Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

مجھے چھوٹو پر بہت غصہ تھا کے اس نے کیوں شکور چاچا کو میری شکایت لگائی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
پہلی فرصت میں ، میں اُس کے سر پر جا پہنچا مجھے دیکھ کر اس کی آنکھوں میں حیرت ابھری۔
دراب بابو آپ اس وقت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ چھوٹے نے برتن دھوتے ہوئے میری طرف دیکھ کر پوچھا
دراب بابو کے بچے پہلے یہ بتا کہ تو نے میری شکایت شکور چاچا کو کیوں لگائی کیا تکلیف ہے تجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
میں نے اس کی گردن دبوچتے ہوئے قدرے غصے سے پوچھا
میں نے کب شکایت لگائی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
وہ خود ہی آپ کا پوچھ رہے تھے تو میں نے بتا دیا کہ آپ آج کل زیادہ تر ابراز کے ساتھ ہی پائے جاتے ہیں چھوٹے نے مسکین سی شکل بنا کر جواب دیا
پائے جاتے سے کیا مراد ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
میں کوئی آلو ، پیاز یا گاجر ہوں جو پایا جاتا ہوں میں نے ایک مکہ اس کی کمر پر رسید کیا
اچھا معاف کردیں آئندہ ایسی غلطی نہیں ہوگی چھوٹے نے فورا مجھ سے معذرت کی
ابھی میں چھوٹے کی طبیعت صاف کر ہی رہا تھا کہ ایک ملازم نے آکر مجھے ابراز کا بتایا
اگر اب تو نے میرے یا ابراز کے بارے میں شکور چاچا کو کچھ بتایا تو سمجھ تو اس “دیگچے” کے باہر نہیں اندر ملے گا
جو سالن کا دیگچہ وہ مانجھ رہا تھا میں نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
جی سمجھ گیا آپ بے فکر ہو جائیں ۔چھوٹے نے اپنی قمیض کا کالر درست کیا ۔
مجھے دیکھتے ہی ابراز اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا اور ہوٹل سے باہر آنے کا اشارہ کیا۔
کچھ دیر بعد ہم دونوں سڑک کنارے ساتھ ساتھ چل رہے تھے ۔
پھر کیا سوچا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ابراز نے میرے کندھے پر اپنا بازو پھیلاتے ہوئے محبت سے پوچھا
میں صبح گاؤں جا رہا ہوں ۔جیسے ہی اسٹیشن پہنچ جاؤں گا ۔ تجھے فون کر دوں گا
میری بات کے جواب میں ابراز نے مسکراتے ہوئے میرے کندھے تھپتھپایا
تم نے بالکل ٹھیک فیصلہ کیا ہے۔ جیسے میں نے تجھے سمجھایا ہے۔ بالکل ویسا ہی کرنا ۔اگر غلطی کی تو سزا کے لیے تیار رہنا مجھے ابراز کی بات دھمکی ہی لگی ۔
مجھے بچہ سمجھ رکھا ہے جو غلطی کروں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
بس تم ٹھیک وقت پر وہاں پہنچ جانا میری بات کے جواب میں ابراز نے سر ہلایا
طے یہ پایا تھا کہ میں اسے اسٹیشن پر چھوڑ کر وہاں سے رفو چکر ہو جاؤں گا اور ابراز اسے وہاں سے لے جائے گا.
یعنی بلیک کیٹ اور دادی پر یہ تاثر دینا تھا تھا وہ گم ہو گئی ہے _ ورنہ دادی نے میرا سر کھا جانا تھا.
ابراز نے بظاہر اُس گم شدہ (بلیک کیٹ) کو گھر پہنچانے کے بہانے وہاں سے اپنے ساتھ لانا تھا.
پیسے کب ملیں گے یعنی ایڈوانس ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ جب کچھ دیر تک ابراز خاموشی سے میرے ساتھ چلتا رہا تو میں نے اپنے دل کی بات پوچھی
ابھی چاہیے تو ابھی دے دیتا ہوں ورنہ لڑکی ملنے کے بعد
کچھ دور کھڑی سڑک کنارے بلیک کرولا کی طرف ابراز نے اشارہ کرتے ہوئے کہا
جب تم اسٹیشن پہنچ جاؤ گے تو پیسے بھی ساتھ لیتے آنا کیونکہ اس کے بعد نہ میں “تم” سے ملنا چاہتا ہوں اور نہ ہی اس “لڑکی” کو دوبارہ دیکھنے کی خواہش ہے ۔
میری بات پر ابراز نے مجھے حیرت سے دیکھا
مجھے ابھی تک یقین نہیں آ رہا کہ وہ تیری “سگی کزن” ہے ابرار بے یقین تھا
جب وہ تجھے مل جائے گی۔ تو میری تصویر دیکھا کہ اس سے پوچھ لینا۔ وہ تجھے میرے بارے میں بتا دے گی _
میں نے سر جھٹکتے ہوئے جواب دیا جس پر اس نے قہقہ لگایا
پھر وہ بلیک کرولا میں بیٹھ کر چلا گیا اور میں سوچنے لگا کہ جلد ہی میرے پاس بھی اس سے اچھی گاڑی ہوگی
⚜️⚜️⚜️⚜️
میں اپنے منصوبے کے عین مطابق “بلیک کیٹ” اور “دادی” کو لے کر شہر کی طرف چل پڑا ۔
دادی کی نظر کمزور تھی میں نے انہیں “جھانسہ” دیا کہ شہر جا کر آپ کی آنکھیں بنوا دیتا ہوں اور بلیک کیٹ کو ان کی دیکھ بھال کے لیے ساتھ چلنے کو کہا جسے اس نے خوشی خوشی قبول کر لیا ۔
میں اپنے ذہن میں 3 کروڑ کی شاپنگ کر رہا تھا ایک بڑا سا خوبصورت گھر
گاڑی برانڈڈ کپڑے نوکر چاکر اور نہ جانے کیا کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
مجھے اپنے آس پاس کی کچھ ہوش نہیں تھی کہ ٹانگے میں اس وقت کتنے لوگ موجود ہیں اور ٹانگہ کہاں سے گزر رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
یہاں میں آپ کو بتا دوں کہ ہمیں اپنے گھر سے ٹانگے پر بیٹھ کر مین سڑک تک جانا پڑتا تھا پھر وہاں سے شہر کی بس ملتی تھی ۔
اسے میری بد نصیبی کہیے یا خوش نصیبی مگر ٹانگہ اچانک بے قابو ہوگیا اور گھوڑے نے اِدھر اُدھر بھاگنا شروع کردیا جس کی وجہ سے توازن بگڑ گیا
میرے ساتھ جو دو اور مرد تھے انہوں نے کھیتوں میں چھلانگ لگا دی ۔
کوچوان ٹانگے کو قابو کرنے کی پوری کوشش کر رہا تھا مگر جیسا ہی اس نے گھوڑے کی لگامیں کھینچیں۔
میں اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا اور سڑک کنارے واقع نالہ نما چھپڑ (جس میں عموماً جانو نہاتے ہیں) میں جا گرا۔
یہ چھپڑ ہمارے گاؤں کا کافی پرانا چھپڑ تھا اور اس کے ایک کونے میں تھوڑی “دلدل” بھی تھی ۔
عموما گاؤں والے اس چھپڑ میں نہ تو اپنے جانوروں کو نہانے دیتے تھے اور نہ ہی بچوں کو اس کے پاس سے گزرنے دیتے۔
چھپڑ میں گرتے ہی میری تمام حِسیں ایکدم بیدار ہو گئیں اور میں اپنے “خیالی دنیا” سے فورا باہر نکل آیا مگر اس وقت تک کافی دیر ہو چکی تھی ۔
اس سے پہلے کہ میں کچھ سمجھتا پانی کے بہاؤ کی ترتیب ایسے بنی کہ میں نے باہر کی طرف آنے کی بجائے دلدل کی طرف تیرنا شروع کر دیا۔
ہوش مجھے تب آیا جب روشنی کے چیخنے کی آواز میرے کانوں میں پڑی ۔
وہ چھپڑ کے کنارے کھڑی اونچی آواز بھی مسلسل چیخ رہی تھی کہ آگے “دلدل” ہے اس طرف مت جاؤ۔
“دلدل” کا لفظ سنتے ہی مجھ پر گھبراہٹ طاری ہوگئی اور گھبراہٹ کے مارے سمجھ نہیں آیا کہ اب کیا کروں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
دوسرا پانی بہت ٹھنڈا اور گہرا تھا جو میرے اعصاب معطل کر رہا تھا۔
جس جگہ میں گرا تھا وہاں میرے پاؤں نیچے زمین سے ٹکرا رہے تھے مگر آہستہ آہستہ میرے پاؤں نے زمین کو چونا چھوڑ دیا ۔
مجھے تیرنا نہیں آتا تھا مگر پھر بھی اپنی جان بچانے کے لیے میں نے بہت ہاتھ پاؤں مارے جس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ نقصان ہی ہوا۔
مجھے اپنی “موت” بالکل صاف دکھائی دے رہی تھی ۔میں نے انتہائی بے بسی سے آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا ۔
اللہ جی ابھی میں نے صرف “غلط کام ” کرنے کا ارادہ کیا تھا مگر غلط کام کیا تو نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. ؟؟؟
پھر بھی آپ نے اتنی جلدی “سزا” دے دی ۔میں دل ہی دل میں اللہ سے مخاطب ہوا اور اپنے آپ کو پانی کے دھارے پر چھوڑ دیا ۔
کیونکہ مجھے پکا یقین تھا کہ اب موت ہی میرا مقدر ہے ۔کوئی بھی اس دلدل میں کود کر مجھے نہیں بچائے گا۔
آپ اُس وقت میری بےبسی کا اندازہ نہیں لگا سکتے جب سب کچھ ختم ہو رہا تھا اور میں اپنے لیے بھی کچھ نہیں کر پا رہا تھا
میرے ساتھ ساتھ کنارے پر چلتی روشنی بہت شور مچا رہی تھی کہ بچاؤ کوئی تو بچاؤ
مجھے ابھی بھی روشنی پر بہت غصہ آ رہا تھا کہ اس کے چیخنے چلانے سے کیا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
روشنی نے قریب گنے کے کھیت سے ایک گنا توڑ کر مجھے پکڑایا اور مضبوطی سے پکڑے رکھنے کا کہا جبکہ دوسرا سرا اُس نے پکڑا ہوا تھا ۔ مگر میری بات کے برعکس تھوڑی ہی دیر میں کھیتوں سے مختلف لوگ جمع ہونا شروع ہوگئے۔ ( مجھے زندگی میں پہلی بار احساس ہوا کہ لڑکی کے چیخنے پہ جتنے لوگ اتنے تھوڑے سے وقت میں اکٹھے ہوئے ہیں ۔اگر میں سارا دن بھی چیختا تو اکٹھے نہ ہوتے۔ پھر بھی ہمارے ملک کی عورتیں شور مچاتیں ہیں کہ مرد احساس نہیں کرتے ۔ بے حس ہوتے ہیں۔ ناشکری کہیں کی۔ خیر یہ ایک الگ ٹاپک ہے اس پہ پھر بات کریں گے ۔ابھی میں آپ کو بتا رہا تھا کہ میں کیسے باہر آیا ۔ ) اپنی موت کو اتنے قریب سے دیکھ لینے کے بعد میرا جسم تھر تھر کانپ رہا تھا اور مجھے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ میں ابھی اس دنیا میں موجود ہوں۔ جب کہ لوگوں کا ایک ہجوم میرے گرد جمع تھا ۔سب یہی کہہ رہے تھے کہ مجھے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے جس نے مجھے موت کے منہ سے نکالا موت کے خوف اور سردی کا مجھ پر اتنا اثر ہوا کہ میں جلد ہی اپنے ہوش و حواس سے بیگانہ ہونے لگا ⚜️⚜️⚜️⚜️ دراب نے ایک سرد آہ بھرتے ہوئے قلم بند کر کے ڈائری پر رکھا ۔ اگر اُس دن روشنی مجھے نہ بچاتی تو اب تک میں قبر میں گل سڑ گیا ہوتا ۔ پتہ نہیں قبر نصیب بھی ہوتی کہ یہ جسم کیڑے کھاتے ………؟ ؟؟ کتنا برا رویہ میرا اس کے ساتھ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اب میں سوچتا ہوں تو مجھے اپنے آپ سے “گھن” آنے لگتی ہے ۔ اگر وہ “کالی بدصورت لڑکی” اس دن نہ ہوتی تو میں اپنے تمام تر حسن اور ذہانت کے ساتھ بھی اپنے آپ کو نہیں بچا سکتا تھا مجھے احساس ہوا کہ خوبصورت “دل” ہونا خوبصورت “چہرے ” سے کئی گناہ زیادہ اہم ہے ۔ میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ اگر میری جگہ پر روشنی چھپڑ میں گری ہوتی تو میں کبھی بھی اس کو بچانے کی کوشش نہ کرتا۔ کیونکہ میں روشنی کی طرح ایک خوبصورت دل نہیں رکھتا میں صرف شکل کا خوبصورت ہوں اور دل میرا کالا ہے ۔
جب کہ روشنی اپنے نام کی طرح ایک روشن اور خوبصورت دل رکھتی ہے ۔
کاش اس روشن اور خوبصورت دل میں مجھے جگہ مل جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
روشنی میرے لیے ایک “خوبصورت دعا” ہے۔ ُاسے میں اللہ سے مانگتا رہتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ ایک نہ ایک دن میری دعا ضرور قبول ہوگی۔
کیونکہ اللہ تعالی کو اپنے نیک بندوں کی نسبت گنہگار بندے سے زیادہ پیارے ہیں ۔
دراب نے مسکراتے ہوئے سر نفی میں ہلایا اور کرسی سے کھڑا ہو گیا ۔
میں جانتا ہوں کہ وہ سو گئی ہوگی میرا انتظار نہیں کر رہی ہو گی مگر پھر بھی اس دل کی شدید خواہش ہے کہ وہ مجھے آکر کہے
بس کریں نااااا بہت رات ہو گئی ہے
باقی کام کل کر لیجئے گا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اپنی سوچ پر خود ہی مسکراتا سٹڈی روم سے باہر نکل آیا
“خود اپنے ہاتھوں, قدر ہم نے اپنی کم کی ہے
طلب تو تھی ہی نہیں, ہم رسد بڑھاتے گئے”
⚜️⚜️⚜️⚜️
جاری ہے