Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kaho Mujh Sy Muhabbat Hai (Episode 10,11)

Kaho Mujh Sy Muhabbat Hai by Iqra Khan

یہ تماشہ نہیں ہے مس ائیڈوکیٹ رانیہ تماشہ تو اب ان درندوں کا بنے گا ۔۔آہ بس اپنے پاس ایک پانی کا گلاس رکھ لیں شاید آپ کو اسکی بہت ضرورت پڑے

رانیہ شرمندگی کے مارے چپ کر کے کھڑی ہو گئ ۔۔

پھر شہوار نے ۔۔ایک ایک نارمل سا وائیٹ بورڈ اور ایک مارکر انم کے ہاتھوں پیش کیا

اور نرم لہجے میں کہا ۔۔

انعم اب جو میں سوال کروں گی ۔۔اگر ۔۔وہ ٹھیک ہے تمھارے ایسا ہوا ہے تو تم بورڈ پر ہاں لکھ دینا اگر غلط بات ہو گی تو ناں لکھ دینا ۔۔

ٹھیک ہے ۔۔انعم نے پلکے جھپکیں

وئیڈروں کے پسینے چھوٹ رہے ۔۔تھے ۔۔ان کی سب چالیں درھی کی درھی رہ گئ

تو انعم ۔کیا اس رات ۔۔تمھارے ساتھ جو واقعہ پیش آیا تھا ۔۔اس میں ۔۔عمران نامی ملزم کا ہاتھ ہے ۔اور اسکے دوستوں کا ۔۔اگر صیح ہے تو ہاں لکھوں ۔۔یہ سنتے ہی انعم نے اپنے لڑکھڑاتے ہوئے ہاتھ سے ہاں لکھا ۔

تو مائی لارڈ آپ دیکھ سکتے ہیں انعم صدیقی نے خود اس بات کا بیان دیا ہے کہ عمران ہی ۔۔اس سب کام کے پیچھے تھا

انعم کیا تمھیں یونیورسٹی میں عمران زبردستی بات کرنے کی یا چھونے کی کوشش کرتا تھا ۔۔

اس بار بھی شہوار کے پوچھنے پر اسنے ہاں ہی لکھا ۔

اور آخری وقت میں تمھارے چہرے پر پتھر عمران نے ہی مارا تھا ؟ انعم نے جیسے یہ سوال کیا

ساری کورٹ میں موجود لوگوں کی آئیں بڑھ آئی ۔۔شہوار کی انکھوں میں آنسوں آگئے جب انعم نے اس بار بھی ہاں لکھا

انعم کو دوبارہ واپس لے جایا جانے لگا تھا جب شہوار نے اسے روکا

اور جج صاحب کو ایک چشمدید گواہ بھی پیش کیا ان وئیڈروں کے گھر کا ملازم ہی تھا جس سے وہ ملنے گاوں گئ تھی

اسنے خود عمران کے خلاف بیان دیا تھا کہ اسنے یہ کہتے ہوئے سنا تھا جب عمران کا باپ ۔۔اسے یہاں سے فرار ہونے کا کہہ رہا تھا

یہ سنتے ہی ۔۔اب جج صاحب کے پاس ۔۔فیصلہ سنانے کے علاوہ کوئی حل نہیں بچا تھا جج نئ انصاف کے تقاصوں کو اپناتے ہوئے ملزم عمران کو سزہ موت اسکے ساتھیوں کو عمر ۔۔قید کی سزہ سنوائی ۔

فیصلہ سنتے ہی پورا کورٹ تالیوں کی آواز سے گونج اٹھا ۔۔بوڑھے ماں باپ کے چہروں پر ۔۔آج جو مسکراہٹ تھی وہ ناقابل بیان تھی ۔۔شہوار کی خوشی کے مارے آنسوں آنکھوں سے بہنےلگے اور آج پھر سچائی کی جیت ہوئی اور ائیڈوکیٹ در شہوار نے یہ ثابت کر دیا تھا کہ کوئہ اسکے سامنے سچائی کو مات نہیں دے سکتا ۔۔

روہان نے ملز عمران کو اور اسخے دیگر دوستوں کو ہتھ کڑیاں لگائی وہ اسے باہر کورٹ سے لے جانے لگا تھا جب شہوار نے اسے روکنے کو کہا

روکیں ایک منٹ ۔وہ انعم کی وئیل چئیر اس درندے کے قریب لائی

اور عمران کو گردن سے پکڑ کر نیچے کیا ۔

انعم نکال ۔۔اس درندے پہ اپنا زور ۔۔جیسے شہوار نے کہا انعم نے ایک زور دار تھپڑ اسکے چہرے پر رسید کیا ۔

روہان یہ دیکھ کر ۔اسنے فخر محسوس کیا واقعی وہ دھک رہ گیا تھا کہ کیسے شہوار نے کیس کو ہینڈل کیا تھا

________________

اسکے بخار مین مزید اضافہ ہو چکا تھا تکاوٹ سے شہوار کا پورا بدن ٹوٹ رہا تھا

لیکن وہ پھر جانے کے لیے تیار ہو رہی تھی کہ اسی دوران روہان کمرے میں داخل ہوا

کہاں جا رہی ہو ۔۔شہوار ۔۔

کہی نہیں وہ یہ کہتے ہوئے آگے بڑھنے لگی تھی کہ روہاناسکے آگے کھڑا ہو گیا

تمھیں اتنا بخار ہے اور تم پھر لاء یونورسٹی لکچر دینے چلی ہو ۔خدا کے لیے مجھ غریب پر کوئی رحم کرو اگر تمھیں کچھ ہو گیا تو میرا کیا ہو گا روہان نے مسکراتے ہوئے طنزا کیا

میں مذاق کے موڈ میں نہیں ہوں روہان ۔۔مجھے سر یوسف نے ریکویسٹ کی ہے کہ میں ایک مہنا لاء کلاس لوں اور وہ میرے استاد ہیں مین انکا کہا نہیں ٹال سکتی مجھے جانے دو وہ آگے جانے لگی تھی کہ روہان نے اسے پھر روکا

تو کل بھی تو جا سکتی ہو ناں ۔۔آج کیوں ۔

جیسے روہان نے کہا وہ چڑی

روہان میرا راستہ چھوڑو خدا کے لیے یہ ہمدردی اپنے پاس رکھو اسنے کہا اور آگے دروازے کی طرف بڑھی اور بخار کی وجہ سے لڑکھڑا گئ

روہان نے آگے ہو کر سہارا دیا

میری ہمدردی کی قدم قدم پر ضرورت پڑتی ہے تمھیں مسسز روہان کر لو اپنی منمانی جا تو اپنی مرضی سے رہی ہوں تو لینے میں اپنی مرضی سے آوں گا ۔۔روہان نے ابھی تک اسے تھاما ہوا تھا

وہ تھوڑا سا ہچکچائہ اور آگے بڑھ گئ

_________

اف! یہ محبت روہان نے بے اختیار اپنے دل پہ ہاتھ رکھا نہیں کہہ پاتا، نہیں روک پاتا وہ اسے، نہیں دے پاتا جواب اسے، کیوں؟ محبت نہیں دیتی یہ اجازت، وہ محبوب ہے اسے زیب دیتا ہے یہ سب، وہ کر سکتا ہے ظلم، وہ دکھا سکتا ہے دل کو، کیونکہ ہم تو دل دے چکے ہیں اپنا سب کچھ اسکے نام کر چکے ہیں تو پھر کہاں یہ جواز ہے ۔روہان شہوار کے جانے کے بعد چئیر پر بیٹھا سگریٹ سلگانے لگا یادوں کے صندوق کو کھولا کہ اسکے فون کی گھنٹی بجی اسنے سگریٹ کا دوواں ہوا میں اڑتے ہوئے مسکراتے ہوئے فون اٹھایا اور فورا مخاطب ہوا

جی بولیے! عاقب صاحب

آغاز میں ہی طنز کا سلسلہ شروع کر دیا کیسے دوست ہو دوسری طرف عاقب مسکرا کر بولا

جی۔۔حضور آپ سے ہی یہ طریقہ سیکھا ہے روہان نے سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے کہا

“چین سموکر پھر سموکنگ کر رہا ہے ” جیسے عاقب نے کہا روہان فورا بولا

خبردار اگر مجھے چین سموکر بھلایا تو اس القاب سے صرف میری مسسز بھلا سکتی ہیں اور کیسی کو میں اجازت نہیں دوں گا ۔۔

عاقب نے یہ سنتے ہی بے اختیار بلند قہقا لگایا

جوڑو ۔۔کا غلام ! سفر کہا تک پہنچا ہے عاقب نے چھپتے الفاظوں میں اسکے دل کی بات سنی ۔۔روہان نے چئیر پر ٹیک لگائی اور ایک لمبی آہ بھری “شاید ابھی تک نفرت ہے “

محبت کب ہو گی ؟

پتا نہیں۔۔ جواب سرد آواز سے ملا ۔

کیوں ابھی بھی مجرم ۔۔ہو عاقب نے بھی حیرانگی سے آئیستگی سے پوچھا

ہاں ! شاید ۔ جواب مختصر ملا

تو بندوق کی نوک پر کہلاوا لو ۔۔۔روہان علی خان کہہ دے گی کہ ہاں مجھے تم سے محبت ہے جیسے عاقب نے کہا

روہان کا قہقا پورے کمرے میں گونجا ۔

اگر ایسے ۔۔محبتیں ہو جاتی تو ۔۔جب مجھے اس سے پہلی دفعہ محبت ہوئی تھی تب کی بندوق کی نوک اسکے دل پہ رکھ دیتا ۔۔آسان نہیں ہے یہ فراز سفر بہت کھٹن ۔۔بس دعا کیجیے ان کا دل بھی موم ہو جائے روہان نے مایوسی سے سر جھٹکا

ہائے ۔میرا دوست کیا حالت کر دی ہے اس کمبخت محبت نے

ایک بات پوچھو روہان ۔۔۔عاقب نے تجسس بڑے لہجے میں کہا

ہاں پوچھو

جب وہ ۔۔تمھارے ساتھ ۔۔برہمی کا اظہار کرتی ہے تو کیا جواب دیتے ہو

یہ سنتے ہی ۔۔روہان نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا اور کہا

محبت ہے میری اکثر اسکی باتوں کا جواب مسکراہٹ سے دے دیتا ہوں

عاقب بلکل خاموش ہو گیا

______________________

بلیک شرٹ اور بلیک ہی پینٹ میں ملبوث آنکھوں پہ کالا چشما لگائے ۔! ہاتھ میں سلگتی ہوئی سگریٹ روب دار پرسینلٹی شرٹ کا بلیک کلر اسکے رنگ کو اور پرکشش بنا رہا تھا جیسے آئی ایس پی روہان علی خان یونیورسٹی داخل ہوا سارے ایک دم تھم گئے سب کے چلتے ہوئے قدم وہی رک گئے اس میں کشش ہی کچھ اتنی تھی کہ سب کے قدم ناچاہتے ہوئے بھی رک جاتے جیسے جیسے روہان اپنے قدموں کو بڑھا رہا تھا سب کی نگاہوں کا مرکز وہی بن رہا تھا سب کے دلوں میں ایک ولولا سا مچ گیا

شہوار کلاس میں موجود تھی اور لیکچر دینے میں مصروف تھی جب روہان کلاس کے سامنے آیا ۔۔جیسے شہوار کی نظر اس پر گئ وہ وہی دھک رہ گئ اسکی آنکھیں وہی ٹک رک گئ ۔ روہان نے مسکرا کر اسے اشارے میں کہا “میں تمھیں لینے آیا ہوں” جیسے روہان نے اشارہ کیا وہ غصے سے بورڈ پہ کچھ سمجھانے لگی روہان کے بار بار کہنے پر وہ باہر نہیں آیا تو مجبورا اسے کلاس میں داخل ہونا پڑا روہان کا کلاس میں داخل ہوتے وہاں پر بیٹھے سب سٹوڈنٹس یک دم حیران رہ گئے

ہیلو ۔۔سٹوڈنٹس !۔روہان نے اپنی گہری آواز سے کہا

وہ چونک کے پلٹی ۔اور اسے گور کر دیکھنے لگی اور اسکی طرف بڑھی

کیا چاہیے روہان کیوں آئے ہو یہاں شہوار نے آئیستہ سے کہا

میں نے کہا تھا نہ جا اپنی مرضی سے رہی ہو لینے اپنی مرضی سے آوں گا ۔تو آگیا لینے میں چلو ۔اب بہت پڑھا لی کلاس ۔روہان نے شہوار کا ہاتھ پکڑنا چاہا ۔وہ جلدی سے دو قدم پیچھے ہٹی ۔۔

خدا کے لیے یہ ناٹک بند کرو اور جاو ۔میں آجاوں گی خود ہی شہوار نے دانت پینچتے ہوئے کہا

نہیں میں آپ کو لے کر جاوں گا بیمار ہیں آپ جیسے روہان نے کہا وہ فورا بولی

کچھ نہیں ہوا مجھے ۔۔جاو پلیز

“شہوار چلو ” اب بہت ہو گیا ہے

“نہیں جاوں گی کیا کر لو گے “

چیلنج کر رہی ہو ! روہان نے اپنے بال پیچھے کرتے ہوئے کہا

ہاں جو سمجھنا ہے سمجھ لو نہیں جاوں گی تمھارے ساتھ ۔

سب کے سامنے لے کر جاوں گا مسسز روہان چیلنج مت کرو مجھے روہان نے دھیمی آواز میں کہا

ہاتھ لگا کر دیکھاو مجھے جیسے شہوار نے کہا وہ فورا وہاں بیٹھے سٹوڈنٹس کی طرف متوجہ ہوا ۔اور کہا

سو بوائز اینڈ گرلز آج کا لیکچر بس اتنا ہی – وہ کیا ہے آپ کی ٹیچر مس ائیڈوکیٹ درشہوار زرا ناراض ہو گئ ہیں اپنے ہزبینڈ سے تو کیوں نہ انھیں منایا جائے روہان نے جیسے کہا سارے سٹوڈینس نے ہوکنگ کرنا شروع کر دی

روہان ۔خدا کے لیے تماشہ بند کرو شہوار نے اسکے قریب جا کر جان بھوج کر مسکراتے ہوئے کہا

نہیں ۔آپ نے چیلنج کیا ہے روہان علی خان

اسنے شہوار کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا ۔۔اور سب کے سامنے پوری یونی کے سامنے اسے لے کر گیا سب لڑکے لڑکیاں ان دونوں کو دیکھ رہے تھے ۔شہوار اسے مسلسل دیکھ رہی تھی وہ خاموش ہو گئ تھی اسکے سامنے ۔اسکی محبت کے سامنے ۔۔کچھ نہیں کہہ پائی یونی کی سب لڑکیاں آپس میں تذکرے کر رہے تھے ۔

(یار میم کا کتنا ہینڈسم ہیزبینڈ ہیں ! اف اسپر بلیک کلر کتنا سوٹ کر رہا ہے ۔)

وہ سب کی نگاہوں کا مرکز تھے وہ دونوں ۔۔شہوار واقعی اس حالت میں نہیں تھی کہ وہ کھڑی ہو سکے لیکن وہ روہان کے سامنے کبھی بھی اپنی گردن میں خم نہ لاتی ۔جیسے وہ اسے گاڑی کے قریب لایا روہان نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور اسے نرم لہجے میں مخاطب ہوا

بیٹھو اندر

“تم” کس قدر اس سے پہلے شہوار کچھ اور بولتی روہان نے اسکے چہرے پر ہاتھ رکھ دیا اور کہا ۔بس اب کچھ نہیں کہو گی تم پتا ہے میں بہت ڈھیٹ بدتمیز ۔فلا فلا قسم کا انسان ہوں پتا ہے مجھے ! ابھی ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں رات کو پھر سے ۔۔یہاں سے سٹارٹ کریں گے۔ابھی کے لیے اتنا ہی ۔۔ٹھیک ہے ۔روہان نے اسے کہا تو وہ خاموشی سے گاڑی میں بیٹھ گئ وہ ہلکا سا مسکرایا اور گاڑی ڈرائیو کرنے لگا ۔

اتنا بن ٹھن کے آنے کی کیا ضرورت تھی ۔جیسے شہوار نے کہا وہ فورا متوجہ ہوا

بن ٹھن کے مطلب ! اسنے ناسمجھنے والے انداز میں کہا

مطلب واضح ہے چھوٹے بچے مت بنو

تم ۔۔جیلس ہو رہی ہو ۔۔روہان نے بے اختیار گاڑی روکتے ہوئے کہا

جیلس میں اور وہ بھی تم سے افف کیسے کیسے وحم پال رکھے ہیں تم نے محبت کا اترا نہیں چلو دوسرا تیار ۔مجھے تمھارے لیے جیلس ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔و۔۔۔وہ تو مجھے ان بیچاری لڑکیوں کی پروا ہے جنکے سامنے تم ۔۔تیس مار خان کی ائینٹری مار کے ۔آئے ۔ہو ۔شہوار نے جیسے کہا وہ بے اختیار ہلکا سا مسکرا دیا اور کہا ۔اچھا ! اگر انہوں نے یہ دیکھا ہے تو پھر انہوں یہ بھی دیکھا ہو گا ۔۔جب میں اپنی بیوی کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھامے ۔ان سب کے سامنے سے لے جا رہا تھا ۔ تو ۔۔انکے دلوں میں کوئی ارمان نہیں بنے ہوں گے ۔۔کیونکہ روہان علی خان کے دل میں صرف ایک نے حکومت کی ہے ! اور وہ تم ہو ۔۔اسنے دھک چہرے سے ایک دفعہ پھر روہان کو دیکھا وہ بار بار اسکو اپنی محبت کے بارے میں اعتراف کرواتا تھا ۔۔

____________________________________

نہیں ۔۔ہو گا ایسا امی آپ نے یہ سوچ بھی کیسے لیا کہ میں اس گھٹیا شخص سے شادی کروں گی جس نے میری بہن کا پوری دنیا کے سامنے تماشہ بنا کر رکھ دیا اب اسکے ساتھ ۔۔میں نکاح کروا لوں نہیں امی جان میں آپ کی طرح ابھی اتنی بے بس نہیں ہوئی جو اپنے حق کے لیے ۔آواز نہ اٹھا سکے مجھ میں ابھی ہمت ہے ان سب کا مقابلہ کرنے میں اور مہربانی کر کے بتا سکتی ہیں یہ کس کا کیا دھرا ہے کسنے آپ کے ذہین میں یہ سب ڈالا ہے

زرش اپنی بکواس بند کر کیسے ماں کے سامنے زبان چلا رہی ہے زرا سا بھی لحاظ نہیں ہے سکینہ بیگم نے برہمی کا اظہار کیا یہ سنتے ہی وہ فورا بولی

تو امی کیا کروں میں بولیں آپ ۔میں اس شخص سے شادئ ابھی نہیں کبھی زندگی میں نہیں کرنا چاہوں گی جیسے دوسروں کے جذباتوں کا خیال نہ ہو ۔جسکو ساری دنیا جھوٹی لگتی ہو ۔۔جو صرف یہی سوچتا ہو کہ وہی سچائی کا پتلا ہے اس دنیا میں اور اسکی دنیا میں باقی سب جھوٹے اور بس وہی سچا ہے ۔شیان بھائی ۔نے جو بھی آپی کے ساتھ ۔اب وہ ماضی ہے لیکن ماضی اتنی جلدی ۔۔پرانے زخموں کو یادوں کو بھلانے نہیں دیتا ! م۔۔۔مجھے ابھی بھی اپی کی وہ فریادئیں۔۔انکا خود کو سچا ثابت کرنا ۔۔ان ۔۔ان سب حس لوگوں کے سامنے خود سچا ثابت کرنے کے لیے کیا کیا نہیں کیا آپ یہ سب کیسے بھول سکتی ہیں لیکن میں کبھی نہیں بھول سکتی اور نہ ہی پاوں گی

زرش میری بات تو سن سکینہ بیگم نے پیچھے سے آواز کسی لیکن وہ جا چکی تھی ۔

___________________________

گھڑی رات کا 1 بجا رہی تھی ۔۔جب روہان کی کھولی اور وہ فورا شہوار کی طرف بڑھا جو بیڈ پہ لیٹی سو رہی تھئ

ش۔۔۔شہوار اٹھو ۔۔شہوار ۔۔جیسے دو تئن مرتبہ اسنے آواز لگائی ۔۔شہوار نے کروٹ بدلی اور پھر آئیستگی سے اپنی آنکھیں کھوکیں جس میں اسے روہان کا دھندھلا عکس نظر آیا وہ ہر بڑا کے اٹھ کھڑی ہوئی

ت۔۔۔تم یہاں ۔۔تم۔یہاں کیا کر رہے ۔۔ہو ۔۔

چپ رہو ۔۔کچھ نہیں کیا میں نے ۔! اچھا چلو نیچے آو ۔جیسے روہان نے کہا وہ فورا بولی

نیچے

ہاں چلو ۔میں میگی بنانے لگا ہوں ۔۔تم بھی کھالو ۔

ٹائم دیکھا ہے تم نے ! اور میگی تم نے کھانی ہے میں نے نہیں خود جاو اور خود بناو اور خود ہی کھاو شہوار نے غصے سے کہا اور بستر میں گس گئ

لیکن مجھے بھوک لگی ہے ۔۔۔ روہان نے جیسے کہا ۔اسنے بستر کو اپنے چہرے سے ہٹایا

ہاں تو تمھیں لگی ہے بھوک لیکن مجھے نہیں لگی ۔۔آئی ایس پی صاحب ۔۔کاش اتنے وقت کی پابندی کام میں دیکھا لیتے

نہیں ۔۔۔مجھے ایسا لگا ہے تمھیں بھی بھوک لگی ہو گی ۔چلو نیچے چلتے ہیں ۔۔وہ زبردستی اسے نیچے لے آیا

رات کے 2 بجے ۔۔وہ دونوں میز پر ۔۔بیٹھے میگی کھا رہے تھے ۔۔

شہوار غصے سے اسے گور رہی تھی اسکا دل کر رہا تھا کہ روہان کا سر پھاڑ دے ۔۔

اب میں جاوں ۔۔۔

نہیں ۔۔ابھی میں ۔۔نے ختم نہیں کی اور تم نے بھی نہیں ۔روہان نے کھاتے ہوئے کہا

مجھے نہیں کھانی ۔۔شہوار نے کہا اور چئیر سے اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔روہان بھی جلدی سے کھڑا ہو گیا

چلو چلتے ہیں وہ دونوں سڑھیاں چڑ رہے تھے جب شہوار نے اس سے کہا

ایک بات پوچھوں

ہاں پوچھو ۔

کہی تمھارا بچپن میں کوئی ایکسیڈینٹ تو نہیں ہوا مطلب ۔تمھارا دماغ وغیرہ تو ٹھیک ہے ناں ۔۔جو ایسی حرکتیں کر رہے ہو ۔۔! اب اگر کل تم نے ایسی ھرکت کی تو دیکھ لینا ۔مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا

وہ اپنے بیڈ کے قریب کھڑی اسے غصے سے انگلی دیکھاتے ہوئے کہہ رہی تھی ۔

وہ بس مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا ۔۔

یہ۔۔۔یہ ہنس کیوں رہے ہو ۔!۔اچھا تمھیں مزہ آتا ہے ناں مجھے تنگ کرنے میں

اس پر بھی وہ اسے ٹکٹکی باندھا کھڑا دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔

بھاڑ میں جاو تم ۔۔اور تمھارا پاگل پن۔۔شہوار نے غصے سے کہا اور بیڈ پہ لیٹ گئ

_______________________

وہ آفس میں کام کرنے میں مصروف تھا۔۔جب اسکے فون کی گھنٹی بجی ۔

نمبر دیکھتے ہی ۔۔اسکے چہرے پر بے اختیار مسکراہٹ چھا گئ روہان نے جلدی سے فون اٹھایا اور کہا

جی ۔۔بولیے ۔۔جناب ۔

آج آپ کے لیے رات کے کھانے میں کیا بناو وہ بڑے میٹھے لہجے میں بولی تھی

یہ سنتے ہی ۔۔وہ اچانک دھک رہ گیا ۔۔اسکے چہرے پر ۔۔ناقابل یقین ۔۔مسکراہٹ تھی

یہ ۔۔کون بول رہا ہے ۔۔روہان نے جیسے کہا وہ فورا بولی

آج رات کیا بناوں ۔۔میں آفس نہیں گئ سوچا کچھ بنا لوں بولو کیا کھاو گے ۔۔

آپ جو بھی کھلا دئیں گے ذہے نصیب ۔۔ہم خوشی خوشی سے کھا لیں گے ۔۔روہان نے ۔نرم لہجے میں کہا

ٹھیک ہے ۔۔شہوار نے کہا اور فون بند کر دیا ۔۔

فون بند ہونے پر وہ کچھ دیر یونہی فون کو تکتا رہا شاید اسے ۔۔سمجھ نہیں آرہی تھی ۔۔کہ واقعی یہ شہوار نے ایسا کچھ کہا ہے ۔۔

_______________________

اسلام و علیکم ۔۔! زرش نے تھانے میں داخل ہوتے ہوئے کہا

و علیکم اسلام ۔ پولیس کانٹسیبل نے بڑے ۔۔شاتستگی سے جواب دیا

جی وہ ۔۔مجھے آئی ایس پی روہان سے بات کرنی ہیں میں انکے گھر سے ہوں ۔۔

جیسے زرش نے کہا وہ ۔۔فورا بولا ۔

جی ٹھیک ہے ۔۔آپ جا سکتی ہیں پولیس والے نے جیسے کہا اسنے ہلکا سا مسکرا کر کہا جی شکریہ ۔اور روہان کی کیبن کی طرف بڑھ گئ ۔

ایم ۔۔سو سوری ۔۔میں نے دیکھا ۔۔نہیں ۔۔اسکا ٹکراو ۔عاقب سے ہوا تھا ۔۔اسکے ہاتھ میں موجود ساری بکس نیچے گر گئ ۔۔

وہ سیدھا یونی سے یہاں آئی تھی گھر والوں کو بتائے بغیر ۔۔کیونکہ اس سے پہلے شیان نے اس پر کڑی نگاہ رکھی ہوئی تھی اور وہ اسے شہوار سے ملنے نہیں دیتا تھا ۔۔

اٹس اوکے ۔زرش نے الجھتے ہوئے کہا ۔۔

عاقب نے اسے ۔۔زمین پر گری بکس پکڑائی ۔اور باہر کی طرف بڑھ گیا اور وہ اندر

کیا میں اندر آ سکتی ہوں ۔۔روہان نے زرش کو دیکھا وہ اچانک سیٹ سے اٹھ کھڑا ۔۔ہوا ۔۔وہ بلکل شاک میں تھا…

جاری ہے

Episode 11

جی۔۔۔جی ۔۔ضرور بیٹھے

زرش ۔۔اندر داخل ہوئی اور چئیر پر بیٹھ گئ ۔۔

کیسے ہیں جیجا جی! زرش نے طنزا مسکراتے ہوئے کہا

اسنے زرش کے چہرے کو غور سے پرکھا

اسے طنزا سمجھوں یا عزت کے زمرے میں لاوں

آپ کی مرضی ہے ! آپ کیا سمجھتے ہیں اسے آپی کیسی ہیں

ٹھیک ہیں ۔۔آپ سنائیں ۔

آپ مجھے تم بھلا سکتے ہیں چھوٹی ہوں آپ سے ۔۔اور ویسے بھی اب رشتہ داری ہے ہماری ۔

ہاں ۔۔ہاں کیوں نہیں وہ اٹکتے ہوئے بولا

ویسے ۔۔۔میں آپ کا شکریہ ادا کرنے آئی تھی ۔۔

کس بات کا

کہ آپ نے میری آپی کو ۔۔ایک نئ زندگی ۔۔پہچان دی ۔اور اس گھٹیا کمینے شخص کے شر سے بچا لیا ویسے بھی ۔۔بے وفا اور ۔۔بے اعتبار لوگوں کے لیے زیب نہیں دیتا کہ انھیں کوئی محبت والا ملے کیونکہ انھیں ۔۔خود پو یقین نہیں تو دوسروں پر اور انکی محبتوں پر کیا ہو گیا قسمت نے جو بھی کیا ۔۔چاہے جو بھی ہوا لیکن شاید آپی کی قسمت میں آپ تھے ۔۔چاہے پھر آپ کی ملاقات ۔۔

دشمنی سے شروع کیوں نہ ہوئی

مجھے خوشی ہوئی آپ کی نیچر کو دیکھ کر شہوار تو ۔۔آپ کے بلکل برعکس ہے ۔ روہان نے چائے کا کپ زرش کے آگے بڑھاتے ہوئے کہا

زرش ہلکا سا مسکرائی اور کہا ۔۔

نہیں ۔۔نہیں انکی نیچر تو مجھ سے بھی بہت اچھی ہے وہ بیت رحم دل اور نیک صفت انسان ہیں ۔۔جو غلط ہوتا ہوا کبھی برداشت نہیں کر سکتی ۔۔ یہ سنتے ہی روہان بے اختیار مسکرایا اور کہا

واقعی ۔۔۔لیکن ۔۔بیوی کے روپ میں نہیں ۔اچھا آپ اس سے ملنا چاہو گی ۔۔جیسے روہان نے کہا زرش کا چہرہ چہک اٹھا جی ضرور ایسا کریں کل میں آپ کو یہاں ملوں گی آپ مجھے گھر لے جایے گا ابھی تو بہت دیر ہو گئ ہے شیان کو اگر پتا چل گیا تو بھوال کھڑا کر دے گا

زرش نے اٹھتے ہوئے کہا

جی ضرور ! وہ بھی عزت کے ساتھ اٹھا

زرش باہر جانے کے لیے پلٹی پھر رکی اور روہان کی طرف مسکرا کر کہا

اسکا دھیان رکھیے گا کبھی بکھرے تو سنبھال لیجیے گا بہت انمول ہے در شہوار ۔۔

روہان نے پر اعتمادی سے مسکرا کے سر ہلا دیا

___________________________

واہ ۔۔آج تم نے کھانا بنایا ہے ۔۔ روہان نے ڈائننگ ٹیبل کی چئیر کو گھسیٹ کے بیٹھا

وہ ۔۔ایک عجیب سی مسکراہٹ ۔لیے خاموش کھڑی تھی اور اسکے سامنے کھانا پیش کیا

تم نہیں کھاو گی ۔۔روہان نے اسکی طرف دیکھتے ہوئے کہا

نہیں تم کھاو ۔۔مجھے بھوک نہیں ہے شہوار نے اسے قورما ۔۔ڈال کر دیا ۔۔ روہان نے ایک نظر قورمے کی طرف دیکھا ۔

کھاو ۔۔شہوار نے روٹی اسکی طرف بڑھائی وہ جان چکا تھا ۔۔لیکن پھر بھی اسنے کھانا شروع کیا

سالن میں اسقدر مرچی ڈالی گئ تھی ۔۔کہ زبان پر ہی اسکے جلنے کا احساس ۔بہت شدت سے ہوتا ۔جیسے روہان نے ایک نوالہ لیا

شہوار نے ۔۔مسکراتے ہوئے چہرے سے اسکی طرف دیکھا اسنے اپنا بدلہ لیا تھا ۔۔یونی میں ہونے والے واقعہ کے بعد وہ اسے سبق سیکھانا چاہ رہی تھی

کیسا بنا ہے ؟ شہوار نے جان بھوج کے پوچھا

یہ سنتے ہی ۔۔وہ نارمل سا مسکرایا اور ۔۔کہا بہت اچھا بنا ہے ۔کیونکہ مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔کیا ہے ۔بس ۔۔اسی بات کی خوشی ہے کہ تم نے میرے لیے بنایا ہے چاہے وہ جیسا بھی بنا ہو ۔۔کوئی بات نہیں

یہ سنتے ہی ۔۔شہوار دھک رہ گئ ۔۔وہ بڑے آرام سے کھا رہا تھا ۔ روہان کی انکھیں سرخ ہو چکی تھی

وہ اسے روکنا چاہ رہی تھی ۔۔کیونکہ واقعی بہت زیادہ مرچ تھی ۔۔لیکن روہان نہیں رکا وہ کھانے میں مصروف تھا ۔۔

ر۔۔۔روہان ۔۔وہ ۔۔شہوار کہتے کہتے رک گئ ۔۔اور اس سے پہلے روہان ۔۔اٹھا ۔

بہت اچھا بنا ہے ۔۔مجھے ۔بہت خوشی ہوئی ہے کہ یہ تم نے میرے لیے بنایا روہان نے کہا اور کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔

شہوار کی شرمندگی سے نظریں جھک گئ

________

روہان نے فورا کمرے کی جانب رخ کیا اسکی آنکھوں سے پانی لگاتار بہہ رہا تھا اس قدر جلن کی شدت کا احساس ہو رہا تھا کہ شاید اس میں ہی سہنے کی سکت تھی روہان نے پانی پینے کے بعد کوئی ٹھنڈی چیز کھائی تاکہ اسے جلن محسوس نہ ہو ۔وہ شرمندگی کے مارے پیچھے کھڑی تھی اسنے آج جو کیا تھا وہ واقعی بہت برا تھا ۔بدلے کی آڑ میں اسنے روہان کو بہت درد پہنچایا تھا یہ سب جانتے ہوئے بھی کہ روہان کو تیخا نہیں پسند لیکن آج اسنے پھر بھی کھایا اور اسکی وجہ شہوار تھی کیونکہ کھانا شہوار نے بنایا تھا ۔

جیسے روہان واشروم سے نکلا اسنے شہوار کی طرف دیکھا جو شرمندگی سے نظریں جھکائے اپنے ہاتھوں کو مسل رہی تھی روہان یہ دیکھ کر بے اختیار مسکرایا

ہائے اس مسکراہٹ پر قربان ہم

ظلم کو بھی مسکرا کر سہتے ہیں

اور کہا

“کیا ہوا ہے” روہان نے اپنے ہاتھوں کو پونچھتے ہوئے کہا

“کچھ نہیں ہوا” شہوار نے اپنے چہرے کے تاثرات چھپائے

“ویسے کھانا بہت اچھا بنا تھا ” روہان نے ٹاول رکھتے ہوئے کہا

“تمھیں اچھا لگا ” شہوار نے دھبی آواز سے کہا

ہاں تم نے بنایا تھا تو یقینا اچھا تھا ۔۔یہ سنتے ہی شہوار وہی خاموش رہ گئ

کس مٹی کا بنا تھا یہ انسان جو درد سہنے کے بعد بھی کہتا درد نہیں ہوا ۔۔

“تھپڑ نہیں مارو گے مجھے ” شہوار اسکی طرف بڑھی

کس بات پر ؟ وہ انجان بنا

تم اچھے سے جانتے ہو میں کس بات پر کہہ رہی ہوں ۔

یہ سنتے ہی روہان شہوار کی طرف بڑھا اور اپنے دونوں ہاتھوں کی گرفت میں اسکے بازوں کو لیا اور کہا

میں شیان فراز نہیں ہوں جو اپنی محبت کو اذیت دوں اور اگر تمھیں مجھے تکلیف پہنچا کر سکون ملتا ہے تو میں درد سہنے کے لیے تیار ہوں اگر تمھاری خوشی اسی میں ہے تو میں خوشی خوشی ۔تمھاری خوشی قبول کر لوں گا ۔روہان نے کہا اور صوفہ کی جانب بڑھا

اسے ایک بار پھر روکا گیا تھا

کس مٹی کے انسان ہو تم ؟ تم میری جان کیوں نہیں چھوڑ دیتے شہوار نے ہار مانتے ہوئے کہا

وہ یہ سن کر مسکرایا اور آئیستہ سے کہا “ابھی میں نے تمھاری جان پکڑئ کہاں ہے جس دن پکڑی تو نوبت ہی کچھ اور ہو گی “

روہان نے کہا اور صوفہ کی جانب بڑھ گیا

_______________________

شہوار اٹھو ۔۔شہوار روہان نے رات کے بارہ بجے اسے اٹھاتے ہوئے کہا

شہوار غصے سے تلملا اٹھی اور اسے کہا ” اور کیسی بات پر نا ۔۔لیکن تمھاری اس میگی کی وجہ سے تو خلاء ضرور لوں گی جیسے شہوار نے کہا روہان نے بے اختیار قہقا لگایا

اس بات کی وجہ سے شوہر سے خلاء لو گی کوئی رپورٹ بھی درج نہیں کرے گا یہ سنتے ہی ۔شہوار نے جلدی سے کہا

مجھے نہیں کھانی میگی !

مجھے لگا تمھیں بھی بھوک لگی ہے ۔۔روہان نے نرم لہجے میں کہا

نہیں لگی مجھے بھوک ۔۔خدا کے لیے یہ رات کو ایسی حرکت کرنا چھوڑ دو ۔۔روہان شہوار کو ساتھ زبردستی لے کر گیا اور دونوں اکھٹے میگی بنا کر کھانے لگے

________________________

صاحب بھابھی آ رہی ہیں پولیس کانسٹیبل نے ہربڑی سے کہا

کیا بکواس کر رہا ہے روہان غصے سے بولا

مطلب صاحب میں نے بھابھی کو تھانے میں آتا ہوا دیکھا ہے ۔۔

یہ سنتے ہی روہان جلدی سے بڑھا اور سب کو کہا

چلو ۔۔چلو جلدی سے سب آپنے اپنے کام پر لگ جاو

اور کتنی دفعہ کہا ہے یہ لڈو کو کیسی اور جگہ رکھا کرو وکیل ہے وہ ۔۔ان وکیلوں کی نظریں بڑھی تیز ہوتی ہے روہان ابھی کہہ رہا تھا کہ شہوار اندر داخل ہوئی

تم ؟ روہان جان بھوج کر چونکا

جی وہ میں آپ کے لیے لنچ لے کر آئی ہوں شہور نے بھی جان بھوج کر مسکراتے ہوئے کہا

ویسے بھی اس ٹائم بریک ہوتی ہے پولیس تھانے میں کیوں آج بریک نہیں ہوں ۔ٹائم آگے کر لیا ہے یاں مجھے دیکھ کر ۔۔

نہیں نہیں ۔ہمارے تھانے میں ایسی حرکتیں نہیں ہوتی ۔۔وکیلوں کی بڑی نظر ہے ہم پر تم آو کیبن میں روہان جان چکا تھا ۔۔شہوار جان بھوج کر آئی تھی میگی ۔۔کا بدلہ لینے تاکہ وہ تھانے کا حال احوال دیکھ سکے ۔جیسے شہوار کیبن میں داخل ہوئی

سب پولیس والوں نے سکھ کا سانس لیا ایک نے بے اختیار کہا

بڑی خطرناک بھابھی ہیں

______________________

زرش جیسے ۔۔شہوار نے اسے دیکھا وہ بے اختیار اسکے گلے لپکی ۔۔ اتنے مہینوں کے بعد ملنے پر ان دونوں کی آنکھیں نم ہو گئ ۔۔شہوار نے زرش کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے تھے اسکے چہرے پر جو خوشی تھی وہ ناقابل بیان تھی

کیسی ہو زری ؟ اور امی کیسی ہیں؟

بلکل ٹھیک اور امی بھی ٹھیک ہیں آپ سنائیں اپی کیسی ہیں ؟ زرش نے اپنے آنسوں کو صاف کرتے ہوئے کہا

شہوار نے ہاں میں سر ہلایا اور زرش کو اندر لے کر آئی

وہ دونوں نشست گاہ میں موجود تھی جب پیچھے سے روہان آیا ۔روہان کو دیکھتے ہی زرش اٹھ کھڑی ہوئی

اسلام و علیکم روہان بھائی

و علیکم اسلام زرش کیسی ہو روہان نے میھٹے لہجے میں جواب دیا اور شہوار کے قریب صوفہ پر بیٹھ گیا

میں بلکل ٹھیک آپ سنائیں

شہوار نے زرش کی طرف حیرانیگی سےاسے دیکھا اور اس سے پوچھا

زری کیا تم روہان کو جانتی ہو ؟ مطلب اس سے پہلے تم مل چکے ہو کہی

جی بلکل ۔زرش اور میری ملاقات ہو چکی ہے پہلے بھی روہان نے جواب دیا

جی آپی دراصل روہان بھائی ہی مجھے آپ کے پاس لے کر آئے تھے ۔میں پولیس تھانے ان سے ملنے گئ تھی

تم نے روہان کو پہلے دیکھا ہوا تھا ۔؟ شہوار نے تشویش کرتے ہوئے کہا

زرش اور روہان نے اپنی ہنسی دھبائی

کون نہیں آئی ایس پی روہان کو جانتا ۔آپ کو یاد ہے میں نے آپ کو بتایا تھا کہ ہماری یونی میں ایک ہینڈسم پولیس والا آیا تھا ۔۔۔اور وہ آئی ایس پی روہان صاحب ہی تھے جس پر ہماری پوری یونیورسٹی کی لڑکیاں فدا ہو گئ تھی ۔اور ویسے بھی اتنے ایمان دار پولیس والے کو کون نہیں جانتا ۔۔

جیسے زرش نے کہا شہوار نے طنزا مسکراتے ہوئے کہا

واقعی ! بہت ہی ایمان دار ہیں تمھارے روہان بھائی ۔ ان کی ایمان داری کے پوسٹر پورے شہر میں لگے ہیں تبی ہر تھانا انھیں بھلا لیتا ہے ۔۔اچھا تم بیٹھو میں چائے لاتی ہوں ۔۔شہوار اٹھی اور کچن کی جانب بڑھنے لگی

کہ سامنے سے عاقب آتا ہوا معلوم ہوا

اسلام و علیکم بھابھی جان ! جیسے عاقب نے کہا ۔۔ شہوار ہلکا سا مسکرائی اور سلام کا جواب دیا ۔اور اسے نشست گاہ میں جانے کا کہا جہاں پہلے سے زرش اور روہان بیٹھے تھے ۔۔

اسلام و علیکم روہان صاحب عاقب نے زرش کو بنا دیکھے ہی اندر داخل ہوتے کہا جیسے اس نے زرش کو دیکھا اسنے ادب سے زرش کے ساتھ سلام لی اور روہان کے ساتھ بیٹھ گیا ۔

کیسے ہو ؟ روہان نے عاقب کی طرف ۔دیکھتے ہوئے کہا

میں بلکل ٹھیک !

زرش ان سے ملو ۔یہ میرا بچپن کا دوست عاقب شاہد ۔اور عاقب یہ شہوار کی بہن ہے ۔۔زرش روہان نے جیسے ان دونوں کو اپس میں تعارف کروایا وہ ایک دوسرے کے ساتھ ادب لہجے میں مخاطب ہوئے اسی ثناہ کے دوران شہوار چائے لیے داخل ہوئی ۔۔اسنے زرش اور عاقب کی جانب چائے کا کپ بڑھایا اور آخر پر روہان کی طرف بڑھایا ۔

اچھا زرش تم غصے والی نہیں لگتی ۔۔تمھاری اپی تو بہت غصے والی ہے روہان نے چائے کا کپ پکڑتے ہوئے کہا

اس سے پہلے زرش جواب دیتی شہوار جلدی سے بولی

جی نہیں زریش بلکل غصہ نہیں کرتی ۔۔اور رہی بات وہ تو زری بتائے گی کہ میں غصہ کرتی ہوں یا نہیں ۔

نہیں آپی تو بلکل بھی نہیں کرتی غصہ زرش نے ہنستے ہوئے کہا

اچھا عاقب تم بتاو ۔ تم تو اتنے غصے والے نہیں لگتے روہان تو بہت ہی غصے والا ہے شہوار نے بھی اپنا بدلہ لیتے ہوئے کہا ۔

نہیں ۔۔۔عاقب تو بلکل غصہ نہیں کرتا اور رہی بات میری وہ عاقب نہیں میری مسسز بتائے گی ۔۔۔روہان نے بھی بات کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا

میں ؟

جی آپ ۔۔۔

سوال عاقب سے کیا گیا ہے میں کیسے بتا سکتی ہوں شہوار نے ۔اپنے دانت پیچتے ہوئے کہا

شادی میں نے عاقب سے نہیں کی نہ ۔۔وہ میرا دوست ہے لیکن اس سے زیادہ آپ مجھے جانتی ہیں اور ہیں بھی وکیل ۔۔واہ وکیلوں کو تو ویسے بھی پولیس والوں کے خلاف ثبوت اکھٹے کرنے کی بڑی عادت ہے انکی ہر بات کو نوٹ کرتے ہیں تو آپ تو اچھے سے بتا سکتی ہیں ۔۔

شہوار نے چائے کا کپ نیچے رکھا اور پوری طرح اسکی طرف متوجہ ہوئی ۔۔

عاقب اور زرش دونوں بیٹھے اب ان کو دیکھ رہے تھے لگتا ہے ۔پولیس اور وکیل کے درمیان کے ایک مباحثے کی جنگ چھڑنے لگی تھی ۔۔

اچھا ۔۔اگر آپ کو اتنا ہی شوق ہے اپنی نیچر جاننے کا تو ملیے گا کیسی دن عدالت میں آپ کی نیچر کیا سب عادات کے بارے میں بتاوں گی ۔ویسے بھی پولیس والوں کی بہت سی ایسی عادات ہیں ۔۔جو ثبوت کے طور پر اکھٹی ہو سکتی ہیں ۔۔خاص کر ان پولیس والوں کی جو ٹانگ پہ ٹانگ چڑھائے سوتے ہیں ۔

شہوار نے اچھا خاصا طنزا کیا تھا ۔۔لیکن روہان بھی کم نہیں تھا اسنے بھی جلدی سے جواب دیے ۔

ہائے ۔۔میں تو کبھی بھی نہیں سوتا ڈیوٹی کے وقت آپ اچھے سے جانتی ہیں نہ اور میری جرات کہاں سونے کی وکیلوں کی نظریں ہوتی ہیں ہم پر ۔۔۔

اچھا ۔۔اتنا وکیلوں سے ڈرتے ہیں ۔۔خوشی ہوئی سن کر نہیں تو آجکل کے پولیس والے نہایت ہی بدتمیز نڈر ۔رشوت خور ۔۔بے ایمانی کرنے والے ہیں ۔۔

واقعی صیح کہا ۔۔ویسے آجکل کے وکیل بھی کم نہیں ہے ہر ان سنی باتوں کو عدالت میں گھسیٹ لاتے ہیں اور ثبوت کے طور پر پہش کر دیتے ہیں ۔۔

وہ ایک دوسرے کے پیشوں پر طنزا کر رہے تھے کوئہ موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے تھے ۔۔انھیں یہ تک خیا ل نہیں تھا عاقب اور زرش ان دونوں کی نوک جوک دیکھ کر ہنس رہے تھے آخر کار زرش نے انکی گفتگو میں دخل اندازی کی اور کہا

ویسے میری بہن اور میرے جیجا جی کی نوک جوک بہت اچھی لگتی ہے آپ دونوں جھگڑتے ہوئے بہت اچھے لگتے ہیں لیکن یہ ایک دوسرے کے پیشوں کو کیوں اتنا بدنام کر رہے ہیں پتا ہے ایک پولیس والا ایک وکیل ہے دونوں ہی نہایت ۔۔زرش کہتے کہتے رک گئ اور عاقب نے بے اختیار قہقا لگایا رہنے دیں یہ نہیں رکے گے ۔۔

روہان اور شہوار نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ۔اور پھر ۔۔شہوار نے کہا

اچھا زری آج رات تم یہی رک جاو نہ ۔۔

نہیں آپی ۔۔مشکل ہے لیکن اب ۔۔آتی رہوں گی میں زرش یہ کہتے ہوئے اٹھی

ابھی تو آئی تھی تھوڑی دیر بیٹھ جاو نہ ۔۔ شہوار نے اٹھتے ہوئے کہا ۔

اچھا چلیں مجھے گھر تو دکھائیں ۔۔زرش نے جیسے کہا روہان فورا بولا

ہاں شہوار دیکھاو زرش کو ۔۔۔اسنے جان بھوج کر پھر شہوار کو کہا

جی ۔۔۔جی ضرور وہ یہ کہتے ہوئے باہر کی طرف بڑھی

ہاہاہاہہا شہوار اور زرش کے جانے خے بعد عاقب نے زور سے قہقا لگایا ۔

تو رک کمینے ۔۔ روہان فورا اسکی طرف بڑھا اور اپنے بازو کی گرفت سے اسکی گردن کو پکڑا ۔

تجھے بڑا مزہ آ رہا ہے دیکھ کر ۔۔بتاتا ہوں تجھے ۔روہان نے دباو ڈالا

چھوڑ ۔۔روہان صاحب ۔ ایمان دار پولیس والے ۔

تو دوست ہے یاں دشمن روہان نے اسے چھوڑتے ہوئے کہا

ویسے واقعی یار تم دونوں کی جوڑی ہے بہت پرفیکٹ ۔۔ایک دوسرے کو کیا ذلیل کرتے ہو تم دونوں کہ سامنے بیٹھے لوگوں کا بھی دھیان نہیں رہتا ۔۔

ا

اچھا اچھا بس ۔۔زیادہ اوور ہونے کی ضرورت نہیں ہے اچھا کس کام سے آیا ہے ۔۔

روہان نے سنجیدگی سے کہا

او ہاں ۔۔۔آئی ایس پی صاحب ایک کام پڑ گیا ہے آپ سے

اہم ہے ؟

ہاں ۔۔۔

_______________________

آپی وہ بہت اچھے ہیں ؟ زری نے جیسے کہا شہوار فورا بولی

کون؟

آپ اچھے سے جانتی ہیں میں کس بارے میں بات کر رہی ہوں ۔

زری تم اسے نہیں جانتی ۔وہ اوپر سے کچھ اور ہے اور اندر سے کچھ اور ۔۔شہوار نے برہمی کا اظہار کیا

اچھا آپ اتنے یقین سے کیسے انکے بارے میں کہہ سکتی ہیں زری نے بات کو بڑھاتے ہوئے کہا

” زرش اس انسان کا میری زندگی برباد کرنے میں سب سے بڑا ہاتھ ہے اسکی وجہ سے میری زندگی میں میرے اپنے مجھ سے پرائے ہو گئے ۔۔سب کچھ برباد کر دیا اس نے میرا ۔ اور تم اسے دنیا کا ایمان دار اور اچھا انسان کہہ رہی ہو اسکی سچائی کے قصیدے پڑھ رہی ہو ۔”۔

مجھے یہ سن کر نہایت ہی افسوس ہوا ہے آپی آپ اس کمینے ۔۔کو اس سب واقعیے کا مجرم نہیں ٹھہرا رہی جو اصل اس ۔۔بربادی کا ذمہ دار ہے روہان نے کیسے آپ کی زندگی برباد کی ہے زندگی برباد کرنے والا وہ شیان فراز ہے جس نے ایک سکینڈ میں آپکو اپنی زندگی سے بے دخل کر دیا بیچ راستے میں بے وفاوں کی طرح راستہ چھوڑ کر چلا گیا کمینے نے اس وقت آپ کا ہاتھ چھوڑا جس وقت آپ کو اسکی ضرورت تھی اور اس بیچ راستے پہ ۔۔آپ کا ہاتھ روہان علی خان نے تھاما تھا ۔۔اسنے آپ کو معاشرے میں رہنے کا حق دیا ۔۔سر اٹھا کے جینے کا ۔موقع دیا اور آپ بجائے اسکا شکریہ ادا کرنے کے اسے ہی ویلن سمجھ رہی ہیں ۔ آپ کو پتا ہے میں نے روہان بھائی کی آنکھوں میں آپکے لیے سچی محبت دیکھی ہے جو میں نے کبھی شیان کی آنکھوں میں نہیں دیکھی تھی ۔۔زرش نے سمجھانے کی پوری کوشش کرتے ہوئے کہا

یہ سنتے ہی ۔۔شہوار اٹھی اور کمرے کی کھڑکی کے قریب کھڑی ہو گئ

میں نہیں یقین کرتی اس کی محبت پر ۔اور رہی میری بات تو مجھے اس سے محبت نہیں ہے ۔۔اور ناں ہی ہو سکے گی کیونکہ محبت ہر بار نہیں ہوتی صرف ایک دفعہ ہی ہوتی ہے ۔۔ہاں میں اسے اپنی زندگی سے نکال بھی نہیں سکتی ۔لیکن محبت بھی نہیں کر سکتی ۔

کیا بیگاڑا ہے روہان کی محبت نے آپ کا ۔۔کیوں اتنی سنگ دل ہو گئ ہیں ۔۔آپ کے دل میں ۔زرا سا بھی احساس نہیں ہے ان کے لیے ۔۔کیوں ماضی کی دنیا کو اپنے دل میں بسائے بیٹھی ہیں ۔۔اپنی موجودہ دنیا کو اپنے دل میں بسائیں اور آپ کی دنیا روہان خان کے علاوہ کوئی نہیں ہے ۔۔کوئی بھی نہیں ناں میں ناں امی اور نہ ہی تایا تائی جان ۔ضرورت کے وقت آپ کا ہاتھ چھوڑ دیں گے لیکن ایک شخص کبھی نہیں چھوڑے کا اور وہ روہان ہو گا ۔اور کوئی نہیں ۔۔

میرا خیال ہے اب تمھیں چلے جانا چاہیے ۔۔شہوار نے غصے سے کہا

ہاں چلی جاوں گی میں لیکن ۔۔خدا کے لیے اس کی محبت کا امتحان اور مت لیں ۔۔اور اسکو قصور وار مت ٹھہرائیں ۔۔زرش نے کہا اور وہاں سے چلی گئ

وہ مین گیٹ سے باہر نکلی تھی کہ اسی وقت عاقب بھی اپنی گاڑی لیے باہر نکلا ۔

آئیے میں آپ کو چھوڑ دیتا ہوں ۔ عاقب نے گاڑی کا شیشہ نیچے کرتے ہوئے کہا

نہیں نہیں شکریہ اسکی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔زرش نے مسکراتے ہوئے کہا

نہیں ۔آپ آجائیں ۔۔میں آپ کو چھوڑ دیتا ہوں ویسے بھی رات ہونے والی ہے اکیلی کیسے جائیں گی ۔۔عاقب کے بار بار اصرار کرنے پر ۔وہ اسکی گاڑی میں بیٹھ گئ

کچھ دیر تک خاموشی رہی پھر عاقب نے گفتگو کا آغاز کیا…..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *