Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

انتقام محبت

از قلم زر ش نور

قسط نمبر ١٤

آج اسے یہاں آۓ ہوۓ پورا ایک ہفتہ گزر چکا تھا۔۔اس کا اور یاور کا آمنا سامنا دوبارہ نہیں ہوا تھا۔
یاور نے باپ کی جگہ کاغذات نامزدگی جمع کروا دٸیے تھے۔ اور اب وہ اور حازم الیکشن کمپٸین میں مصروف تھے۔ یاور ہمایوں کے مقابلے میں حازم اکسفورڈ کا گریجویٹ تھا۔۔دونوں ہی متحمل مزاج تھے۔لیکن یاور ہمایوں تھوڑا شدت پسند واقع ہوا تھا۔باپ کی موت نے اسے بہت اگریسیو بنا دیا تھا۔اس کی تقریروں میں بھی ایک الگ قسم کا جوش ہوتا تھا۔۔۔وہ کسی بھی ہجوم کو اپنی باتوں سے قاٸل کرنےکی صلاحیت رکھتا تھا۔ اور ہ اپنی اس خوبی سے بخوبی واقف تھا،اور اس کا بھرپور استعمال بھی کر رہا تھا۔۔
حازم اور یاور کی سکولنگ ایک ساتھ ایک ہی انسٹیٹیوٹ سے تھی۔۔۔۔
حازم ایک بہت آچھا مقرر تھا۔وہ ٹی وی چینلز پر اپنی پارٹی کا سپوکن پرسن بھی تھا۔۔ دونوں نوجوانوں کے ہیرو تھے۔یاور کو اپنے علاقے کے لٸے پہلے سے ہی کام کرنے کا ایڈوانٹیج بھی حاصل تھا۔پھر باپ کی سالوں کی محنت بھی شامل حال تھی۔
زہرہ کو لگ رہا تھاکہ حازم اسے یہاں چھوڑ کر بھول ہی گیا ہے۔۔۔ اس کی ہر صبح کا آغاز حازم کے انتظار سے شروع ہوتا اور پھر سارا دن اسی انتظار میں ختم بھی ہو جاتا۔
آج اسے رومینہ بیگم نے بتایا تھا کہ حازم اسے لینے رہا ہے۔اس لٸے وہ تیار رہے۔وہ تیار ہو کر آٸی تو اسے رومنہ بیگم نے سٹڈی روم سے کوٸی کتاب لا نے کے لٸے بھیج دیا۔وہ کتابوں کی دلدادہ خوشی خوشی چل دی۔
جس وقت وہ سٹڈی روم میں داخل ہوٸی تو سامنے ہی یاور کسی فاٸل کی ورق گردانی میں مصروف تھا۔اس نے حیرانگی سے زہرہ کو دیکھا اور واپس فاٸل پر جھک گیا۔
زہرہ بھی اسے اگنور کرتے ہوۓ بک شیلف کی طرف بڑھ گٸی۔وہ ابھی بک شیلف کے پاس پہنچی ہی تھی، جب ڈور ایک زور دار آواز کے ساتھ بند ہو گیا۔ زہرہ بھاگ کر واپس ڈور تک پہنچ لیکن وہ باہر سے لاک ہو چکا تھا۔۔۔زہرہ لاک کو دونوں ہاتھوں سے گھمانے لگی لیکن اب دیر ہو چکی تھی۔وہ ایک جال میں پھنس چکی تھی۔۔۔وہ زور سے دروازے پر ہاتھ مارنے لگی اور زور زور سے باری باری سب کو آوازیں دینے لگی۔
یہ سب کچھ دیکھتا یاور اپنی جگہ سے اٹھا اور ایک ساٸیڈ سے دروازے کی ماسٹر کی ڈھونڈنے لگا جو کہ ہر وقت ایک مخصوص جگہ پر موجود ہوتی تھی۔
وہ چابی لے کر جوں ہی مڑا اسے باہر سے حازم کی آواز سناٸی دی جو زہرہ کو ہی پکار رہا تھا۔اس کے ساتھ ادینہ ،رومینہ بیگم اور سیما بیگم کی آوازیں بھی آنے لگی۔۔
زہرہ کے ہونٹوں پر قفل لگ گیا۔اس نے مڑ کر ایک درزیدہ نظر یاور پر ڈالی۔اس کا رنگ لٹھے کی مانند سفید پڑ گیا تھا۔۔۔
یاور کا دل کیا وہ خود کی جان لے لے۔باہر سے لاک کھلنے کی آواز آ رہی تھی۔زہرہ کو لگا کہ وہ عنقریب بے ہوش ہو کر گر جاۓ گی۔اسنے خود دروازے کے ہینڈل کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا۔
تبھی اس نے یاور کو تیزی سے اپنی طرف بڑھتے دیکھا وہ تیزی سے اس کے قریب سے گزرتا ہوا دوسری طرف موجود ایک دروازے میں گم ہو گیا۔وہ ایک پرانا سٹور روم تھا۔داخل ہوتے ہوۓ یاور نے سب سے پہلے اپنا موباٸل آف کیا تھا۔
جوں ہی دروازہ کھلا زہرہ تیزی سے باہر نکلی اور حازم کے سینے سے آ لگی۔ اور ہچکیوں سے رونے لگی۔
حازم نےسب کے سامنے خجل ہو کر اسے خود سے دور کیا اور ہاتھ پکڑ کر ہال میں لے آیا۔ جہاں نانا اور نانی جان موجود تھے۔
اسے ایک طرف بٹھا کر پانی اس کے لبوں سے لگا دیا۔
دوسری طرف رومینہ بیگم اور ادینہ حیران تھیں کہ یاور کہاں گیا۔انہوں نے تو آج زہرہ اور حازم کو الگ کرنے کا پورا بندوبست کر لیا تھا۔لیکن دروازہ کھلنے پر یاور کو نہ پاکر وہ سخت بدمزا ہوٸیں اور اب منہ لٹکاۓ ایک ساٸیڈ پہ کھڑیں تھیں۔
کافی دیر تک جب سب آوازیں آنا بند ہو گٸیں تو یاور دبے پاٶں سٹور روم سے نکلا اور اپنے کمرے میں آ گیا۔
اس نے کوٹ اتار کر ایک طرف پھینکا۔ایک مضبوط اور پراعتماد مرد ہو کر بھی اس سچوٸیشن میں اس کی پیشانی پسینے سے تر تھی۔اس نے دو انگلیوں سے اپنی پیشانی مسلی اور ایک لمبا سانس بھر کر وارڈروب سے اپنےکپڑے لے کر واش روم میں گھس گیا۔
شاور لے کر واپس آیا اور موباٸل آن کر کے نیچے چلا آیا۔ اس نے زہرہ کو دیکھنے سے احتراز بھرا ۔۔لیکن پھر بھی اپنے دل کے سکون کے لٸے اس کی طرف دیکھا تو اسے افسوس ہوا کہ کاش وہ اس کی طرف نہ دیکھتا۔۔
کیونکہ وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی اور اس کی نظروں میں اسے دیکھ کر ایک خوف تھا،ایک نفرت تھی۔اور وہ مجرم نہ ہوتے ہوۓ بھی خود کو اس کا مجرم سمجھنے لگا۔۔اس کے لٸے وہاں کھڑا رہنا مشکل ہو گیا اور وہ حازم سے کسی میٹنگ کا بہانہ کر کے وہاں سے چلا گیا۔
پھر سیما بیگم کے بہت اصرار کے بعد بھی زہرہ وہاں نہیں رکی۔۔۔ حازم کی نظریں اس کے چہرے پر مرکوز تھیں۔اس کی آنکھوں میں ایک خوف تھا۔

حازم خان اسے پہلے ہی بتا چکا تھا کہ وہ اس پر اعتبار نہیں کرتا ۔اور اگر آج وہ یاور کو دیکھ لیتا تو آگے کے بارے میں سوچ کے ہی اس نے جھرجھری لی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یاور رات کو واپس لوٹا تو اس کا موڈآف تھا۔وہ کافی دیر داداجان کے ساتھ بیٹھا رہا ۔داداجان اور دادی جان کے کمروں میں جانے کے بعد وہ ادینہ کی طرف مڑا۔
ادینہ تم کب جا رہی ہو واپس شہر تمہاری یونی کھل چکی ہے ۔اور تمہاری پڑھاٸی کا بھی حرج ہو رہا ہے۔تم کل تیار رہنا میں شہر جاٶں گا تو تمہیں بھی چھوڑ آٶں گا۔
ادینہ نے مدد کے لٸے رومینہ بیگم کی طرف دیکھا۔کیونکہ پڑھاٸی میں اسے کوٸی دل چسپی نہیں تھی۔وہ تو بس گاٶں سے جان چھڑانے کے لٸے اس نے ایڈمیشن لے لیا تھا۔۔لیکن اب چونکہ حازم بھی لوٹ آیا تھا تو وہ شہر کیوں جاتی۔
اس نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو اپنے نام کے ساتھ ہمیشہ حازم کا نام سنا۔
رومینہ بیگم نے اسے بتایا تھا کہ اسے ان کی بہو بننا ہے۔اور وہ بھی اس کے خواب دیکھنے لگی۔۔۔ بھلا حازم خان سے محبت کرنے کےلٸے کسی توجیع کی ضرورت تھی۔وہ تو ایک ساحر تھا جو جہاں جاتا تھا سب کو اپنےسحر میں جھکڑ لیتا تھا۔وہ بھی اس کے سحر میں مبتلا ہو گٸی۔۔۔وہ تو اس کی روح میں بسا تھا۔۔۔۔
لیکن حازم خان نے اپنے جزبات صرف اپنی بیوی کے لٸے سنبھال رکھے تھے۔لیکن اب جب بیوی پاس تھی تو وہ کشمکش کا شکار تھا۔۔۔۔اسے اس سے محبت تو تھی لیکن اعتبار نہ تھا۔۔
اور شاید زہرہ جمال اپنی ساری زندگی تیاگ کر بھی اعتبار حاصل نہ کر سکے۔۔۔۔کیونکہ اس کے آس پاس سازشوں کا ایک جال بنا جا رہا تھا۔۔۔۔اور پھر جب شوہر کی زندگی میں دوسری عورت آ جاۓ تو پھر پہلی وال کی ناقدری ہی ہوتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا حازم اور یاور الیکشن جیت پاٸیں گے۔کیا زہرہ حازم کو دوسری شادی سے روک پاۓ گی، اس کے لٸے جلدی سے لاٸک کریں ۔تاکہ آپ کو نیکسٹ ایپیسوڈ جلدی مل سکے۔۔
میں ایپیسوڈ جلدی دے دیتی لیکن پچھلی ایپیسوڈ پہ رسپانس بہت کم رہا ہے۔جس کی وجہ سے نیکسٹ دینے کا دل ہی نہیں کر رہا تھا۔۔یہ ایپیسوڈ ان کے لٸے جو ہر حال میں ہمارا ساتھ دیتے ہیں۔