Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kaho Mujh Sy Muhabbat Hai (Episode 04)

Kaho Mujh Sy Muhabbat Hai by Iqra Khan

ہائے اتنی دہر ہو گئ اویں اسکے ساتھ اتنا سر کھپایا ۔شہوار نے گاری میں بیٹھتے ہوئے کہا

آج اسے یونیورسٹی سے آتے دیر ہو گئ تھی انعم نے اپنے قدم تیزی سے بڑھا رہی تھی اسنے اپنی ہاتھ کی گرفت سے اپنی کتابوں کو سینے سے چپکا رکھا تھا اسکی گہری سانس کی آوازیں صاف سنائی دے رہی تھی ۔۔اسکی سانسیں اٹک رہی تھی ۔۔جیسے وہ اپنی نگاہوں کا رخ پیچھے کی جانب کرتی کچھ لڑکے بائیک پہ تھے جو اسکا پہچھا کر رہے تھے اسنے قدم اور تیزی سے بڑھانا شروع کر دیے خوف کا قہر چاروں طرف پھیلا ہوا تھا جسکے باعث اسکی پیشانی سے پسینے کی دھارئیں بہنے لگی جیسے انعم نے اگلا قدم رکھا ۔۔بائیک پر موجود لڑکوں نے اسے چاروں طرف سے گھیر لیا اسنے ۔۔ان میں سے باہر نکلنے کی کی کوشش کی جب ایک لڑکا اسکے سامنے راستہ روکنے کی غرض سے کھڑا ہو گیا

اتنی جلدی میڈم پہلے بات تو کرلیں ہم سے

د۔۔۔۔دیکھیے مجھے جانے ۔۔دیں انعم کی آواز میں خوف کی لرزش تھی ایک کپکپاہٹ طاری تھی۔سماں میں

جانئیں ۔۔دئیں گے بہت جلد لیکن اس سے پہلے اپنا کام تو پورا کر جاو۔۔انعم صدیقی ایک اور لڑکا بائیک سے اترا اور اسکے قریب آیا وہ ڈر کے مارے دو قدم پیچھے ہٹی تمھاری ہمت کیسے ہوئی ۔۔عمران کا پرپوزل ریجیکٹ کرنے کی یونی میں میں نے تجھے پسند کیا اور تو نے ۔۔۔بول عمران نے اپنی وحشت آنکھوں سے ۔۔انعم کو دیکھتے ہوئے کہا ۔

د۔۔۔دیکھو ۔۔عمران خدا کے لیے میں تمھیں کتنی دفعہ بتا چکی ہوں میں ایسی ویسی لڑکی نہیں ہوں مجھے ان کاموں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے تم کیوں بار بار ایسا کر رہے ہو

اسکی آنکھوں سے آنسو رواں تھے جب عمران نے آگے بڑھ کر اسکے بدن پہ لپٹے دوپٹے کو ۔۔ نیچے پھینکا

وہ بوکھلا کے پیچھے ہٹئ

م۔۔۔م۔میں تمھار ے پاوں پڑتی ہوں عمران میرے ساتھ ایسا مت کرنا میرے بابا ٹوٹ جائیں گے وہ بکھر جائیں گے عمران جب سارے معاشرے میں انکو بے عزت کیا جائے گا انکی ملامت کی جائے ۔میں اپنی بابا کو ایسے نہیں دیکھ سکتی۔وہ جیتے جی مر جائیں گے۔۔خدا کے لیے اسنے ان درندوں کے اگے اپنی عزت کی خاطر اپنے والد کی عزت کی خاطر ۔۔ہاتھ جوڑے تھے

یہ ایک بیٹی کا باپ سے پیار تھا جیسے مشکل وقت میں بھی اپنے بابا کا خیال تھا یہ آدم حوا پیار تھا ۔۔وہ اپنی عزت کی بھیک مانگ رہی تھی وہ ان ظالم درندوں کے آگے اپنے باپ کی عزت کا واسطہ دے رہی تھی لیکن وہ سنگ دل کہا سنتے ہیں

عمران آگے بڑا

ن۔۔۔ن۔نہیں عمران ۔۔تمھیں تمھاری بہن کا واسطہ ہے میرے ساتھ ایسا نہ کرنا م۔۔میں جیتے جی مر جاوں گی ۔۔م۔۔۔میں ۔۔اس یونی سے چلی جاوں گی ۔۔انعم نے اسکے پاوں پکڑتے ہوئے کہا

اوے عمران ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ہے جو کرنا ہے ۔۔جلدی کر ۔۔ جیسے ساتھ کھڑے لڑکوں میں سے ایک لڑکے نے کہا

وہ ہلکا سا مسکرایا ۔۔۔اور انعم کی طرف بڑھا ۔۔

د۔۔۔د۔۔دیکھو عمران ۔۔م۔۔۔میں خود کشی کر لیتی ہوں تم مجھ سے پیار کرتے ہو نہ اور یہی چاہتے ہو میں کیسی اور کی نہ ہوں تو اس لیے ایسا کر رہے ہو

ارے واہ بڑی جلدی سمجھ گئ عمران نے قہقا لگایا

ٹھیک ۔۔میں مرنے کے لیے تیار ہوں لیکن خدا کے لیے میرے ساتھ ایسا ظلم مت کرو کہ دنیا والے میرے خاندان کو باتیں کریں تمھیں پتا ہے ایک باپ کی عزت ہوتی ہے بیٹی اور جب کیسی بیٹی کے ساتھ ایسا ہوتا تو اسکے باپ کو پتا ہے کس قدر درد ہوتا ہے جب پورت معاشرے میں اسے زلیل

کیا جاتا ہے انعم کی باتیں اسقدر دل ہلا دینے والی تھی ک کہ آسمان بے اختیار چلا اٹھا ۔۔۔جب ادم ہوا کی پکارئیں صدائیں آہیں سنی

لیکن ۔۔وہ وحش جانوروں کی طرح اس معصوم سی جان پر لپکے ۔۔۔

آج کچھ زیادہ لیٹ نہیں ہو گئ ۔۔شہوار نے گاڑی کی سپیڈ اور تیز کی ۔۔وہ ساریہ کے گھر سے نکلنے کے بعد آفس کیسی کام سے گئ تھی ۔۔جسکی وجہ سے آج وہ لیٹ ہو گئ

یار کچھ بھی اٹھا کے مار ۔۔لیکن مار دے ۔۔۔عمران نے چلا کر کہا ۔۔جب ساتھ کھڑے لڑکے نے ۔۔۔پتھر پکڑ کر ۔۔انعم کے چہرے پر ۔۔اپنی پوری طاقت سے دے مارا ۔۔اس معصوم کا ۔۔سچا خون درندو کے چہروں پر گرا ۔۔

اوئے روکو ۔۔۔۔۔کون ہو تم شہوار جلدی سے گاڑی سے اترئی ۔۔۔اسنے ۔ان لڑکوں کو جیسے دیکھا ۔۔وہ انکی طرف لپکی لیکن اس سے پہلے وہ جا چکے تھے ۔۔شہوار انعم کی طرف جلدی سے بڑی اسکی چیخیں بے اختیار نکلی ۔جب اسنے ۔۔انعم کو دیکھا ۔

اسنے جلدی سے اسکی نبض چیک کی ۔۔جو ابھی چل رہی تھی ۔۔۔ا۔۔۔ایمبولینس ۔۔

بلاو۔۔شہوار نے جلدی سے ایمبولینس کو کال کی ۔۔۔

ک۔۔۔کچھ نہیں ہو گا ۔۔تمھیں ۔۔۔کچھ نہیں ہو گا ۔۔شہوار نے اپنے اوپر اوڑھی ۔۔چادر اسکو دی ۔۔اتنے میں ایمبولینس ۔وہاں آگئ

__________________________

جلدی پہچنا ہے ۔۔۔ریپ اور اٹپمٹ ٹو مڈر کیس ہے ۔۔۔روہان نے کہا اور جلدی سے پولیس تھانے سے باہر نکلا ۔۔

جیسے وہ ہوسپٹل پہنچے سامنے باہر ٹیبل پر شہوار بیٹھی تھی جسکے وائٹ کپڑوں پر جگہ جگہ خون کے دھبے لگے ہوئے تھے ۔۔ اسکے ہاتھ خوف سے کانپ رہے تھے آنکھوں سے آنسو روا تھے جیسے روہان نے اسے دیکھا

وہ وہی دھک رہ گیا ۔۔۔پتا نہیں کیوں ۔۔لیکن اسے درد ہوا ۔۔ایک ایسا درد۔۔جسکی وجہ شہوار تھی۔۔۔وہ تو اس سے نفرت کرتا تھا لیکن پھر بھی ۔۔آج ایسی حالت میں شہوار کو دیکھ کر ۔اسے پتا نہیں کیا ہوا وہ جلدی سے اسکی طرف بڑھا

آ۔۔۔۔۔آپ یہاں اسنے اٹکتی ہوئی آواز میں کہا جیسے روہان نے کہا شہوار نے بے اختیار اسکی طرف دیکھا

م۔۔۔میں ۔۔نے د۔۔۔د۔۔دیکھا تھا وہ لڑکے اسے مار ۔۔۔کر۔بھاگ رہے تھے شہوار سے صیح سے بات تک نہیں ہو رہی تھی ۔اسکا پورا وجود کانپ رہا تھا ۔۔آج روہان بھی دھک تھا کہ اتنی مضبوط لڑکی پوری طرح بکھر گئ وہ شہوار جو بولتے ہوئے رکتی نہیں تھی آج اسکے الفظ ہلک سے نہیں نکل رہے تھے

روہان جیسے آگے ہو کر اسے سہارا دینے لگا ۔۔لیکن اس سے پہلے کوئی آ گیا تھا ۔۔جسنے شہوار کو بے اختیار اپنے گلے لگایا

روہان نے جیسے شیان کو دیکھا وہ دو قدم پیچھے ہٹا ۔۔

ت۔۔۔۔تم۔۔ٹھیک تو ہو شہوار ۔۔شیان نے پریشانی سے کہا

شیان ۔۔۔وہ۔۔۔اسے مار رہے تھے میں نے خود ان سب کو اپنی آنکھوں سے دیکھا شہوار کی اواز اٹک رہی تھی

و۔۔وہ صیح ہو جائے گی شیان

ہاں۔۔۔ہاں شہوار بس تم حوصلہ رکھو ۔۔شیان نے اپنے دونوں ہاتھوں سے شہوار کے چہرے کو پکڑا تھا

روہان ۔۔۔نے جیسے اسے دیکھا وہ جلدی سے وہاں سے نکل گیا

یہ۔۔۔یہ کیا کرنے لگا تھا میں وہ ۔۔غیر ہے روہان اور اسے گلے لگانے لگے تھے ۔۔وہ جس سے تم نفرت کرتے ہو لیکن میں اسے ایسے نہیں دیکھ سکتا ۔۔۔ی۔ہ۔یہ۔کیا ہو رہا ہے مجھے

روہان نے بیچینی سے آپنی آنکھیں موندی

____________________________

جیسے اپریشن تھیڑ کا دروازہ کھولا ۔انعم کے گھر والے بھی وہاں پہنچ گئے تھے شہوار ۔۔بے اختیار اٹھی ۔۔۔سب ڈاکڑ کی جانب بڑھے

ڈاکٹر میری ۔۔بیٹی ٹھیک ہے صدیقی صاحب نے پریشانی سے کہا

ہمیں انکی سرجری کرنی پڑے گی انعم کا چہرہ بہت بری طرح کچلا ہے ۔۔وہ تو خدا کی رحمت سمجھے وہ زندہ ہیں لیکن اسکی فیس سرجری کرنے پر انکے چہرے پر بدلاو آ سکتا ہے

اور ہاں اپکی بیٹی کے ساتھ ریپ کیا گیا ہے جیسے یہ الفاظ بوڑھے باپ نے سنے ۔۔وہ وہی نیچے گر گیا ۔

شہوار اور انعم کی والدہ جلدی سے آگے بڑھے

انکل ۔۔پلیز اپنے آپ کو سنبھالے ۔۔۔پلہز شہوار نے کہا ۔

م۔۔میری بیٹی کی زندگی برباد کر دی ان درندوں نے ۔۔جیسے صدیقی صاحب نے کہا ۔۔شہوار نے جلدی سے پوچھا

آپ ۔۔جانتے ہیں وہ کون تھے ؟

ہاں ۔۔صدیقی صاحب نے جیسے کہا وہ بے اختیار اٹھ کھری ہوئی

اب ۔۔دیکھنا ۔انکو کون بچائے گا ۔۔ان درندوں کو کتے کی موت نہ ماری تو میرا نام بھی شہوار نہیں

مس شہوار ہمیں آپکا بیان چاہیے روہان نے جیسے کہا وہ پلٹی

_______

کیا کریں گے بیان لے کر آپ بولیں ۔۔شہوار نے غصے سے کہا

جیسے روہان نے سنا ۔وہ کچھ دیر خاموش رہا ۔۔۔اورپھر بولا

دیکھیے میڈم آپ وہاں آخری گواہ ۔۔دیکھی گئ ہیں ۔۔آپ کو ہمیں بتانا ہو گا کیا ہوا تھا ۔۔

کیا میرے بیان سے انعم کو انصاف ملے گا بولیںن آئی ایس پی صاحب کیا میرے بتانے پر ۔۔۔اس نھنی سی جان کو انصاف ملے گا جسکی دو سیکنڈ میں وہ درندیں زندگی برباد کر گئے

اور ۔۔۔اس سب کے ذمہ دار ہمارے معاشرے میں موجود رعایا ہے جو آنکھوں پہ کالی پٹئ لگائے ۔بیٹھی ہے ۔۔چاہے جو مرضی ہوتا رہے کیسی بھی بیٹی کے ساتھ ایسا ہو انھیں کیا ۔۔انکی کونسی اپنی سگی بیٹی کے ساتھ ایسا ہوا ہے اور پھر ۔۔بوڑھے باپ ۔۔کو انصاف لینے کی غرض سے پولہس تھانے کے سو چکر لگانے پڑتے ہیں جہاں پر ۔۔بے ایمانی ۔۔میں ملوث پولیس والے اسقدر ۔۔گندے سوالات اس بیٹی سے کرتے ہیں کیا ۔۔۔یہ ہے پولیس کا کام

دیکھیے مس در شہوار ۔۔میں پہلے بھی بتا چکا ہوں ہر ۔۔پولیس والا ایک جیسا نہیں ہوتا ۔اور میں یہ کیس سو لو کروں گا ۔۔جیسے روہان نے کہا ۔۔

شہوار نے بے اختیار قہقا لگایا

بڑی حیرانگی ہوئی آپ میں یہ جذبہ دیکھ کر ۔۔۔

_____________________

ایک ہفتہ گزر چکا تھا ۔۔انعم کے گھر ۔والوں نے انصاف کی اپئیل کی تھی ۔۔۔پولیس تھانے مین رپورت درج کروانے پر ۔۔ان وئیڈروں کی اولادوں کو پکڑا جا چکا تھا ۔۔۔لیکن ۔ وہ یہ سب ماننے پر راضی نہیں تھے ۔۔شہوار انعم صدیقی کا کیس ۔۔لڑ رہی تھی آب اسکی کورٹ میں پہلی سنوائی تھی ۔ واقعہ دوسرے علاقے کا ہونے کی وجہ سے ۔۔۔یہ سب کاروائی دوسرے تھانے کو سونپ دی گئ ۔۔ انعم کی حالت ابھی تک نازک تھی اسے ہوش ا

مائی لارڈ کوئی جرم ۔۔۔کبھی جھوٹ کے نیچے زیادہ دیر چھپ نہیں سکتا ۔اور میں یہ ثابت کر کے رہوں گی ۔کہ عمران ۔علی ۔۔ارف چوہدری علی کی اکلوتی ۔ بیگڑئ ہوئی اولاد نے یہ گنوانا ۔کام کیا ہے ۔۔اور اسکے ساتھی اسکے اس حرکت میں ساتھ رہے ہیں ۔اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ یہ انہوں نے ہی کیا ہے انعم صدیقی ۔17 جنوری بروز بدھ کے رات 9 بجے ۔۔گھرواپس لوٹ رہی تھی ۔۔کہ راستے میں ایک موٹر سائیکل پہ ان وحشی لڑکوں کا سوار گرو انعم کی جانب بڑھا ۔۔اور پھر ۔۔۔انہوں نے انعم کو چاروں طرف سے گھیر لیا

انعم نے اپنی جان بچانے کی خاطر ۔۔۔ان میں نکلنا چاہی لیکن اس عمران علی ۔۔۔اسے روک ۔۔لیا ۔اور مائی لارڈ یہ سب ۔۔روڈ سی سی ٹی وی کمرے میں ریکارڈ ہے اور افسوس یہاں پر ۔۔بیٹھے لوگ ۔۔یہ سب دیکھنے کے بعد بھی چپ ہیں ۔۔

اوبجکیش مائی لارڈ مس در شہوار ۔۔میرے معقل عمران علی پر غلط الزام لگا رہی ہے ۔۔۔اصل بات شاید انھیں معلوم نہیں ۔۔چلیں ۔میں ہی بتا دیتا ہوں مائی لارڈ ۔۔انعم صدیقی ۔۔جو ایک ملزم ہونے کا دعوا کر رہی ہیں اصل میں وہی مجرم ہیں انہوں نے میرے معقل عمران علی ۔۔۔کو ۔۔پوری یونیورسٹی کئ سامنے پرپوز کیا ۔۔۔اور جب عمران نے انعم سے کچھ وقت مانگنے کو کہا ۔۔۔تو وہ بھڑک اٹھی اور انھیں ملنے کا خود کہا اور جب عمران اپنے دوستوں کے ساتھ وہاں پہنچا تو خود ۔۔مائی لارڈ انعم کی مرضی سے سب کچھ ابھی دوسرا پروسیوکیٹ کہنے لگا تھا کہ شہوار نے جلدی سے ۔۔بات اکاٹی

خدا کا خوف کر مسٹر ۔۔رحمان صاحب ۔۔کتنا گندا الزام لگا رہے اپ اس بیچاری پر ۔۔۔کون چاہتا ہے ۔۔ کون سی لڑکی چاہتی ہے کہ اسکئ ساتھ ایسا کچھ ہو ۔۔مائی لارڈ یہ ۔۔وئیڈرے جب تک ہماری ۔۔۔دنیا میں ہیں انتائی افسوس کی بات ہے پولیس کے ساتھ ۔۔ساتھ ۔۔وکیل بھی بیک جاتے ہیں ۔۔

یہ کیا کہہ رہی ہیں مس در شہوار

وہی کہہ رہی ہوں جو دیکھ رہو ہوں ۔۔۔ شہوار نے غصے سے کہا

_______________________

ہاں ۔۔۔بس ۔۔۔مجھے ان وئیڈروں کے خلاف ایک ثبوت مل جائے پھر انکی خیر نہیں بس ایک دفعہ انعم بولنے کے لائق ہو جائے ۔۔پھر دیکھتی ہوں کون بچاتا ہے ۔۔۔انھئں شہوار نے فون پہ بات کرتے ہوئے کہا ۔۔وہ اس وقت کیسی کفے میں موجود تھی ۔

ابھی شہوار آڈر کرنے لگی کہ اسنے روہان کو دیکھا جو کیفے مینجر سے پہسے لے رہا تھا ۔۔جیسے شہوار نے دیکھا اسکا خون کھولا

وہ جلدی سے اسکی طرف بڑھی ۔۔اور اسکے ہاتھ میں موجود پیسے پکڑے

حلال کا پیسا ہے مسڑ روہان علی خان ۔۔کیوں اسے حرام کھانے کی عادت پرھ گئ ہے

وہ طنزا مسکرا کر اسکی طرف بڑھا

تم ۔۔۔۔پھر یہاں ۔ ۔میں جہاں جہاں جاتا ہوں ۔۔وہام تم کیوں ٹپک پرتی ہو ۔۔بولو

اپنی بکواس بند رکھو ۔۔۔ روہان علی ۔۔یہ جو تم کالے چھتٹے کر رہے ہو ناں یہ بند کرو ۔۔اسنے غصے سے کہا

کیا کر رہا ہوں میں ۔۔۔وہ انجان بنا

یہ ایکٹنگ تم پر سوٹ نہیں کرتی ۔۔۔اس ہوٹل سے بھتا ۔لے رہے تھے ناں ۔۔۔کہ پولیس والا ہوں کیا کہے گے اگر کچھ کہے گے بھی ۔۔تو ۔۔مجھے کونسا انکی دھمکیوں سے فرق پڑنے والا ہے بہت افسوس ہوتا ہے یہ دیکھ کر ۔۔کہ ہمارا ملک ترقی کرنے کی بجائے اپنے ملک کو سنوارنے کی بجائے خود ہی اسے کھائے جا رہا ہے وہ تسلسل کے ساتھ بولے جا رہی تھی

جب مینجر نے انھیں بتایا

میڈم آئی ایس پی صاحب ہر سال ہم سے پیسے لینے آتے ہیں اینجیوز کی ہیلپ کرنے کی غرض سے ۔۔اور یہ کوئی ہم سے جان بھوج کر بھتا نہیں لیتے ۔۔جیسے مینجر نے کہا ۔۔روہان نے ایک تیخی نگاہ سے اسکی طرف دیکھا اور کہا

آنکھیں ۔۔۔کھول کر رکھا کریں مس در شہوار یہ نہ ہو ۔۔۔کیسی دن آپ کو کوئی مار جائے ۔۔روہان نے کہا اپنے بالوں کو سنوارا ۔اور سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے ۔۔۔کیفے سے باہر نکلا

___________________

اوئے ۔۔۔۔واپس ۔۔۔کر ۔۔۔چھوڑو مجھے ۔۔کچھ دو تین آدمی جنہوں نے اپنے منہ ۔۔مکھوٹوں سے ڈھانپے تھے ۔۔۔انہوں نے شہوار کی گاڑی کو روکا

میڈم ۔۔لگتا ہے آپ کو مرنے کا بہت شوق ہے ۔۔میں بتا رہا ہوں انعم کیس کی کفالت کرنا چھوڑ دیں ۔۔اگر آپ نے ایسا نہ کیا ۔۔تو ہم سے برا کوئی نہیں ہو گا ۔

انہوں نے کہا اور وہاں سے چلے گئے ۔۔۔شہوار کچھ دیر ۔۔اپنے سانس کو روکے رکھی تھی ۔۔۔اسنے اپنی آنکھوں کو کھولا وہ جا چکے تھے

اتنے میں وہ گاڑی چلاتی ۔۔

کیسی نے شہوار کو زبر دستی بے ہوش کر لیا ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *