Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

میں جس ٹائم گھر پہنچا اس وقت مغرب کی اذان ہو رہیں تھیں۔ ہمارے ہاں تقریبا سبھی لوگ مغرب کے وقت رات کا کھانا کھا کر اپنے اپنے بستروں میں گھس جاتے تھے اس لئے گلیاں بالکل سنسان ہو جاتی تھیں۔ خاص طور پر سردیوں کی راتیں انتہائی پرسکون ہوتی تھیں۔
حیرت کا جھٹکا مجھے تب لگا جب میں اپنے گھر کے دروازے پر پہنچا تو لوگوں کے ایک ہجوم نے میرا استقبال کیا ۔
اتنی رات کو یہ لوگ میرے گھر میں کیا کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
سب سے پہلا خیال جو میرے دل میں آیا وہ یہ تھا کہ شاید دادی کو دادا نے اپنے پاس بلا لیا ہے ۔
اس خیال کے آتے ہی میں نے اپنے چہرے پے فورا مسکینیت طاری کرلی ۔اور سوچنے لگا کہ میں کس طرح دادی کو پکاروں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
آج سے پہلے میرا کسی اپنے کا جنازہ اٹینڈ کرنے کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔لہذا میں بہت پریشان تھا ۔
دماغ میں مختلف قسم کے خیالات کا تانابانا بناتے میں دروازے کے اندر داخل ہوا ۔تو کسی قسم کا کوئی جنازہ میرا انتظار نہیں کر رہا تھا ۔
اگر ہمارے گھر میں کوئی فوتگی نہیں ہوئی تو اس وقت اتنے لوگ کیوں جمع ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
میں جو گلی سے گھر کے اندر داخل ہونے تک افسردہ ہونے کے کئی طریقے سوچ چکا تھا ایک دم غصے میں آگیا ۔
کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میں نے خاصی تیز آواز میں پوچھا
بس بیٹا یوں سمجھو کہ اللہ نے اسے دوسری زندگی دی ہے گاؤں کی ایک بزرگ عورت نے میرے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے مجھے اپنے طور پر تسلی دی۔
(کسے دوسری زندگی ملی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یہاں تو پہلی مشکل سے گزر رہی ہے
میں نے دل میں سوچا )
ارے اپنی روشنی بیٹی بکری کے بچے کو بچاتے ہوئے خود کنواں میں گر گئی تھی۔
اتنا گہرا کنواں اور اوپر سے ٹھنڈا پانی بس اللہ نے ہی اسے بچایا ہے۔بزرگ عورت کی بات پر مجھے غصہ آگیا ۔
کیا ضرورت تھی اسے بچانے کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مر جاتی جان تو چھوٹتی جیسے ہی میرے منہ سے یہ الفاظ نکلے ساتھ ہی مجھے ابراز کا خیال آگیا
دراب پاگل ہوگیا ہے ڈالرز ڈوب رہے تھے تیرے شکر کر لوگوں نے بچا لیے۔میں نے ایک گہرا سانس لیتے ہوئے اپنے تاثرات کو لوگوں سے چھپایا
کیا مذاق بنایا ہوا ہے آپ لوگوں نے_ اتنی سردی میں اپنے گھر نہیں بیٹھا جاتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
یوں ہجوم بنا کر آپ لوگوں نے مجھے ڈرا ہی دیا تھا میں نے مصنوعی خفگی کا اظہار کرتے ہوئے اندر کی طرف قدم بڑھا دئیے ۔
سامنے ہی چارپائی پر وہ منحوس بیٹھی دودھ پتی اور انڈے ساتھ انصاف کر رہی تھی۔
اپنے اپنے نصیب ہیں سردی میں میں اتنی دور سے آیا ہوں اور آپ اس کو کھلا پلا رہے ہیں۔
میں نے اماں پاس بیٹھتے ہوئے گلہ کیا _
جب کہ ابا اب لوگوں کو اپنے اپنے گھر جانے کا کہہ رہے تھے
اللہ نے بڑا رحم کیا ہے میری بچی کو بچا کر
اسی کے دم سے تو گھر میں روشنی ہے _ اماں نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا برا مت منائیے گا مگر اسی کی وجہ سے ہمارے گھر میں اندھیرا ہے مجھے تو کہیں روشنی نظر نہیں آتی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میں نے اندھوں کی طرح ہوا میں ہاتھ ہلاتے ہوئے جواب دیا وہ مسلسل انڈوں اور دودھ پتی ساتھ انصاف کر رہی تھی ایک نظر بھی اٹھا کر اس نے مجھے نہیں دیکھا جبکہ میری شدید خواہش تھی کہ وہ مجھے دیکھے تاکہ مجھے پتا چلے اس کی آنکھوں کا رنگ کیسا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مجھے کتنے پیسے ملیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اماں مجھے بھوک لگی ہے اگر میرے لیے بھی آپ کے پاس کچھ کھانے کو ہے تو لا دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میں نے طنز کا تیر چلایا جو سیدھا ماں کے دل میں لگا کیسی باتیں کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اپنے شہزادے کے لیے میں ابھی کھانا لے کر آتی ہوں۔ ماں پیار سے کہتی کمرے سے باہر چلی گئی ۔ یہاں میں آپ لوگوں کو ایک بات بتاتا چلوں کہ ہمارا پورا گھر ایک ہی کمرے پر مشتمل تھا _ جس کے آگے تھوڑا سا برآمدہ اور کونے میں ایک لیٹرین تھی۔
اماں کے جاتے ہیں میں فورا بلیک کیٹ کی چارپائی پر اس کے پاس آ بیٹھا ۔جس پر اس نے مجھے حیرت سے دیکھا ۔
مگر اس وقت میری آنکھوں میں اُس سے زیادہ حیرانگی تھی۔
کیونکہ وہ رنگین آنکھیں رکھتی تھی میں نے آج تک کبھی غور ہی نہیں کیا تھا ۔
اس کی آنکھوں کا رنگ “ہلکا سبز” تھا میں نے ایسا رنگ آج سے پہلے کسی کی آنکھوں کا نہیں دیکھا تھا یا شاید مجھے رنگوں کی صحیح پہچان ہی نہیں ہے۔ میرے اس طرح دیکھنے پر اس نے منہ موڑ لیا ۔ شہر میں نشہ کرتے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ تمہاری آنکھوں کے نیچے کتنے سیاہ حلقے بنے ہوئے ہیں۔ اس کی بات پر میں اپنے خیالوں سے باہر آیا۔ زیادہ میرے منہ لگنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تم جانتی ہو کہ مجھے تمہاری شکل کتنی بری لگتی ہے۔ دو منٹ ہمدردی کیا کر لی سر پر چڑھ گئی۔ ضروری نہیں کہ آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے نشے کی وجہ سے پڑھے مگر تم جیسی ان پڑھ جاہل لڑکی کو کیا پتا کہ زیادہ پڑھنے کی وجہ سے بھی آنکھوں کے نیچے حلقے پڑ جاتے ہیں ۔
جس دن میں ایک بڑا افسر بنوں گا اور میرے پاس ایک لمبی چوڑی گاڑی ہو گی تو میں تمہیں سڑک کنارے بیٹھے بھیک دے کر جاؤں گا ۔اس دن تمہیں اپنی اور میری حیثیت کا فرق معلوم ہوگا۔
میں نے چارپائی سے اٹھتے اپنے کپڑے جھاڑے اتنی دیر میں اماں کھانا اٹھا لائیں۔
اتنی حقارت اچھی نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ کافی دیر بعد اس نے یہ جملہ ادا کیا
مجھے اللہ نے خوبیوں اور خوبصورتیوں سے نوازا ہے۔ میرا غرور کرنا بنتا ہے کیونکہ اللہ کا کرم ہے مجھ پر
میں اس کا خاص بندہ ہوں ۔
میری بات کے جواب پر اس نے ایک نظر مجھے دیکھا اور دوبارہ اپنی گود میں رکھے ہاتھوں کو دیکھنے لگی
تمہاری ہاتھوں کی لکیروں میں کچھ نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ویسے میں نے زندگی میں آج تک تمہاری جیسی لڑکی نہیں دیکھی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
کچھ بھی تو نہیں ہے تمہارے پاس _ نہ خوبصورتی نہ ذہانت نہ پڑھائی تم بالکل بیکار ہو ۔
فرض کرو تمہاری مجھ سے شادی ہو جائے یا تمہیں مجھ سے بھی بدتر لڑکی ملے تو کیا کرو گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
جیسے ہی اُس نے یہ سوال کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مجھے شدید پھندا لگا
تیرے منہ میں خاک _ خدا ایسا دن نہ مجھے دکھائے۔ اور اگر کبھی زندگی میں ایسا دن آیا تو میں موت کو پسند کروں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میں غصے سے کہتا کھانا چھوڑ کر کمرے سے باہر نکل آیا ۔ باہر شدید سردی تھی مگر میرے اندر آگ جل رہی تھی اس نے کیسے مجھے یہ بات کہہ دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ منحوس خود تو “کالی” ہے ہی کہیں اس کی زبان بھی “کالی’ نہ ہو _ میرے اندر ایک انجانا سا ڈر ہلکورے لینے لگا
شہزادے تو اُس کی بات کا برا مت مان _ اتنا غصہ نہیں کرتے وہ تو مہمان ہے آج نہیں تو کل اپنے گھر چلی جائے گی اماں نے میرے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر پیار سے مجھے سمجھایا
ہاں چلی تو جائے گی بلکہ میں اسے خود چھوڑ کر آؤنگا وہاں جہاں سے کبھی دوبارہ واپس نہیں آئے گی میں نے ماں کا ہاتھ نرمی سے ہٹاتے ہوئے دل میں سوچا
⚜️⚜️⚜️⚜️
صبح جب میری آنکھ کھلی تو کافی دوپہر ہو گئی تھی ۔شاید میں کافی دیر تک سوتا رہا تھا ۔
باہر آیا تو کافی خاموشی تھی نہ گھر میں امی ، ابو تھے اور نہ ہی دادی صرف وہی تھی جس سے مجھے شدید چڑ تھی ۔
صبح صبح اس کی شکل دیکھ کر میرا موڈ خراب ہو گیا ۔میں منہ بناتا ہوا واپس کمرے کی طرف بڑھنے لگا جب اس نے پکارا
تمہیں مجھ سے اتنی نفرت کیوں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ کیا بگاڑا ہے میں نے تمہارا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اس کے سوال نے میرے اندر دہکتی آگ کو مزید بھڑکا دیا ۔
تم نے میرا سنوارا بھی کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میں لڑاکا عورتوں کی طرح اس کے مقابل کھڑا ہو کر بولا
ایک تو تم ہماری زندگیوں میں زبردستی گھس گئی ۔اچھے بھلے مزے کے دن جا رہے تھے ۔
میں اکلوتا تھا ۔ سب کا پیار صرف میرے لئے تھا ۔غربت کے باوجود گھر میں جو بھی پکتا تھا سب سے بہترین اور اچھا کھانا میرے ہی حصے میں آتا تھا ۔
مگر تمہارے آنے کے بعد سب الٹ پلٹ ہوگیا تم نے میرا پیار بانٹ لیا میرے اپنوں سے بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ تم نے مجھ سے میری محبتیں چھین لیں میرا کھانا چھین لیا میرا چین چھین لیا ۔
اور تو اور وہ اکلوتا کمرہ جو کل تک میرا تھا آج اس میں تم مزے سے سو رہی ہو۔
پھر بھی پوچھتی ہو کہ تم نے میرا کیا بگاڑا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میرا دل کرتا ہے کہ تمہارا گلا دبا دوں
میں یہ کہتے ساتھ اس کے طرف بڑھا اور وہ الٹے قدم لیتی پیچھے دیوار ساتھ جا لگی
اوپر سے تم ہو بھی ایسی کوئلے کی کان منحوس کہیں کی کہ تمہیں دیکھنے کو بھی دل نہیں کرتا ۔میری اس بات پر اس کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو آگے
کتنے خوبصورت لگتے ہیں لڑکیوں کی آنکھوں میں آنسو مگر تمہاری آنکھوں میں تو یہ بھی بہت برے لگ رہے ہیں ۔میں حقارت سے پیچھے ہوا
میں نے اپنی شکل اور رنگ خود تو نہیں بنایا ۔بمشکل روتی دبی آواز میں اس نے یہ جملہ ادا کیا
میں ایسا کیا کروں کہ تمہارے دل سے میری نفرت ختم ہو جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میں کمرے میں داخل ہی ہونے لگا تھا کہ اس کی آواز میرے کانوں میں پڑی
تم ایسا کرو کہ مجھے اپنی ایک تصویر لینے دو _ میں نے یہ کہتے ساتھ ہی اپنی پاکٹ سے موبائل نکالا
میری اس فرمائش پر وہ ہکا بکا مجھے دیکھنے لگی ایک آنسو آنکھ میں اور ایک گال پہ لڑھک رہا تھا ۔
میں نے اس کی تصویر کھینچتے ہی ابراز کو فورا واٹس ایپ کی اور ساتھ لکھا کہ بولو کتنے پیسے دو گے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
وہ ابھی تک جوں کی توں میرے سامنے حیرت کا مجسمہ بنی کھڑی تھی ۔
اب اپنی شکل گم کرو اور اگر ناشتہ ہے تو دے دو ورنہ میں شہر جا کر کھا لوں گا ۔
اتنی جلدی تم واپس جا رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اس کے اِس اچانک سوال پر میں نے اسے مشکوک نظروں سے سر سے پاؤں تک دیکھا اور سیٹی بجائی۔
اگر تم غلطی سے میرے خواب دیکھ رہی ہو تو باز آ جاؤ میں اسے وارننگ دیتا ہوا دوبارہ کمرے میں آ گیا۔
⚜️⚜️⚜️
عون کہ مسلسل رونے کی وجہ سے دراب کی آنکھ کھلی۔
بس کر دے
بلکہ چپ کر جا تو کتنا اونچا اونچا روتا ہے اور تیری ماما کدھر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟دراب آنکھیں ملتا ہوا اٹھ بیٹھا پورے کمرے میں نظر گھمائیں مگر کہیں بھی بلیک کیٹ موجود نہیں تھی ۔ ایک تو یہ صبح صبح پتہ نہیں کہاں چلی گئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ دراب نے بڑبڑاتے ہوئے چند ماہ کے عون کو گود میں اٹھایا ۔تبھی کمرے کا دروازہ کھلا اور ٹرے میں ناشتہ سجائے روشنی اندر داخل ہوئی۔ تمہارے اس لاڈلے نے میری نیند خراب کردی ہے ۔ پکڑو اسے دراب نے یہ کہتے ہوئے عون کو دوبارہ بستر پر رکھ دیا اور خود نیم دراز ہوکر روشنی کو دیکھنے لگا
عون کو گود میں اٹھا تے ہوئے روشنی کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔جسے دراب نے محسوس کیا
جتنی محبت اور پیار سے تم اسے دیکھتی ہو
کبھی مجھے بھی دیکھ لیا کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ دراب نے گلہ کیا ۔
یہ تو میری اولاد ہے اس کو تو میں محبت کے سوا کسی اور نظر سے دیکھی نہیں سکتی روشنی نے ایک نظر دراب کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا
میں بھی تو کسی کی اولاد ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ دراب کے سوال پر روشنی کھکھلا کر مسکرا اٹھی ۔
مگر میری تو نہیں ہے ناااااا روشنی نے چائے کا کپ اٹھایا ۔
صرف اپنے لئے ہی ناشتہ بناتی ہو۔ مجھے نوکروں کے رحم و کرم پر چھوڑا ہوا ہے ۔ایک اور گلا دراب کی زبان سے پھسلا۔
یہ نوکر سرکار نے آپ کو آپ کی خدمت کے لیے ہی دیے ہیں اس لیے میں چاہتی ہوں کہ وہ آپ کی خوب خدمت کریں۔
کیا تم مجھے معاف نہیں کر سکتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ دراب کے لہجے اور چہرے پر واضح شرمندگی تھی ۔
کس نے کہا کہ میں آپ سے ناراض ہوں ۔میں نے اپنی خوشی سے آپ سے شادی کی ہے ۔اللہ نے ہمیں اتنا پیارا بیٹا دیا ہے ۔پھر بھی تم پوچھ رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
مجھے حیرت ہوتی ہے جب بھی تم یہ سوال مجھ سے کرتے ہو روشنی کے جواب پر دراب نے اسے دیکھا
پھر تم اپنے ہاتھوں سے میرے کام کیوں نہیں کرتی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
مجھے کھانا نہیں دیتی میرے کپڑے نہیں نکالتی مجھ سے باتیں نہیں کرتی رات کو میرے آنے کا انتظار بھی نہیں کرتی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ تم مجھ سے ابھی تک ناراض ہو مگر منہ سے نہیں کہتی ___
میں صبر کروں گا ایک نہ ایک دن مجھے میرے صبر کا میٹھا پھل ضرور ملے گا ۔
دراب نے کہتے ہوئی روشنی کے گال کو محبت سے چوما اور خود بستر سے اتر کر سلیپر پہننے لگا
“‏تبصـرہ کرتـے ہیـں کیا ؟ اہل تفکـر اس پر
صبر کـے پھل کا اگـر، ذائقہ کـڑوا نکلـے ؟؟”
دراب کی کمر کو دیکھتے ہوئے روشنی نے شعر پڑھا
تمہاری بات کا مطلب ہے کہ میرے صبر کا پھل کڑوا نکلے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
میں نے ایسا کب کہا یہ تو شاعر نے کہا ہے _ دراب کے سوال پر روشنی نے کندھے اچکائے
⚜️⚜️⚜️⚜
جاری ہے