Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

میں پچھلے آدھے گھنٹے سے ابراز کو دیکھ رہا تھا اور وہ روشنی کی تصویر کو بلآخر تنگ آکر میں نے چھوٹے کو آواز دی ۔
ایک کپ چائے میں نے دور سے ہی اشارہ کیا ۔ ایک کپ کیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ تو چائے نہیں پئے گا
ابراز نے موبائل سے نظر اٹھاتے ہوئے مجھ سے پوچھا
میں نے چائے اپنے لئے منگوائی ہے کیونکہ تُو تو اس حسن میں کھو ہی گیا ہے میں نے اس پر طنز کیا
میری بات کے جواب میں ابراز نے ہنستے ہوئے موبائل بند کر دیا اور دونوں کہنیاں ٹیبل پر رکھتے ہوئے ذرا آگے کو جھکا
بات کچھ یوں ہے کہ مجھے تیری کزن پسند آ گئی ہے ایسا کرتے ہیں کہ ہم تیسری پارٹی کو بیچ میں نہیں لاتے ۔ یہ کیا بات ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اگر تیسری پارٹی بیچ میں نہیں آئے گی تو پیسے کیسے ملیں گے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مجھے تشویش ہوئی دیکھ تجھے پیسوں سے مطلب ہے اور مجھے لڑکی سے _ ابراز نے مسکراتے ہوئے مجھ سے کہا
مطلب ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میں نے نہ سمجھی سے اس کی طرف دیکھا
میں بالکل صاف بات کر رہا ہوں۔ لڑکی میں رکھ لیتا ہوں اور پیسے تجھے دے دیتا ہوں ۔ بول کتنے پیسے چاہیے تجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ابراز نے کہتے ہوئے کرسی ساتھ ٹیک لگا لی
اتنی دیر میں چھوٹا نے چائے کی پیالی میرے آگے لا کر رکھی۔
دراب بابو آپ کو بتانا تھا کہ شکور چاچا تین دن سے ہوٹل نہیں آئے ۔ کافی بیمار ہے۔
مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا میں نے چائے کا کپ پکڑتے ہوئے چھوٹے سے کہا اب تو بتا دیا ہے ان کی خبر لے لینا کیونکہ وہ آپ کو بہت یاد کرتے ہیں چھوٹا کہتے ہوئے واپس چلا گیا
ہاں بول نا تجھے کتنے پیسے چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ابراز نے دوبارہ زور دے کر پوچھا
ایک کروڑ میں نے اپنی سمجھ کے مطابق بہت زیادہ رقم بتائی۔ جس پر اس نے ہنسنا شروع کر دیا
میں تجھے ایک نہیں بلکہ تین کروڑ دوں گا مگر
اس بات کی کیا گارنٹی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
کہ جو تصویر تُو نے مجھے بھیجی ہے لڑکی بالکل ویسی ہی ہے اتنی ہی حسین اور کم عمر ابراز کی بات پر مجھے حیرت کا شدید جھٹکا لگا
کم عمر تو چلو ٹھیک ہے مگر حسین والی بات مجھے ہضم نہیں ہو رہی تیری نظر تو ٹھیک ہے نا
میں نے اس کی آنکھوں کے آگے اپنا ہاتھ ہلایا
میری نظر بالکل ٹھیک ہے کیونکہ ہیرے کی شناخت صرف جوہری ہی کر سکتا ہے ابراز کا اطمینان قابل دید تھا ۔
پکا 3 کروڑ دے گا کوئی ہیر پھیر تو نہیں کرے گا میں نے اس سے تصدیق چاہی ۔
تو فکر نہ کر کل میں تجھے دو کروڑ دے دوں گا اور ایک لڑکی ملنے کے بعد
ابراز نے ٹیبل پر اپنے دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے میری آنکھوں میں دیکھ کر پر اعتماد لہجے میں کہا
مگر تو اس کا کیا کرے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میرا مطلب ہے کہ تم تو شادی شدہ ہے میرے سوال پر اس نے قہقہہ لگایا
میں نے کب کہا کہ میں اس سے شادی کروں گا _
میں تو اسے خرید رہا ہوں _ ابراز میں نے ارد گرد لوگوں پر نظر ڈالی کچھ عجیب سی بات ہے
ابراز کے ذہن میں کیا چل رہا تھا میں نہیں جانتا مگر مجھے اس طرح اُس کا پیسے دینا کچھ کھٹک رہا تھا ۔
تو اُس سے دھندہ کروائے گا ہے ناااااا کافی دیر سوچنے کے بعد میں نے اس سے پوچھا نہیں بالکل بھی نہیں _ ابراز نے جواب دیا
پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مجھے تجسس نے گھیرا
ویسے تو تیری کزن ساری کی ساری ہی بہت قیمتی ہے مگر جو اس کی آنکھیں ہیں نااااا ابراز پر اسرار سا مسکرایا یعنی تو اس کی آنکھیں نکال کر بیچ دے گا اسے مار دے گا _ قتل میرے منہ سے بے اختیار نکلا
بڑی ہمدردی ہو رہی ہے ابراز نے مجھے دیکھ کر طنزاً پوچھا مجھے وہ بالکل بھی نہیں پسند
شدید نفرت ہے اس سے مگر _ میں اسے مارنا نہیں چاہتا پتا نہیں کیسے میرے منہ سے یہ الفاظ خود بخود نکلے
دیکھ لے _ اچھی طرح سوچ لے میری آفر اپنی جگہ موجود ہے اگر تو نہیں بیچنا چاہتا تو تیری مرضی ہے۔ میں اصرار نہیں کر رہا ابراز نے کندھے اچکائے
مجھے تیری آفر منظور ہے لیکن تم اس کو قتل نہیں کرنا
میری فکر مندی پر وہ ہنسا
جب میں اس کو خرید لوں گا تو وہ میری “ملکیت” ہوگی پھر میری مرضی کہ میں اس کے ساتھ کیا کروں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
بالکل ایسے ہی جیسے جب میں تجھے رقم دے دوں گا تو تیری مرضی ہے جہاں مرضی خرچ کرے تو اس کا مالک ہوگا ۔ میں پوچھنے والا کون ہوتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ابراز کے جواب پر میں خاموش ہو گیا ۔مگر یہ سچ تھا کہ مجھے بلیک کیٹ کے لئے برا لگا
اچھا بتا کہ تو کب
کہاں اور کیسے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اُسے میرے حوالے کرے گا ۔
ابراز کے سوال پر میں سوچنے لگا ۔مجھے سوچتا دیکھ کر وہ پھر خود ہی بولا
اگر تجھے برا نہ لگے تو میرے ذہن میں ایک پلین ہے ۔
پھر میں نے پوری توجہ سے اس کا پلین سنا جو کسی بھی غلطی سے پاک تھا اور مجھے وہی بالکل ٹھیک لگا
اب اُس پلین کو عملی جامہ پہنانا تھا مگر کب ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یہ سب مجھے سوچنا تھا
⚜️⚜️⚜️⚜️
میں زندگی میں پہلی بار شکور چچا کے گھر گیا اور میرے خیال سے اسے گھر کہنا غلط تھا وہ ایک انتہائی خوبصورت اور پر آسائش کوٹھی تھی جو میرے ذاتی اندازے کے مطابق ایک کنال پر محیط تھی ۔
چچا یہاں آنے سے پہلے مجھے اندازہ نہیں تھا کہ تم اتنے امیر کبیر ہو _ میں تو تمہیں ایک غریب ہوٹل کا مالک سمجھتا تھا ۔ میرا خیال تھا کہ تمہارا گھر کسی محلہ کی تنگ سی گلی میں ہوگا دروازہ لکڑی یا ٹین کا ہوگا ۔ مگر یہاں آتے آتے میرے خیالات تمہارے بارے میں یکدم بدل گئے ہیں کاش تمہاری کوئی بیٹی ہوتی تو قسم سے میں زبردستی تمہارا داماد بن چکا تھا ۔ میری بات پر شکور چاچا نے ہلکا سا قہقہہ لگایا اور میری طرف ہاتھ بڑھایا جسے تھام کر میں نے انھیں اٹھنے میں مدد دی اب وہ بیڈ ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے تھے اور میں ان کے پہلو میں بالکل ان کے سامنے مجھے دیکھ کے وہ ہلکا سا مسکرائے
دراب پتر مجھے تو بہت اچھا لگتا ہے اگر میری بیٹی ہوتی تو بغیر تیرے کہے وہ میں تجھے دے دیتا ۔شکورچاچا نے محبت سے میرے کندھے پہ ہاتھ پھیرا
چاچا تم نے یہ سب کچھ اُس ہوٹل کی کمائی سے بنایا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میں نے کمرے میں نظر گھماتے ہوئے پوچھا
نہیں ہوٹل کی کمائی اتنی نہیں ہے کہ اُس سے میں اتنا عالیشان مکان خرید سکتا ۔ شکور چاچا کی بات پر میں نے انہیں حیرت سے دیکھا تو پھر کیسے یہ سب کچھ بنایا آپ نے میرا مطلب ہے کہ یہ سب کچھ کہاں سے آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
میری بات پر شکور چاچا مسکرائے اور بتانے لگے
یہ سب کچھ تیری استانی جی کا ہے _ اسی نے مجھے خاک سے اٹھا کر تخت پر بٹھا دیا ۔ یعنی ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ استانی جی نے آپ کو پسند کیا اور وہ ایک امیر کبیر لڑکی ہو گی پھر شادی کے بعد ساری جائیداد آپ کو مل گئی۔ میں نے تو مذاق میں یہ باتیں کہیں مگر چاچا شکور نے میری باتوں پر سر ہلاتے ہوئے تصدیق کی مہر لگائی۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مجھے یقین نہیں ہوا بس پتر تیری استانی کو میں پسند آ گیا تھا اور اس طرح ہم دونوں کی شادی ہوگی۔چاچا شکور نے غمزدہ سے لہجے میں بتایا وہ مجھ سے بہت محبت کرتی تھی ۔میں ان پڑھ دیہاتی اور وہ شہر کی پڑھی لکھی لڑکی مگر پتہ نہیں کیوں مجھ پر دل ہار بیٹھی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ چاچا شکور نے اپنی نم آنکھوں کو صاف کیا یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ چاچا تم میری بات کا برا مت منانا مگر تم اتنے کالے اور غریب اوپر سے بقول تمہارے ان پڑھ بھی ناممکن ایسا ہو ہی نہیں سکتا ۔
میں نہیں مان سکتا کہ کسی خوبصورت انسان کو ایک کالا انسان سے محبت ہو جائے میری بات پر چاچا شکور ہنسا
اتنی عمر ہوگئی ہے تیری
تُو نے سنا نہیں کہ “محبت اندھی” ہوتی ہے۔
اسے “رنگ روپ” سے غرض نہیں نہ ہی مال دولت سے یہ دلوں کے رشتے ہیں۔
میں چاچا کی باتیں سن کر خاصا بد مزہ نہ ہوا ۔مگر آگے سے کچھ نہ کہا
دراب تو مجھے بہت پیارا ہے مگر میں نے سنا ہے کہ تو ابراز کے ساتھ آج کل اٹھ بیٹھ رہا ہے
بیٹا وہ اچھا انسان نہیں ہے ۔میں نہیں چاہتا کہ کسی مصیبت میں پھنسے ۔جتنا ہو سکتا ہے اس سے دور رہ۔اپنا بیٹا سمجھ کر سمجھا رہا ہوں آگے تیری مرضی ہے ۔
شکور چاچا کی بات پر میرا دھیان چھوٹے کی طرف گیا یقیناً اسی نے بتایا ہوگا ۔
چاچا آپ بے فکر رہیں ۔میں آئندہ اس سے نہیں ملوں گا۔ اپنا خیال رکھیں میں پھر آؤں گا ۔
میں کہتا ہوا باہر آ گیا مگر سارے راستے میرے دماغ پر چاچا کی بات ہی سوار رہی۔
ایک خوبصورت پڑھی لکھی
امیر کبیر لڑکی _ کیسے ایک کالے ان پڑھ سے محبت کر سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یقیناً چاچا نے میرے ساتھ جھوٹ بولا ہے ۔ انہوں نے دو نمبر طریقے سے مال کمایا ہوگا اور یہ کہانی مجھے سنا دی۔تاکہ مجھے ان پر شک نہ ہو ۔میں نے اپنے آپ کو تسلی دی ۔ ⚜️⚜️⚜️⚜️ دیکھو یہ ساڑھی کتنی خوبصورت ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟ میں چاہتا ہوں کہ آج تم میرے لیے یہ پہنو دراب نے بہت محبت سے روشنی کا ہاتھ پکڑتے ہوئے دوسرے ہاتھ میں پکڑا شاپنگ بیگ اس کے آگے کیا
مگر مجھے تو یہ لباس پسند نہیں پھر میں کیوں پہنوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ روشنی نے مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ اپنا ہاتھ چھڑایا
اس لیے پہنو کہ یہ مجھے پسند ہے ۔تم پہنو گی تو مجھے دیکھ کے اچھا لگے گا ۔کیا میری خوشی کے لئے ایک لباس نہیں پہن سکتی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ دراب نے التجا کی ۔
یہ لباس صرف اس شاپنگ بیگ کے اندر اچھا لگ رہا ہے اگر میں نے اسے پہنا تو میرے رنگ کی وجہ سے اس کی خوبصورتی بھی خراب ہو جائے گی ۔ روشنی کے جواب پر دراب لاجواب ہوا ۔
کاش کوئی ایسا طریقہ ہوتا میں تمہارے دماغ سے پرانی ساری باتیں ڈیلیٹ کر سکتا ۔ دراب نے تھکے سے لہجے میں کہا
مجھے اپنے کیے پر بہت شرمندگی ہے مگر اب میں تم سے بہت محبت کرنے لگا ہوں اتنی محبت کے تمہارے بغیر مجھے اپنی زندگی ادھوری لگتی ہے۔ دراب نے محبت سے روشنی کی طرف دیکھ کر کہا
مجھے یقین ہے ایک شوہر اپنی بیوی سے اتنی محبت کر سکتا ہے مگر بار بار کہنے کی کیا ضرورت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ روشنی کا لب و لہجہ بالکل نارمل سا ،جذبات سے عاری تھا۔
مجھے ایسے لگتا ہے کہ تمہیں اپنی محبت کا یقین دلاتے دلاتے میں ایک دن مر جاؤں گا مجھے کچھ ہو جائے گا
دراب کا لہجہ ٹوٹا ہوا تھا
“اسسٹنٹ کمشنر مسٹر دراب علی” ہم جیسے لوگ محبت میں مرتے نہیں ہیں نہ ہی ہمارا نروس بریک ڈاؤن ہوتا ہے نہ ہارٹ اٹیک ہوتا ہے ہمیں تو موت آنے تک جینا پڑتا ہے ۔
اس لئے آپ زیادہ پریشان مت ہوں۔ ہم دونوں اپنے اپنے وقت پر ہی مریں گے اور جب تک میں زندہ ہوں آپ کے ساتھ رہوں گی ۔پھر پریشانی کس بات کی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
روشنی کی بات نے دراب کا دل چیر کر رکھ دیا
صرف ساتھ رہنا کافی نہیں ہے مجھے صرف تم نہیں تمہاری محبت بھی چاہیے
میری بات سمجھنے کی کوشش کرو دراب کی آنکھوں اور باتوں میں کچھ ایسا تھا کہ روشنی نے اپنا منہ دوسری طرف کر لیا ۔
اب میں اتنا “بدصورت” بھی نہیں ہوگیا ہوں کہ تم مجھ سے منہ ہی موڑ لو۔ …………..؟؟؟
یاد ہے اماں اپنی “سرخ مرچوں کا ڈبہ” میری نظر اتارتے اترتے ہی ختم کر دیتی تھیں _ دراب نے ماحول کی سنجیدگی کو ختم کرنا چاہا ہاں یاد ہے اور ہمیں پھیکا سالن کھانے کو ملتا تھا __ روشنی نے منہ بنایا۔
سُنو یہ چند لمحے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
محبت سے بسر کر لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
عین ممکن ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
ہوا کے دوش پر اِک دِن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
تمہیں پیغام یہ آئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
وہ جِن کی جان تھے نا تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
وہ جاں سے ہار بیٹھے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
دراب نے محبت سے روشنی کے ماتھے پہ بوسہ دیا اور واش روم کی طرف بڑھ گیا جب کہ اس کی پشت کو روشنی حیرت سے تکنے لگی
⚜️⚜️⚜️⚜️
جاری ہے