Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

سرپراٸز ایپیسوڈ

انتقام محبت

از قلم زرش نور

قسط نمبر ١١
محبتوں کے شاعر ساحر لدھیانوی اپنی نظم ”خوبصورت موڑ“ میں تعلق توڑنے اور اجنبی بن جانے پر زور دیتے ہیں۔لیکن کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ کہہ دینے سے کوٸی دور ،دل کا اجنبی بن جاۓ۔ممکن تو نہیں ہوتا کسی کو بھولنا۔

چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جاٸیں ہم دونوں
نہ میں تم سے کوٸی امید رکھوں دل نوازی کی
نہ تم دیکھو میری طرف غلط انداز نظروں سے
نہ میرے دل کی دھڑکن لڑکھڑاۓ میری باتوں سے

نہ ظاہر ہو تمہاری کشمکش کا رازنظروں سے
چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جاٸیں ہم دونوں
تمہیں بھی کوٸی الجھن روکتی ہےپیش قدمی سے
مجھے بھی لوگ کہتے ہیں یہ جلوے پراۓ ہیں
میرے ہمراہ بھی رسواٸیاں ہیں میرے ماضی کی
تمہارے ساتھ بھی گزری ہوٸی راتوں کے ساۓ ہیں
چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جاٸیں ہم دونوں
تعارف روگ بن جاۓ تو اس کا بھولنا بہتر
تعلق بوجھ بن جاۓ تو اس کو توڑنا اچھا
وہ افسانہ جسےانجام تک لانا نہ ہو ممکن اسے اک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا
چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جاٸیں ہم دونوں۔۔
پچھلے دو گھنٹے سےوہ بے مقصد گاڑی چلا رہا تھا۔تھک ہار کر اس نےگاڑی ایک ساٸیڈ پر روکی اور اپنا سر سٹٸرنگ پر گرا دیا۔ اس کی باٸیں آنکھ سے ایک آنسو نکل کر اس کی داڑھی میں گم ہو گیا۔۔۔
جب وہ میری نہیں تھیں تو اس دل میں اس کے لٸے اتنی محبت کیوں بھر دی گٸی۔۔۔
ضبط کی طنابیں ٹوٹ رہیں تھیں۔۔۔۔ وہ اپنا دل تو کب کا اس کے قدموں میں رکھ چکا تھا ،لیکن نہ جانے اس کی محبت زہرہ کے دل میں گھر کیوں نہ کر سکی۔۔۔

اس نے اپنے موباٸل کی سکرین سامنے کی اور اس پر موجود تصویر میں سفید رنگ کے کپڑوں میں ملبوس ہاتھوں میں سفید چوڑیاں ڈالے سنہری بال کندھے پر پھیلاۓ اس حسینہ کو دیکھا جو اول روز کی طرح اس کےد ل پر براجمان تھی۔۔یہ تصویر اس کی برتھ ڈے کی تھی۔

یاور نے سب سے پہلے وہ تصویر سکرین سے ہٹاٸی۔وہ اس سے بہت محبت کرتا تھا اور محبت سے بھی بڑھ کر اس کی عزت کرتا تھا۔

آج دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر جو کچھ وہ کر چکا تھا ۔اسے دیکھتے ہوۓ اس نے سوچ لیا تھا کہ اب وہ اس کے سامنے کبھی نہیں جاۓ گا۔وہ اس کے کردار پر کسی کو انگلی اٹھانے کا موقع نہیں دینا چاہتا۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حازم انتہاٸی غصے میں زوردار آواز کے ساتھ گاڑی کا دروازہ بند کرتا ہوا اندر کی طرف بڑھ گیا۔
زہرہ اس کے رویے پر حیران ہوتی ہوٸی اندر کی طرف بڑھ گٸی۔
رومینہ خاتون ہشاش بشاش تھیں ۔انہیں لگ رہا تھا یہ سب ان کے لٸے بہت آچھا ہے اور وہ اس سب سے اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاٸیں گی۔۔۔

حازم سب کو سلام کرتا ہوا اپنےکمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔

زہرہ دادی اور آغا جان کی طرف بڑھ آٸی جو اسے دیکھ کر خوشی سے اس کے لٸے اپنی جگہ پر کھڑے ہو گٸے تھے۔
ان کے پاس تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد وہ اوپر اپنے کمرے میں آ گٸی۔۔۔
وہ کمرے میں داخل ہوٸی تو واش روم سے پانی گرنے کی آواز آ رہی تھی۔وہ اپنےکپڑے لےکر ڈریسنگ روم میں چلی آٸی۔
کپڑے چینج کر کےواپس آٸی تو وہ ڈریسنگ کے آگے کھڑا کف لنکس بند کر رہا تھا۔
زہرہ کو دیکھ کر وہ مڑا اور پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈال کر آنکھیں چھوٹی کر کے اسے دیکھنے لگا۔
زہرہ اس کی نظروں سے جزبز ہوتی اپنی جگہ پر منجمند ہو گٸی۔
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اس کے عین سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔گلابی کپڑوں میں ملبوس وہ اس کی نظروں کی تپش سے گلابی پڑ رہی تھی۔ تبھی اس کی آواز پر وہ سرد پڑ گٸی۔

زہرہ جمال ۔۔۔۔۔۔۔ایک بات یاد رکھنا مجھے دھوکہ دینےکی کوشش نہیں کرنا ۔میں جمال خان نہیں ہوں جو خاموشی سے سب کچھ برداشت کر لوں گا۔
میں تمہاری زندگی جہنم بنا دوں گا۔۔۔۔

جب بھرودہ ہی نہیں ہے تو زندگی میں کیوں شامل کیا ہے مجھے۔

میں نے تمہیں اپنی زندگی میں نہیں شامل کیا بلکہ تمہیں زبردستی میری زندگی میں شامل کیا گیا ہے۔

آپ یہ زبردستی کا رشتہ ختم کر دیں۔ میں خود آپ جیسے شخص کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔ آپ اس رشتے سے نالاں بھی ہیں اور مجھے اپنا پابند بھی رکھنا چاہتے ہیں۔یہ کیسی من مانی ہے۔آپ تو میرے سامنے افٸیر چلا سکتے ہیں۔لیکن میں سانس بھی نہیں لے سکتی۔

غصے سے حازم کی گردن کی رگیں تن گٸیں۔ ”میں نے کون سا افٸیر چلایا ہے؟“

ہممم اس نے سر جھٹکا ”میں آپ کی ہر بات کا جواب دینے کی پابند نہیں ہوں۔“
حازم نے ایک ہاتھ کا مکا بنا کر دوسرے ہاتھ پر مارا۔
زہرہ جمال ۔۔۔مجھے برا بننے پر مجبور مت کرو۔

آپ کو بننے کی کیا ضرورت ہے آپ تو برے ہیں۔

آچھا۔۔۔۔ میں نے تمہارے ساتھ کیا براٸی کی ہے۔
آپ اور کیا براٸی کریں گے؟ ایک تصویر کو آپ نے اپنی مرضی کا رخ دے دیا۔۔۔

تم کیا سمجھتی ہو ۔میں کچھ بھی نہیں جانتا؟؟

کیا میں نہیں جانتا کہ یونیورسٹی میں یاور ہمایوں تمہارا سینٸر تھا اور تم پر جان دیتا تھا۔ ۔۔۔ وہ تمہارے پیچھے پاگل تھا۔۔۔۔۔ پوری یونی میں یہ بات سب جانتے تھے تو تمہیں کیونکر لگا کہ میں یہ بات نہیں جانتا ہوں گا۔۔۔

زہرہ ۔۔منہ کھولے حاز م خان کو سن رہی تھی۔وہ گنگ رہ گٸی الفاظ کہیں گم ہو گٸے تھے۔۔۔۔ہ منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی۔

وہ اس پر ایک فاتحانہ نظر ڈالتا ہوا اپنے کوٹ کے بٹن بند کرتا ہوا ڈور کی طرف مڑا ۔

”میں اس میں انٹرسٹڈ نہیں تھیں۔“ اس کے حلق سے بامشکل آواز نکلی تھی۔
او رٸیلی۔۔۔تم اس میں انٹرسٹڈ نہیں تھی۔اسی لٸے وہ تمہاری برتھ ڈے سیلیبریٹ کرنے کے لٸے تمہیں اپنے فارم ہاٶس پر لے کر گیا تھا۔

میں اکیلی نہیں گٸی تھی۔پوری یونی کو اس نے انواٸٹ کیا تھا۔
زہرہ جمال کیا میں تمہیں جب رخصت کرو کر لایا تھا ۔اس وقت کی کوٸی بھی بات یاد نہیں ہے۔
میں نے تمہیں کہا تھا کہ میں دھوکہ معاف نہیں کرتا ۔سامنے چاہے میری ماں ہو ،محبوبہ ہو یا پھر بیوی ہی کیوں نہ ہو۔۔

تمہیں کیا لگا جب میں کہہ رہا تھا کہ تم مجھے ایک باوفا عورت لگتی ہو تو کیا وہ میں نے تمہارے برے میں صیح کہا تھا۔وہ میرا طنز تھا جسے تم نہیں سمجھ سکی۔چچچچچ وہ ایک مسکراہٹ پاس کرتا وہاں سے چلا گیا اور زہرہ جمال کو اپنا سانس سینے میں رکتا ہوا محسوس ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔