No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
انتقام محبت
از قلم زرش نور
قسط نمبر ١٣
سمندر کا ٹھنڈا پانی تمہارے قدموں کو چھوتا ہوا میرے قدموں میں جذب ہو جاۓ،تم بس میری رہو،میرے ساتھ ،میرے پاس۔۔۔۔۔اور میری بن کر۔۔۔۔“ وہ اس پل برستی بارش میں اور خزاں کے دلکش منظر کو دیکھ کر بولا۔
”ہمیشہ کوٸی چیز نہیں رہتی۔“ایک اور گھاٸل کرتا وار۔
محبت ہو جاۓ تو اسے روکا کیسے جاتا ہے،میں نہیں جانتا۔۔۔۔میں نہیں جانتا۔۔۔۔۔۔میں کچھ بھی نہیں جانتا۔ سواۓ اس کے کہ میں نے محبت کی وہ ”واٸٹ لاٸن کراس “ کر دی ہےجس کے بعد سواۓ آگے بڑھنے کہ اور کوٸی آپشن نہیں ہوتا۔
میں فقط اتنا جانتا ہوں کہ تم میرے لٸے بہت خاص ہو۔تم وہ ہو جو مجھے چاٸیے ہے،تم وہ ہو جس کی مجھے تلاش تھی۔ میں کیسے سنبھلوں؟میں کیا سمجھوں؟میں نہیں جانتا۔“ بے بسی اس کے ہر ایک لفظ سے جھلک رہی تھی۔
”میرے جذبوں میں ،میری محبت میں وہ شدت ہےکہ۔۔۔۔۔۔۔تمہیں مجھے سے محبت ہو جاۓ گی۔
محض مفروضے کے بنا پر میں کوٸی رشتہ نہیں جوڑ سکتی۔“ ایک اور دھتکار۔
تم اس محبت کو یہی دفن کر دو اور چلے جاٶ۔
زہرہ جمال کو آج اپنے الفاظ کی سنگینی کا اندازہ ہو رہا تھا۔
اس کی نظر ہاتھ میں موجود انگوٹھی پر تھی۔اسے یاور کا ایک ایک لفظ یاد تھا۔
اس دن اسے دیکھ کر وہ ڈر گٸ تھی ،نہ جانے وہ کیسے ری ایکٹ کرے گا۔۔۔۔ کیونکہ اس نے اس کی دیوانگی دیکھی تھی ۔وہ اس کے جنون سے واقف تھی۔ اس کے دل کو ابھی بھی دھڑکا لگا رہتا تھا کہ نہ جانےوہ کب آ جاۓ گا اور اس کی شادی شدہ زندگی کا ذخیرہ بکھر جاۓ گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الیکشن کی تیاریاں زور وشور سے جاری تھیں۔
حازم خان اور ہمایوں صاحب دونوں روزانہ کہیں نہ کہیں جلسہ کر رہے تھے۔ ان کے اور ان کے مخالفین کے درمیان تند وتیز جملوں کا تبادلہ بھی جاری تھا۔۔۔
ہمایوں خان منجھے ہوۓ سیاستدان تھے ان کا وسیع تجربہ تھا جبکہ حازم خان ابھی نوآموز تھا ۔لیکن اس کی جذباتی تقاریر کارکنان میں ایک ولولہ پیدا کر رہیں تھیں۔۔ہر طرف ان کی دھوم مچی تھی۔
ان کے مخالفین انکی بڑھتی ہوٸی مقبولیت سے خوفزدہ ہو رہے تھے۔۔
حازم خان آج معمول سے کچھ زیادہ لیٹ گھر لوٹا تھا۔۔ وہ کمرے میں داخل ہوا اور بیڈ پر بیٹھ کر جوتے اتارنے لگا۔اس کی نظر جاۓ نماز پر بیٹھی زہرہ پر پڑی جو سجدے میں تھی۔۔حازم سخت تھکن کی وجہ سے کپڑے چینج کیے بغیر ہی لیٹ گیا۔۔۔اسے لیٹے دس منٹ گزر چکے تھے۔اسے نے رخ موڑ کر دیکھاتو زہرہ ابھی تک سجدے میں ہی تھی۔کسی انہونی کے ڈر سے اٹھ کر اس کے قریب گیا اور اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ زہرہ نےتیزی سے سر اوپر اٹھایا اس کی آنکھیں آنسو ٶں سے لبریز تھیں۔ حازم کےدل کو کچھ ہوا اس نےآگے بڑھ کر اسے اپنے حصار میں لیا اور لا کر بیڈ پر لیٹا کر آچھی طرح سے بلینکٹ رکھ کر خود بھی ساتھ ہی بیٹھ گیا۔۔۔ دونوں کے درمیان کوٸی بات نہیں ہوٸی ۔وہ اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتا رہا جبکہ زہرہ اس پر نظریں ٹکاۓ لیٹی رہی۔زہرہ نے نیند سے بوجھل آنکھیں بند کیں تو حازم نے بھی جگہ چھوڑ دی۔اس کی نیند اڑ چکی تھی وہ سیگریٹ کا پیکٹ اور لاٸٹر لے کر سٹڈی روم میں چلا آیا۔ اور زندگی میں پہلی بار اس نے ایک ساتھ کہیں ایک سیگریٹ پھونک ڈالے۔ اسے ماں کی طرف سے الٹی میٹیم دے یا گیا تھا کہ وہ الیکشنز کے بعد ادینہ کے لٸے اس کارشتہ لے کر جا رہی ہیں۔۔ اور اب آغا جان اور رمیز صاحب کو منانا تمہارا کام ہے۔۔۔ وہ سخت زہنی الجھن میں تھا۔۔
اس کے دل پر ایک بوجھ سا تھا۔اور وہ اپنے دل کا بوجھ کسی کے ساتھ ہلکا بھی نہیں کر سکتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یاور شہر میں اپنے بزنس میں مصروف تھا۔۔ وہ کہیں کہیں گھنٹے بنا سوۓ کام کرتا رہتا تھا۔۔ آج بھی وہ معمول کے مطابق رات کو دو بجے گھر آیا تھا۔تبھی اس کے موباٸل پر حازم کالنگ لکھا آیا۔اس نے کال ریسیو کی تو حازم نے اسے جلدی سے ہاسپٹل پہنچنے کو کہا ۔وہ انہی قدموں لوٹا ،گاڑی ہاسپٹل کی پارکنگ میں روکتے ہوۓ ۔وہ پاگلوں کی طرح اندر بھاگا۔۔۔۔
کاریڈو میں اسے حازم نظر آیا وہ تیزی سے اس کے پاس پہنچا۔
حازم کیا ہوا ہے؟
یاور۔۔۔حوصلہ کرو ، یار جلسے میں کسی نے ماموں پر فاٸرنگ کر دی ہے۔
کہاں ہیں پاپا؟
ڈاکٹرز انہیں آٸی سی یو میں لے گٸے ہیں۔
یاور کا دل عجیب وسوسوں میں گرا ہوا تھا۔۔۔ اس نے کانپتے ہأتھوں سے اپنے دوست کو کال کی جو کہ اس ہاسپٹل کا مالک تھا۔اسے مختصرًا باپ کے بارے میں بتا کر وہ آٸی سی یو کے باہر پہنچا۔
تین گھنٹے کے جان لیوا انتظار کے بعد ڈاکٹر نے اسے بتایا کہ ہمایوں صاحب اس سے ملنا چاہتے ہیں۔وہ جب اندر داخل ہوا تو بہت سی مشینوں میں جکڑے ہوۓ تھے۔۔۔انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے قریب بلایا۔ اس نےآگے بڑھ کر ان کا ہاتھ تھام لیا۔۔
انہوں نے آکسیجن ماسک اتارا اور اٹکتے ہوۓ یاور سےوعدہ لیا کہ وہ ان کا ادھورا کام مکمل کرے گا۔۔۔۔ وہ اپنے علاقے کے لٸے،اپنے علاقے کے لوگوں کے لٸے کام کرے گا۔وہ ان کا چھوڑا ہوا مشن مکمل کرے گا۔ اورپھر اس کے باپ نے اس کے ہاتھوں میں دم توڑ دیا۔ ۔۔ وہ کچھ ھی نہ کر سکا۔۔۔۔
وہ باپ کا لاڈلا بیٹا تھا۔وہ اس سے ناراض تھے۔لیکن دونوں باپ بیٹے میں بہت محبت ۔
کہتے ہیں مرد روتے نہیں ہیں۔وہ بھی نہیں رویا ۔بہت ہمت سے وہ باپ کا جسد خاکی لے کر گاٶں پہنچا تھا۔
یاور کو دیکھ کر سیما بیگم نے ایک دھاٸی دی اور بیٹے کے گلے لگ کر بلک بلک کر روٸیں۔۔۔ رانیہ اور زہرہ نے ان دونوں کو الگ کیا۔۔ وہ بھی ماں کو خود سے الگ کرتا ہوا باہر نکل گیا۔۔۔
لوگوں کا ایک جم غفیر نے ان کے جنازے میں شرکت کی تھی۔
ادینہ کی حالت بھی بہت خراب تھی۔۔۔رومینہ بیگم اس کو سنبھال رہیں تھی۔۔
جب جنازہ اٹھایا گیا تو ہر آنکھ اشک بار تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب پر ایک سکوت طاری تھا۔ سب غم میں ڈوبے تھے۔رومینہ بیگم کی حالت بھی بہت خراب تھی۔۔۔
سیما بیگم اور ادینہ کو یاور نے اصرار کر کے کچھ کھلا کر دواٸی دے کر سلا دیا۔۔۔۔
سیما بیگم اس کا ہاتھ پکڑے ہی سوٸی۔ان کے سونے کے بعد وہ نیچے آیا اورحازم کے برابر بیٹھ گیا۔جس کے آگے زہرہ کھانا رکھ رہی تھی۔
حازم نے زہرہ سے اس کے لٸے بھی کھانا لانے کو کہا۔۔۔
زہرہ نے اس کے سامنے کھانا رکھا تو یاور نے نظریں جھکاۓ ہی اس کا شکریہ ادا کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوٸم کے بعد جب زہرہ حازم کے ساتھ تیار ہوٸی تو رومینہ بیگم نے حازم سے اسے چھوڑ جانے کو کہا۔
زہرہ وہاں نہیں رکنا چاہتی تھی۔اس نے حازم کی طرف دیکھ کر ناں میں گردن ہلاٸی
وہ شش پنج میں دونوں کو دیکھنے لگا
رومینہ بیگم اسے چھوڑ کر جانے پر مصر تھیں جبکہ زہرہ اسے اشارے سے منع کر رہی تھی۔۔۔
اپنے کمرے کی کھڑکی سے یہ سب دیکھتا یاور بھی حازم کو دیکھنےلگا کہ وہ کیا فیصلہ کرتا ہے۔۔۔
یاور کا دل بےایمان ہوا تھا۔اس کے دل نے شدید خواہش کی تھی کہ حازم اسے چھوڑ جاۓ۔اور پھر اس کی خواہش کے عین مطابق اسے اکیلا ہی گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوتا نظرآیا۔تھوڑا سا آگے جا کر گیٹ سے تھوڑ اسا فاصلے پر اس کی گاڑی رکی تھی۔اس نےسر باہر نکال کر زہرہ کو پاس بلایا تھا۔
وہ ایک امید سے چلتی اس کے قریب آٸی۔
قریب آنے پر حازم نے جیب سے کچھ نوٹ نکال کر اس کی طرف بڑھاۓ لیکن زہرہ نے ہاتھ نہیں بڑھایا۔
دیکھو زہرہ میں دو تین دن تک آ کر تمہیں لے جاٶں گا۔ماں نے بہت پیار سے تمہیں رکنے کے لٸے کہا ہے ،تو رہ جاٶ نہ، میں ناں کر کے ان کا دل نہیں توڑنا چاہتا۔
جی ۔۔۔۔آپ ان کا دل نہیں توڑ سکتے لیکن میرا دل توڑنے میں تو آپ کو سکون حاصل ہوتا ہے۔
واٹ ربش۔۔۔۔۔۔یہ کیا تم الٹی سیدھی باتیں سوچتی رہتی ہو۔
زہرہ نے جواب دینے کی بجاۓ ، غصے سے وہاں سے چل دی۔
حازم نے غصے سے اپنا ہاتھ زور سے سٹٸیرنگ پر مارا ،اور گاڑی آگے بڑھا دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سفید رنگ کے قمیض شلوار پر بلیک کوٹ پہنے کلاٸی میں گھڑی بند کرتا یاور ماں کے کمرے میں داخل ہوا تو سامنے ہی وہ کھڑی تھیں۔
بلیک کلر کے خوبصورت جوڑے میں ملبوس دوپٹہ سر پر ٹکاۓ سیما بیگم کے قریب بیٹھی کسی بات پر ہنس رہی تھی۔یاور کو دیکھ کر اس کی ہنسی کو بریک لگ گٸی۔
وہ بھی نظریں پھیر کر کھڑکی کے پاس جا کر کھڑاہو گیا۔
ماں آپ سے کچھ بات کرنی تھی؟
زہرہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوٸی لیکن سیما بیگم نے ہاتھ پکڑ کر اسے واپس بٹھا لیا۔
پھپھو آپ لوگ بات کر لیں ۔میں باہر چلی جاتی ہوں۔
نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔تم بیٹھو یہی۔
یاور ۔۔۔بولو بیٹا اتنے اداس کیوں لگ رہے ہو؟
اس نےرخ موڑ کر ماں کو دیکھا۔۔۔
اداسی کے بھی سو چہرے ہیں اور ان میں سب سے اداس چہرہ جس میں دوبارہ ملاقات کا امکان کم ہو۔۔۔
اس کی بات پر زہرہ خفت سے سرخ پڑ گٸی۔
اور یاور ہمایوں اس پر ایک نظر ڈال کر ہونٹ بھینچے وہاں سے نکل گیا۔۔۔
سیما بیگم نے بیٹے کی تکلیف پر اذیت سے زہرہ سے رخ موڑ کر آنکھیں بند کیں اور دو آنسو آنکھوں سے نکل کر گالوں پر پھسل گٸے۔
جبکہ زہرہ سیما بیگم کے سامنے شرمندگی سے نظر بھی نہ اٹھا سکی۔اسے ایک بار پھر سے حازم پر غصہ آنے لگا ۔جو اسے یہاں چھوڑ کر چلا گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جی تو معذرت خواہ ہوں آپ لوگوں کو انفارم نہیں کر سکی ایک شادی میں شرکت کی وجہ سے ایپیسوڈ نہیں دے سکی۔کوشش کروں گی آگے سے ڈیلی ایپیسوڈ دوں۔
