No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
از انتقام محبت
از قلم زرش نور
قسط نمبر ١٨
زہرہ جمال نے اپنے آنسو پونچھ ڈالے تھے۔کیونکہ اس کی زندگی کا اب ایک ہی مقصد تھا اور وہ تھا یاور ہمایوں سے اپنی بربادی کا انتقام لینا تھا۔۔۔۔
رمیز صاحب اسے اپنے فارم ہاٶس لے آۓ تھے۔۔۔انہوں نے اس سے پوچھا تھا کہ اگر وہ اپنی ماں سے ملنے چلے تو وہ اسے لے چلیں گے۔لیکن اس نے انکار کر دیا۔جس ماں نے اتنےعرصے میں کبھی ایک بار کال کر کے بھی اس کی خیریت دریافت نہیں کی۔ وہ کیونکر وہاں جا کر انہیں اپنا برباد انہیں کی خبر دیتی۔۔۔
رمیز صاحب نے اس کا یونی میں ایڈ میشن کروا دیا تھا۔۔۔۔
زہرہ نےسب کچھ بھول کر زندگی میں آگے بڑھنےکا فیصلہ کیا۔۔۔۔ اس نےاپنے دماغ میں بس ایک ہی نام یاد رکھا تھا اور وہ تھا یاور ہمایوں کا نام۔
وہ روز رات سونے سے پہلے خود کو یہ باور کرواتی تھی کہ وہ یاور ہمایوں سے بدلہ لے گی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حازم خان اور ادینہ کی شادی دھوم دھام سے کی گٸی۔۔۔ حازم خان ماں کی محبت میں ہار گیا تھا۔۔ یہ شادی اس کی ماں کی خوشی تھی۔جسے وہ پوری ایمانداری سے نبھا رہا تھا۔ادینہ ایک اچھی بیوی ثابت ہوٸی تھی۔وہ اس کا بہت خیال رکھتی تھی۔حازم خان نے اسے اپنی زندگی میں ایک خاص مقام دیا تھا ۔لیکن دل کا ایک خانہ ہمیشہ کے لٸے بند کر دیا تھا۔جہاں کبھی کبھی درد اٹھتا تھا تو وہ ساری دنیا سے روٹھ جاتا تھا۔کہیں کہیں دن وہ گھر نہیں لوٹتا تھا۔لیکن ادینہ کو اس سے کوٸی شکایت نہیں تھی۔وہ اسے وقت دے رہی تھی۔حازم اسے اپنےساتھ شہر لے آیا تھا۔اس کی طبعیت کچھ ٹھیک نہیں تھی۔وہماں بننے جا رہی تھی۔ اور اس وقت اسےبہت کٸیر کی ضرورت تھی۔حازم کا زیادہ وقت شہر میں ہی گزرتا تھا۔اس لٸے وہ اسے ساتھ ہی لے آیا تھا۔۔۔رومینہ بیگم بہت خوش تھی اور وہ بھی آتی جاتی رہتی تھیں۔۔
حازم خان نے خود کو کام میں غرق کر لیا ہے۔ گزرے ایک سال میں وہ وہ چند بار ہی حویلی گیا ہے۔
باپ کا ریہ بس لیا دیا انداز لٸے ہوۓ تھا تو آغا جان بات تو کرتے تھے۔لیکن وہ پہلے والی بات نہیں تھی۔۔
حازم کا دل دکھتا تھا وہاں جا کر اس لٸے اس نے وہاں جانا ہی چھوڑ دیا۔۔اپنے پیاروں کی نظروں میں بیگانگی دیکھ کر دل میں درد اٹھتا ہے۔ بس ایک ماں ہی تھی جن کے لٸے جاتا تھا لیکن وہ خود ہی شہر آ کر مل جاتیں تھیں۔۔۔۔
اس نے پلٹ کر آج تک زہرہ جمال کا نام اپنی زبان پر نہیں لایا ۔۔۔۔۔
خود پہ ضبط کے بندھن بٹھا دٸے تھے۔لیکن جب سے اسے پتہ چلا تھا کہ وہ باپ بننے والا ہے۔وہ ادینہ کا خیال رکھنےلگا تھا۔۔
اس کا دل بس ایک ہی دعا کرتا تھا کہ خدا اسے بیٹی کا باپ نہ بنا دے۔یہ نہیں تھا کہ وہ کوٸی جاگیردارانہ سوچ کا مالک تھا۔اس کی کوٸی بہن نہیں تھی ۔اس لٸے اس کی ہمیشہ سے خواہش تھی کہ اس کی پہلی بیٹی ہو لیکن جو کچھ وہ زہرہ کے ساتھ کر چکا تھا۔اب اس کا دل سوچ کر کانپ جاتا تھا کہ اگر کبھی مکافات عمل شروع ہو گیا تو وہ کیا کرے گا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زہرہ جمال کی زندگی میں ایک ٹھہراٶ آ گیا تھا۔
رمیز صاحب اور آغا جان اس کا پتہ کرتے رہتے تھے۔اسے زندگی کی ہر سہولت میسر تھی،لیکن زندگی میں سکون نہیں تھا۔جو لوگ انتقام کی آگ میں جلتے ہیں وہ زندگی میں کبھی بھی سکون نہیں پا سکتے ۔وہ حازم خان کی طرح بےسکون ہی رہتے ہیں۔اب زہرہ جمال بھی اسی راہ پر چل دی تھی۔لیکن کیا زہرہ جمال بھی حازم کی طرح سب کچھ لوٹا دے گی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی آج اسلام آباد سیکٹریٹ میں ایک اہم میٹنگ تھی۔گاڑی اپنی پوری رفتار سے اسلام آباد کی سڑکوں پر دوڑ رہی تھی۔یاور ہمایوں سیاست کی دنیا کا ایک جگمگاتا ستارہ تھا۔فارن مسٹری جیسے اہم عہدے پر تعینات ہوۓ اسے پورا ایک سال بیت چکاتھا۔۔۔اس نے اپنی قابلیت سے ثابت کیا تھا کہ وہ ایک بہترین انتخاب تھا۔اس نے اپنے علاقے کے لٸے بھی بہت کام کیا تھا۔وہ میٹنگ کے بعد لاہور جا رہا تھا۔۔۔اسے گھر سے کال کر کے سیما بیگم نے بتایا تھا کہ ادینہ نے ایک بیٹی کو جنم دیا ہے۔وہ بھانجی کا سن کر بہت خوش تھا۔اس لٸے اس نے میٹنگ کے فورا بعد لاہور جانے کا پروگرام طہ کیا تھا۔۔۔
دو گھنٹے کی میٹنگ وہ آدھے گھنٹے میں ہی نبٹا کر لاہور کے لٸے نکل کھڑا ہوا۔کوٸی دستیاب فلاٸٹ نہ ہونے کی وجہ سے اس نے باۓ روڈ ہی لاہور جانے کا فیصلہ کیا۔
ٹول پلازہ کراس کرنے کے بعد اس نے آنکھیں موند کر سر سیٹ کی پشت دے ٹکا دیا ۔۔۔وہ ایک بہت ہی کامیاب انسان تصور کیا جاتا تھا۔۔۔اس کی زندگی بہت ہی چارمنگ ہی تھی۔ وہ ایک دنیا کے لٸے مسٹر چارم تھا۔۔۔وہ جہاں جاتا تھا لڑکیاں آہیں بھرتی تھیں۔لیکن یاور ہمایوں تو ایک پری کی قید میں تھا۔اور وہ اس قید سے نکلنا بھی نہیں چاہتا تھا۔ماں اسے بار بار شادی کے لٸے پریشراٸز کر رہی تھی۔عہ انہیں ہر بار ٹال دیتا تھا۔
لیکن اب سب کچھ جانتے ہوۓ بھی انہوں نے آنکھیں بند کر لیں تھیں۔ وہ اب اسے شادی کے لٸے مجبور کر رہیں تھیں۔۔۔
چار گھنٹے کے تھکا دینے والے سفر کے بعد وہ لاہور شہر کی حدود میں داخل ہوا تو اسے کچ مانوس سا احساس ہوا۔
اس نے ایک جگہ رک کر ڈراٸیور کو مٹھاٸی لانے کو کہا ۔جس وقت وہ اسپتال کے کاریڈو میں پہنچا وہ خوشی سے تیز تیز قدم اٹھاتا آگے بڑھ رہا تھا۔جب ایک روم سے نکل رہی لڑکی سے زوردار طریقے سے ٹکرایا۔وہ سوری بول کر آگے بڑھ جانا چاہتا تھالیکن جب اس چہرے پر نظر پڑی تو وہ اپنی جگہ پر ساکن ہو گیا۔ اس کی آ نکھوں میں جگنو سے چمک اٹھے تھے۔۔عرصے سےترسی آنکھیں دید سے سیراب ہو رہی تھیں۔جبکہ مقابل کی آنکھوں میں سرد پن تھا۔ اس کی آنکھوں میں غصہ ،نفرت، انتقام کیا کچھ نہیں تھا۔۔یاور ہمایوں کو ان آنکھوں سے ایسے بھی پیار تھا۔۔۔۔ اس ہستی کو تو اس کا قتل بھی معاف تھا اور یہ غصہ اور نفرت تو معمولی سی بات تھی۔وہ اس پر ایک تیز نظر ڈال کر آگے بڑھ گٸی۔وہ اس کے پیچھے جانا چاہتا تھا لیکن اسے سےپہلے ہی اسے اپنی پشت پر رومینہ بیگم کی آواز سناٸی دی ،وہ تیزی سے ان کی طرف پلٹا جیسے کہیں اس کی چوری تو نہیں پکڑی گٸی۔لیکن وہ زہرہ جمال اس کے چوڑے شانوں کے پیچھے چھپ گٸی تھی ۔اسلٸے وہ اسے نہیں دیکھ سکیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
