Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir NovelR50783 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Last Episode
No Download Link
943.8K
24
Rate this Novel
Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode01 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode02 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode03 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode04 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode05 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode06 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode07 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode08 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode09 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode10 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode11 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode12 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode13 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode14 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode15 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode16 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode17 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode18 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode19 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode20 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode21 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode22 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode23 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Last Episode (Watching)
Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Last Episode
Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Last Episode
____________________________
لیکن سعیدہ بیگم نے آناً فاناً مونا کا نکاح نظیر اکرام اپنے کسی دور پرے رشتہ دار کہ یہاں کردیا وہ عمر میں مونا سے دوگنا بڑا تھا اوپر سے شادی بھی ہوچکی تھی ۔۔۔۔ پہلی بیوی نے اس سے علحیدگی اختیار کرلی تھی ۔۔۔۔۔
نظیر اکرام سے مونا کی پہلی اولاد بیٹی ہوئی جس کا نام رومیسہ رکھا ۔۔۔
نظیر اکرام چونکہ سندھ کہ رہنے والے تھے ۔۔۔۔۔ اس لئے ان کا گٹھ جوڑ زیادہ تر سندھی وڈیروں میں ہوتا تھا۔۔۔۔۔۔۔
رومیسہ کہ دو سال بعد مونا کہ یہاں ایک اور بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام فوزیہ رکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
مونا نے سعیدہ بیگم کہ گھر آنا جانا کم کردیا تھا ۔۔۔ اور سعیدہ بیگم نے مونا پر ظلم کہ پہاڑ توڑ دیئے تھے ۔۔۔۔
خدا کی کرنی ایسی ہوئی کہ نظیر اکرام رومیسہ کو اسکول چھوڑنے جارہے تھے کہ سامنے سے آتے ٹرالر سے ٹکرا گئے اور موقع پر دونوں دم توڑ کر گئے ۔۔۔۔ قسمت مونا کو پھر سے سعیدہ بیگم کے در پر لے آئی۔۔۔۔۔۔۔۔
شمس الدین کی چونکہ شادی ہوچکی تھی اسی لئے وہ جوانی کا جذباتی پن سمجھ کر بھلا چکے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ضعیم آحمد انہی دنوں حویلی آئے ہوئے تھے ۔۔۔ وقت نے مونا کو پہلے سے زیادہ حیسن بنا دیا تھا ۔۔۔ضعیم نے اتنے سالوں بعد مونا کو دیکھا تو سعیدہ بیگم کہ سامنے سوالی بن کر کھڑے ہوگئے۔۔۔ سعیدہ بیگم تو پہلے ہی مونا کی آمد سے خار کھائے بیٹھی تھیں ۔۔۔ ضعیم کہ یوں منہ سامنے آجانے پر سیخپا ہوگئیں ۔۔۔۔۔۔۔
انھی دنوں کھیتوں میں ایک معمولی سے جھگڑے پر شمس الدین کے ہاتھوں ایک نوجوان کا قتل ہوگیا ۔۔۔۔
وہ نوجوان ایک غریب سا کسان تھا جو کھیتوں کی دیکھ بھال کرتا تھا ۔۔۔۔۔
خون بہا میں اس کسان کے بھائی شمس کو سزا دینے کہ در پر ہوگئے ۔۔۔۔۔ سعیدہ اماں نے ایک تیر سے دوشکار کرتے ہوئے کسان کہ بھائی کے ساتھ مونا کو ونی کرنے کا فیصلہ کردیا ۔۔۔۔ ۔۔۔
یہ بات مونا تک پہنچی تو اپنی بیٹی فوزیہ کو اٹھائے حویلی سے بھاگ گئی ۔۔۔۔ سعیدہ بیگم کو پتا چلا تو انہوں نے اس کہ بھاگنے کو موت کی خبر میں بدل دیا ۔۔۔۔ اور کسان کہ گھر والے چونکہ نچلے طبقے اور کم حیثیت کہ تھے ان کو پانچ لاکھ دے کر گاوں سے نکلوادیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ضعیم احمد کو مونا اور اس کی بیٹی کی موت کا پتا چلا تو دکھی دل سے حویلی چھوڑ آیا تھا ۔۔۔۔۔۔
مونا کو نظیر اکرام کہ ایک دوست نے دیکھا تو اسے اپنے گھر لے آیا ۔۔۔۔۔۔ بعد میں نظیر اکرام کی پینشن کا انتطام بھی اسی دوست نے کیا تھا۔۔۔۔۔۔ ۔۔
مونا کچھ عرصہ وہاں رہی پھر شہر چلی گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یوں اس کا تعلق سعیدہ بیگم سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم ہوگیا ۔۔۔۔۔
___________________________
عنایہ کو راحب کے ساتھ آئے ہوئے ایک ماہ ہونے کو آیا تھا۔۔۔۔۔۔ راحب اور نجمہ کی دیکھ بھال نے اس کی طبیعت میں کافی سدھار پیدا کردیا تھا ۔۔۔۔ اس بیچ اس کی دونوں بہنیں بھی رہنے آگئیں تھیں تو عنایہ بھی بہل گئی تھی ۔۔۔ بظاہر تو وہ ٹھیک ہوگئی تھی لیکن دل کے زخم ٹھیک نہ ہوسکے تھے ۔۔۔۔ اور وہ ہو بھی نہیں سکتے تھے کیوں کہ ان زخموں پر مرحم جو نہ رکھا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
درراب نے ایک بار بھی اس سے رابطہ نہیں کیا تھا ۔۔۔۔
حویلی سے سکندر صاحب اور مہتاب بیگم آئیں ہوئیں تھیں ۔۔۔۔ نجمہ اور ضعیم سے معافی مانگی اور عنایہ کو اپنے ساتھ لے جانے کی ضد کرنے لگیں ۔۔۔۔۔۔۔
اس معاملے میں ضعیم صاحب نے ان کا ساتھ دیا اور عنایہ کو ان کے ساتھ بھیج دیا ۔۔۔۔۔
مہتاب بیگم نے نجمہ کو یقین دلایا تھا کہ وہ ان کی بیٹی کا بہت خیال رکھیں گی ۔۔۔۔۔۔۔ نجمہ راضی تو ہوگئیں تھیں لیکن مطمئن نہ ہوسکیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عنایہ کے کہنے پر ہی درراب کو کسی نے بھی اطلاع نہیں دی تھی ۔۔۔۔
یوں درراب کہ برابر والا کمرہ عنایہ کہ زیر استعمال تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کبھی کبھی دل کہ ہاتھوں مجبور ہوکر وہ اس کہ کمرہ میں چلی جایا کرتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
____________________________
“راحب اب جب کہ عنایہ بھی اپنے گھر کی ہوگئی ہے ہم چاہتے ہیں کہ تمہارا گھر بھی بس جائے ۔۔۔۔۔”
ضعیم احمد کو چائے کا کپ پکڑاتے ہوئے نجمہ نے بیٹے سے کہا :
امی پھر وہ ہی بات ؟؟؟
“ہاں اور اس بار تمہاری ایک نہیں چلے گی میں اور تمہارے ابو آج مونا کی طرف جارہے ہیں ۔۔۔ “
فوزیہ کو میں اپنی بہو بنابا چاہتی ہوں اور میرا نہیں خیال کہ وہ تمہیں ناپسند ہوگی ۔۔۔۔؟
“امی بات پسند ناپسند کی نہیں ہے بات یہ ہے کہ میں ابھی شادی کیلئے تیار نہیں ہوں ۔۔۔”
“یہ سب باتیں مجھے نہیں آتیں سمجھ ۔۔ تم اپنا ذہن بنالو آج میں جاکر رشتہ پکا کردوں گی ۔۔۔۔۔۔۔”
“ہمممم ٹھیک ہے پھر آپ کو جو صحیح لگے وہ کریں ۔۔۔۔۔”
راحب اپنے کمرہ میں چلا آیا ۔۔۔
____________________________
وہ کافی کا مگ پکڑے درراب کہ روم میں بیٹھی کتاب پڑھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
تبھی ناب کہ گھمانے کی آواز پر گردن موڑ کر دیکھا۔۔۔۔۔۔
پورے دو مہینہ بعد وہ اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ پہلے سے زیادہ ہینڈ سم اور چارمنگ ہوگیا تھا ۔۔۔۔۔ البتہ انکھوں کہ نیچے ہلقے اور گہرے ہوگئے تھے ۔۔۔۔۔
درراب کو قطعی عنایہ کے یہاں موجود ہونے کی امید نہیں تھی ۔۔۔۔۔۔۔
وہ دروازہ بند کرتا ہوا قدم قدم چلتا اس کی جانب آیا ۔۔۔۔۔
تم یہاں کب اور کیسے ؟؟
وہ حیرانی سے گویا ہوا
“پچھلے ایک ماہ سے ۔۔۔”
وہ نظریں ملائے بغیر جواب دے کر اس کی سائیڈ سے گزرنے لگی۔۔۔۔۔۔
جب تم مجھ سے ہی تعلق نہیں رکھنا چاہتی تو میرے گھر میں کس حیثیت سے رہ رہی ہو ۔؟؟؟
درراب کی بات پر اس کہ ہونٹوں پر تلخ مسکراہٹ آگئی ۔۔۔۔۔۔۔
“یہ سوال جاکر اپنے والدین سے پوچھیں نہ ہی میں اپنی مرضی سے آئی ہوں اور نہ ہی شوق سے ۔۔۔۔”
درراب نے اسکا بازو پکڑ کر عین سامنے کیا :
یہ ہی بات تم میری انکھوں میں دیکھ کر کہو جان شاہ ؟
“اب یہ سب باتیں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں کیوں کہ وقت بدل گیا ہے ۔۔۔۔”
عنایہ نے اس کی جانب دیکھنے سے گرہیز ہی برتا۔۔ ۔۔۔۔
“وقت بدل سکتا ہے حالات بدل سکتے ہیں لیکن تم بھی وہ ہی ہو اور میں بھی وہ ہی ہوں عنایہ درراب شاہ ۔۔۔”
“اس خوش فہمی کو جتنی جلدی ہو ختم کرلیں تو آپ کیلئے بہتر ہے ۔۔۔۔”
“خوش فہمی نہیں ہے یقین ہے آپنی محبت پر ، تمہاری محبت پر ۔۔۔۔”
عنایہ نے زخمی نظروں سے درراب کو دیکھا اور جھٹکے سے اپنا بازو چھڑایا۔۔۔۔۔
“محبت!!!!! بہت جلدی یقین آگیا آپ کو ۔۔۔۔”
“ہاں میں مانتا ہوں میں نے تمہاری محبت کو جانتے بوجھتے جٹھلایا ہے لیکن میں جس کرب سے گزرہا تھا تم وہ سوچ بھی نہیں سکتی ہو میری بہن ہستی کھیلتی ایک لمحہ میں منوں مٹی تلے جا سوئی ۔۔۔ اور میں کیسے خوشیاں بنا سکتا تھا ۔۔۔۔”
“میں کہتی رہی چیختی رہی آپ نے ایک بار بھی مجھے سننے کی کوشش نہیں کی ۔۔۔ پل پل مجھے اس عزیت کی بھٹی میں جلایا جس میں آپ جلتے رہے میں سب کچھ بھول کر ایک نئی زندگی شروع کرنا چاہتی تھی اور آپ نے کیا کیا میرے ساتھ؟ مجھے ہی توڑ دیا جینے کی امنگیں ختم کردیں ۔۔۔۔”
آنسو قطرہ قطرہ گالوں پہ لڑھک رہے تھے ۔۔۔
درراب نے ہاتھ بڑھا کر انھیں۔ انگلی پہ چن لئے۔۔۔۔
“میں کروں گا نہ ہر اس دکھ کا مداوا جو میری ذات سے تمھیں ملا ہے ۔۔۔۔۔”
“ہم مل کر ایک نئی زندگی کی شروعات کریں گے ۔۔۔۔۔”
“مجھے نہیں کرنی اور نہ ہی اب آپ کہ ساتھ جینے کی امنگ باقی رہی ہے آپ جہاں تھے وہاں چلے جائیں ورنہ میں یہاں سے چلی جاوں گی ۔۔۔۔۔”
“میں جاوں گا لیکن تمہارے ساتھ ۔۔۔ میرے بہت سے حسین پل ضائع ہوگئے جو میں تمہارے ساتھ جینا چاہتا تھا لیکن اب میں ایک منٹ بھی ضائع نہیں کروں گا ۔۔۔۔ “
“تمھیں ناراض رہنا ہے رہو لیکن میرے ساتھ رہو میں محض دو دن کیلئے آیا ہوں چاہو تو گھر مل کر آجاو ۔۔۔ اس کے بعد تمھیں میرے ساتھ جانا ہے عنایہ میں نے تمھارے گھر والوں کی مان کر تمھیں گھر جانے دیا تھا لیکن اب نہیں یہ دو ماہ
مجھ پر قیامت کی طرح گزرے ہیں میرا ارادہ اسلام آباد جانے کا تھا ۔۔۔ صرف تمھیں اپنے ساتھ لے جانے کیلئے ۔۔۔۔
” شومئی قسمت تم مجھے یہاں مل گئیں اب تیاری پکر لو ۔۔۔۔۔۔”
درراب نے اس کہ ماتھے پر محبت کی مہر ثبت کی اور واش روم میں چلا گیا جبکہ وہ حیران پریشان اسے دروازہ میں گم جاتے دیکھے گئی۔۔۔۔۔۔۔۔
____________________________
راحب اور فوزیہ کی شادی دو ہفتہ بعد طے ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نجمہ نے کال پر یہ خبر حویلی پہنچائی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
عنایہ جاتے ہوئے نجمہ کہ یہاں ملتی ہوئی گئی تھی ۔۔۔۔ اسے واپس اپنے شوہر کہ ساتھ جاتا دیکھ نجمہ اور باقی سب کو بھی گونا سکون ملا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
درراب نے فلحال ایک اپارٹمنٹ کرائے پہ لیا ہوا تھا کیوں کہ بنگلہ کی مرمت کروانی تھی ۔۔۔۔ یوں بھی وہ عنایہ کو وہاں لے جانا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
یہ چھوٹا سا ویل فرنشد آپارٹمنٹ تھا۔۔۔۔۔۔
درراب اسے چھوڑ کر کھانے پینے کی اشیاء لینے چلا گیا تھا ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ پورے فلیٹ کا جائزہ لے کر سونے لیٹ گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
___________________________
نجمہ بیگم نے شادی کی تیاریاں شروع کردی تھیں۔۔۔ عینی شادی تک رہنے آئی ہوئی تھی
جبکہ عنبرین عین مایوں والے دن آئے گی ۔۔۔۔۔۔۔
امی عینو کو بھی بلوالیں ؟
“ابھی تو مل کر گئی ہے وہ ۔۔۔
اور وہ یہاں ہے بھی نہیں درراب لے گیا اسے اپنے ساتھ۔۔۔۔۔”
تو کیا وہ شادی میں شریک نہیں ہوگی ؟
“کیوں نہیں ہوگی ۔۔۔ مایوں سے ایک دن پہلے آئے گی کہہ رہی تھی مجھ سے۔۔۔۔۔۔۔”
“چلیں جیسا آپ مناسب سمجھیں ۔۔۔ ابھی تو ٹائم ہے کافی۔۔۔۔”
یہ راحب کہاں ہے نظر نہیں آیا صبح سے ؟
“وہ آج کسی کمپنی سے ڈیلنگ تھی اس کی اس لئے اب تو آنے والا ہوگا ۔۔۔۔”
“چلیں میں ذرا بچوں کو دیکھ لوں ۔۔۔۔”
____________________________
عنایہ کی انکھ مسلسل ہونے والی بیل پر کھلی تھی ۔۔۔۔۔
ہیلو؟؟
عینو کہاں تھی تم میں کب سے کال کررہی ہوں ؟
“میں سو رہی تھی تم بتاو کیسی ہو ۔۔۔”
میں ٹھیک ہوں عینو تم مل کر بھی نہیں گئیں مجھ سے نئے تعلق جوڑ رہی ہو تو پرانے سارے رشتہ بھول گئیں ؟؟
شکوہ کیا گیا تھا۔۔
“فوزی یہ بھول ہے تمہاری کہ میں تم سے تعلق ختم کرسکتی ہوں بلکہ اسے اور مضبوط کرنے کیلئے ہی تمھیں اپنی بھابھی بنارہی ہوں ۔۔۔۔”
“اگر یہ بات ہے تو ٹھیک ہے پھر ۔۔۔۔۔”
دروازہ کھلا اور درراب لدا پھندا کمرہ میں آیا۔۔۔۔۔
“عینو یار پتا نہیں مجھے کیوں ایسا لگتا ہے کہ راحب اس شادی خوش نہیں ہیں ۔۔ تم برا مت ماننا لیکن یار تمہارے سوا میرا کوئی دوست بھی نہیں ہے جس سے میں اپنے دل کی بات کہہ سکوں ۔۔۔”
درراب اب صوفے پہ بیٹھا اپنے جوتے اتار رہا تھا اور نظریں عنایہ کی جانب تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔
“مجھے خوشی ہوئی کہ تم نے مجھ سے اپنے دل کی بات شئیر کی اور یہ بھائی کی مرضی سے ہی شادی ہورہی ہے ۔۔۔ ہاں انھیں دانیہ پسند تھی لیکن اس بات کو کافی عرصہ گزر چکا ہے ہوسکتا ہے وہ ابھی بھی بھائی کہ دل میں ہو لیکن تم اس بات کو اپنے حواسوں پر سوار نہ کرو۔۔۔۔۔ تم اپنی محبت ، اپنی وفا سے ان کہ دل میں جگہ بناسکتی ہو ۔۔۔۔”
“درراب کو لگا کہ وہ عنایہ کو سمجھنے میں غلطی کر بیٹھا تھا ۔۔۔۔ محبت تو تھی اسے لیکن وہ اسے سمجھ نہیں پایا تھا ہم محبت تو کرلیتے ہیں لیکن ہم سمجھ نہیں پاتے ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا محبوب ہمارے تابع رہے لیکن محبت میں تابع کا تو کوئی عمل دخل ہے ہی نہیں ۔۔۔۔
ہم انھیں اسپیس نہیں دے پاتے اور یہیں ہم غلطی پر ہوتے ہیں اور یہیں سے ہی رشتہ کمزور ہونا شروع ہوجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔”
“تم بے فکر رہو اور خوشی خوشی شادی کی تیاریاں کرو ۔۔۔۔”
“ہاہاہاہاہاہاہ ہماری ایسی قسمت کہاں ۔۔”
درراب نے دیکھا اس کی ہنسی کھوکھلی تھی آنکھوں میں نمی تیر رہی تھی ۔۔۔۔ نجانے فوزیہ نے ایسا کیا کہا تھا جس کو چھپانے کہ چکر میں جھوٹی ہنسی ہنس دی تھی۔۔۔۔۔
“چلو ٹھیک ہاں ہاں ضرور ان شاء اللہ “
“خدا حافظ”
عنایہ نے انگلی سے انکھوں میں آئی نمی کو صاف کیا اور کپڑے صحیح کرتی ہوئی بیڈ سے اتر گئی ۔۔۔۔۔۔
“یہ کچھ کھانے پینے کا سامان ہے دیکھ لو ۔۔۔۔۔”
عنایہ نے سر ہلایا اور شوپر اٹھا کر کمرہ سے نکل گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔
__________________________
“بیٹا بس کچھ ہی دن رہ گئے جاکر اپنی شاپنگ کرلو ۔۔۔۔”
کون سی شاپنگ امی بارات اور ولیمہ کا سوٹ آنٹی نے بھجوادیا ہے نہ ۔۔۔
میری جان مایوں میں میں بیٹھوں گی کیا ؟؟
“کوئی حرج نہیں ہے اگر آپ بیٹھ جائیں تو کیوں آبو ۔۔۔”
“ہاں بلکل کوئی حرج نہیں ہے اگر دولہا میں ہونگا تو ۔۔۔”
ہاہاہاہایاہاہاہ وہاں موجود سب کا بے ساختہ قہقہہ نکلا تھا۔۔۔۔۔۔۔
“ہاں ہاں کیوں نہیں ابھی تو آپ جوان ہیں ۔۔۔”
راحب نے شرارت سے ضعیم کو دیکھا:
“بس بس یہ باتیں شاتیں تو چلتی رہیں گی تم آج بلکہ ابھی جاو ورنہ تم ٹالتے ہی رہو گے ۔۔۔۔”
“اچھا امی جارہا ہوں ۔۔۔”
“راحب میں بھی چلوں گی مجھے بھی ڈریسس لینے ہیں ۔۔۔ “
راحب کہ اٹھتے کی عنبرین نے بھی جانے کی حامی بھری ۔۔۔
“ممما ہم بھی تلے گے ہم بھی تلے گے۔۔۔”
“اجاو ماموں کی جان دونوں اجاو ۔۔۔”
راحب کی عینی کی دو سالہ بیٹی ایک سالہ بیٹے کو گود میں اٹھالیا۔۔۔۔۔۔
اور گاڑی کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔
__________________________
کل تو درراب نے بازار سے ہی کھانے کا بندوبست کرلیا تھا لیکن روز روز کی ہوٹلنگ درراب کو پسند نہیں تھی ۔۔۔ یوں بھی عنایہ تو سب کچھ بنانا جان گئی تھی تو اس کیلئے زیادہ مشکل نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
درراب صبح کا گیا ہوا تھا اور شام ہونے کو آئی تھی وہ ابھی نہیں آیا تھا ۔۔۔۔۔
عنایہ تمام کام نبٹا چکی تھی ۔۔۔۔۔۔
کی ہول میں چابی گھمانے کی آواز پر عنایہ نے گھوم کر دیکھا ۔۔۔۔۔۔
فل یونیفارم میں ملبوس سر پہ کیپ لگائے انکھون پر سن گلاسس لگے ہوئے تھے ۔۔۔ اتنے سال گزر جانے کہ بعد بھی شاہ کی وجاہت میں ذرا بھی کمی نہیں آئی تھی ۔۔۔
وہ آج بھی اتنا ہی خوبرو تھا جتنا کہ پہلے ہوا کررتا تھا۔۔۔
بیگم صاحبہ اگر آپ کا دیدار ختم ہوگیا ہو تو پانی پلادیں۔؟؟
درراب نے اس کہ کان کے قریب اکر کہا تو وہ بوکھلا گئ اور ڈوپٹہ سنبھالتی ہوئی کچن میں چلی گئی۔۔۔۔۔
وہ اپنی بے خبری پر کڑھتی ہوئی پانی گلاس میں بھرنے لگی۔ ۔۔۔۔
اس نے شاہ کہ اگے گلاس کیا۔ جسے تھام کر لبوں سے لگا گیا۔۔۔۔۔۔۔
“تم مان لو عنایہ تم آج بھی میرے سحر سے نکل نہیں پائی ہو ۔۔۔”
درراب نے سنجیدگی سے کہا :
البتہ آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی۔۔۔۔۔
“آپ چینج کرلیں میں کھانا لگاتی ہوں ۔۔۔”
وہ اس کی بات کو نظر انداز کرکہ چلی گئی۔۔۔۔
“اتنا بھی آسان نہیں ہے درراب جتنا۔ تو سمجھ بیٹھا ہے ۔۔۔۔”
وہ بڑبڑاتے ہوئے اسٹک اور کیپ اٹھاکر کمرہ کی طرف آگیا۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ نکھرا نکھرا سا ٹیبل پر اکر بیٹھ گیا:
کھانے کی خوشبو اس کی بھوک میں اضافہ کرگئی ۔۔۔۔
پلیٹ میں چائنیز رائس نکال کر کھانے لگا۔۔۔۔
عنایہ اس کی جلد بازی پر مسکرائے بنا نہ رہ سکی ۔۔۔۔۔۔۔۔
جلفریزی کا باول اٹھایا اور چمچ بھر کر شاہ کی پلیٹ میں ڈال دیا ۔۔
“شکریہ عینو ۔۔۔۔”
درراب نے جلدی میں کہا اور پھر سے کھانے کی طرف متوجہ ہوگیا جبکہ وہ عینو لفظ سن کر پھر سے اذیت میں مبتلا ہوگئی تھی ۔۔۔۔۔
بھوک تو اسے بھی تھی لیکن دل اچاٹ ہوگیا تھا۔۔۔
“جلدی کھاو عنایہ ہم نے ابھی مارکیٹ بھی جانا ہے ۔۔۔”
مارکیٹ کیوں؟؟
وہ اتنا بھی غافل نہ تھا جتنا وہ سمجھ رہی تھی۔۔۔۔
کرکٹ کھیلنے!!!!
عنایہ مارکیٹ شاپنگ کرنے جاتے ہیں کیا ہوگیا ۔۔۔
وہ تو مجھے بھی پتا ہے لیکناب تو رات ہونے والی ہے ۔۔۔
تو ؟؟
“تو یہ کہ مجھے کہیں نہیں جانا ۔۔۔۔”
عنایہ نے فرصت سے کرسی سے ٹیک لگا کر کہا :
“نجمہ آنٹی کی کال آئی تھی وہ کہہ رہی تھی کہ عنایہ کو دو تین دن میں لے آو ۔۔۔”
تو آپ نے کیا کہا ؟
“میں نے کہا آنٹی جیسا آپ کہیں ۔۔۔”
عنایہ حیرتوں کہ پہاڑ میں غوطہ لگانے لگی۔۔۔۔
“اللہ اللہ اتنی تابعداری ۔۔۔”
“دیکھلو بس اب جلدی جلدی کھاو ۔۔۔”
وہ اسے کھانے کا کہہ کر اب میٹھے سے انصاف کررہا تھا۔۔۔۔۔۔
____________________________
راحب کی سہرا بندھائی ہورہی تھی ہر طرف افرا تفری کا ماحول تھا ۔۔۔ اس بار ضعیم نے بیٹے کی شادی اس کہ خریدے ہوئے بنگلے میں کی تھئ ۔۔۔ وہ سمجھ گئے تھے کہ اولاد سے زیادہ کوئی سگا نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔
جب تک اماں جان تھیں حویلی ان کی آمد کی منتظر تھی جب سے وہ گئیں ہیں وہاں کہ مکینوں نے یاد تک نہیں کیا تھا۔۔ بس دو بیٹیاں تھیں جو بیہائی ہوئی تھیں۔۔۔
شمس الدین اور سکندر حیات کو خود جاکر دعوت نامہ دے کر آئے تھے اور وہ لوگ آئے بھی تھی سکندر حیات سے تو خیر سمدھیانہ تعلق تھا ۔۔۔ شمس الدین نے بھی شرکت کی تھی لیکن دل میں آئے میل کو نہ دھو سکے تھے ۔۔۔
درراب بھی راحب کہ ساتھ ہی کھڑا تھا جبکہ عنایہ کی تیاری مکمل نہیں ہوئی تھی یوں بھی عورتوں کی تیاریاں آخری وقت تک جاری رہتی ہیں ۔۔۔۔
یہ عینو کہاں رہ گئی انھی تک نہیں آئی نکلنا بھی ہے راستہ طویل ہے اور یہ لوگ دیر پہ دیر کئے جارہے ہیں۔۔۔
ضعیم کا غصہ ساتویں آسمان پر تھا۔۔۔
“انکل میں جاتا ہوں آپ تب تک مہمانوں کو گاڑی میں بٹھائیں۔۔۔۔۔”
ہاں ہاں چلو بھئی سب چل کر کوچ میں بیٹھو ۔۔۔۔
درراب کمرہ میں آیا تو وہ ایک پاوں بیڈ پر رکھے ہوئے پائل پہن رہی تھی۔۔۔۔۔
کیا ہوا اور کتنی تیاری کرو گی؟؟؟
درراب کی آواز پر اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔۔۔
بلیک قمیض شلوار میں وہ انتہاء کا خوبصورت لگ رہا تھا۔۔۔۔۔
آپ یہاں کیوں آئے ہیں؟
عنایہ نے بمشکل نظریں ہٹائی تھیں آج تو اس کی اپنی نگاہیں بھی بغاوت پہ اتر آئیں تھیں۔۔۔۔۔
“جہاں عنایہ وہاں شاہ ۔۔۔”
“ویسے اتنی تیاری کس لئے آپ تو سادگی میں بھی غضب ڈھاتی ہیں۔۔۔۔”
“میں آپ کی ان باتوں میں نہیں آوں گی آپ جائیں یہاں سے ۔۔۔”
“عنایہ یار بہت ہوگیا ایک مہینہ سے منارہا ہوں تمھیں اور تم ہو کہ ہر بار منہ موڑ کر چلی جاتی ہو ۔۔۔۔۔”
“کیوں کہ آپ کا۔ وہ رویہ میں بھلائے نہیں بھولتی ۔۔۔”
“اچھا اچھا اب رونا مت سارے میک اپ کا ستیا ناس مار لوگی۔۔”
“میں ساری زندگی تمھیں ماناتا رہوں گا لیکن تم مانو تو صحیح ۔۔۔”
“میں آج آپ کی باتوں میں اکر دوبارہ سے نئی زندگی شروع کروں گی کل کو پھر کوئی اکر مجھ پر الزام لگا جائے گا اور آپ اس پر آنکھیں بند کر کہ یقین کرلیں گے۔۔۔”
“کسی میں اتنی ہممت نہیں ہے کوئی میری بیوی پر الزام لگائے میں قبر میں نہ پہچادوں اسے۔۔۔”
اس بار چہرہ کہ تاثرات سخت ہوگئے تھے ۔۔۔۔
تم بھول رہی ہو عنایہ حویلی سے میں ہی تمھیں نکال کر لایا تھا جب بابا جان اور سب تمہارے خلاف ہوگئے تھے ایک میں ہی تھا جو تمہارے ساتھ کھڑا تھا۔۔۔
“اسی بات پر آج میں آپ کہ روبرو کھڑی ہوں شاہ میں احسان فراموشہ نہیں کرتی ۔۔۔۔”
میں نے جو جو دکھ دیئے ہیں ان سب کو یکسر مٹا دوں گا ۔۔۔۔۔۔ “
“بس تم میرا ہاتھ تھام لو کبھی نہ چھوڑنے کیلئے۔۔۔ “
عنایہ نے درراب کو دیکھا اور اس کی کشادہ ہتھیلی پر اپنا نازک ہاتھ رکھ دیا جسے درراب نے بہت محبت سے ہونٹوں سے لگا لیا تھا۔۔۔۔
عنایہ کی انکھوں میں آنسو تھے لیکن خوشی کہ۔۔۔
“تم میرے لئے ہی بنائی گئی ہو تم میری محبت کی امین ہو میرے درد کی درما ہو تم میری درمائے دل ہو جان شاہ ۔۔۔۔
اور میں تمہارے درد کا درماء ہوں۔۔۔۔۔۔”
“ان دکھوں کا مداوا جنھیں تم اب تک بھول نہیں پائی اور میرے ان زخموں کا مرحم جو مجھے دانی کی موت نے دیئے تھے۔۔۔۔۔
ہم دونوں ایک دوسرے کے دل کے درماء ہیں۔۔۔۔”
ختم شدہ 





