Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kaho Mujh Sy Muhabbat Hai (Episode 15)

Kaho Mujh Sy Muhabbat Hai by Iqra Khan

اسے ہی اٹھانا ہے لے آو ۔۔اسے تھانے ۔۔میں وہی ملاقات کروں گا روہان نے یہ کہا اور گاڑی میں بیٹھ گیا

پیچھے سے پولیس کانسٹیبل نے ۔ گیٹ کیپر کو کہہ کرسر فیصان کو باہر بلایا ۔۔بہانا بنا کر کہ انھیں کوئی ملنے آیا ہے

جیسے فیضان باہر نکلا پولہس کانسٹیبل نے اسے فورا پکڑا

۔۔۔مجھے کہاں لے کے جا رہے ہیں چھوڑییں مجھے میں نے کیا کیا ہے جیسے فیضان نے کہا پولیس کانسٹیبل فورا بولا

سر جی کی بیوی کا ہاتھ پکڑنے کے جرم میں ۔گرفتار ہوئے ہو بیٹھاو اسے گاڑی میں

________________________

کوئی مجھے بتائے گا مجھے یہاں کیوں لایا گیا ہے ؟ پلیز مجھے جانے دو ۔۔فیضان نے ۔۔اونچی آواز میں کہا

کچھ دیر بعد روہان ۔ جیل میں داخل ہوا ۔۔فیضان اسے دیکھ کر جلدی سے کھڑا ہوا

س۔۔۔سر آپ؟ پلیز یہ یہ پولیس مجھے یہاں اٹھا کر لے آئیں ہیں بغیر کیسی وجہ کے ۔

روہان اسے اپنی گہری اور سرمئی آنکھوں سے بہت غور سے گور رہا تھا ۔۔

وہ ہچکچایا ۔

س۔۔سر کیا ہوا ہے ۔۔۔اسکی آواز اٹکی

اپنا ہاتھ آگے کرو روہان نے آئستہ سے کہا ۔ کیا؟ ۔۔وہ چونکا

ہاتھ آگے کرو ۔۔روہان پھر کہا

اسنے اپنا کانپتا ہوئے ہاتھ آگے کیا ۔۔۔

یہ والا نہیں ۔۔وہ آگے کر ۔۔جس سے تو نے شہوار کا ہاتھ پکڑا تھا روہان نے دانت پیچتے ہوئے کہا اور اسکے ہاتھ کو اپنی ہاتھ کی مضبوط گرفت میں جھکڑ لیا ۔اور اسقدر زور سے دبایا کہ فیضان کی چیخیں نکل گئ ۔۔

وہ بیوی ہے میری ۔مسسز روہان! اگر آئیندہ اسکا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی تو ۔۔آج تو ہاتھ توڑا ہے ناں ۔۔کل کچھ اور بھی کروں گا۔۔یہ کہتے ہوئے اسنے ہاتھ چھوڑا ۔

س۔۔۔سر سوری پلیز مجھے پریزنٹشن دینی ہے ۔۔اگر میں وقت میں نہ پہنچا تو بہت دیر ہو جائے گی ۔یہ سنتے ہی روہان نے بے اختیار قہقا لگایا

اسکی فکر تم نہ کرو ۔۔پریزنٹشن اب آئی ایس پی روہان علی خان دے گا ۔۔بس ۔۔تو یہ بتا تم نے بولنا کیا ہے ۔۔

ارسلان۔۔کاپی پنسل لاو۔۔روہان نے جیسے آواز لگائی پولیس کانسٹیبل جلدی سے کاپی پنسل لے کر جیل کے اندر داخل ہوا

دس منٹ ہے تیرے پاس جو بھی وہاں بولنا ہے یہاں لکھ ۔۔۔

روہان نے اسے کاپی پنسل پکڑائی اور باہر نکل گیا

__________________________

کہا رہ گئے ہیں فیضان ۔۔پریزنٹشن شروع ہونے والی ہے ۔۔

شہوار نے بے چینی کے عالم میں کہا ۔۔اسنے گیٹ کیپر سے دوبارہ پوچھا ۔لیکن اسنے بھی وہی بتایا جو اسے پولیس کانسٹیبل نے بولنے کو کہا تھا۔۔کہ وہ کیسی ضروری کام سے باہر گئے ہیں

سارے سٹوڈنٹس آ چکے تھے ۔۔شہوار کی نظریں بار بار ۔۔باہر ۔۔کی طرف تھی ۔۔وہ بار بار فیضان کو ٹیکسٹ کر رہی تھی کالز بھی کی لیکن ۔اسکا فون بند تھا

کہاں ہے یہ؟ ۔۔شہوار نے ہاتھوں کو مسلتے ہوئے کہا

وہ سٹیج کہ اوپر کھڑی تھی اس سے پہلے وہ شروع کرتی ۔۔شہوار وہی ایک منٹ کے لیے سمٹ کر رہ گئ اسکی آنکھوں میں حرکت نہیں تھی ۔۔جب اسنے فیضان کی بجائے روہان کو ۔آتے ہوئے دیکھا

وایٹ شرٹ اور بلیک پینٹ میں ملبوث ۔۔۔میں وہ بہت ہینڈسم لگ رہا تھا ۔۔جیسے وہ سٹیج میں شہوار کے ساتھ کھڑا ہوا ۔۔

وہ وہئ ۔۔دھک خاموش کھڑی ٹکٹی باندھے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔روہان شہوار کی طرف دیکھ کر بے اختیار مسکرایا

فیضان صاحب۔۔کی طعبیت بہت خراب ہو گئ تو سوچا میں آجاوں دینے پریزنٹشن ۔۔اسنے آئستہ سے سرگوشی کرتے ہوئے کہا

اسکے بعد ۔۔وہ سامنے بیٹھے سٹوڈنٹس کی طرف متوجہ ہوا ۔

سو سٹوڈنٹس ۔۔آپ سب کو تو پتا ہے ناں ہم کس ۔۔وجہ سے اکھٹے ہوئے ہیں ۔

سب سٹوڈنٹس نے ۔ہاں آواز میں یکجا ہو کر کہا

گڈ ۔۔تو آج ۔۔آپ کو ۔مسٹر اور مسسز روہان قانون سازی کے متعلق کچھ خاص باتیں اصول ضوابط بتائیں گے

شہوار اسے ۔۔دیکھ رہی تھی اس وقت ۔۔اس کا دل کر رہا تھا کہ وہ روہان کو مار دے مطلب کس مٹی کا بنا تھا یہ انسان ۔۔

روہان اور شہوار ۔نے ۔۔مل کر ۔بہت اچھی طرح پریزنٹشن دی ۔۔روہان ۔۔نے ۔اپنے کان میں بلیو ٹوتھ لگایا تھا ۔۔جو اسکے فون سے کنکٹ تھا ۔جس میں عاقب کال میں موجود تھا جو ۔۔۔روہان کو پہلے ہی اس پوائنٹ کے بارے میں بتا دیتا ۔۔اور حافظہ تیز ہونے کی وجہ سے ۔۔اسے فیضان کی لائین یاد کرنے میں کوئی دکت محسوس نہیں ہوئی ۔۔

_______________________

کیسی تھی ۔۔پریزنٹشن روہان نے ۔۔شہوار کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو خاموشی سے اپنا کورٹ اور بھیگ رکھ رہی تھی ۔۔یونیورسٹی سے آنے کے بعد اسنے روہان سے کوئی بات نہیں تھی ۔

شہوار میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں روہان شہوار کی طرف بڑھا

اپنی بکواس بند رکھو روہان کیا چاہتے ہو تم؟ بولو ۔کیا بیگاڑا ہے میں نے تمھارا کیوں تم ہر بات میں ہر ۔۔موڑ میں تم میرے ساتھ آ جاتے ہو ۔۔بولو

کیوں تم میرے نکاح میں ہو۔میری بیوی ہو ۔۔یہ سنتے ہی شہوار چڑی ۔

نہیں ہوں میں تمھاری بیوی ۔۔خدا کے لیے اس رشتے کو نکاح کا نام مت دو جو زبردستی پر بنیاد ہو کیا ثابت کرنا چاہتے ہو تم ۔۔کہ بڑی محبت کرتے ہو ۔بڑے دیوانے بنے پھرتے ہو ۔۔کہ اپنی محبت کو کسی کے ساتھ نہیں برداشت کر سکتے

ہاں نہیں کر سکتا ۔روہان نے ڈھٹائی سے جواب دیا

تمھیں پتا یے روہان ۔یہ تمھاری محبت صرف تمھارے نزدیک ہے ۔میرے نزدیک نہ تمھاری اور نہ ہی تمھاری اس محبت کی پروا ہے اور آج جو تم نے حرکت کی ۔۔ہے اس سے تم نے ثابت کر دیا ہے کہ ۔۔تم نفرت کے ہئ قابل ہو ۔۔زبردستی سے زندگی میں آئے اور زبردستی محبت کرو گے نہیں ایسا نہیں ہو گا ۔۔آج تم نے فیضان کے ساتھ جو گھٹیا حرکت کی ہے ناں پتا چل چکا ہے مجھے ۔۔

وہ یہ کہتے ہوئے ۔۔کمرے سے باہر ۔۔جانے لگی تھی کہ روہان نے ۔اسے بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا ۔

ایک بات یاد رکھ لو ۔۔ائیڈوکیٹ شہوار میں اپنی محبت کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہوں کچھ بھی ۔۔اور اگر ۔۔کوئی میری محبت کے قریب بھی جائے گا اسکے ساتھ اس سے بھی بدتر کروں گا ۔۔اور آگے بھی ایسے ہی کروں گا ۔۔چاہے ۔۔تم مجھ سے نفرت کرو جو بھی ۔۔

______________________

ہاہاہاہا ۔۔زرش نے بے اختیار قہقا لگایا

ہائے ۔۔کتنے کیوٹ ہیں بھائی روہان ۔۔ویسے کیا ائینڑی ماری آئین پوائینٹ پہ

کتنا مزہ ۔۔آیا ہو گا ۔۔جیسے زرش نے کہا ۔شہوار فورا بولی

تمھیں مذاق سوجھ رہا ہے

اپی اتنے مزے کی بات بتائی ہے ۔۔کیا بات ہے روہان بھائی کی واقعی گریٹ ہیں وہ ۔۔

ہاں اگر تم نے اپنے روہان بھائی کی تعریفوں کے پل باندھنے تھے تو مجھے کیوں کال کی ۔ شہوار بے غصے سے کہا

آپی آپ کو روہان بھائی کی وہ محبت نہیں دیکھتی یا آپ انکی محبت سے ڈرنے لگی ہیں یا جان بھوج کر دیکھنا نہیں چاہتی زرش کی اس بات پر ۔وہ مزاحقکہ خیز لہجے میں ہنسی

مجھے آج تک اسکی محبت ۔۔نہیں دیکھائی دی ہاں ۔جس محبت کی تم بات کر رہی ہو زری وہ محبت نہیں ہے پاگل پن ہے ۔۔یا جنون ۔۔

تو مھبت میں انسان پاگل پن اور جنون کی کفیت میں تو ہوتا ہے آپی ۔۔ایک بات یاد رکھیے گا ۔۔خدا نہ کرے آپ کو کبھی کیسی سے محبت ہو جو انسان محبت کی قدر نہ کرتا ہو ۔۔وہ محبت کے قابل نہیں ۔

زرش؟ ۔۔شہوار چونکی

یہ حقیقت ہے آپی وہ انسان آپ کے لیے اپنی پوری دنیا نچاور کرتا ہے اور آپ ہے کہ سیدھا اسکی محبت پر ہی جھوٹی ہونے کی تہمت لگا رہی ہیں آج مجھ سے کہہ رہی ہیں مجھے یقین ہے آپ روہان بھائی کو بھی ایسا کہتی ہوں گی ۔زرش نے کہا اور فون بند کر دیا

شہوار ۔۔کچھ دیر تک فون کو گھورتی رہی

_______________________

وہ ناول ۔۔پڑھ رہی تھی اکثر فارغ وقت میں شہوار ناول ہی پڑھا کرتی تھی ۔۔چھٹی ہونے کے باعث آج اسنے کچھ پڑھنے کا ارادہ کیا تھا کہ اسی دوران روہان کمرے میں داخل ہوا

کیا پڑھا جا رہا ہے ؟

ناول؟ وہ کچھ دیر بعد بولی

کونسا؟

امربئیل جیسے اسنے کہا وہ فورا بولا ۔۔

اچھا اسکے ائینڈ میں ہیرو مر جاتا ہے ۔۔رہنے دو جیسے روہان نے کہا ۔۔

وہ چڑ کر بولی

کیوں ۔۔مجھے اینڈ بتایا ۔۔اتنے انڑسٹ سے تو پڑھ رہی تھی میں روہان کوئی حال نہیں تمھارا پولیس والے ہو کر ناول پڑھ رہے ہو ۔۔

اور وکیل کیا ۔۔ہسٹری پڑھتے ہیں آپ بھی تو ۔۔یہی فریضہ سر انجام دے رہی ہیں

ہاں ۔۔ہاں تم سے کم ہی ہوں

میں نے تمھیں اسلیے بتایا کہ ۔۔اینڈ پر تم افسردہ ہو گی رووں گی اور تمھاری آنکھوں میں آنسو آئیں گے اور یہ میں برداشت نہیں کر سکتا ۔۔۔یہ سنتے ہی شہوار خاموش ہو گئ

وہ غصے سے بیڈ سے اتری اور کمرے سے باہر جانے لگی ۔۔تھی کہ اچانک وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ پائی ۔۔اور بال بال گرتے ہوئے بچی ۔۔لیکن اس سے پہلے اسے تھامنے والا کوئی موجود تھا تو پلک جھپکتے اسے سہارہ دینے آ جاتا اور وہ روہان تھا ۔۔۔

اتنا غصہ ٹھیک نہیں مسسز روہان جیسے روہان نے کہا وہ جلدی سے باہر بڑھی

________

تیار ہو گئ ۔۔روہان نے کمرے کے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا

ہاں ! شہوار نے اپنے دوپٹہ کو سیٹ کرتے ہوئے کہا

تم آج بہت پیاری لگ رہی ہو ۔۔روہان نے ایک گہری نظر ڈالی

کوئی جواب آگے سے نہیں آیا تھا ۔۔۔وہ ہلکا سا آگے بڑھا اور بندھے ہوئے بالوں کو کھولا

مجھے کھولے بال اچھے لگتے ہیں شہوار ۔۔جیسے اسنے کہا

وہ غصے سے بولی

نہیں مجھے بندھے بال ہی اچھے لگتے ہیں اسنے جلدی سے اپنے بالوں کو باندھا ۔۔

لیکن تم کھولے بالوں میں زیادہ پیاری لگتی ہو ۔۔روہان نے پھر ۔کہا لیکن وہ اسکی بات نظر انداز کیے آگے بڑھی وہ اسکے ساتھ قدم سے قدم ملائے چل رہا تھا ۔۔وہ دونوں اکھٹے بہت اچھے لگتے تھے ایک پرفیکٹ کپل کی طرح شہوار اور روہان سڑھیاں اتر رہے تھے

جب روہان نے پیچھے سے اسکے بالوں میں گھیری پونی چٹکی کو اتار دیا

“ایسے ہی رہنے دو”

اسنے چونک کر اسکی طرف دیکھا ۔۔وہ غصے سے اسے دیکھ رہی تھی جب روہان نے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھاما ۔

“چلو ” وہ بلکل خاموش ہو گئ تھی ۔۔مجھے نہیں پتا لیکن یہ شخص اب میری زندگی میں آچکا تھا اور میں خود کو روکنا چاہ رہی تھی ۔۔کیسی کی عادت انسان کو بہت بے بس بنا دیتی ہے ۔۔ہاں میں کرتی ہوں غصہ دیتی ہوں اسکے ہر سوال کا ۔ بر عکس جواب ۔اسکی ہر بات کو جھوٹا کہتی ہوں ہر وعدے کو جھٹلاتی ہوں ۔۔کیونکہ مجھے اسکے سامنے کمزور نہیں بننا ۔اسے نہیں بتانا کہ ۔۔اسکی عادت ہو گئ ہے مجھے اور عادت محبت سے بھی بدتر ہوتی ہے جو انسان کی کبھی نہیں جاتی

کیا ہوا ہے ؟ روہان نے گاڑی چلاتے ہوئے کہا وہ آج اسے ساریہ کہ بار بار دباو پر ۔۔شاپنگ پہ لے جا رہا تھا

“کچھ نہیں ” شہوار کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے کہا

“اتنی اداس کیوں ہو “کوئی وجہ ہے

“نہیں تو” جواب مختصر ملا تھا

تم مجھ سے ہر بات شئیر کر سکتی ہو شہوار ہر بات” اسنے تحمل لہجے میں اس سے کہا ۔

جب کوئی بات ہی نہیں ہے تو کیا شئیر کروں تم سے اور اگر کرنی بھی ہو گی تو تم سے نہیں کروں گی جیسے شہوار نے کہا روہان نے قہقا لگایا

“اچھا” اتنی نفرت ۔۔کب تک رہے گی ۔۔

شاید ہمیشہ ۔۔۔شہوار نے تلخ لہجے میں جواب دیا

میری محبت کا اتنا امتحان مت لیں بتا دوں ۔یہ میری محبت ہے ۔۔۔روہان علی خان کی محبت ۔۔جو اتنی آسانی سے تمھارا پیچھا نہیں چھوڑے گی ۔۔تم ظلم ڈھاتی ہو تو ڈھاو ۔۔ہم برداشت کر لیں گے ۔۔تمھاری کہی ہوئی ہر بات ۔۔

تم پاگل تو نہیں ہو گئے ۔۔شہوار نے چونک کر کہا

یہ محبت انسان کو پاگل تو بنا دیتی ہے ۔۔۔

خدا تمھیں اس وحم سے جلدی نکالے شہوار نے منہ بسورتے ہوئے کہا

_________________________

او روہان تم یہاں ۔۔جیسے سنیہ نے روہان اور شہوار کو دیکھا وہ وہی کھڑی ہو گئ ۔روہان بڑی بے تکلفی سے اس سے ملا

کیسی ہو ۔ سنیہ ۔۔؟

میں بلکل ٹھیک آئی سی پی صاحب آپ سنائیں ۔سنیہ نے مسکراتے ہوئے کہا

وہ پیچھے کھڑی تھی ۔۔اور ان دونوں کو دیکھ رہی تھی انکے میل ملاپ سے لگ رہا تھا کہ روہان اور سنیہ ایک دوسرے کو بہت اچھے سے جانتے تھے ۔۔

شادی کر لی ۔۔چڑئیل ۔۔روہان نے مسکراتے ہوئے کہا

ہاں ۔۔کر لی ۔۔اور ۔تم نے ۔۔کوئی ملی ہے یا ابھی تک کنوارے ہی ۔۔بیٹھے ہو ۔ جیسے سنیہ نے کہا وہ فورا بولا

تمھاری بددعا نہیں لگی مجھے ۔۔ہو گئ شادی ۔

اچھا کس سے ؟ سنیہ نے چونکتے ہوئے کہا

ملو گی ؟ روہان نے کہا

ہاں کہاں ہیں ہماری بھابھی ۔۔جیسے دونوں پلٹے

تب تک شہوار ۔۔ساتھ شاپ ۔پہ کھڑی ۔چیزیں دیکھ رہی تھی

وہ رہی ۔۔در شہوار نام ہے ۔۔اسنے ۔۔اسے دیکھتے ہوئے کہا

پیاری ہے ۔۔بہت پیاری

وکیل ہے ۔۔روہان نے ہنستے ہوئے کہا

ارے واہ پولیس وکیل کی جوڑی سنیہ نے قہقا لگایا ۔

“جی “

ارئینج یا لو ۔۔۔سنیہ نے جیسے پوچھا ۔۔

تمھیں ۔۔بڑا تجسس ہو رہا ہے ۔۔چپ رہو ۔۔

نہیں بتاو ۔۔

یک طرفہ ۔۔یہ الفاظ ۔۔اسکے دل ۔۔میں ایک درد کی لہر چھا گئ ۔۔۔روہان نے گہرا سانس لیا

سنیہ وہی خاموش رہ گئ ۔۔اور پھر اسنے ۔۔موضوع گفتگو بدلا

اچھا عاقب کیسا ہے

ٹھیک ہے ۔۔اکھٹے ہوتے ہیں ۔۔عاقب سنیہ اور روہان اکھٹے کالج یونی میں پڑھے تھے تب سے لے کر وہ ایک دوسرے کو اچھے سے جانتے تھے

اسلام و علیکم شہوار نے سنیہ سے ۔۔نرمی سے سلام لی

و علیکم اسلام ماشااللہ بہت اچھے لگتے ہو تم دونوں ساتھ میں

شہوار جان بھوج کر مسکرائی

_________________________

مال میں ہر طرف ۔۔لوگوں کی بھیڑ عورت مرد۔۔کہ پتا نہیں چل رہا تھا سب ۔۔تیزی سے گزر رہے تھے ۔۔وہ اسکے ساتھ ساتھ چل رہا تھا ۔۔جب روہان کی نظر پڑی ایک آدمی شہوار کے کندھے سے ٹکرایا تھا وہ جلدی سے اسکی اس سائیڈ کی طرف چلا گیا اور چلنے لگا ۔۔۔۔

کیا ہوا شہوار تم رک کیوں گئ ؟ ۔

روہان نے رکتے ہوئے کہا ۔۔

شہوار وہی خاموش کھڑی ۔۔ٹک نگاہوں سے کسی کو دیکھ رہی تھی ۔۔اسکی آنکھوں میں کوئی حرکت نہیں تھی

جیسے روہان نے شہوار کے بلکل سامنے کھڑے شیان کو دیکھا ۔۔وہ وہی خاموش ہو گیا ۔۔۔اور آگے بڑھ ۔ کر اسکا ہاتھ تھاما اور اسے لے کر وہاں سے چلا گیا

وہ گھر آگئے تھے شیان کو دیکھنے کے بعد شہوار بلکل خاموش تھی ۔۔روہان اسے تب سے دیکھ رہا تھا پھر آخر اسنے ۔۔دل پر پتھر رکھتے ہوئے ۔۔شہوار سے پوچھ لیا ۔ اور اس بات کو جاننے کے لیے اسکے دل میں کیا چل رہا ہے

کیا ہوا ہے پریشان ہو ؟ روہان اسکے اگے جھک کر بیٹھ گیا جو چئیر پر بیٹھی ۔تھی

شہوار نے آگے سے نگاہیں جھکا لی ۔۔

شیان کی وجہ سے؟ روہان نے جیسے پوچھا ۔۔شہوار نے اٹکتی ہوئی آواز سے جواب دیا

“ہاں” یہ جواب کیسی خنجر کی مانند اسکے دل پر لگا تھا ۔۔وہ ۔۔اسکی ہر بات برداشت کر سکتا تھا اسکی ہر ناراضگی پر مسکرا سکتا تھا ۔۔اسکی نفرت کو چپ سے سہہ سکتا تھا ۔۔لیکن وہ اپنی محبت کے منہ سے کیسی دوسرے کے لیے محبت کے جذبات کو برداشت نہیں کر سکتا تھا ۔۔آج روہان علی خان ۔۔پوری طرح ٹوٹ چکا تھا ۔۔

ایک شوہر کے لیے یہ بات ناقابل برداشت ہوتی ہے جب اسکی بیوی اپنی ماضی میں بیتی ہوئی غلطی سے روئے ۔۔

وہ ۔۔شہوار کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔وہ اب مسلسل اسکا سامنا نہیں کر سکتا تھا ۔۔روہان اسکے آگے سے اٹھا ۔اور کمرے سے باہر چلا گیا

” وہ میری محبت ہے ۔۔لیکن آج اسکی آنکھوں میں آنسو ۔۔آگئے اور وہ آنسو میری محبت کے لیے نہیں آئے تھے ۔۔بلکل اپنی محبت کے لیے آئے تھے ۔۔شہوار روہان کی پہلی محبت تھی لیکن روہان شہوار کی پہلی محبت نہیں تھا ۔بلکے شیان فراز تھا کیا کمی تھی ۔۔اسکی محبت میں جو وہ شیان فراز سے کم پڑ گئ ۔۔

آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔۔وہ ٹوٹا تھا ۔ اور خود کو کمرے میں بند کیا تھا ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *