Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode05

Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode05

***********************************
پولیس وردی میں کھڑے اہلکار سے کہا ۔۔۔۔
“یس سر۔۔۔۔”
دین محمد ۔؟؟؟
“یس سر “
“گیٹ پہ موجود دونوں گارڈز کی نگرانی کرواو۔۔۔ کہاں جاتے ہیں کہاں سوتے ہیں کس سے ملتے ہیں۔۔۔۔ اور خان اس وقت کس کہ انڈر میں رہ کر کام کررہا ہے ۔۔۔ چیدہ چیدہ بات جو کہ ان دونوں سے جڑی ہو سب کی رپورٹ چاہیئے۔۔۔۔”
پتھریلہ لہجہ میں دین محمد سے گویا ہوا۔۔۔
انڈراسٹینڈ؟؟؟
“یس سر ۔۔۔۔”
دو لفظی جواب دے کر وہ سرعت سے وہاں سے نکل گیا ۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ درراب اب گھوم پھر کر پورے گھر کا جائزہ کررہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
____________________________
حویلی میں آج صبح سے ہی رونق لگی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔ ساری لڑکیاں جلدی جلدی کام نبٹانے میں لگیں ہوئیں تھیں۔۔۔
تمام مرد مردان خانے میں براجمان تھے۔۔۔۔
سعیدہ بیگم تخت پہ بیٹھیں تسبیح پڑھ رہیں تھیں۔۔۔۔
دادو آپ کیا پڑھ رہیں ہیں؟؟؟
اچانک سے عینو دھم کر کہ تخت پہ آبیٹھی۔۔۔
الے لڑکی زرا سنبھل کر بیٹھ ہڈیاں تڑوانی ہیں کیا۔۔۔۔۔
افف دادو بتائیں نہ ؟؟؟
عینو نے سر دادو کی گود میں رکھا:
سعیدہ بیگم نے اسے گھور کر دیکھا اور پھر سے تسبیح کہ دانے گرانے لگیں۔۔۔
دادو آپ نہیں بتائیں گی تو مجھے شک ہوجائے گا پھر ؟؟؟
“غضب خدا کا اپنی دادی پہ شک کررہی ہے ناسپیٹی رک جا تیری ماں سے شکایت کرتی ہوں۔۔۔”
“اوہ یار دادو مام کو نہ بلائیں وہ پکی والی ہلاکو خان ہیں آجائیں گی تو کام کرنے کا کہیں گی اور آپ کو تو پتا ہے مجھے یہ کام وام کرنا بلکل اچھا نہیں لگتا۔۔۔۔”
عینو منہ کہ زاویہ بگاڑ کہ بولی۔۔۔
جب کہ دادو مسکرانے لگیں تھیں۔۔۔۔
لو بھلا کام نہیں کرے گی تو سسرال جاکر ہماری ناک کٹوائی گی کیا؟
“کس نے کہا میں سسرال جاوں گی میں تو اپ کہ پاس رہوں گی ۔۔۔”
“چل چل زیادہ مسکے نہ لگا اور تسبیح پرھنے دے ۔۔۔۔۔”
اوکے دادو وہ انھیں ہگ کرتی ہوئی کلاچیں بھرتی صحن میں غائب ہوگئ۔۔۔
جب کہ سعیدہ بیگم نے مسکرا کر اس کے لیے دائمی خوشیوں کی دعا کی تھی۔۔۔۔۔۔۔
____________________________
اور بھئ کون کون چل رہا ہے ؟؟؟
سکندر صاحب نے مہتاب کو دیکھتے ہوئے پوچھا :
“میں ،دانی ، صائمہ ہی جائیں گے۔۔۔۔”
مصروف سے انداز میں کہا گیا:
کیوں دونوں برخوردار میں سے کیا کوئی بھی نہیں جارہا ؟؟؟
“صائمہ بتا رہی تھی کہ صعود تو سیدھا بارات میں جائے گا ۔۔۔۔۔۔ جب کہ شاہ کا کچھ علم نہیں۔۔۔۔۔”
“ہمممم چلو ٹھیک ہے۔۔۔۔۔”
اخبار کھول کہ وہ اپنے منہ کہ اگے کرچکے تھے۔۔
___________________________
گاجے باجے براتی
گھوڑا گاڑی اور ہاتھی کو
لائیں گے ساجن تیرے اگن
ہریالی بنی ۔۔۔۔
مہندی روپ سنوارے ہاں
مہندی رنگ نکھارے ہاں
ہریالی بنی کہ انچل میں
اترے گے تارے
ڈھول کی ٹھاپ پہ عنایہ لہک لہک کر گارہی تھی۔۔۔ جبکہ عنبرین اور باقی ساری لڑکیاں گاہے بگاہے اس کا ساتھ دے رہیں تھیں۔۔۔۔۔۔
تمام مرد مردان خانے میں الگ کچہری لگا کر بیٹھے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔۔
عنایہ کی نظر راحب پر پڑی تو گانا چھوڑ کر اٹھ بیٹھی۔۔۔۔۔۔۔
اس کہ پیچھے آتی فوزیہ کو دیکھ کر وہ اس کی جانب لپکی۔۔۔۔
جب کہ ساری لڑکیاں اسی کی جانب گردن گھمائیں دیکھ رہیں تھیں۔۔۔۔۔۔
راحب اسے اندر چھوڑ کر واپس مڑ گیا تھا۔۔۔
“مجھے یقین نہیں آرہا فوزی تم اگئیں ۔۔۔”
“یقین کرلو میری جان میں اچکی ہوں۔۔۔”
شرارتی انداز میں کہہ کر وہ اس سے گلے ملی تھی ۔۔۔۔
عنایہ اسے لے کر دادو کی جانب آئی ۔۔۔۔۔۔۔۔
“السلام و علیکم دادو۔۔۔”
فوزیہ نے جھک کر انھیں سلام کیا ۔
“دادو عینک لگائے اس کہ اپنائیت سے کہنے پہ غور سے دیکھنے لگیں۔۔۔۔”
“وعلیکم سلام جیتی رہو ۔۔۔”
دادو نے سر پہ ہاتھ پھیر کر نرمی سے کہا:
“دادو یہ میری جگری یار فوزیہ ہے۔۔۔۔”
عینو نے مان سے فوزیہ کو دیکھ کر کہا:
پھر باری باری حویلی کہ ہر فرد سے ملنے لگی ۔۔۔۔
اس سارے عرصہ میں وہ تھک کہ چور ہوچکی تھی۔۔۔ اوپر سے تین گھنٹے کا سفر بیٹھے بیٹھے اس کی کمر اکڑ گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجبوراً منہ پہ مسکراہٹ سجائے وہاں بیٹھی تھی ۔ ۔۔
اسے دادو کی جانچتی نظریں ایک انکھ نہ بھائی تھی ۔۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر وہاں بیٹھی رہی پھر عنایہ خود ہی آرام کہ خیال سے اسے کمرہ میں لے گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عینو کہ بارہا اصرار کرنے پر مونا بیگم مان گئیں تھیں مایوں سے ایک دن پہلے آنے کی اجازت دے دی تھی۔۔۔۔۔۔۔
عنایہ جو صبح سے اس کا انتظار کررہی تھی رات میں اس کو دیکھ کر پھولے نہ سمائی۔ ۔۔۔ عینو فوزیہ کی آنے کی خوشی میں یہ پوچھنا ہی بھول گئی تھی کہ وہ آئی کس کہ ساتھ ہے ۔۔۔۔
اور فوزیہ نے سکھ کا سانس لیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
___________________________
صبح تک وہ بیدار تو ہوچکی تھی لیکن ڈر کے مارے بخار چڑھا بیٹھی تھی۔۔۔۔۔
رات وہ بار بار اسے کمرہ میں اکر دیکھ رہا تھا۔۔۔
اب بیڈ پہ دبکی بیٹھی تھی لیکن باہر نہیں نکل رہی تھی۔۔۔۔
درراب کا فائر کرنا۔ اس آدمی کی چیخ ، بہتا خون اس کہ دماغ پہ سوار ہوگیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کھڑکی پہ پڑے پردے دن کہ اجالے میں رات کا پتا دے رہی تھی۔۔۔۔۔
خالہ بی بھی ابھی تک انیکسی سے نہیں آئیں تھیں۔۔۔۔۔
اور نہ ہی وہ رات کہ ہنگامہ میں نظر آئیں تھیں۔۔۔۔
ہاتھ میں بندھی گھڑی میں ٹائم دیکھا ۔۔۔
اسے پولیس اسٹیشن جانا تھا اور یہاں ناشتہ کہ کوئی اثار نہیں دیکھائی دے رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔
ناب گھما کر دروازہ کھولا ۔۔۔
کمرہ کا ماحول دیکھ کر اسے غصہ آگیا تھا۔۔۔۔۔
“محترمہ کی نیند ہی پوری نہیں ہورہی حد ہوتی ہے۔۔۔”
بڑبڑاتا ہوا وہ اس کی جانب آیا۔۔۔
“اٹھو اور چل کر ناشتہ بناو ۔۔۔۔۔”
درراب نے اس کہ کندھے ہلا کر اونچی آواز میں کہا:
مردانہ لمس پہ وہ گھبرا کر کروٹ بدلی اور دوسرے ہی پل وہ زمین پہ تھی۔۔۔۔
“اففففف امممی میرے لگ گئی۔۔۔”
جبکہ دراب نے حیرانی سے دیکھا ۔۔
اس کی دہائی پہ ہنسی روکتا ہوا پنجوں کہ بل بیٹھا۔۔۔
“انسان ہوں کوئی جن یا بھوت نہیں ہوں جو اس طرح ڈر کر بھاگتی ہو۔۔۔۔”
دراب کہ طنز پر وہ شرمندہ ہوگئی تھی۔۔۔۔
“وہ وہ میں سمجھی ککوئی کوئی اور تھا”
جبکہ درراب اس کی بات سمجھ کر ہاتھ اس کی جانب بڑھایا:
جھجھکتے ہوئے شفاف ہتھیلی پہ اپنا نازک سفید ہاتھ رکھ گئ تھی۔۔۔۔۔۔۔
اس سے پہلے وہ اسے اٹھا تھا دوسرا ہاتھ ماتھے پہ رکھ دیا:
“تمھیں تو بخار ہے”
یک دم ماتھے پہ کئی بلوں کا اضافہ ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایک ٹک اس دھوپ چھاووں شخص کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
جو اس کی پرواہ کررہا تھا یا صرف دکھاوا؟؟
وہ اب غور سے اسے دیکھ رہی تھی جو موبائل کان پہ لگائے بات کررہا تھا۔۔۔
“نہیں نہیں یہ شخص جیسا اندر سے ہے ویسا ہی باہر سے ہے۔۔۔۔”
غصہ کرتا ہے تب بھی پوری ایمانداری کے ساتھ کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔
دل نے ایک دم احتجاج کیا ۔۔۔۔
وہ اس کی ایمانداری کا سوچ کر ہی کانپ گئی تھی۔ ۔۔۔۔۔
زیادہ طبیعیت خراب ہورہی ہے؟؟
نرمی سے اس کا ہاتھ تھام کر پوچھا:
“یہ ڈریس کتنا ججتا ہے اس پر۔۔۔ “
وہ اپنی ہی دنیا میں گم نجانے کہاں پہنچی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔
“میڈم اگر پوسٹ مارٹم کرلیا تو مجھ غریب کی بھی سن لیں۔۔۔”
انکھوں کہ سامنے ہاتھ ہلاکر اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ ۔
وہ ہڑبڑا کر رہ گئ تھی۔۔۔
ہاں جی جی کیا؟؟
اسکے بے ربط جملے درراب کو تشویس میں مبتلا کرگئے تھے۔۔۔۔
“مجھے لگتا ہے ڈاکٹر کو بلانا۔ پڑے گا ۔۔۔”
“نہیں میں ٹھیک ہوں ۔۔۔۔۔”
ایک بار پھر وہ شرمندہ ہوگئ تھی۔
نجانے اس کہ پاس آنے پر سب کچھ کیوں بھول جاتی تھی ۔۔۔۔۔
اتنی باتوں کہ باوجود وہ اس سے نفرت نہیں کرسکی تھی ۔۔۔۔ کیوں اس۔ کی وجہ وہ جاننے سے قاصر تھی۔۔۔۔۔
نفرت اور محبت دو الگ الگ جذبہ ہیں ۔۔۔ ان میں سے ایک بھی دل پر قابض ہوجائے تو دوسرا خود ہی وہاں سے نکل جاتا ہے ایک ہی وقت میں محبت اور نفرت دونوں ایک ساتھ نہیں پنپ سکتے ۔۔۔ اور اس کہ دل میں صرف اور صرف محبت تھی اس لئے نفرت کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“جاو فریش ہوکر آو۔۔۔۔۔”
اس بار اس نے نگاہیں اٹھائے بغیر سر ہلا دیا ۔۔۔۔۔
اور اٹھ کر واش روم چلی گئی۔۔۔۔۔
وہ اس کی انکھوں میں رقم خوف دیکھ چکا تھا
اس بات کا براملا اعتراف کئے بنا نہ رہ سکا کہ
وہ واقعی ایک مضبوط اعصاب کی مالک ہے۔۔۔۔
اس کی جگہ کوئی اور ہوتی تو کل کے مناظر دیکھ کر دو دن تک بے ہوش رہتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پانچ منٹ بعد وہ باہر آئی تو کچن سے کھٹر پٹر کی آوازیں آرہی تھیں۔۔۔۔
خالہ بی کا گمان کر کہ وہ کچن کی جانب چلی آئی ۔۔۔۔
اس کا خیال تھا۔ کہ درراب جاچکا ہوگا۔۔۔ لیکن یہ کیا وہ تو گیا ہی نہیں ۔۔۔۔
یہ کیا کررہے ہیں؟؟؟
حیرانگی لئے اس کہ روانی سے انڈا پھیٹتے ہاتھ کو دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔
“بیٹھ جاو یار آتے ہی سوال و جواب کرنے شروع کردیئے “
وہ خفگی سے وہیں رکھی ایک کرسی پہ بیٹھ گئ۔۔ ۔۔
“اب وہ فرائی پین میں انڈا پلٹ رہا تھا ۔۔۔ اور ساتھ ہی دو مگ میں چائے انڈیلنے لگا۔۔۔۔۔”
یونیفارم میں ملبوس وہ انہماک سے کام میں مگن تھا۔۔۔ اور وہ پھر سے اسے دیکھے چلی گئی ۔۔۔ ہر بار وہ اپنے آپ کو بے بس محسوس کرتی تھی۔۔۔۔ روک نہیں پاتی تھی خود کو۔۔۔۔۔۔۔
وہ ٹرے لئے اس ٹیبل کی جانب آیا۔ اور ساتھ رکھی کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا:
جب کہ وہ نگاہوں کا زاویہ بدل گئی تھی
“چلو بھئی مسسز شروع کرو۔۔۔”
جیم لگا بریڈ اس کی جانب کرتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔
اور خود بھی ناشتہ کرنے لگا ۔۔۔۔۔
کئی سوال تھے اس کہ دل میں لیکن سامنے بیٹھا شخص اسے ہر بار ٹوک دیتا تھا ۔۔۔ نجانے کیوں وہ یا تو اس سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا یا اسے اس قابل نہیں گردانتا تھا ۔۔۔۔
اس اچھی طرح یاد تھا کہ اس نے اپنے ذاتی کام کرنے کا اسے نہیں کہا تھا ۔۔
ہاں کیوں کہ وہ ونی تھی صرف ونی ۔۔۔ اور ونی بیوی نہیں ہوسکتی ۔۔۔۔۔۔
لیکن وہ تو اس کہ لیے کسی اہمیت کی بھی حامل نہ تھی وہ اس سے غیر ضروری بات تک کرنا پسند نہ کرتا تھا ۔۔۔۔
اپنی بے وقعتی پر اس کی انکھیں بھیگ گئیں تھیں۔۔۔ ایک آنسو انکھ سے نکل کر چائے میں گڑپ ہوگیا تھا۔۔۔۔
درراب کی زیرک نگاہوں سے مخفی نہ ہوسکا تھا۔۔۔۔۔۔۔
کیوں رو رہی ہو ؟؟؟
درراب کا غیر متوقع سوال نے اسے ہڑبڑانے پہ مجبور کردیا تھا۔۔۔۔۔
“نہ نہیں میں کہاں رو رہی ہوں۔۔۔۔”
اپنے لہجہ کو بمشکل نارمل رکھ کر صفائی پیش کی گئی۔۔۔۔۔
تمھیں اب تک میرے ساتھ رہتے ہوئےیہ بات سمجھ نہیں آئی مجھے جھوٹ، دھوکہ بازی سے شدید نفرت ہے ۔۔؟؟
لمحہ بھر میں اس کہ چہرہ پہ پتھریلہ پن نمایاں ہوا تھا۔۔۔۔۔
البتہ پیشانی بل سے پاک تھی۔۔۔۔۔ اور یہ کیا انکھیں بھی نرمی کا تاثر دے رہیں تھیں۔۔۔
“منہ دھو کر آو۔۔۔۔”
ایک اور حکم ۔۔۔۔
ہاں وہ حکم ماننے کیلئے ہی تو لائی گئی ہے ۔۔۔۔
آج سارے آنسو بندھ توڑ کر بہنے کو تیار تھے ۔۔۔ ضبط کی شدت سے انکھیں لال ہورہیں تھیں ہاتھ کہ پیالہ بنا کر نل کہ اگے کرتے ہوئے نجانے کتنے بے آواز آنسو نکلے تھے۔۔۔۔
انکھوں میں پانی پڑتے ہی ٹھنڈک کا احساس جاگا تھا۔۔۔۔
درراب نے اسے پیٹھ موڑے کھڑے دیکھا تو سرعت سے اسکی سائیڈ والا رکھا کپ اٹھا لیا تھا۔۔۔۔ اور اس کی جگہ اپنا کپ رکھ چکا تھا۔۔۔۔
وہ واپس کرسی پہ بیٹھی یہ ہی سوچ رہی تھئ کہ اب کیا جواب دے گی ۔۔۔۔۔۔ لیکن درراب نے اس کی مشکل آسان کردی تھی۔۔۔۔
“چائے پیو ٹھنڈی ہورہی ہے۔۔۔۔۔”
اب وہ مزے سے چسکی بھرنےلگا تھا مسکراہٹ اس کہ چہرہ سے عیاں تھی ۔۔۔۔۔
اور حیرت کی زیادتی سے کپ لبوں سے لگا طکی تھی یہ دیکھے بغیر کہ اس کی چائے آدھی تھی جبکہ یہ والا کپ اوپر تک بھرا ہوا تھا۔۔۔۔۔
وہ کبھی اس کی محبت نہیں سمجھ سکتی تھی۔۔۔ کیوں کہ وہ درراب تھا اس اندازے محبت بھی اسی کی طرح مختلف اور انوکھا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
اوہ شٹ میں کیسے انھیں بھول سکتاہوں۔۔۔
ٹیبل پر مکہ مارتے ہوئے وہ کرسی چھوڑ کر کھڑا ہوگیا ۔۔۔۔۔
وہ سوالیہ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
درراب اس کی نگاہوں کو نظر انداز کرتا ہوا انیکسی کی جانب بڑھ گیا :
درراب کا یہ انداز اسے تشویش میں مبتلا کرگیا ۔۔۔۔ سوچے سمجھے بنا اس نے درراب کی تقلید کی ۔۔۔ کوئی اور وقت ہوتا تو وہ ضرور قدم باہر نکالنے سے پہلے سو۔ بار سوچتی۔۔۔۔۔۔
انیکسی کہ دراوزہ پہ جگہ جگہ سوراخ دیکھ کر درراب کو کسی انہونی کا احساس ہوا ۔۔۔۔
جبکہ اس کہ پیچھے آتی وہ دراوازہ بجا کر خالہ بی کو آوازیں دینے لگی۔۔۔۔
درراب اندر کا منظر سوچ کر مٹھیاں بھینچ گیا تھا۔۔۔۔
تم اندر جاو کس سے پوچھ کر باہر نکلی ہو ؟؟؟
درراب نے سخت لہجہ میں کہا :
“وہ نہیں چاہتا تھا کہ اندر کا حولناک منظر دیکھ کر وہ پھر سے اپنی طبعیت خراب کرلے ۔۔۔”
“مجھے خالہ بی کہ پاس جانا ہے ۔۔۔”
اس کی جانب مڑے بغیر وہ دروازہ کھولنے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔۔ دراوزہ چونکہ اندر سے بند تھا اس لیے باہر سے کھولنا ناممکن تھا۔۔۔۔۔۔
اسے اپنی جگہ ایستادہ دیکھ کر وہ انیکسی کہ پیچھے بنی کھڑکی کی جانب آیا۔۔۔۔ اتفاق تھا کہ کھڑکی کھلی رہ گئی ورنہ خالہ بی کھڑکیاں بند کرکہ سونے کی عادی تھیں۔۔۔۔
اس نے پتھر سے شیشہ توڑا اور اندر اتر گیا۔۔۔۔
انیکسی کی حالت ابتر ہورہی تھی جگہ بلیٹ کہ نشان واضھ تھے جیسے نشانہ لے کر گولی چلائی گئی ہو۔۔۔۔۔
اگے بڑھ کر اس نے چٹخنی کھینچی۔۔۔۔
عینو نے خالہ بی کہ مردے وجود کو دیکھا تو دلخراش چیخ اس کہ حلق سے نکلی تھی۔۔۔۔۔۔
خالہ بی اٹھیں خالہ بی!
اس سے پہلے کہ وہ خالہ بی کی جانب بھاگتی درراب نے اسے جانے سے روکا۔۔۔۔
“دُر خالہ بی کو کیا ہوگیا وہ ایسے کیوں پڑی ہیں آپ انھیں ہسپتال لے کر جائیں نہ ۔۔۔۔”
درراب نے اسے خود میں بھینچ لیا تھا۔۔
“وہ ہمیں چھوڑ کر چلی گئیں ۔۔۔”
درراب کا کہنا تھا اور وہ چیخ چیخ کر رونے لگی تھی۔۔۔۔ درراب کی انکھ سے نکل کر آنسو اسے کہ بالوں میں جذب ہوگیا تھا۔۔۔۔
وہ اسے ساتھ لگائے واپس لاونج میں لے آیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے کمرہ میں لے جاکر سلیپنگ پیلز دے کر سلادیا تھا۔۔۔۔ جتنا وہ ہوش میں رہتی روتی رہتی ۔۔۔ اور یہ درراب کو گوارہ نہ تھا۔۔۔۔۔۔
کفن دفن کا انتظام کا اس دین محمد کو دیا تھا۔۔۔۔
خالہ بی اکیلی عورت تھیں دو سال سے اس کہ ساتھ اسی گھر میں رہ رہیں تھیں ۔۔۔
ان کہ اگے پیچھے کوئی نہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_____________________________
جاری ہے:-

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *