Rate this Novel
Episode 1
کلائی پر بندھی انتہائی قیمتی گھڑی پر جو وقت اسے دکھائی دیا تھا اس کے مطابق رات کے گیارہ بج رہے تھے.
دراب نے ایک گہرا سانس لیتے ہوئے اپنی ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کی اور گاڑی سے باہر جگ مگ کرتی بلندوبالا عمارتوں کو دیکھا.
عمارتیں دیکھنے میں جتنی اونچی نظر آتیں ہیں حقیقت میں بھی اتنی ہی بلند ہوتیں ہیں. کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی عمارت دیکھنے میں “چار منزلہ” ہو اور حقیقت میں “دو منزلہ ” نکلے.
مگر انسان ساتھ معاملہ بلکل الٹ ہے _ دیکھنے میں جیسا بلند کردار کا نظر آتا ہے ویسا ہوتا نہیں. عموماً بلند کردار نظر آنے والے صرف “بونے” ہوتے ہیں “بونے” جیسے “میں” یعنی اسسٹنٹ کمشنر دراب علی.
ایک امانت دار، محنتی، فرنابردار اور اپنی طرف سے شدید خوبصورت _ دراب مسکرایا. اب گاڑی کمرشل علاقے سے نکل کر رہائشی علاقے میں داخل ہو چکی تھی. مگر حقیقت میں ایک ذلیل اور پرے درجے کا کمینہ دل تو اور بھی بہت کچھ کہنے کا کر رہا ہے مگر کیا کروں …….. ؟؟؟ خود کو بےعزت کرتے ہوئے اچھا محسوس نہیں ہوتا.
لوگ کالی بلی کو منحوس سمجھتے ہیں آج سے چند سال پہلے میری بھی یہی رائے تھی مگر اب نہیں گاڑی اب گیٹ پر ہارن دے رہی تھی.
اگر یہ منحوس کالی بلی نہ ہوتی تو میں شاید قبر میں گل سڑ گیا ہوتا اور جو عذاب حصے میں آتا اپنی سوچ پر دراب نے جھرجھری لی تبھی ڈرائیور نے گیراج میں گاڑی کھڑی کی. گارڈ نے جلدی سے دراب کی طرف کا دروازہ کھولا
بی بی سو گئیں ہیں …….. ؟ جانتا تھا اسے لیٹ جاگنے کی عادت نہیں مگر پوچھتا روز تھا شاید کسی دن وہ اس کے انتظار میں اپنی نیند کی قربانی دے اور یہی ایک نشانی ہو گی کہ ” اسے مجھ سے محبت ہو گئی ہے”.
نہیں صاحب وہ تو کب کی عون بابا ساتھ کمرے میں جا چکی ہیں _ شابو چاچا نے ادب سے جواب دیا. دراب سر ہلاتا آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھنے لگا دس منٹ تک کھانا لگا دو. مجھے بہت بھوک لگی ہے دراب نے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے کہا
⚜️⚜️⚜️⚜️
انتہائی احتیاط سے دروازہ کھولتے ہوئے دراب نے ایک نظر بیڈ کی طرف دیکھا جہاں اس کی “بلیک کیٹ” لیٹی ہوئی تھی.
کمرے میں ملگجی سی روشنی تھی اس لیے اسے اندازہ نہیں ہو رہا تھا کہ وہ ابھی تک جاگ رہی ہے یا نہیں …… ؟
میرے خیال سے سو گئی ہے ورنہ ابھی تک اٹھ کر چیخ رہی ہوتی دراب نے خودکلامی کرتے ہوئے آہستہ سے پاؤں کی مدد سے دروازہ بند کیا مگر شومئی قسمت ہاتھ کی انگلی بیچ میں آ گئی.
بہت ضبط کے باوجود بھی ایک دلخراش چیخ اس کے منہ سے نکلی.
روشنی نے ایک بار سر اٹھا کر دروازے کی طرف دیکھا اور سر نفی میں ہلایا جبکہ دراب نے شرمندہ سی مسکراہٹ ساتھ اسے ہاتھ ہلاتے ہوئے اپنا بریف کیس اور کوٹ قریبی صوفے پر رکھا.
اگر تم جاگ ہی گئی ہو تو مجھے کھانا ہی گرم کر دو دراب اب صوفے پر بیٹھا موزے اتار رہا تھا.
کیوں وجہ کوئی خاص تکلیف …….. ؟؟؟
روشنی کے جواب پر ایک لمحے کے لیے دراب کے ہاتھ رکے مگر پھر وہ دوبارہ اپنے کام میں مگن ہو گیا.
روز تو نہیں کہتا آج کہہ دیا تھا تو دل ہی رکھ لیتی _ داراب اب اپنی شرٹ کے بازو فولڈ کرتا روشنی کے سر پر موجود تھا. اس گھر میں جو سرکار نے تمہیں اتنے نوکر دیے ہیں ان کا یہی مقصد ہے کہ وہ تمہاری خدمت کریں. روشنی کے جواب پر دراب نے اس کی طرف افسوس سے دیکھا مطلب تمہاری طرف سے صاف ” نہ” ہے ؟؟؟ دراب کا لہجہ تھکا ہوا تھا.
لگتا ہے تمہاری حرکتوں کی وجہ سے تمہیں نوکری سے نکال دیا گیا ہے.
اگر واقعی ہی ایسا ہے تو پھر بھی میں اتنی سردی میں تمہارے لیے کچن میں نہیں جا سکتی.
کیوں کہ میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ تمہیں کوکنگ آتی یے آخر اتنا عرصہ ہوٹل میں کام کیا ہے.
اسی لیے مجھے کزن میرج سے چڑ تھی روشنی کے جواب پر دراب کہتا ہوا واش روم کی طرف مڑ گیا.
اور مجھے پورے کے پورے کزن سے ہی روشنی کا سکون قابل دید تھا
اگر مجھے اس معصوم کا خیال نہ ہوتا تو بتاتا تمہیں دراب نے روشنی کے پاس لیٹے ہوئے اپنے چند ماہ کے بچے کی طرف دیکھ کر کہا
بے فکر رہو یہ بھی تمہارا ہی بچہ ہے اتنی جلدی اٹھنے والا نہیں تم شاید بھول رہے ہو کہ تمہیں گاؤں میں صبح چچی کیسے اٹھاتی تھیں……….. ؟؟؟ روشنی نے قدرے تیز آواز میں جواب دیا.
بلیک کیٹ مت بھولو میں تمہارا شوہر ہوں. دراب نے یاد دلایا.
بھورے بلے مجھے اس کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت کچھ یاد ہے کہو تو دہرا دوں؟؟؟ روشنی کی چمکتی آنکھوں کو دیکھ کر دراب کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی. “فزکس والے تو یہ بات جانتے ہی نہیں گریوٹی سے زیادہ کشش ہے تیری آنکھوں میں” ڈھیٹ کزن دراب کہتا ہوا واش روم میں پلٹ گیا.
⚜️⚜️⚜️
کھانے سے فارغ ہوتے ہی دراب نے “کافی” کا حکم دیا اور خود شابو چاچا سے روشنی بی بی کی سارے دن کی مصروفیات سننے لگا
وہ سٹڈی روم میں تو نہیں جاتیں ……. ؟ دراب تقریباً روز ہی یہ سوال کرتا تھا.
صاحب ایک بات پوچھوں ……. ؟ شابو چاچا نے باورچی کے ہاتھ سے کافی کی ٹرے پکڑ کر دراب کے آگے رکھی.
بابا اجازت نہ لیا کریں جو دل میں آتا ہے کہہ دیا کریں _ دراب نے اپنی جمائی روکتے ہوئے جواب دیا. بی بی تو پڑھی لکھی نہیں ہیں اور نہ ہی انھیں آپ کی ان فائلوں سے کوئی دلچسپی ہے پھر بھی آپ یہ سوال روز پوچھتے ہیں ……… ؟؟؟ بابا آپ شادی شدہ ہیں …….. ؟؟؟ دراب نے مسکراتے ہوئے کافی کا گھونٹ بھرا جبکہ شابو بابا اس سوال پر کچھ پریشان ہو گئے. اگر آپ شادی شدہ ہیں تو آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ بیوی کبھی ان پڑھ نہیں ہوتی وہ ایک ہی وقت میں ڈاکٹر، انجینئر، پولیس آفسر، وکیل، جج، بزنس مین _ مختصراً یہ کہ وہ زندگی کے تمام شعبوں پر مکمل عبور رکھتی ہے. اسی لیے اسے “بیوی” کہتے ہیں. دراب کی بات پر شابو چاچا مسکرانے لگے. صاحب آپ کی باتیں ہم جاہل لوگوں کو سمجھ نہیں آتیں. کیوں کہ آپ بیوی نہیں ہیں ورنہ روشنی کو میری ہر بات بغیر کہے سمجھ آ جاتی ہے حالانکہ وہ بھی آپ کی طرح انگوٹھا چھاپ ہے. دراب نے کافی کا خالی کپ میز پر رکھا.
⚜️⚜️⚜️
ہر روز کی طرح دراب نے سٹڈی روم میں جانے سے پہلے ایک نظر دونوں ماں بیٹے کو دیکھا اور جب یقین ہو گیا کہ دونوں گہری نیند میں ہیں تو ان کے چہرے پر پیار کرتا مسکرا دیا.
میز پر پڑی انتہائی خوبصورت کور والی ڈائری اور سنہری چمکتا قلم رات کے اس پہر اسی کا انتظار کر رہے تھے.
معزرت آج تم دونوں کو کچھ زیادہ ہی انتظار کرنا پڑا دراب بولتا ہوا کرسی کھینچ کر بیٹھا.
دل تو کرتا ہے اپنی آب بیتی سونے کے پانی سے لکھوں آخر میں “اسسٹنٹ کمشنر دراب علی” ہوں مگر کیا کروں مجھے پیسے خرچ کرتے کچھ موت سی پڑتی ہے دراب نے ڈائری کھولی
میں یہ آب بیتی صرف آپ لوگوں کو اپنی خوبصورتی اوع ذہانت بتانے کے لیے نہیں لکھ رہا حالانکہ یہ بھی ضروری ہے آخر مجھ جیسے لڑکے اب ملتے کہاں ہے ………. ؟؟؟(سوائے نمرہ اور عمیرہ احمد کے ناولوں کے)
اصل مقصد آپ کو اپنی زندگی کا ایک سبق آموز واقعہ سنانا ہے شاید یہ پڑھ کر بہت سارے لوگ “کزن میرج” پر اپنی رائے بدلتے ہوئے دور دور دیکھنے کی بجائے قریبی کزن ہر نظر ثانی کریں اور جلد باپ کے “رتبے” پر فائز ہو جائیں میری طرح _ نظروں میں عون کا چہرہ گھوما. جی جناب تو فالتو باتیں بعد میں پہلے کہانی کی طرف چلتے ہیں کیونکہ مجھے نیند بھی آ رہی ہے اور میں صنفِ نازک بھی نہیں کہ لمبی چوڑی بات کروں تو آپ لوگوں کا تھوڑا سا وقت لوں گا. دراب کا قلم روانی سے ڈائری کے ورق پر چل رہا تھا جیسے موٹر وے پر بسیں چلتیں ہیں.
میرا نام میری دادی نے دراب رکھا تھا. باپ کا نام دادا نے کیونکہ علی رکھا تھا تو دادا دادی کی مشترکہ کاروائی سے میں “دراب علی” بن گیا.
مجھے اللہ نے بےشمار خوبیاں دی تھیں حسن، قد، رنگت، نین نقش، جادوئی آواز، ذہانت جس کا استعمال کرتے ہوئے میں نے سی ایس ایس میں گولڈ میڈل لیا اور اب میں اسسٹنٹ کمشنر دراب علی ہوں.
مگر مجھ میں صرف ایک ہی کمی تھی اور وہ کمی میری ذاتی نہیں بلکہ میرے والدین کی تھی.یقیناً آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ میرا اشارہ کس طرف ہے ………. ؟؟؟
میرے والدیں انتہائی غریب تھے ایک ٹوٹا پھوٹا گھر تھا. بمشکل ہمارا گزارا گاؤں والوں کی امداد پر ہوتا تھا.
دادی لوگوں کے گھروں سے کھانے کو جو کچھ لاتیں مجھے کھلا دیتیں کیوں کہ ایک تو میں “اکلوتا” اوپر سے خوبصورتی کا تو پوچھو ہی مت میں اپنی طرف سے “مسٹر ورلڈ” تھا. جیسے “مس ورلڈ” ہوتیں ہیں. خیر اگر اپنی تعریف کرتا رہا تو اصل کہانی رہ جائے گی.
زندگی غریب ضرور تھی مگر گزر مزے سے رہی تھی. میری زندگی میں “کالی آندھی” تب چلی جب ہماری ملتان والی پھپھو فوت ہو گئیں اور جاتے جاتے میرے غریب باپ کو اپنی سیاہ کالی بیٹی”وراثت ” میں دے گئیں.
میں اتنا حسن پرست تھا کہ کبھی گھر میں “کالی بکری”یا “کالا مرغا” بھی رکھنے نہیں دیتا تھا کجا کالی لڑکی ؟
اوپر سے محترمہ میں کوئی خوبی ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی تھی ایک نمبر کی کام چور ، جاہل ان پڑھ، اور زبان کی اتنی تیز کہ ہمارے سیاستدان تو اس کے آگے پانی بھرتے نظر آتے ہیں.
اسے دیکھ کر مجھے لفظ “کزن” سے شدید نفرت ہو گئی دل کرتا تھا صبح سے شام نہ ہو کہ وہ کہیں چلی جائے.
جب میرے بہت شور مچانے پر بھی گھر والوں کو کوئی اثر نہ ہوا تو میں نے گھر سے جانے کا فیصلہ کیا.تاکہ میں اس منحوس کو دیکھ نہ سکوں. تب تک وہ میرے لیے منحوس تھی مگر اب تو میری جان ہے دراب نے مسکراتے ہوئے قلم منہ میں دبایا.
دوسری وجہ میں پڑھنا چاہتا تھا. دماغ بہت اچھا تھا میرا ایک دفعہ کسی چیز کو پڑھ لیتا تو وہ مجھے یاد ہو جاتی حالانکہ میں یاد نہیں کرتا تھا.
ابا نے میری پڑھائی کی شدید مخالفت کی وہ چاہتے تھے کہ میں مزدوری کروں اور کما کر لاؤں.انھوں نے پڑھائی کے خرچے سے ہاتھ اٹھا لیا (ویسے بھی کونسا رکھا ہوا تھا) میں سرکاری سکول میں ہی زیرِ تعلیم تھا.
مگر مجھے بڑا آدمی بننا تھا اس لیے میں گھر گاؤں چھوڑ کر راولپنڈی شہر آگیا اور ایک ہوٹل پر کام کرنے لگا.
اب یہ میری خوش قسمتی تھی کہ ہوٹل کے مالک کی ابھی چند ماہ پہلے بیگم فوت ہوئی تھی جس سے وہ عشق کرتا ہے. اور مجھے لوگوں کی کمزوریوں سے کھیلنا خوب آتا تھا.
میں روز صبح صبح شکور چاچا کو خواب سنا دیتا کہ آج استانی جی میری خواب میں آ کر یہ کہہ رہیں تھیں وہ کہہ رہیں تھیں بس پھر کیا تھا میری فیس بھی شکور چاچا ہی دیتے رہائش اور کھانا تو تھا ہی ان کی طرف میرے مزے ہی مزے تھے.
میں صبح “گارڈن کالج” میں پڑھتا اور شام میں شکور چاچا کے ہوٹل پر کام کرتا.
⚜️⚜️⚜️
“بن چائے کے سارا دن عذاب رہتا ہے دل اداس اور دماغ خراب رہتا ہے.”
چھوٹے جلدی سے دو کپ چائے لے آ _ دراب نے جلدی جلدی منہ میں نوالہ ڈالتے ہوئے آواز دی. تُو اتنی چائے پیتا ہے مگر حیرانی کی بات یہ ہے کہ تو کالا بھی نہیں ہوتا ابراز نے حیرت سے دراب کی طرف دیکھا
چائے پینے سے کوئی کالا نہیں ہوتا. کالا تو اللہ بناتا ہے _ چھوٹے نے دراب کے آگے چائے کا کپ رکھتے ہوئے ابراز کو جواب دیا ہاں تُو تو ایسا ہی کہے گا خود جو کالا ہے …….. ؟ ابراز ہنسا یہ تو کچھ بھی نہیں کالی تو میری کزن ہے یقین مان اگر ابھی یہاں آ جائے تو دن میں رات ہو جائے. دراب نے قہقہ لگایا
سچ میں ………. ؟ ابراز بے یقین تھا
یاررر وہ اتنی کالی ہے ناااا اتنی شدید کہ مت پوچھو دراب نے بدمزہ ہوتے ہوئے منہ میں نوالہ ڈالا
کیا اپنے شکور بھائی سے بھی زیادہ……. ؟ ابراز نے سرگوشی کی
ارے یہ تو کچھ بھی نہیں یقین مانو اپنے شکور بھائی تو اس کے مقابلے میں گورے ہیں. دراب نے سلاد ساتھ انصاف کرتے جواب دیا جس پر ابراز کا نوالہ پھنسنے لگا
مگر وہ اتنی کالی کیوں ہے…..؟ ابراز کے سوال پر اب دراب کو چڑ ہونے لگی
کیونکہ وہ پیدائشی کالی ہے اوپر سے پیداوار بھی ملتان کی ہے جہاں کا موسم اس رنگ کے لیے بہت موزوں ہے یقین مان اتنی بدصورت ہے کہ بیچو تو کوئی خریدے بھی نہ دراب کے منہ سے جیسے ہی یہ الفاظ نکلے ابراز کی آنکھوں میں عجیب چمک آئی.
اچھا یہ بتا اس کی آنکھوں کا رنگ کیسا ہے…… ؟؟؟ ابراز کا تجسس دراب کو حیران کرنے لگا
پتہ نہیں میں نے کبھی غور نہیں کیا دراب نے کپڑے ساتھ ہاتھ صاف کیے اور چائے کا کپ اٹھایا
اگر اس کی آنکھیں نیلے یا براؤن رنگ کی ہیں تو پھر یوں سمجھ کہ تیرے گھر کوئلے کی کان نہیں بلکہ ہیرے کی کان ہے. تُو بیٹھے بیٹھائے امیر کبیر ہو جائے گا وہ بھی بغیر کسی محنت کے ___ ابراز کی بات پر دراب نے بمشکل چائے کا گھونٹ حلق میں اتارا
⚜️⚜️⚜️
جاری ہے
