگم نے جیسے کہا وہ فورا بولی
امی وہ شخص میرے کیا کیسی کے بھی لائق نہیں ہے ۔زرش نے شاتستگی سے جواب دیا
بیٹا شیان اتنا اچھا کماتا ہے ۔۔دیکھو وہ تمھیں خوش رکھے گا ۔۔سکینہ بیگم اپنی بات پر ڈٹی ہوئی تھی
امی ۔۔مجھے تو اسکے کام پر بھی شک ہوتا ہے آئے دن وہ اسلام آباد کے لیے روانہ ہوا ہوتا ہے کبھی آپ نے سوچا ہے کہ شیان جو ہمیں بتاتا ہے وہ سچ نہ ہو ۔جس بزنس کے بارے میں وہ ہمیں بتا کر ہفتے میں دو چار دفعہ اسلام آباد جاتا ہے ۔۔کونسا ایسا بزنس ہے
زرش بکواس بند کرو ۔۔یہ جھوٹا الزام مت لگاو اس پر سمجھی تم ۔اور دو دن ہیں تمھارے پاس ۔مجھے فیصلہ کر کے بتاو ورنہ پھر میں کروں گی ۔۔جو میرا فیصلہ ہو گا وہ تمھیں ماننا ہو گا
پر امی ۔۔زرش نے بے اختیار کہا
لیکن ویکن کچھ نہیں ۔۔سکینہ بیگم نے کمرے سے باہر نکلتے ہوئے کہا
وہ بری طرح پھس چکی تھی ۔۔اسکے پاس کوئی حل نہیں تھا شیان سے جان چھڑانے کا ۔۔وہ کوئی غلط قدم بھی نہیں اٹھانا چاہتی تھی ۔۔ابھی وہ اسی کشمکش میں مبتلا تھی کہ زرش کے فون کی گھنٹی بجی
کیا چاہیے آپ کو ۔۔آگے میری زندگی عذاب بنی ہے اور اوپر سے آپ اور کر رہے ہیں خدا کے لیے مجھے بخش دیں ۔زرش نے اکتاتے ہوئے کہا
ویسے اس مسلے کا حل ہو سکتا ہے اگر آپ مجھے بتائے گی عاقب نے برم لہجے میں کہا
اچھا ۔۔کیوں آپ کیسے میرے مسلے کو حل کر سکتے ہیں
کیونکہ میں آپ کو پسند کرتا ہوں ۔۔عاقب نے بے اختیار کہا
کس قسم کے انسان ہیں دیکھیے میں واقعی بہت مصیبت میں ہوں میری زندگی اور
مصیبت مت بناو ۔۔
“تم بتاو تو سہی ” عاقب نے اصرار کیا
کیا کر لو گے تم ۔۔ زرش نے غصے سے کہا
کر تو کچھ نہیں لوں گا لیکن ایسے دل کا بھوج ہلکا ہو جاتا ہے بتاو تو سہی میں اتنا برا شخص نہیں ہوں جیسا تم نے تصور کیا ہے مجھے اسنے ہلکا سا مسکراتے ہوئے کہا
وہ آگے سے بے بس ہو گئ ۔۔اور اسے سارا مسلہ بتایا
کبھی بھی شیان سے شادی مت کرنا زرش ۔۔اس سے شہوار کو بہت تکیلف ہو گی
وہی تو ۔۔اور میں ایسے جھوٹے مکار شخص سے شادی نہیں کرنا چاہتی لیکن امی اس بات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کر رہی ۔انہوں نے کہا ہے دو دن میں اپنا فیصلہ سنا دو ۔۔ورنہ میں اپنا فیصلہ سنا دوں گی زرش کی آنکھوں میں آنسو آگئے
ت۔۔۔تم فکر مت کرو۔۔میں کچھ کرتا ہوں ۔عاقب نے حوصلہ دیا
کیا کر لو گے تم ۔عاقب وہ شخص نہایت ہی چال باز ہے ۔
یقین کرو ۔زرش اب وہ شخص کبھی تمھاری زندگی میں قدم نہیں رکھے گا ۔۔عاقب نے کہا اور فون بند کر دیا
کیا ۔کرنے والا ہے یہ۔زرش نے چونکتے ہوئے کہا
__________________________
کیا تم زرش کو پسند کرتے ہو ؟ روہان نے چونک کر عاقب کو دیکھا
ہاں یار ! مجھے وہ اچھی لگتی ہے ۔۔عاقب نے آئیستہ سے کہا
ارے ۔۔واہ ہائے ۔آگئے تم پر بھی کفیت محبت کی کیسا محسوس ہو رہا ہے مسٹر عاقب ۔۔صاحب ۔۔
تم مذاق اڑا ہو میرا ۔۔
ارے نہیں نہیں ہم تو اپنے دوست ۔۔کے درد میں برابر کے شریک دار بن رہے ہیں ۔روہان نے طنزا مسکراتے ہوئے کہا
چپ کر کمینے اب بتاو ۔میں کیا کروں ؟
کرنا کیا ہے اسے بتا دو ۔۔اپنی دل کی بات روہان نے لاپروائی سے کہا
تو تو ایسے کہہ رہا ہے جیسے بہت آسان ہو ۔۔یار اسکا کزن شیان اسکے گھر والے چاہ رہے ہیں کہ زرش کا اس سے نکاح ہو جائے ۔۔یہ سنتے ہی ۔۔روہان پوری طرح چونکا
کیا؟ وہ گھر والے پاگل تو نہیں ہو گئے
وہی تو ۔۔وہ بیچاری شہوار کو بھی اس معاملے کے بارے میں نہیں بتا رہی ۔۔ عاقب نے آفسردگی سے کہا
تو پھر ٹھیک ہے عاقب تم دیر مت کر۔۔
مطلب؟ عاقب نے نا سمجھنے والے انداز میں کہا
اسکا مطلب یہ کے اس سے پہلے اس شیان کے بچے کے ساتھ زرش کی شادی ہو جائے تم اس کے گھر اسکا ہاتھ مانگنے چلے جاو ۔۔
کیا؟ عاقب چونکا
تو اور کیا ۔یہی حل بچا ہے ۔۔نہیں تو پھر جانے دے شیان کے ساتھ اسے ۔۔جیسے روہان نے کہا وہ فورا بولا
نہیں ۔نہیں ۔۔ایسا نہیں ہونے دوں گا ہاں ۔اب یہی حل بچا ہے ۔کیونکہ وہ ایسے تو مانے گی نہیں
آخر بہن کس کی ہے ۔۔روہان نے کہا تو ان دونوں نے بے اختیار قہقا لگایا
_______________________
ٹھیک ہے ۔۔ملوں گی بتاو کہا ملنا ہے ۔۔آخر کار درشہوار نے کہہ دیا
یہ ہوئی نہ بات ۔۔ابھی بتاتا ہوں ۔۔شیان ہنسا ۔
وہ تھک چکی تھی اسکی لگاتار فون کالز ۔اسنے آخر کار خود کو ۔۔اس بات پر راضی کیا کہ وہ۔اس شخض سے آخری دفعہ ملے گی ۔۔صرف آخری دفعہ
کچھ منٹ بعد فون سکرین پر ایک پتا معصول ہوا کیفے بار میں اسے بلانے کا کہا تھا ۔۔وہ میسج پڑھتے ہی اٹھی اور باہر کی جانب بڑھنے لگی ۔ٹیکسی میں بیٹھتے ہوئے اس نے روہان کو میسج کیا تھا
کہ وہ آج اسے لینے نہ آئے وہ زرا مصروف ہے میسج جیسے اسے معصول ہوا ہے
وہ اسی کیفے بار میں موجود تھا عاقب کے ساتھ جہاں شیان آنے والا تھا
___________________________
روہان اور عاقب کیفے سے باہر نکل رہے تھے جب عاقب کی نظر شہوار پر پڑی
روہان بھابھی یہاں ہیں! جیسے اسنے کہا روہان نے فورا پلٹ کر اسے دیکھا وہ ۔۔کیسی کے ساتھ بیٹھ رہی تھی اور وہ کوئی اور نہیں شیان فراز تھا یہ منظر کیسی کہر کی طرح روہان پر برس پڑا شہوار اس مصروف کام کے لیے آئی تھی دل میں سوال پیدا ہونے لگے ۔۔
اور خاموشی سے اپنی گاڑی کی طرف بڑھا عاقب یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گیا ۔وہ اس حالت میں روہان سے پوچھنا بھی نہیں چاہ رہا تھا کیونکہ وہ۔روہان کی کفیت کو سمجھ سکتا تھا
ہاں بولو۔کیا بتانا ہے تمھیں شہوار نے بے رخی سے کہا
ہائے ابھی تو آئیں ہیں کچھ آڈر کیجیے بیٹھ کے تحمل سے بات کرتے ہیں پھر ۔۔شیان نے مسکراتے ہوئے کہا
اپنی اس بکواس کو۔بند رکھو ٹھیک ہے اور جو بکنا ہے جلدی بکو ۔۔میرے پاس اتنا ٹائم نہیں ہے کہ میں تمھارے جیسے شخص کے منہ لگوں
اتنی نفرت مجھ بیچارے پر
بیچارے اور تم! اپنی ھرکتیں دیکھو پہلے اور پھر سوچنا کہ تم کیا ہو ۔۔اچھا ہوا ماضی میں ایک بہت بڑی غلطی سے چونک گئ ورنہ تم جیسے گھٹیا اور شک کرنے والے انسان کے ساتھ میں اپنی زندگی کیسے گزارتی اور پتا ہے میں نے شکرانے کے دو نفل ادا کیے ہیں کہ اللہ نے مجھے تم جیسے گناہ سے بچا لیا ۔
اور روہان علی خان جیسے انسان کو میری زندگی تصور کیا
د۔۔۔دیکھو شہوار میں تم سے اب بھی بہت پیار کرتا ہوں پلیز ۔۔میری بات سنو مجھے پتا ہے میں نے جو بھی کیا وہ نہیں کرنا چاہیے تھا لیکن یقین کرو میں ابھی بھی تم سے ہی محبت کرتا ہوں ۔اور تم بھی مجھ سے ابھی تک محبت کرتی ہو شیان نے شہوار کا ہاتھ پکڑانا۔چاہا لیکن
اس سے پہلے شہوار نے اسکے منہ پر ایک زور دار تھپڑ رسید کیا
نام مت لو میرا اپنی گندی زبان سے اور کس محبت کی بات کر رہے ہو کونسی محبت؟ میں نے تو تم جیسے شخص سے کوئی محبت نہیں کی جو شخص محبت کے مطلب کو نہ جانتا ہو جیسے محبت کے جذباتوں کی اعتبار کی قدر نہ ہو ۔اس سے بھلا کون محبت کر سکتا ہے بولو۔۔اور ایک بات یاد رکھ لو میری زندگی میں تم تھے لیکن اب نہیں انسان ماضی کو پیچھے چھوڑ آتا ہے اور میرا موجودہ حال روہان ہے جسکے لیے میں تم جیسے دو کوڑی کے انسان کو بھی چھوڑ سکتی ہوں شہوار نے غصے بڑے لہجے میں کہا
کیا کمی ہے مجھ میں جو تم اس روہان کے لیے مجھے چھوڑ رہی ہو ۔بولو ۔۔شیان نے اپنا آخر پینترا آزمایا
کبھی آسمان اور زمین کو ایک ہوتے دیکھا ہے ؟
بولو؟ دیکھا ہے کبھی ۔۔تو یہی فرق ہے تم میں اور روہان علی خان میں تم ساری زندگی ائیڑھیاں بھی رگر لو گے نہ تو اس کے برابر کبھی نہیں ہو سکو گے اسنے کہا اور چئیر سے اٹھ کھڑی ہوئی
اتنا یقین مت کرو روہان پر ۔۔کیا پتا وہ تمھاری سوچ کے برعکس ہو ۔۔شیان نے اونچی آواز میں اسے کہا
وہ رکی اور اسے پلٹ کر دیکھا اور ایک طنزا مسکراہٹ سے کہا
تم جیسے ۔۔چھوٹے سوچ کے مالک ایسے ہوتے ہیں
__________________________
روہان ٹھیک ہو وہ خاموشی سے سر جھٹکائے بیٹھا تھا
ہوں ۔۔ہاں۔! ہاں ٹھیک ہوں میں ۔۔اسنے سر کو اوپر کیا
پوچھو گے اس سے ؟ عاقب نے شائستہ لہجے میں کہا
نہیں؟ روہان نے مختصر جواب دیا
کیوں؟ ایک دفعہ پوچھنا کیا پتا وہ کیسی کام سے اس سے ملنے گئ ہو ۔۔عاقب نے حمایت کرتے ہوئے کہا
جب اسے پہلی دفعہ دیکھا تھا تو اسکی آنکھوں میں آنسو اگئے تھے عاقب ۔۔پہلہ محبت ہے وہ اسکی بھلائے بھی نہیں بھلائی جاتی ۔۔۔اسکی آواز میں بہت درد تھا ۔بہت درد عاقب بے اختیار آگے بڑھا اور اسے اپنے گلے لگایا
کچھ ۔۔نہیں ہوتا ۔۔تو یار ہے میرا ۔۔
بہت درد ہوتا ہے ! جب اپنی محبت کو کیسی اور کے ساتھ دیکھو ۔۔روہان نے ۔۔اپنا چہرے کو ہاتھ کی کلائیوں میں ڈھانپ دیا
____________________________
سر ہمیں لگتا ہے ۔۔ہمارے خلاف کوئی ثبوت اکھٹے کر رہا ہے
ارے تم فکر مت کرو کیسی کی ہمت نہیں ہے کہ کوئی ہم تک پہنچے بہت آئے تھے لوگ ۔۔ہمیں پکڑنے لیکن اس رے کیٹ کا بادشاہ ہوں میں ۔۔اس آدمی نے ہنستے ہوئے کہا ۔۔
لیکن سر ۔۔معلوم ہوا ہے ۔اس دفعہ ائیڈوکیٹ در شہوار ہے ۔۔فون میں سے کوئی گھبرا کے بولا
کیا ائیڈوکیٹ در شہوار ۔وہ آدمی چونکا ۔۔اب تو اور مزہ آئے گا اس در شہوار سے بڑے ایسے کام ہیں جنکا بدلہ لینا ہے ۔۔میں نے دیر سے ہی لیکن ۔۔۔لیکن شکار ہاتھ میں آگیا
اس آدمی نے یہ کہتے ہوئے فون بند کیا ۔
اور فون بند کرتے ہی اسنے ۔ساتھ کھڑے بندے کو روہان علی خان کی خبر ۔۔نکلوانے کو کہا
اب آگیا ہے وقت مس شہوار آمنے سامنے ۔۔ہونے کا ۔بہت سمجھا لیا اچھا بن کے
ْ___________
لاو میں کر دیتی ہوں شہوار آگے بڑھی اور روہان کا کورٹ پکڑا اور اسے پہنانے میں مدد کی
“تھینک یوں” روہان نرم لہجے میں کہا
“اس میں شکریہ والی کیا بات ہے بیوی ہوں اتنا تو حق بنتا ہے میرا کہ مین اپنے شوہر کے کام کروں” جیسے شہوار نے کہا روہان یک دم رک گیا اور حیرانگی نے سے شہوار کو تکنے لگا اور پھر مسکرا کر کہا
“کیا کہا آپ نے؟”
مطلب؟ شہوار نے نظریں جھکائی
جو کچھ دیر پہلے کہا تھا ۔۔روہان نے یاد دہانی کروائی
ظاہر ہے بیوی ہوں تمھاری ۔اب وضاحت مت پوچھنا ٹھیک ہے ۔وہ یہ کہہ کر پلٹی ۔۔۔
ایک بات پوچھوں روہان نے جیسے کہا شہوار نے اسکی طرف رخ کیا
ہاں پوچھو !
اگر تمھارے دل میں کوئی بھی بات ہے کیسی بھی سلسلے کے بارے میں چاہے وہ کیس کے متعلق ہو جو بھی ہو تم مجھے بتا دیا کرو ۔۔یقین کر سکتی ہو مجھ پر وہ باتوں باتوں میں اسے پوچھنا چاہ رہا تھا شیان کی ملاقات کے بارے میں
شہوار بے اختیار مسکرائی اور دھیمی آواز میں کہا جب ہو گی تو ضرور بتاوں گی وہ یہ کہہ کر دروازے کی جانب بڑھ گئ ۔
_________________________
ایسا کرو ۔۔اس روہان کے اوپر ساری نظر رکھو اسکے کام کرنے سے لے کر اسکے گھر جانے تک اور ہاں خاص تور پر ۔تم
تمھارا یہ کام ہے تم نے کیسی بھی طرح کر کے اسکی آواز ریکارڈ کرنی ہے کیسی بھی طرح کر کے باقی ۔۔سمجھو کام ہو گیا ۔
اور رہئ بات مس شہوار کی تو اس سے میں خود دو ہاتھ ہو لوں گا ۔بس یہ کام جتنی جلدی ہو سکے کرو ہمارے دھندے میں کوئی کمی نہیں ہونی چاہیے وہ یہ کہتے ہوئے چئیر سے اٹھا اور باہر جانے لگا جب ایک آدمی کی بات پر وہ رکا
سر اگر ہم پکڑے گئے تو؟
فکر کیوں کر رہے ہو ۔۔شیان فراز اس کھیل کا کوئی کچا کھلاڑی نہیں ہے وہ بہت سالوں کا دھندا ہے میرا اگر کیسی نے میرے کام کو بیگاڑنے کی یا اسے برباد کرنے کا سوچا تو جان سے مار ڈالوں گا میں سب کو چاہے وہ در شہوار ہی کیوں نہ ہو ۔۔اور تم لوگوں کو جو کام کہا ہے پہلے وہ کرو ۔ٹھیک ہے شیان نے کہا اور وہاں سے چل دیا
کیا مطلب کوئی ثبوت نہیں مل رہا ایسا کیسے ہو سکتا ہے اتنا بڑا رے کیٹ ہے ۔کوئی تو کوئی ثبوت ہاتھ لگنا چاہیے ۔شہوار نے غصے سے کہا
میم ہم نے بہت پتا کرنے کی کوشش کی ہے انکے اردگرد کے علاقے کے لوگ خوف سے کوئی بھی زبان کھولنے کو تیار نہیں اور نہ ہی کیسی کو اس رے کیٹ کے ماسٹر مائینڈ کے نیم کا پتا ہے ۔۔اگر کیسی سے پوچھنے جائیں تو وہ آگے سے صاف صاف انکار کر دیتا ہے ۔۔اب ہم کیا کر سکتے ہیں ہمیں چاروں طرف سے کچھ نہیں مل رہا ۔شہوار کے ساتھ بیٹھے ہوئے آدمی نے کہا
نہیں اتنی جلدی میں نے ہار نہیں ماننی ۔یہ کیس کی فاعل اب بند کرنی ہی ہو گی ۔۔کیسی بھی صورت میں وہ اپنی چئیر سے اٹھی تھی کہ اس کے فون پر ایک مسیج نمودار ہوا ۔۔
میں تم سے پھر ملنا چاہتا ہوں ۔وہ پھر اسی نمبر سے میسج تھا ۔۔
شہوار نے میسج کو نظرانداز کیا اور پھر اپنے کام میں متوجہ ہو گئ ۔
لنچ ٹائم اسنے گھر سے لایا ہوا کھانہ لیا اور ٹیکسی لی ۔۔جیسے اسنے ٹیکسی کا دروازہ کھولا اتفاقا شیان بھی اسی ٹیکسی میں موجود تھا وہ شہوار کو وہاں دیکھ کر ۔خوشی سے چہچا اٹھا…
