No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
انتقام محبت
از قلم زرش نور
قسط نمبر ١٢
وہ اس وقت آغا جان ۔۔۔کے پاس بیٹھی تھی۔وہ اسے جمال صاحب کے بارے میں بتا رپے تھے۔وہ انہیں کچھ پریشان سی لگی۔
میرا بیٹا۔۔۔۔ماضی میں جو ہوا اسے میں بدلنے پر قادر نہیں ہوں مگر اس گھر میں تمہیں تمہارے تمام حقوق ملیں گے۔
میرا حازم دل کا بہت اچھا ہے۔سب کا احساس کرنے والا ، بس ماں سے کچھ زیادہ قریب ہے۔اس کی کسی بات سے اختلاف نہیں کر سکتا۔تم بھی رومینہ بہو کا دل جیتنے کی کوشش کرو۔
”اس نے صرف اثبات میں سر ہلایا۔وہ انہیں نہیں بتا سکی کہ آپ کا پوتا یہ رشتہ مجبوری میں نبھا رہا ہے۔“
کافی دیر کی گفتگو کے بعد وہ اٹھ کر وہ اپنے کمرے میں چلی آٸی۔آدھی رات بیت چکی تھی۔اس کا خیا ل تھا حازم گھر میں نہیں ہے۔لیکن کمرے میں داخل ہوتے ہی اسے کچھ غیر معمولی ہونے کا احساس ہوا۔ اس نے دیکھا وہ ہاتھ میں کوٸی چیز لٸے اس پر نظریں ٹکاۓ گھور رہا تھا۔
وہ اس کی طرف دیکھتی واش روم میں گھس گٸی۔واپس آٸی تو وہ ابھی بھی پہلے والی پوزیشن میں بیٹھا تھا۔
وہ اس کے پاس سے گزرنے لگی جب اس نے ہاتھ پکڑ کر اسے روک لیا، اور اٹھ کر اس کے مقابل کھڑا ہو گیا۔
زہرہ نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا ۔
حازم نے ایک گہرا سانس کھینچا اور ہاتھ میں موجود رنگ اس کے سامنے کی۔
یہ رنگ ڈریسنگ روم میں مرر کے آگے رکھی تھی۔
زہرہ کی آنکھیں پھٹ گٸی۔اس نے تو یہ انگوٹھی بہت سنبھال کر رکھی تھی۔پھر یہ حازم خان کے پاس کیسے پہنچی اور یہ ڈریسنگ روم میں کیسے پہنچی۔
زہرہ نے ہاتھ بڑھا کر وہ انگوٹھی اس کی ہتھیلی سے اٹھا لی۔
کیا میں پو چھ سکتا ہوں اتنی قیمتی انگوٹھی تمہارے پاس کہاں سے آٸی ہے۔
اسے اس سوال کی امید تھی اور وہ اس کا جواب بھی سوچ چکی تھی۔
یہ ۔۔۔یہ انگوٹھی مجھے ماں نے دی تھی۔
اس کی بات پر حازم نے سر ہلایا۔اسے اس کی بات پر ایک فیصد بھی یقین نہیں آیا تھا۔
میں نے تمہیں یہ کبھی پہنے نہیں دیکھا؟
ہاں وہ بس ایسے ہی ،اب پہن لوں گی۔اس سے کوٸی جواب نہیں بن پڑ رہا تھا۔
وہ اس کا گڑبڑانا دیکھ چکا تھا۔اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ یہ انگوٹھی اسے کس نے دی ہو گی۔
وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ اس کے بارے میں اس سے زیادہ جانتا ہے۔
وہ خاموشی سے آ کر اپنی جگہ پر کر لیٹ گٸی۔
وہ اندر سے پوری جان سے کانپ رہی تھی۔اس نے دل میں نہ جانے یاور ہمایوں کو کتنی ایک گالیاں دے ڈالیں ۔جس نے اسے ایک مصیبت میں ڈال دیا تھا۔
یہ انگوٹھی بھی اس کے زبردستی کے دٸے گٸے تحفوں میں سے ایک تھی۔جسے وہ واپس کرنا چاہتی تھی۔لیکن وہ نہ کر سکی اور اب یہ اس کے گلے کی ہڈی بن گٸی تھی۔۔۔
حازم خان ۔۔۔کافی دیر بیٹھا اسے گھورتا رہا اور پھر اٹھ کر ٹیرس پر آ گیا۔۔۔وہ ٹیرس پر رکھی چٸیرز میں سے ایک پر ٹک گیا۔
وہ اتنا تو جانتا تھا کہ وہ یاور ہمایوں میں انٹرسٹڈ نہیں تھی،لیکن پھر بھی اس کے دل میں ایک کانٹا سا تھا۔۔۔
وہ یاور کی آنکھوں میں موجود جذبات کا ایک سمندر دیکھ چکا تھا۔۔۔۔
اس کی زہرہ کی طرف اٹھنے والی ہر نگاہ میں ایک آگ اسے جلتی ہوٸی محسوس ہوٸی تھی۔۔۔۔
وہ عجیب کشمکش کا شکار تھا۔ایک طرف اس کی بیوی تھی۔جس کا وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ دیوانہ ہوتا جا رہا تھا۔وہ ہر وقت اس کے حواسوں پر چھاٸی رہتی تھی۔وہ پاس نہیں ہوتی تب بھی اسے گمان ہوتا تھا کہ وہ اس کے آس پاس ہے۔اور دوسری طرف ماں تھی۔ جان چھڑکنےوالی ماں ،جس نےآج تک بس اس دیا ہی تھا ۔اس سے کچھ بھی نہیں لیا۔۔۔۔جبکہ زہرہ جمال کے بارے میں وہ یقین سے نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ اس سے محبت کرتی بھی ہے کہ نہیں۔اگر وہ زہرہ کو بیوی کا مقام دیتا ہے تو ماں کی نافرمانی ہو گی۔اس کی ماں نے اس سے وعدہ لیا تھا کہ وہ کبھی اسے بیوی کے حقوق نہیں دے گا۔ اس نے خود پر بند باندھ رکھے تھے۔۔۔وہ عجیب اذیت کا شکار ہو رہا تھا اور وہ اپنی فرسٹریشن اس پر نکال رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے اس کی بے نیازی پر بھی غصہ آتا تھا۔ وہ بھی اس سے کوٸی شکایت نہیں کرتی تھی۔ بس ایک اجنبی بنی ساتھ رہتی تھی۔اسے لگ رہا تھا وہ اس انتقام کی جنگ میں اپنی محبت کہیں کھو دے گا۔
رات دھیرے دھیرے بیت رہی تھی۔۔۔۔ٹیرس پر حازم خان اپنے آپ سے لڑ رہا تھا ۔ تو اندر زہرہ ایک جھوٹ بول کر اب خوف اور وسوسے کا شکار ہو رہی تھی۔اسے لگ رہا تھا کہ حازم خان کو اگر اس کے جھوٹ کا پتہ چل گیا تو وہ اس کی جان لے لے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یاور رات کے آخری پہر دبے قدموں گھر میں داخل ہوا۔۔۔۔
موباٸل کی ہلکی سی روشنی سے وہ اپنے کمرے تک پہنچا۔کمرے کی لاٸٹ جلا کر جوں ہی مڑا سامنے چٸیر پر ماں کو سوتے پایا۔۔۔۔۔
اس نے ایک گہرا سانس بھرا اور آگے بڑ ھ کر ماں کے قدموں میں بیٹھ گیا ۔اور اپنا سر ان کے گھٹنوں پر رکھ دیا۔وہ بھی اس کا لمس محسوس کرتی ہوٸی جاگ گٸیں اور اس کے سر پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔
کہاں تھے؟ صبح کے نکلے رات کے اس پہر لوٹ رہےہو۔
”آپ یہاں کیوں سو رہی ہیں؟“ اس نے جواب کی بجاۓ ان سے سوال کیا۔
تمہارا نمبر بھی بند جا رہا تھا۔تم نے کوٸی اطلاع بھی نہیں دی۔میں کیسے سو سکتی تھی۔
وہ اٹھ کر کمرے میں ٹہلنے لگا۔
”مما“
بولو یاور کیا بات ہے جو تم اتنا پریشان ہو؟ پچھلےدو ماہ سے میں دیکھ رہی ہوں،تم بہت زیادہ سمکوکنگ بھی کرنے لگو ہو۔مجھے ملازمہ نے بتایا ہے کہ وہ روزانہ تمہارے کمرے سے بہت سے آدھ جلے سیگریٹ اٹھاتی ہے۔مجھے بتاٶ کیا ہوا ہے؟ تم تو ایسے نہیں تھے۔
”ارے ماں۔۔۔آپ تو ایسے ہی پریشان ہو رہی ہیں۔میں ٹھیک ہوں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔
آپ سے بس ایک بات کہنی ہے ماں۔۔۔۔
ہاں بولو۔۔
”مما۔۔۔۔آپ ادینہ کو کہیں وہ حازم اور اس کٕی بیوی کی زندگی سے دور رہے۔“
اس کی بات سن کر سیما بیگم زور زور سے رونے لگی۔
یاور ماں کو ایسے روتے دیکھ کر پریشان ہو گیا۔
ارے ماں۔۔۔۔کیا ہوا ہے؟ کیا میں نے کچھ غلط کہہ دیا ہے؟ آچھا آپ ادینہ سے کچھ نہ کہٸے گا۔۔۔
وہ اس کے سینے سے لگ کر اور زیادہ رونے لگیں۔
ماں۔۔۔پلیز کچھ تو بولیں ،کیا ہوا ہے؟
میں نے تمہارے موباٸل میں زہرہ کی تصویریں دیکھی ہیں۔
ان کی بات پر وہ چپ ہو گیا۔۔۔ اس کے دل میں ایک درد سا اٹھا۔
ماں کو حوصلہ دینے کےلٸے وہ مسکرا دیا۔
آپ اس لٸے رو رہی ہیں؟
ہممم۔۔۔۔انہوں نے اثبات میں سر ہلایا۔
لیکن کیوں؟
تم اس سے محبت کرتے ہو؟
نہیں ماں۔۔۔ایسی کوٸی بات نہیں ہے۔
میں تو بس یونی میں اس سے فلرٹ کرتا رہا ہوں۔میں اس سے محبت نہیں کرتا۔
سیما بیگم نے رونا چھوڑ کراسے دیکھا۔۔۔۔ تمہیں تو یاور جھوٹ بولنا بھی نہیں آتا۔۔۔۔
یہ جو تمہاری آنکھوں میں سرخی ہے۔یہ تمہارا گھر سے کہیں کہیں دن غاٸب رہنا۔اپنے موباٸل میں اس کی تصویر کو گھنٹوں دیکھنا ۔کیا یہ سب جھوٹ ہے۔ یاور تم نے اپنی ماں سے کب سے جھوٹ بولنا شروع کر دیا ہے۔۔۔
وہ ماں کو مزید جھٹلا نہیں سکتا تھا۔ منہ موڑ کر کھڑا ہو گیا۔
یاور ماں کی طرف دیکھو بیٹا۔۔۔۔۔اس نے زبردستی مسکرانے کی کوشش کی۔
وہ ہے ہی ایسی کوٸی بھی اس سے محبت کر سکتا ہے۔لیکن میرا بیٹا تو ایک ہیرا ہے اور رب نے میرے بیٹے کے لٸے کوٸی بہت اچھی سی لڑکی رکھی ہو گی۔
نہیں ماں۔۔۔۔۔۔وہ نہیں تو کوٸی بھی نہیں۔۔۔
اس کی بات پر ان کی آنکھوں میں پھر سے پانی جمع ہونے لگا۔
اچھا ماں رونا نہیں۔جب بھی اس جیسی کوٸی مل گٸی تو کر لوں گا۔دونوں ماں بیٹا مسکرا دٸیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
