Inteqaam Mohabbat By Zarish Noor Readelle50071

Inteqaam Mohabbat By Zarish Noor Readelle50071 Last updated: 23 July 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Inteqaam Mohabbat By

Zarish Noor

صبح اس کی آنکھ کھلی تووہ کمرے میں نہیں تھی۔وہ فریش ہو کر نیچے آیا تو بڑا سا ہال خالی پڑا تھا۔ لیکن کچن سے زہرہ اور سیما بیگم کی آوازیں آ رہیں تھی۔۔۔وہ کچن کے دروازے میں پہنچا تو اندر بڑا خوش کن منظر تھا۔۔۔۔ یلو کلر کے قمیض شلوار میں ملبوس دوپٹہ گلے میں ڈالے زہرہ جمال کچن کاٶنٹر کے ساتھ ٹیک لگاۓ کھڑی تھی۔۔۔ سنہری بالوں کی لٹیں اس کے گالوں کو چھو رہی تھی۔۔۔سیما بیگم سالن بنانے کے ساتھ ساتھ مسکرا کراس سے باتیں کر رہی تھیں ۔۔

زہرہ بیٹا اللہ تمہیں ہمیشہ ایسے ہی خوش رکھے ۔پچھلے کتنے دنوں سے تمہارے چہرے پر افسردگی چھاٸی ہوٸی تھی۔لیکن دیکھا میرے بیٹے کے آتے ہی کیسے تمہارا چہرہ کھل اٹھا ہے۔آخری بات انہوں نے شرارت سے کہی تھی۔ ان کی بات پر اس نے مسکراتے ہوۓ سر اٹھایا تو نظر سیدھی سامنے کھڑے یاور پر پڑی جو سینے پر بازو باندھے اسے ہی گھور رہا تھا۔۔۔ وہ گڑبڑا کر سیما بیگم کی طرف دیکھنے لگی جو اپنی رو میں شروع کی ہوٸی تھی۔ بس اللہ اب تمہاری جھولی بھر دے ۔میں بھی مرنے سے پہلے اپنے پوتے پوتیوں کو دیکھ سکوں۔۔۔ زہرہ کو دیکھ کر لگ رہا تھا سارے جسم کا خون اس کے چہرے پر آ کر جمع ہو گیا ہو۔۔ یاور اس کی حالت سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔۔۔

ہاں ہاں۔۔مما ایسا ہی ہو گا۔اللہ آپ کو لمبی عمر دے بس۔۔۔ یاور کی آواز پر وہ پلٹی اور پھر زہرہ کو دیکھ کر ہنسنے لگی کیونکہ اس کی حالت اب رونے والی تھی۔زہرہ دونوں ماں بیٹے کے چہرے پر دبی دبی مسکراہٹ دیکھ کر وہاں سے واک آٶٹ کر گٸی۔۔۔۔۔

مما جلدی سے ناشتے دیں پھر ہم لوگ آغا جان کی طرف چلتے ہیں۔ زہرہ کو کہیں وہ بھی تیار ہو جاۓ۔ یاور ۔۔۔زہرہ کا وہاں جانا مناسب ہو گا۔۔۔ مما۔۔۔۔۔کل آغ جان نے کال کی تھی کہ میں زہرہ کولے کر ان کے پاس آٶں۔ رمیز ماموں کا کہنا ہے کہ وہ زہرہ کا میکہ ہے اگر وہوہاں نہیں آۓ گی تو کہاں جاۓ گی۔۔۔۔ ہمممم۔۔۔۔۔ٹھیک ہے تم چلو میں ناشتہ بھجواتی ہوں۔ پھر بھی اسے وہیں ایستادہ دیکھ کر انہوں نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔ ویسے آپ کی بہو بہت بدل نہیں گٸی؟؟ اس نے کان کھجاتے ہوۓ پوچھا تو وہ کھلکھلا کر ہنس دی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بلیک قمیض شلوار میں ملبوس تھی۔ سر پر بلیک چادر رکھے یاور ہمایوں کے برابربیٹھی تھی۔۔۔ اس نے آج پہلی بر یاور ہمایوں کی بہت پہلے کی گٸی خواہش پوری کی تھی۔ کالا جوڑا جو اس نے بہت پہلے زہرہ کو گفٹ کیا تھا۔لیکن زہرہ نے اسے لوٹا دیا۔ شادی کے بعد اس نےوہ جوڑا یاور کی وارڈروب میں دیکھا تھا اور آج نکال کر پہن لیا۔اس نے اسے دل سے قبول کر لیا تھا۔۔وہ تھا ہی ایسا اس کے ساتھ رہنے والوں کو اس سے محبت ہو ہی جاتی ہے اور وہ تو اس کی بیوی تھی،اس کی محبوبہ ۔۔ یاور کی نگاہیں پلٹ پلٹ کر اس پر جا رہی تھیں۔جو لاپروا سی بنی دوسری طرف منہ کیے باہر دیکھ رہی تھی۔گاڑی میں اس وقت بالکل خاموشی چھاٸی ہوٸی تھی۔دونوں ہی ایک دوسرے کو بہت کچھ کہنا چاہتے تھے لیکن دونوں کے پاس باتکا آغاز کرنےکے لٸے الفاظ نہیں تھے۔۔

گاڑی جس وقت حویلی میں داخل ہوٸی آغا جان اور رمیز صاحب ان کے انتظار میں باہر ہی کھڑے تھے۔۔۔۔ آغا جان سے ملتے ہوۓ زہرہ جمال کی آنکھوں میں آنسو تھے۔میکے کے نام پہ اس کے پاس یہی تو دو رشتے تھے۔۔رشتوں کے معاملے میں وہ بہت بد نصیب واقع ہوٸی تھی۔ یاور نے آگے بڑھ رمیز صاحب سے اریج کو لے لیا اور اس سے لاڈ کرنے لگا۔۔۔۔ جس وقت وہ دونوں ہال میں داخل ہوۓ ادینہ رومینہ بیگم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔حازم اور رومینہ بیگم واک آٶٹ کر گٸے ۔جبکہ ادینہ بھاٸی کی محبت میں اس کی طرف بڑھ آٸی لیکن زہرہ کی طرف اس نے نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔یاور بہن کو بانہوں کے حصار میں لٸے سامنے موجود صوفے پر بیٹھ گیا۔ادینہ کی آنکھوں میں اس سے بہت سے شکوے تھے۔۔۔۔ زہرہ ن دونوں کو ساتھ بیٹھتے دیکھ کر آغا جان کے ہمراہ ان کے کمرے کی طرف بڑھ گٸی۔یاور کی سوچتی نظروں نے دور تک اس کا تعاقب کیا۔۔

زہرہ کے جانے کے بعد ادینہ بھاٸی سے دور ہو کر بیٹھ گٸی۔۔۔ بھاٸی یہ آپ اچھا نہیں کر رہے۔

کیا؟؟