Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode23

Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode23

اتنی تیز گاڑی اس نے کبھی نہیں چلائی تھی جتنی آج چلا کر وہ پولیس اسٹیشن پہنچآ تھا۔۔۔ قانون کا رکھوالا آج سارے ٹریفک قوانین توڑ کر آیا تھا اس کہ ذہن کا انتشار خطرناک حد تک بڑھا ہوا تھا۔۔۔۔۔
“جیل کا لاک کھولو۔۔۔”
سب انسپیکٹر سے کہتا ہوا وہ حوالات کی جانب آیا ۔۔۔۔۔۔
انسپیکٹر سرعت سے چابیوں کا گچھا آٹھائے درراب کہ پیچھے آیا ۔۔۔
“جب تک میں نہ کہوں آندر آنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔”
درراب اندر داخل ہوا اور لکڑی کی خالی کرسی پہ جا بیٹھا۔۔۔۔۔
معراج نے نیم غنودگی میں آنے والے شخص کو دھندلائی نظروں سے دیکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
وردی سے اتنا تو جان گیا تھا کہ کوئی پولیس ہے لیکن درراب کا چہرہ واضح نہ ہوسکا تھا۔۔۔
تم تم مجھے چھوڑ دو میں میں تمھیں منہ مانگی رقم دوں گا ۔۔۔۔؟؟؟
درراب تو پہلے ہی تپا ہوا تھا معراج کی بات سن کر بپھرے ہوئے شیر کی مانند اس پر ٹوٹ پڑا ۔۔۔۔
“بچاو مجھے کوئی تو بچاو ۔۔۔”
معراج کی چیخیں اسٹیشن کہ پر سکون ماحول میں ارتعاش پیدا کررہی تھیں ۔۔۔
کچھ اہلکار جو کرسی پہ بیٹھے اونگھ رہے تھے چونکنا ہوکر بیٹھ گئے ۔۔۔۔۔۔
“جب بھی کوئی ملزم اس طرح چیختا تھا اس کا صاف مطلب شاہ کا حوالات میں ہونا تھا۔۔۔۔۔ “
سر کب آئے تم نے بتایا کیوں نہیں؟
ان میں سے ایک نے گریبان کہ بٹن لگاتے ہوئے کہا :
“مجھے بھی ابھی پتا چلا ہے ۔۔۔”
“بچارہ اب رو رو کر کہے گا کہ مجھے پھانسی دے دو لیکن اس سے بچالو۔۔۔۔”
وہ دونوں آپس میں تبادلئہ خیال کرتے ہوئے معراج کی ہونے والی درگت کا نقشہ کھینچ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اگر آپ دونوں نے راز و نیاز کرلئے تو اپنی ڈیوٹی سنبھالیں یہ نہ ہو سر کا اگلا ہدف آپ دونوں ہوں۔۔۔ “
دین محمد نے انھیں ان کی ذمہ داری کا احساس دلایا ۔۔۔
“جی سر ،سوری سر “
دونوں ایک زبان ہوکر کہنے لگے ۔۔ اور اپنے اپنے کیبین کی طرف چلے گئے۔۔۔۔۔۔
تیری جررت کیسے ہوئی میری بیوی کو چھونے کی ؟؟
“تجھے میں بتاوں گا کہ درراب شاہ کہ گھر نقب لگانے کا انجام کتنا ہیبت ناک ہوتا ہے ۔۔ ۔”
درراب کہتے ساتھ ہی اسے بالوں سے پکڑ کر اٹھایا اور الٹے پاوں کا گھٹنہ اس کہ پیٹ میں پوری قوت سے مارا ۔۔۔۔۔”
“مجھے معاف کرو درراب آئندہ کبھی منہ اٹھا کر نہیں دیکھوں گا تمہاری طرف ۔۔۔”
وہ درد سے دوہرا ہورہا تھا پیٹ پکڑے بڑی مشکل سے جملہ مکمل کیا تھا ۔۔۔۔۔
“انسپیکٹر تیزاب لے کر آو ۔۔”
درراب نے گردن موڑ کر باہر کھڑے حولدار سے کہا:
وہ حکم کی تعمیل کرتا ہوا پل بھر میں انکھ سے اوجھل ہوا تھا۔۔۔۔
اور سیکنڈوں میں تیزاب سے بھری بوتل لے آیا تھا۔۔۔۔
“یہ لیں سر ۔۔”
“اس کے ہاتھ پیر باندھو ہری اپ ۔۔۔۔”
اس نے بڑی مشکل سے گرے ہوئے معراج کو سیدھا کیا اور کرسی پہ بٹھایا ، پہلے دونوں پاوں کرسی کہ پایوں سے باندھے پھر دونوں ہاتھ کرسی کہ ہتھے سے باندھے۔۔۔۔۔۔۔
“ہٹو پیچھے۔۔۔”
درراب کہ کہنے پر وہ دیوار سے جالگا۔۔۔۔۔۔۔
“میں تمہارے پاوں پڑتا ہوں معاف کردو مجھے ، مجھ سے بہت بڑی بھول ہوچکی ہے درراب خدا کا واسطہ معاا۔۔۔۔”
اس سے پہلے معراج اپنی بات مکمل کرتا درراب نے زور دار تھپڑ اس کہ منہ پہ رسید کیا۔۔۔۔۔
درراب نے بوتل کا منہ کھول کر معراج کہ ہاتھوں پر تیزاب کی بوتل الٹ دی ۔۔۔۔۔
معراج کہ حلق سے فلک شگاف چیخ برآمد ہوئی جس سے جیل کہ در و دیوار لرز اٹھے ۔۔۔۔
بجتے ہوئے موبائل کی ٹون بھی اس کی چیخوں کہ اگے دب چکی تھی ۔ ۔۔۔
“کیا بگاڑا تھا میری بہن نے تیرا ۔۔ وہ تو معصوم سا دل رکھنے والی تھی ۔۔۔۔ مجھے اپنے آپ سے زیادہ جاننتی تھی میرے دکھ کو سمیٹنے والی ۔۔۔ تو اس کی دھول کہ برابر بھی نہیں ہے اپنے آوارہ بد چلن عیار دوستوں کہ سامنے میری بہن کا ذکر کرتے ہوئے کیوں بھول گیا کہ وہ اس کی بہن ہے جو اگے جاکر تیرے باپ کا بھی باپ ثابت ہوگا۔۔۔۔”
“میں تیرا وہ حال کروں گا کہ دنیا کا ہر مرد تجھے دیکھ کر کسی کہ گھر کی عزت کے بارے میں کبھی غلط بات کرنے سے پہلے لاکھوں کڑوڑوں بار سوچے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
وہ ایک بار پھر اس پر چڑھ دوڑا ۔۔۔۔
معراج مار کھا کر بے ہوش ہوچکا تھا ۔۔۔۔ ۔۔
درراب اسے الٹے منہ پڑے چھوڑ کر باہر نکل آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
حولدار نے درراب کا موبائل اور گھڑی واپس کی ۔۔۔۔
درراب کے ہاتھ سرخ ہوچکے تھے ۔۔۔۔۔۔۔
تھوڑا تھوڑا درد بھی محسوس ہورہا تھا
موبائل کی اسکرین روشن کی تو صعود کی کال لگی ہوئی تھی ۔۔۔۔
کہاں ہو تم؟
“پولیس اسٹیشن ۔۔۔”
“ہسپتال پہنچو راحب نے عنایہ کی ڈسچارج سلپ بنوالی ہے وہ لوگ عنایہ کو اپنے ساتھ لے جارہے ہیں ۔۔۔ اگر عنایہ کا ساتھ چاہتے ہو تو روک لو اسے اگر وہ حویلی پہنچی تو پھر تم اسے کبھی نہیں دیکھ سکو گے ۔۔۔”
صعود نے کہہ کر کال ڈسکنیکٹ کردی۔۔۔
“یہ کیا نئی مصیبت آگئی ہے ۔۔۔ “
جی سر آپ نے کچھ کہا ؟
ساتھ کھڑے انسپیکٹر نے درراب کی بڑبڑاہٹ پر پوچھا :
نہیں۔۔۔ فرروخ داد کو لے کر پہنچا؟
“یس سر وہ صبح سویرے ہی پہنچ گئے تھے ۔۔۔”
“اس وقت کہاں ہے وہ ۔۔۔۔؟
“سر وہ کوٹ کہ وارنٹ تیار کروا رہے ہیں ۔۔”
“ٹھیک ہے اس بے غیرت اور ان دونوں کی بھی وارنٹ کا لیٹر بناو مجھے ہر حال میں ان کی دو دن بعد کیس کی ہیرنگ چاہیئے۔۔ ۔۔”
“جی بہتر سر ہوجائے گا۔۔۔”
“دو دن صرف دو دن”
“یس سر ۔۔۔”
پانچ منٹ کی ڈرائیونگ کہ بعد وہ ہسپتال پہنچا تو عنایہ چادر اوڑھے جانے کیلئے تیار بیٹھی تھی جب کہ ایک کونے میں صعود اور مہتاب بیگم بیٹھی ہوئیں تھیں ۔۔۔۔
آپ لوگ کس کی اجازت سے میری بیوی کو لے جارہے ہیں؟
درراب کی بھاری آواز پر راحب نے اس کی جانب دیکھا ۔۔۔۔
“دیکھو درراب ہم نے دیکھ لیا تم نے عنایہ کا کیا حال کیا ہے ۔۔ وہ مینٹلی طور پر بہت ڈسٹرب ہے ۔۔ اسے کچھ وقت دو ہوسکتا ہے وہ واپس آجائے ۔۔۔”
راحب نے عقل مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہایت دہیمہ لہجہ میں کہا :
“عنایہ میری بیوی ہے اور میں جس طرح اس کی دیکھ بھال کرسکتا ہوں کوئی اور نہیں کرسکتا اس لئے بہتر یہ ہی ہے کہ یہ واپس میرے ساتھ ہی جائے گی۔۔۔۔”
درراب کی بات پر نجمہ بیگم اگے آئیں اور اس کہ سامنے ہاتھ جوڑ دیئے ۔۔۔
“میں ایک ماں ہونے کہ ناطے تم سے ہاتھ جوڑ کر تمہاری بہن کے ہونے والے قتل کی معافی مانگتی ہوں میری بیٹی نے ایک ناکردہ گناہ کی بہت بھاری قیمت آٹھائی ہے خدا کا واسطہ اسے میرے ساتھ جانے دو ۔۔۔”
نجمہ بیگم بڑی شدت سے رودیں۔۔۔۔
“جائیں نجمہ آپ لے جائیں عنایہ کو لیکن اس وقت تک جب تک یہ مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہوجاتی اس کہ بعد میں خود اپنی بیٹی کو لینے اجاوں گی ۔۔۔ اور آپ اس طرح سے ہاتھ جوڑ کر مجھے میری ہی نظروں میں نہ گرائیں عنایہ کو میں نے اپنی بیٹی ہی سمجھا ہے لیکن میں مجبور ہوں کہ حالات و واقعات ہمارے خلاف ہوگئے اور انھیں اپنے حق میں بہتر نہ کرسکے ۔۔۔۔۔۔۔۔”
درراب نے ضبط کی شدت سے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچ لیں تھیں ۔۔۔۔
وہ روم کی جانب بڑھ گیا جہاں نرس عنایہ کی ڈرپ وغیرہ نکال رہی تھی ۔۔۔۔
نرس مجھے اپنی وائف سے بات کرنی ہے ؟
“شیور سر۔۔۔”
نرس موجودہ حالات سے بے خبر معنی خیزی سے دیکھتی ہوئی بولی ۔۔۔۔۔۔
درراب نرس کہ جانے کہ بعد عنایہ کی جانب آیا ۔۔۔ اور ایک گھٹنہ ٹیک کر فرش پہ بیٹھا ۔۔۔۔
جبکہ عنایہ بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
کیسی ہو ؟؟؟
شاہ نے عنایہ کی زخمی انکھوں میں دیکھا۔۔۔
کیسی لگ رہی ہوں ؟
سوال کے جواب میں سوال کیا گیا۔۔۔۔
“میں جانتا ہوں کہ تم کس کرب سے گزر رہی ہو میں ماضی میں جاکر اسے صحیح تو نہیں کرسکتا لیکن حال میں اس کا مداوا تو کر ہی سکتا ہوں نہ ۔۔۔۔”
آپ اور مداوا ؟؟
حیرت کی بات ہے !!
“میں نے آپ سے کسی خیر کی امید رکھنا چھوڑ دی مسٹر درراب ۔۔۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کو معاف کردوں تو مجھے ڈوورس پیپر بھجوا دینا ۔۔۔ یہ احسان میں کبھی نہیں بھولوں گی۔ ۔۔”
عنایہ سرد مہری اور اجنبیت سے کہتی ہوئی دھیرے دھیرے کمرہ سے نکل گئی۔۔۔۔ جبکہ درراب جہاں تھا وہیں ساکت رہ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ تو تھا جو اس کہ اندر ٹوٹا تھا کیا تھا وہ مان ، تھا یا اعتبار ؟؟؟
وہ تو چلو بے حس ، خودغرض ، انا پرست ہی سہی لیکن عنایہ سے وہ اس بات کی امید نہیں کرسکتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ یہ بھول رہا تھا کہ دنیا مکافات عمل ہے جو اس نے عنایہ کو دیا تھا آج عنایہ اسے وہ ہی لوٹا کر چلی گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
____________________________
عنایہ راحب کہ ساتھ اسلام آباد چلی گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ درراب کا شہر چھوڑ کر ۔۔۔۔۔
کل کیس کی سماعت تھی اور آج درراب کو حویلی بلوایا گیا تھا ۔۔۔ کیوں ؟ یہ تو وہ بھی نہیں جانتا تھا۔۔۔۔۔۔
مہمان خانے میں دونوں حویلیوں کہ مرد حضرات جمع تھے سوائے راحب کو چھوڑ کر ۔۔۔۔۔۔
تم کس منہ سے اپنے قاتل بھتیجے کو معاف کرواسکتے ہو ؟؟
یہ سکندر حیات تھے جو شکست خوردہ سے تھے لیکن آواز کی سختی میں رتی بھر بھی فرق نہ آیا تھا ۔۔۔۔
درراب اور صعود خاموشی سے اپنے باپ کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔۔
“سکندر تم تو جانتے ہو بن ماں باپ کا بچہ ہے غلط صحبت میں پڑگیا تھا ورنہ میں نے اس کی تربیت اس طرح نہیں کی تھی ۔۔۔۔”
تمہاری تربیت تو دیکھ لی میں نے شمس تمہاری پشت پناہی پر اسکا آوارہ اور بدمعاش لڑکوں سے یارانہ تھا۔۔۔
“اگر تم اس کی چھوٹی چھوٹی غلط باتوں پر روکتے ٹوکتے تو آج وہ قاتل تو نہ بنتا ۔۔۔۔۔۔”
“میں مانتا ہوں میں نے اس کی بے جا حمایت کرکے اسے بگاڑا ہے وہ سدھر جائے گا تم اپنے بیٹے سے کہو کہ وہ اسے رہا کردے۔۔۔۔”
شمس نے سکندر کہ آگے ہاتھ جوڑے ۔۔۔۔
جبکہ ضعیم آحمد خاموشی سے اپنے کروفر
بھائی کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔
“کس بات کی معافی مانگ رہے ہو شمس تم نے میرے پیٹھ پیچھے چھرا گھونپا ہے اپنے بھانجے کا جرم تم نے اپنے بھتیجہ پر ڈال دیا ۔۔۔”
گاوں کے مکھیا ہوکر تم نے ہمارے ساتھ نہیں بلکہ پورے گاوں کہ ساتھ ناانصافی کی ہے آخر کیوں ؟؟
ضعیم آحمد نے بے یقینی سے اپنے بھائی کو دیکھا:
بھائی جان کیا یہ بات سچ ہے ؟
لرزتی آواز میں ضعیم نے شمس الدین سے پوچھا:
“یہ کیا کہے گا ضعیم معراج نے خود درراب کہ سامنے اعتراف جرم کیا ہے ۔۔۔”
“کیوں بھائی میرے بیٹے نے آپ کا کیا بگاڑا تھا میری اولاد نے آپ کا کیا بگاڑا تھا بولیں میں نے آپ کو اپنا باپ مانا تھا اور آپ ، آپ نے بھائی ہونے کا مان بھی نہ رکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔”
“نہیں ہوں میں تمہارا بھائی ، تم جب سے پیدا ہوئے سب کو اپنی جانب کرلیا ۔۔۔ بچپن گزرا تو جوانی میں بھی تم نے ہر وہ چیز مجھ سے چھینی جو مجھے پسند ہوتی تم نے مونا کو بھی مجھ سے چھین لیا ۔۔۔ اماں جان کو اپنی چکنی چپڑی باتوں میں پھنسا کر انھیں اپنی جانب راغب کرلیا ۔۔۔۔۔۔۔”
آپ ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں ؟؟؟
ضعیم نے ڈوبتے دل کو سنبھالتے ہوئے کہا :
“جب تم حویلی سے گئے تو مجھے سکون ہوا تھا کہ تم سے جان چھٹی لیکن تم پھر واپس آگئے ۔۔۔۔ میری خوشیوں پر قابض ہوگئے ۔۔۔۔
زندگی کہ ہر قدم پر تم میرے سامنے پہاڑ کی مانند رہے میں سب میں بڑا تھا لیکن ابا جان اور اماں جان نے تمھیں مجھ سے زیادہ فوقیت دی ۔۔۔۔۔۔ کیوں آخر کیوں ۔۔۔”
“معراج نے جب سکندر کی بیٹی کو مارا تو میں نے بھی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا اور معراج کا الزام تمہارے بیٹے پر ڈال دیا ۔۔۔۔۔۔ “
اماں جان کے رسم و رواج کہ مطابق تمہاری بیٹی کو ونی کردیا گیا ۔۔۔۔ یہاں مجھے لگا کہ میں جیت گیا اور تمھیں شکست ہوئی ۔۔۔۔”
“میں نے آپ کیلئے اپنی بیوی اور اولاد سے دوری اختیار کی اور آپ نے میرے خلاف ایک محاذ بنا لیا ۔۔۔۔۔۔”
شمس الدین نے ضعیم کی طرف سے رخ پھیر لیا تھا۔۔۔۔۔
چلیں بابا جان ؟؟
درراب اور صعود ایک ساتھ کھڑے ہوئے ۔۔۔
سکندر حیات نے دونوں بیٹوں کو دیکھا اور ایک نظر وہاں بیٹھے تمام لوگوں پر ڈالی اور درمیانے قدم اٹھاتے ہوئے مردان خانے سے نکل آئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_________________________
تمام ثبوتوں اور گواہوں کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ چاروں ملزمان کو پھانسی کی سزا سناتی ہے اور شمس الدین کو ایک ملزم کی پشت پناہی کی سزا کہ طور پر چھ سال کی سزا سناتی ہے ۔۔۔۔”
“ہینگ ٹو بی ٹل ڈیٹھ”
معراج کے ساتھ شمس الدین کو بھی سزا دی گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
___________________________ سعیدہ بیگم کی پہلی شادی ناظم بٹ سے ہوئی تھی ۔۔۔۔ سعیدہ بیگم ناظم کی محبت میں اس قدر اندھی ہو گئیں تھی کہ انھیں ان کی اولاد مونا سے بھی کوئی اختلاف نہ تھا۔۔۔۔۔
مونا ناظم کی پہلی بیوی سے تھی مونا کی پیدائش کہ دن ہی ناظم کی بیوی انتقال کرگئی تھی ۔۔۔۔۔
سعیدہ بیگم تین بھائیوں کی اکلوتی اولاد تھیں کسی رشتہ دار کہ یہاں ان کی پہلی ملاقات ناظم سے ہوئی ۔۔۔ اور وہ اپنا دل ہار بیٹھیں ۔۔ ۔۔۔
گھر والوں نے بہت سمجھایا کہ وہ ایک بیٹی کا باپ ہے لیکن سعیدہ کہ سر پر محبت کا بھوت سوار تھا ۔۔۔۔ اور یہ بھوت تب اترا جب ناظم نے سعیدہ کو صاف لفظوں میں کہا کہ وہ مونا کی اچھی اور بہترین تربیت چاہتے ہیں ۔۔۔۔
ناظم کہ ساتھ سعیدہ بیگم دو سال تک ساتھ رہیں ۔۔۔۔
ایک کار حادثہ میں ناظم کی موت واقع ہوگئی ۔۔۔۔۔ مونا کا اگے پیچھے کوئی نہ تھا سوائے سعیدہ بیگم کے اسی لئے وہ سعیدہ کے ساتھ ان کہ میکہ چلی آئیں ۔۔۔۔۔
اس بار بھائیوں نے سعیدہ بیگم کی مرضی نہ چلنے دی اور عدت کہ فوراً بعد ہی سعیدہ کی دوسری شادی معظم صاحب سے کردی ۔۔۔ معظم صاحب گاوں کے کرتا دھرتا تھے ۔۔۔۔۔ یہ سعیدہ بیگم کی بد قسمتی تھی کہ معظم پانچ سال بعد ہی خالق حقیقی سے جاملے۔۔۔۔۔
سعیدہ بیگم اس سب کا ذمہ دار مونا کو ٹہرانے لگیں ۔۔۔۔۔ کئی دفعہ تو حویلی سے بھی نکال دیا تھا۔۔ معظم سے سعیدہ بیگم کے دو بیٹے ہوئے تھے ۔۔۔۔ بڑا بیٹا شمس الدین اور دوسرے نمبر کا ضعیم آحمد ۔۔۔۔۔۔۔۔
جیسے جیسے وقت گزرتا رہا مونا کہ اندر سعیدہ بیگم کی طرف سے نفرتیں جڑ پکڑنے لگیں۔۔۔۔۔
ہاں ایک شمس الدین تھا جو مونا کا حمایتی تھا۔۔۔۔۔۔
جوانی کی دہلیز پر پہنچے تو شمس الدین نے مونا سے شادی کرنے کا شوشہ چھوڑ دیا۔۔۔۔۔۔۔ یہ بات سعیدہ بیگم کو ناگوار گزری اور صاف لفطوں میں منع کردیا ۔۔۔ لیکن شمس اپنی بات سے پیچھے نہ ہٹا ایسے میں سعیدہ بیگم نے مونا کی جلد شادی کرنے کا فیصلہ کردیا ۔۔۔۔۔۔
مونا ضعیم کو پسند کرتی تھی اور یہ شمس پہلے سے جانتا تھا لیکن ضعیم پڑھنے کی غرض سے شہر چلا گیا شمس کو حالات اپنے تابع لگے ۔۔۔۔ لیکن سعیدہ بیگم نے آناً فاناً مونا کا نکاح نظیر اکرام اپنے کسی دور پرے رشتہ دار کہ یہاں کردیا وہ عمر میں مونا سے دوگنا بڑا تھا اوپر سے شادی بھی ہوچکی تھی ۔۔۔۔ پہلی بیوی نے اس سے علحیدگی اختیار کرلی تھی ۔۔۔۔۔
جاری ہے 🍁

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *