Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

کیا کہا تُو نے زرا دوبارہ کہنا دراب نے قدرے آہستہ مگر پر تجسس لہجے میں پوچھا
سچ کہہ رہا ہوں. ایسی لڑکیاں جو رنگت کی کالی ہوں مگر آنکھیں ان کی رنگ بھرنگی ہوں تو ابراز نے ادھر اُدھر دیکھا ادھر اُدھر کیا دیکھ رہا ہے بتا ناااا تو کیا ………. ؟؟؟ دراب کو الجھن ہوئی تو یہ کہ یورپ میں ان جیسی لڑکیوں کے بہت اچھے “دام” ملتے ہیں. ایسی لڑکیاں ملین میں ایک یوتیں ہیں. ابراز کے جواب پر دراب نے پُر سوچ انداز میں اسے دیکھا یاررررر مجھے وہ بلکل پسند نہیں ہے اور میں جلد از جلد امیر بھی بننا چاہتا ہوں مگر _ دراب نے اپنے قریب آتے چھوٹو کو دیکھ کر بات ادھوری چھوڑ دی
دراب بابو آج کھیر کھانے کو دل کر رہا ہے کچھ کریں نااااا ہم غریب آپ کو دعائیں دیں گے _ چھوٹو مسکین سی شکل بناتا برتن اٹھانے لگا میں بڑا امیر ہوں ………. ؟؟؟ دودھ اتنا مہنگا ہے
روٹی مشکل سے مل رہی ہے اور تمہیں کھیر کھانے کا شوق چڑھا ہوا ہے. دراب چھوٹو کی فرمائش پر بد مزہ ہوا.
میں نے کب کہا اپنی جیب سے کھلائیں. آج جمعرات ہے تو چھوٹو نے کن اکھیوں سے شکور چاچا کو دیکھا
چل دفع ہو پہلے مجھے ابراز سے ضروری بات کرنے دے پھر بعد میں تیری کھیر کو بھی دیکھتا ہوں. دراب نے چھوٹو کو جانے کا کہا
ہاں اب بول ……. ؟؟؟ چھوٹو کے جاتے ہی ابراز نے دراب جو مخاطب کیا
اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ پیسے ملے گے ……. ؟؟؟
تم لڑکی لے کہ رفو چکر ہو جاؤ پھر ……….؟؟؟ دراب کی بات ہر ابراز مسکرایا
پیسے ملے گئے اور وہ بھی ڈالرز میں مگر
اب کی بات ابراز نے جان بجھ کر مگر کا استعمال کیا.
سیدھی طرح بول ناااااا مجھے یہ “مگرمچھ” بلکل پسند نہیں. دراب کو غصہ آیا.
پہلے مجھے لڑکی کی تصویر دکھا. اگر وہ پارٹی کو پسند آ گئی تو ڈیل ہوتے ہی آدھے پیسے پہلے آدھے لڑکی ملنے کے بعد تجھے مل جائیں گے.
تیرے پیسوں میں تیس فیصد میرا بھی حصہ ہو گا اور ہاں ایک بات میں پہلے ہی کلئیر کر دوں کہ وہ لڑکی کا کیا کریں گے مجھے اس بارے میں کچھ معلوم نہیں.
لہٰذا جو کچھ پوچھنا ہو گا وہ تُو خود ان لوگوں سے پوچھ لیں کیونکہ پیسے ملنے کے بعد ہمارے راستے جدا ہوں گے.
میں تجھے نہیں جانتا اور تُو مجھے _
بول منظور ابراز نے اپنا ہاتھ دراب کے آگے ہلایا جو پوری یک سوئی سے اس کی باتیں سن رہا تھا.
منظور
منظور منظور تم اس کا جو مرضی کرو مجھے اس سے کچھ لینا دینا نہیں. بس مجھے صرف پیسوں سے غرض ہے ان میں ہیر پھیر نہیں ہونی چاہیے.
دراب کی بات پر ابراز نے سر ہلایا.
پھر لڑکی کب دکھا رہا ہے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد ابراز نے دوبارہ دراب کو مخاطب کیا.
میں ابھی کچھ دیر میں گاؤں کے لیے نکل جاؤں گا. مجھے جتنی جلدی امیر بننے کی ہے اس سے کئی گناہ زیادہ اس کالی بلی سے جان چھڑانے کی ہے دراب کے لہجے میں نفرت نمایاں تھی.
وہ تیری کزن ہی ہے ناااااا
ابراز کو حیرت ہوئی.
اگر کزن نہ ہوتی تو مسئلہ ہی نہیں تھا. میں خود ہی اس کا بندوبست کر دیتا مگر اب زرا مشکل ہے ……. ؟؟؟ دراب نے منہ بنایا
اس کے آگے پیچھے تو کوئی نہیں ہے نااااااا ابراز نے مزید تسلی کے لیے پوچھا
بے فکر رہ کوئی بھی نہیں ہے. ماں باپ کب کے مر کھپ گئے ہیں. اور میرے والدین اپنا پیٹ مشکل سے پالتے ہیں اس کے پیچھے کون جائے گا ……..؟؟
بیچارے پکے انپڑھ ہیں قانونی کارروائیوں کا کچھ پتہ نہیں _
پھر میں جو ہوں. تجھے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں. دراب کے جواب پر ابراز نے سکھ کا سانس لیا.
⚜️⚜️⚜️⚜️
چاچا ویسے کتنے سال آپ نے استانی جی ساتھ گزارے ہیں …….. ؟؟؟ دراب کے سوال پر شکور چاچا جو گاہکوں کو دیکھ رہے تھے چونکے
پتر پورے تیس سال اللہ بخشے اسے بڑی ہی مجھ سے محبت کرتی تھی. شکور چاچا کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر ٹیبل صاف کرتے چھوٹو کو ہنسی آئی.
وہ تو آپ سے اب بھی محبت کرتیں ہیں مگر آپ کی محبت میں بہت فرق آ گیا ہے ……… ؟؟ دراب نے افسردہ سا منہ بنایا جس پر ہوٹل میں کام کرنے والے نیچے منہ کر کے ہنسنے لگے
کیا مطلب پتر ……… ؟؟؟ شکور چاچا پریشان ہو گئے.
رات کو وہ میری خواب میں آئیں تھیں بہت اداس تھیں کہہ رہیں تھیں “دراب تیرے چاچا مجھے بھول گئے ہیں میں نہیں بخشوں گی انھیں” _
دراب کی بات پر شکور چاچا افسردہ ہو گئے.
مجھ سے اب کیا غلطی ہو گئی ……… ؟؟؟ روز صبح قبر پر فاتحہ خوانی کے لئے جاتا ہوں. پھول بھی ڈالتا ہوں.
میرا ہے ہی کون اس کے سوا اللہ نے اولاد بھی نہیں دی. ماں باپ بھی کب کا چھوڑ گئے. شکور چاچا نے اپنی آنکھیں صاف کیں.
چاچا آج جمعرات ہے آپ نے “ختم” دیا …………… ؟؟؟ دراب کی بات پر جہاں ہوٹل میں کام کرنے والوں کی آنکھیں چمکیں وہیں شکور چاچا کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں.
اوئے چھوٹے ادھر آ
کتنی بار کہا ہے مجھے یاد کرا دیا کر کہ آج جمعرات ہے.
اب جلدی سے جو ابھی تازہ ہانڈی پکی ہے وہ پلیٹ میں ڈال کر دو نان میرے پاس لا _ شکور چاچا نے غضب ناک آواز میں حکم دیا. واہ چاچا واہ تیری محبت ……….. ؟؟؟ دراب نے مذاق اڑایا. ختم دینے تو لگا ہوں اب کیوں مذاق اڑا رہا ہے …………. ؟؟؟ شکور چاچا کو دراب پر غصہ آیا. استانی جی آگے ہی ناراض ہیں اوپر سے آپ مرچوں والا سالن انھیں دے رہے. تاکہ محنت بھی نہ کرنی پڑے اور آپ کی واہ واہ بھی ہو جائے. میں تو صاف کہہ دوں گا اگر اب وہ میری خواب میں آئیں کہ _ چاچا دنیادار ہو گئے ہیں. دراب کی بات پر شکور چاچا نے اسے ایک تھپڑ لگایا.
خبردار جو اس ساتھ کوئی بکواس کی تو
مجھے بتا کہ کیا کرنا ہے جس سے وہ راضی ہو جائے. شکور چاچا کی باتطپر دراب کے لب مسکرائے (اب آیا چاچا لائن پر).
آپ نے خود ہی تو بتایا تھا کہ استانی جی کو کھیر بہت پسند تھی بس وہ بنا دیں. دراب کی بات پر شکور چاچا کھل اٹھے.
اللہ تیرا بھلا کرے میں تو بھول ہی گیا تھا. او چھوٹے دودھ کے کڑاھے میں چاول ڈال مزیدار سی کھیر پکا _ اپنی استانی جی کے لیے _ شکور چاچا کی بات پر چھوٹو نے تشکر بھری نظروں سے دراب کو دیکھا
جلدی کرو مغرب سے پہلے مجھے گاؤں بھی جانا ہے. دراب کی آواز پر شکور چاچا نے اسے گھورا.
تیرے گاؤں جانے سے کھیر کا کیا تعلق ……… ؟؟؟ شکور چاچا کے سوال پر دراب کو اپنی بےوقوفی کا احساس ہوا.
(کیونکہ میں نے بھی کھا کر جانی یے. اللہ معاف کرے ایک کھیر کے لیے کیسے کیسے جھوٹ بولنا پر رہے ہیں. دراب بڑ بڑایا.)
چاچا مغرب سے پہلے ہی ختم دیتے ہیں ناااااا اس لیے کہہ رہا ہوں ورنہ مجھے کیا ……؟ ؟؟ میں تو آج گاؤں جا رہا ہوں. دراب نے اپنی صفائی دی.
اچھا سن اب جب بھی تجھے خواب میں تیری استانی ملے اسے کہنا ناراضگی چھوڑ دے اور میری خواب میں بھی آئے میں اسے بہت یاد کرتا ہوں .
چاچا شکور کی آنکھیں نم ہوئیں.
(یہ عمر اور یہ ڈرامے اگر کسی دن سچ مچ وہ آ گئی تو چاچا تیری چیخیں ہی نکل جانی ہیں.)
جی اچھا دراب نے انتہائی فرمانبرداری سے سر ہلایا جبکہ آس پاس کام کرتے نوکر دراب کی ایکٹنگ پر اسے داد دے رہے تھے.
⚜️⚜️⚜️⚜️
میں خوشی خوشی ٹانگے میں بیٹھا اپنی آنے والی خوشگوار زندگی کے بارے میں سوچ رہا تھا اس بات سے بے خبر کہ میں اپنے آپ کو کس مصیبت میں پھنسانے لگا ہوں.
دراب نے قلم ڈائری پر رکھا اور خود کرسی ساتھ ٹیک لگا لی.
اگر یہ نہ ہوتی تو کیا آج میں زندہ ہوتا……. ؟؟؟
ایک خوشگوار اور مطمئن زندگی گزار رہا ہوتا ……… ؟؟؟
نہ چاہتے ہوئے بھی دراب کی آنکھوں میں آنسو آگئے جسے اس نے بےدردی سے صاف کیا اور ایک نظر اپنی کالی بلی کو دیکھنے کے لیے سٹڈی روم سے باہر آ گیا.
کمرے میں روشنی اور عون کی مدہم سانسوں کی آواز گونج رہی تھی.
دراب قدم قدم چلتا روشنی کے پہلو میں آ بیٹھا.
روشنی بلکل پرسکون نیند کے مزے لے رہی تھی. اس کے چہرے پر اطمینان ہی اطمینان تھا. جو دراب کو سرشار کر دیا.
میں ساری زندگی تمہارا قرض دار ہوں. چاہ کر بھی اتار نہیں سکتا. کاش میں تمہارے لیے کچھ کر سکتا
دراب نے نرمی سے روشنی کا ہاتھ تھاما.
میں روز روز ایک ہی ڈائیلاگ سن کر بور ہو گئی ہوں. ایک احسان کرو اپنا ڈائیلاگ بدل لو. میرے لیے اتنا ہی کافی ہے. روشنی نے دراب کی گرفت سے اپنا ہاتھ نکالتے ہوئے کروٹ لی. جس پر دراب مسکراتا ہوا اس کے پہلو میں لیٹ گیا.
میں اسسٹنٹ کمشنر ہوں ایکٹر نہیں. کہاں سے لاؤں نئے نئے ڈائیلاگ __
اسی پر گزارا کرو.
“یاد آ ہی جاتا ہے کبھی ناصح کا قول بھی
سب کیجیئے جہاں میں ، محبت نہ کیجیئے”
⚜️⚜️⚜️⚜️
جاری ہے