Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

ناول ”انتقام محبت“

از قلم زرش نور

قسط نمبر ٢
سارا راستہ سوتے جاگتے ہی گزرا ،پورے راستے پھر دونوں کے درمیان کوٸی بات چیت نہیں ہوٸی۔۔۔۔۔۔۔
زہرہ کو رہ رہ کر اپنی ماں کی یاد آ رہی تھی۔۔جو حازم خان کی آمد کے بارے میں سن کر دوڑی چلی آٸیں تھیں۔ اور اس نے سخت ناراضگی ر کھنے کے باوجود ماں کو دیکھ کر اسے حوصلہ ہوا تھا۔۔۔وہ اس کےقریب نہیں آٸیں بس ترحم بھری نظروں سے اسے دیکھتی رہیں۔ان کا کہنا تھا کہ زہرہ تم ایک جہنم میں جا رہی ہو۔میری دعا ہے کہ تمہارے راستے میں تمہاری ماں کی طرح کانٹے نہ آٸیں۔۔۔کمرے سے جانے سے پہلے انہوں نے آگے بڑھ کر اس کی پیشانی چومی تھی اور روتے ہوۓ منہ پر ہاتھ رکھ کر باہر نکل گٸیں تھیں۔۔

اچانک جھٹکا لگنے سے وہ اپنے خیالوں سے باہر آٸی تو گاڑی جھٹکے کھاتی ہوٸی آگے بڑھ رہی تھی۔مین روڈ کہیں دور رہ گٸی تھی۔اب سنگلاخ پہاڑوں کو چیر کر ایک روڈ بناٸی گٸی تھی۔زوردار ہچکولے کھاتے ہوۓ گاڑی آگے بڑھنے لگی۔۔۔
ہم کہاں جا رہے ہیں؟
زہرہ کے سوال پر حازم نے غاٸب دماغی سے اسکی طرف دیکھا اور اس کےسوال کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔

ہم۔۔۔۔۔ہماری حویلی جارہے ہیں۔۔

آپ کے علاقے کا کیا نام ہے؟
درہ مخیر۔۔۔۔۔۔
زہرہ نے ہونٹ بھینچ لٸے اور مزید کوٸی سوال نہیں کیا۔۔

رات گہری ہو چلی تھی۔دور کہیں کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔سارے راستے میں کسی دوسری گاڑی نے انہیں کراس نہیں کیا تھا۔
زہرہ کو عجیب خوف محسوس ہوا وہ زیر لب دعاٸیں پڑھنے لگی۔
وہ کبھی گھر سے دورنہیں گٸی تھی اور اب ایک دم سے ایک انتہاٸی بیک ورڈ علاقے کی طرف چل دی تھی۔۔
اس کا دل کسی پتے کی طرف لرز رہا تھا۔۔۔لیکن بظاہر وہ بہادر بنی بیٹھی تھی۔اب وہ اس شخص کے سامنے خود کو کمزور ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی۔

جلد ہی گاڑی ایک عالی شان حویلی کے آہنی گیٹ کے اندر داخل ہوٸی۔۔۔ گیٹ کے اندر دس منٹ کی ڈراٸیو کے بعد گاڑی ایک جھٹکے سے رکی۔۔
سیٹ بیلٹ نکال کر حازم خان نے زہرہ کو گاڑی سے اترنے کو کہا اور خود بھی گاڑی سے اتر گیا۔۔

وہ ایک آہنی دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوا۔اس کی معیت میں وہ بھی آگے بڑھی۔۔یہ ایک بہت بڑا ہال تھا۔جس کے چاروں اطراف کمرے بنے ہوۓ تھے۔ایک ساٸیڈ سے سیڑھیاں اوپر کی طرف جا رہیں تھیں۔
حازم کے اندر داخل ہوتے ہی ایک ساٸیڈ سے ایک ملازم نکل کر سامنے آیا جس نے مودب انداز میں اسے سلام کیا۔
حازم خان نے صرف سر ہلانے پر اکتفا کیا اور سامنے بنے کمروں میں سے ایک کی طرف بڑھ گیا۔ وہ بھی اسکے پیچھے ہی اندر داخل ہوٸی۔۔
یہ ایک بہت کمرا تھا۔دروازے کے عین سامنے بیڈ موجود تھا۔جس پر ایک نورانی چہرے والی ایک بوڑھی عورت بیٹھی تھی۔جبکہ ان کے قریب ہی ایک درمیانی عمر کی عورت بیٹھی تھی۔
حازم اندر داخل ہوتے ہی تیزی سے بوڑھی عورت کی طرف بڑھا اور سلام کر کے ان کے گلے لگ گیا۔۔۔۔ وہ عورت اس کے ایک ایک نقش کو چوم رہیں تھیں۔۔۔۔

جبکہ دوسری خاتون کی چھبتی نظریں دروازے میں ایستادہ زہرہ پر جمی تھیں۔۔

حازم ان سے الگ ہو کر اشارے سے زہرہ کو پاس بلایا۔

اور بوڑھی عورت کے گرد بازو پھیلا کر بولا۔

دادو پہچانیں زرا یہ کون ہے؟

انہوں نے اپنی عینک صیح کرتے ہوۓ غور سے زہرہ کو دیکھا ۔اور پھر ڈبڈباٸی آنکھوں سے حازم کو دیکھ کر اٹک اٹک کر اس کا نام لیا۔۔۔۔۔ز۔۔۔۔زہررر۔۔۔۔۔ہ۔حازم نے جواب میں اثبات میں سر ہلایا۔
جبکہ ساتھ موجود خاتون نے چونک کر زہرہ کا تقابلی جاٸزہ لیا۔۔۔گرے کلر کے سادہ سے سوٹ پر بڑی سی چادر لٸے جس اس نے اپنا آدھا چہرہ بھی چھپا رکھا تھا۔اسے دیکھ کر کچھ سوچ کر وہ مطمٸن ہوگٸیں۔۔

دوسری طرف زہرہ اپنا نام سن کر حیران ہوٸی۔۔

دادو نے اس کے لٸے بانہیں پھیلا دیں اور وہ بھی تھوڑا جھجھک کر جھک کر ان کی بانہوں میں سما گٸی۔۔۔ان کے گلے لگ کر اس نے آنکھیں موند لیں۔اسے ان سے جانی پہچانی سی خوشبو آ رہی تھی۔۔۔ اس نے آنکھیں کھولیں تو نظر ان کے ساتھ بیٹھے حازم پر پڑی جو آنکھوں میں ایک جہان سماۓ اسے دیکھ رہا تھا۔۔زہرہ کے دیکھنے پر اس نے نظریں پھیر لیں۔ زہرہ کو دادو نے اپنے قریب ہی بیٹھا لیا۔۔۔

وہ سر جھکا کر ان کے قریب ٹک گٸی۔

لڑکی تمہیں ماں نے یہ نہیں سیکھایا کہ آس پاس موجود دوسروں سے بھی سلام دعا کر لیتے ہیں۔

ان کی بات پر اس نے سٹپٹا کر جلدی سے سلام کیا جس کے جواب میں انہوں نے نخوت سے سر جھٹک کر جواب دیا۔۔
پھپھو رانیہ کدھر ہے؟
حازم کے سوال پر وہ کھل اٹھی۔

بیٹا ساتھ ہی آٸی ہے۔وہ اماں جی کے لٸے سوپ بنانے کچن تک گٸی ہے۔

تبھی دروازے سے ایک بہت ہی خوبصورت نفیس سی لڑکی اندر داخل ہوٸی۔حازم کو دیکھ کر اس کا چہرہ کھل اٹھا۔وہ سوپ کی ٹرے ٹیبل پر رکھ کر حازم کی طرف بڑھی۔
ارے حازم آپ کب آ۔۔۔۔۔۔ زہرہ کو دیکھ کر باقی کی بات اس کے منہ میں ہی رہ گٸی۔

میں ابھی آیا ہوں۔۔۔کیسی ہو تم؟
ٹھیک ہوں۔یہ کون ہے؟؟

یہ زہرہ ہے۔زہرہ یہ رانیہ ہے ثوبیہ پھپھو کی بیٹی۔

زہرہ کا نام سن کر اس کے چہرے پر ایک سایہ سا آ کر لہرا گیا۔

زہرہ نے اسےسلام کیاتو اس نے متانت سے اس کا جواب دیااور حازم سے کھانے کے متعلق پوچھنے لگی۔

نہیں یار کچھ بھی نہیں کھایا۔زرا ملازم سے کہہ کر کھانا تو لگوا دو۔

وہ دونوں باتیں کرتے ہوۓ باہر نکل گٸے۔۔۔

زہرہ دادی کی طرف مڑ گٸی۔جو اس سے اس کی ماں کے متعلق پوچھ رہی تھی۔۔
جبکہ وہ ان کے پوچھنے پر حیران تھی۔بھلا وہ اس کی ماں کو کیسے جانتی ہیں۔۔
جی ٹھیک ہیں۔
تمہارے علاوہ اور کتنے بچے ہیں؟
جی دو بیٹیاں اور ہیں۔
آچھا۔۔۔! تم اس کے ساتھ رہتی تھی؟
جی نہیں۔۔!میں ماموں کے گھر رہتی ہوں۔
تبھی رانیہ اسے کھانے کے لٸے بلانے آگٸی۔
اسے بالکل بھی بھوک محسوس نہیں ہو رہی تھی۔لیکن وہ پھپھو ثوبیہ کی نظروں سے چھپنا چاہتی تھی۔اس لٸے اس کے پیچھے چل دی۔۔۔
وہ ڈاٸنگ روم میں داخل ہوٸی تو سامنے ہی وہ اس کے انتظار میں بیٹھا تھا۔
اس کے بیٹھنے پر اس نے پہلے اس کی پلیٹ میں کھانا نکالا اور پھر اپنی پلیٹ میں۔رانیہ ایکسکیوز کرتی وہاں سے اٹھ گٸی۔۔۔۔ کھانا خاموشی سےکھایا گیا۔۔۔تبھی ایک ملازمہ اندر داخل ہوٸی۔
صاحب وہ لال دین پوچھ رہا ہے بی بی کا سامان کہاں رکھنا ہے؟

اوپر میرے کمرے میں۔
اسبکے جواب پر زہرہ کو پانی پیتے ہوۓ زور کا اچھو لگا۔۔۔

حازم نے ایک سپاٹ نظر زہرہ پر ڈالی اور ملازمہ کو جانے کا کہہ کر واپس اپنی پلیٹ پر جھک گیا۔۔۔

زہرہ کا کھانے سے جی اچاٹ ہو گیا۔۔۔۔
کھانا ختم کر کے نیپکن سے ہاتھ صاف کرکے وہ دونوں بازو ٹیبل پر ٹکا کر زہرہ کی طرف مڑا۔بولو کیا کہنا چا رہی ہو؟؟

وہ جو اس سے بات کرنے کے لٸے الفاظ ڈھونڈ رہی تھی۔اس کے سوال پر حیران رہ گٸی۔۔
وہ میں۔۔۔۔اس نے تھوک نگلا۔۔آپ میرا سامان دادو کے کمرے میں رکھوا دیں۔میں ان کے ساتھ رہ لوں گی۔
اور کچھ۔۔۔۔۔تیزی سے اگلا سوال آیا تھا۔

شادی مجھ سے کی ہے یا دادو سے۔۔۔۔۔ہر بیوی شادی کے بعد اپنے شوہر کے ساتھ ہی کمرا شٸیر کرتی ہے۔آگے تم سمجھ دار ہو۔مزید اکیسپلین کرنے کی ضرورت تو نہیں ہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔