Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kaho Mujh Sy Muhabbat Hai by Iqra Khan

جیسے وہ یونیورسٹی داخل ہوا سب کے قدم چلتے ہوئے اچانک رک گئے ۔۔۔سب کی نگاہوں کا مرکز بن گیا ۔وہ وائٹ شرٹ اور بلیک پینٹ میں ملبوث آئستینیں کہنیوں تک کی ہوئی اور ہاتھ میں سلگائی ہوئی سگریٹ جس کا دھواں ہوا میں مسلسل تحلیل ہو رہا تھا آنکھوں میں کالے چشمون کا پہرا ۔سب اسکی جانب غور سے متوجہ تھے جیسے جیسے وہ اپنے قدم بڑھا رہا تھا ۔۔سب لوگوں کے قدم منجمد ہو رہے تھے ۔۔۔
یار کتنا ہینڈسم ہے یہ ۔۔زرش نے بے اختیار دیکھتے ہوئے کہا وہ آپنی آنکھوں کو جھپک نہیں پا رہی تھی
کون ہے یہ ؟ ساتھ کھڑی لڑکی نے زرش سے پوچھا
ہاں دیکھ نہیں رہی ۔اسکی پرسینلٹی سے ۔۔ہائے اللہ ۔کتنا ہینڈسم ہے ۔۔وہ اسکے قریب سے گزرا تھا ۔
وہ ایک دم ۔۔۔اسکی موجودگی کو محسوس کرنے لگی ۔
لیکن سر ۔۔ہماری یونیورسٹی میں ایسا کچھ نہیں ہوا ۔۔پرنسپل ۔۔ہربڑا کے اٹھ کھڑا ہوا ۔۔
او ۔۔۔میرا دماغ مت کھا ۔۔آوٹ آف کنڑوک ہو جائے گا روہان اب میز پر ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھ گئا
سر۔ہماری یونیورسٹی میں کوئی سمگلنگ کیس نہیں ہے
جھوٹ مت بول ۔۔۔استاد ہے تو اسکے درجے کا اھترام کر ۔شکر منا ۔۔ورنہ اب تک تو زندہ میرے سامنے کھڑے نہ ہوتا
یہ ہے کورٹ کا وارئینٹ ۔۔اور اب دیکھتا ہوں مجھے کون روکتا ہے
وہ یہ کہتے ہوئے آفس سے باہر نکلا۔
دوسرے پولیس والے ۔چھان بین کرنے لگے۔
روہان ابھی اگے بڑا تھا کہ زرش اچانک کلاس سے نکلی ۔وہ اچانک اس سے ٹکرانے لگی تھی کہ اسنے خود کو سنبھال لیا
سنبھل کے میڈم جی! جیسے اسنے اپنی گہری آواز میں کہا وہ وہی ساکن کھڑی رہ گئ یوں مانوں وہ سن ہو گئ ہو اسکی آواز ۔اسکے کانوں میں ابھی تک گونج رہی تھی وہ اسے جاتا ہوا دیکھ رہی تھی وہ نارمل قد کا تھا ۔۔مگر وہ ناچاہتے ہوئے بھی اس سے نگاہیں نہیں ہٹا پا رہی تھی
پولیس والوں نے ۔۔چند سٹوڈینٹس کو پکڑا ۔جن سے نشہ برامد ہوا تھا ۔
لے کے جاو ان سب کو ۔روہان نے بلند آواز میں کہا
اور ہے کیسی کے پاس تو وہ خود اچھے بچوں کی طرح ہمارے حوالے کر دے ۔۔ورنہ میں بہت برا پیش آوں گا ۔۔روہان کے کہنے پر۔سب چپ تھے ۔کوئی نہیں بولا ۔۔
چلیے پرنسپل صاحب جیل کی سیر کر آتے ہیں لگاو بھئ ہتھ کڑی ۔روہان نے طنزا مسکراتے ہوئے کہا
شادی کی تیاریاں زور و شور پہ تھی ۔ہر طرف بینڈ باجوں کی آوازیں تھی سب لوگ برات کے آنے کا انتظار کر رہے تھے شہوار کو بڑی مشکل سے دو دن کی چھٹی ملی تھی کیونکہ اسکی کزن رابعہ کی شادی تھی جو اسکی سب سے اچھی دوست تھی
شہوار تم آ رہی ہو ناں ۔رابعہ نے فون پر بات کرتے ہوئے کہا
ہاں ضرور ۔۔۔یہ کیسے ہو میری کزن کی شادی ہو اور میں نہ آوں ۔۔شہوار نے الماری سے کپڑے نکالتے ہوئے کہا
ہاں ہاں مکھن نہ لگاو پتا ہے مجھے ۔۔کتنا کرتی ہو مجھ سے پیار ۔۔اتنا کہ ۔میری مہندی پر نہیں آئی اور اتنی منتیں مساجد کرنے کے باجود میڈم آج آرہی ہے ۔۔۔رابعہ نے طنزا کیا
یار پتا ہے تمھیں بھی ۔۔کام بہت ہے ۔ابھی ایک کیس کی کاروائی چل رہی ہے اس پر اتنا ٹائم لگ جاتا ہے ۔۔لیکن اب تمھارا شکوہ کرنا ۔۔بلکل ناگوار ہے میں ۔۔آ تو رہی ہوں ۔۔
شہوار اب اپنے ہاتھوں میں چوڑیاں پہن رہی تھی ۔
اچھا اب تم تیار ہو ہم آجاتے ہیں ابھی شہوار نے کہا اور فون بند کر دیا
شہوار نے فون سامنے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ دیا ۔۔اور اپنے بالوں کو سنوارنے لگی ۔۔کہ پیچھے سے کیسی کی اہٹ محسوس کی
وہ جلدی سے پلٹی ۔شہوار کے چہرے پر بے اختیار مسکراہٹ چھا گئ ۔
بہت خوبصورت لگ رہی ہو ۔۔شیان اسکے نزدیک کھڑا تھا
جھوٹی تعریف ۔۔سمجھوں ۔۔۔شہوار نے انکھیں جھکائیں
بہر حال ایک شوہر اپنی خوبصورت بیوی ۔۔کی تعریف کر رہا ہے ۔اور آپ ہیں ۔کہ ہمارے احساسات کی دھجیاں اڑا رہی ہیں مس ائیڈوکیٹ در شہوار ۔۔پلیز ہم پر رحم کریں ۔مجرموں کی فہرست میں ہمیں شمار نہ کریں ۔۔شیان نے جیسے کہا
شہوار نے اسے دیکھا ۔ اور مسکراہٹ سے کہا
اچھا ۔۔۔تو میں نے اس مجرم کو اپنی زندگی میں آنے کا حق بھی دیا ہے ۔۔۔شیان فراز ۔
اچھا یہ میں تمھارے لیے کچھ لیا ہوں ۔شیان نے گلاب کے گجرے اسکی طرف بڑھائے ۔
اپنے ہاتھ آگے کرو ۔۔شیان نے شہوار کے دونوں ہاتھوں میں گجرے پہنائے ۔۔
ایک بات یاد رکھنا شہوار ۔میری زندگی میں ایک شخص کی بہت اہمیت ہے اور وہ تم ہو ۔۔
جیسے شیان نے کہا ۔شہوار نے اسکے ہاتھ کو مضبوطی سے تھام لیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *