Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir NovelR50783 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode08
No Download Link
943.8K
24
Rate this Novel
Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode01 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode02 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode03 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode04 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode05 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode06 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode07 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode08 (Watching)Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode09 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode10 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode11 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode12 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode13 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode14 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode15 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode16 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode17 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode18 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode19 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode20 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode21 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode22 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode23 Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Last Episode
Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode08
Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode08
___________________________
وہ رات ہی مہتاب بیگم کے پاس باتیں کرتی ہوئی سو گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہتاب بیگم کی قربت اسے اپنی ماں کی خوشبو آتی تھی۔۔۔۔ ساس کا رشتہ ہونے کہ باوجود وہ اسے اپنی بیٹی کی سی اہمیت دیتی تھیں۔۔۔۔۔۔۔
باہر سے آتی تیز آوازوں پر وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی ۔۔۔۔
حواس بیدار ہوئے تو ارد گرد نگاہ دوڑائی ۔۔۔۔۔
کمرہ میں اس کہ سوا کوئی نہیں تھا۔۔۔۔
بابا جان اس بات کو آپ ختم کیوں نہیں کردیتے ؟
یہ آواز تو شاہ کی تھی وہ ڈوپٹہ لے کر کمرہ سے نکلی ۔۔۔۔ سامنے ہی اسے صعود ، صائمہ ، اور سکندر صاحب نظر اگئے تھے۔۔۔۔۔
“ناہنجار اولاد مجھ سے پوچھتے ہو کہ ختم کیوں نہیں کردیتا تم کیسے پولیس والے ہو جو اپنے گھر میں انصاف نہیں کررہے۔۔۔”
سکندر صاحب نے ڈھاڑتے ہوئے کہا:
اس کا نکاح بھی آپ نے ہی کروایا تھا مجھ سے بھول گئے کیا؟
“نکاح کروایا تھا وہ صرف خون بہا کہ بدلے میں لائی گئی عورت ہے ۔۔۔۔۔ تمہاری بیوی صرف اور صرف ماہم بنے گی جو بچپن سے تمہارے نام پہ بیٹھی ہوئی ہے ۔۔۔۔”
اس نے بے اختیار دیوار تھامی تھی ۔۔ منگ ، ونی ، بیوی دوسری شادی؟
کتنے ہی سوال اس کا منہ چڑارہے تھے۔۔۔۔۔
پھر میری حیثیت کیا ہے اس گھر میں ؟؟؟؟
خالی الذہنی کی کیفیت میں وہ شاہ کو دیکھنے لگی جس کی انکھیں بے تحاشہ سرخ ہورہیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔
“میں آپ کی بات ماننے سے قاصر ہوں بابا جان میں اپنی بیوی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہونے دوں گا ۔۔۔۔۔”
شاہ نے اٹل لہجہ میں کہا :
میری بیوی !!! کیا واقعی یہ مجھے اپنی بیوی سمجھتا ہے ؟؟؟؟
وہ اس کو بغور دیکھ رہی تھی اس کہ تاثرات سے کوئی معنی اخذ نہ کرسکی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور وہ جو بچپن سے لے کر جوانی تک تمہارے نام کہ ساتھ جڑی ہوئی ہے اس کے بارے میں تمہارا انصاف کیا کہتا ہے ؟؟
سنا ہے تم اپنے پیشے سے ایماندار ہو ۔۔۔
تو ڈی ایس پی صاحب اس بے زرر لڑکی کہ بارے میں تمہارا انصاف کیا کہتا ہے ؟؟؟؟
انہوں نے اسکی دکھتی رگ پر وار کیا تھا ۔۔۔ وہ جانتے تھے جس پیشے سے اس کا تعلق ہے وہ اس میں کسی قدر کوتاہی برداشت نہ کرتا تھا ۔۔۔۔ اور یہ ہی حال اسکا ذاتی زندگی میں بھی تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہ ضبط کی انتہاء پر تھا۔۔۔۔۔ مٹھیاں سختی سے بھینچ کر اٹھتے ہوئے اشتعال کو دبانے کی سعی کررہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
“آپ کیوں ہر بار میرے بیٹے کہ پیچھے پڑجاتے ہیں پہلے ہی ایک بیٹی کو کھو چکی ہوں آپ کی وجہ سے ۔۔۔”
مہتاب نے لڑکھڑاتی آواز میں شاہ کا دفاع کیا۔
“تمہاری ہی شہ پہ آج یہ باپ کہ منہ کو آرہا ہے اس سے کہو کہ اگر اسے ماہم کا ساتھ منظور نہیں ہے تو مجھے بھی تمہاری کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔۔”
ان کی سفاکیت پر وہ جی تے جی مر گئیں تھیں ۔۔۔ اس سے پہلے وہ قدم بوس ہوتیں اس نے اگے بڑھ کر انھیں سہارہ دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
پہلے ہی حالات کی ستائی ہوئیں تھیں سکندر حیات نے انھیں مار دیا تھا زندہ درگور کردیا تھا ۔۔۔۔
سکندر صاحب نے بڑی چالاکی سے دونوں بیٹوں کو گھسیٹا تھا ۔۔ وہ ان دونوں کی کمزوری سے بخوبی واقف تھے ۔۔۔ اور ہمیشہ کی طرح اس بار بھی انہوں نے مہتاب کو دو کوڑی کا کر کہ رکھ دیا تھا ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔
“بابا جان رک جائیں آپ ایک لفظ اور بھی منہ سے نہیں نکلنا چاہیئے۔۔۔”
صعود نے سکندر صاحب کو مزید بولنے سے روکا۔۔۔۔۔۔۔
“یہ آگ تمہاری لگائی ہوئی ہے تم ہو سارے فساد کی جڑ۔۔ منع کیا تھا نہ میں نے تمھیں تم باز نہیں آئیں۔۔۔ “
صعود شعلہ جوالہ بنا صائمہ کی جانب بڑھا ۔۔۔
صائمہ کی گود سے راحم کو کھینچا اور مہتاب بیگم کو تھما کر اس کا ہاتھ پکڑ کر دروازہ کی جانب جانے لگا۔۔۔۔
“نکلو میرے گھر سے فتنا عورت بہت برداشت کرلیا تمھیں۔۔۔۔”
“بابا جان میں نے کچھ نہیں کہا۔۔”
صائمہ نے روتے ہوئے دہائی دی۔۔ ۔۔
“رک جاو صعود یہ کیا بے ہودگی مچارہے ہو چھوڑو اس کا ہاتھ ۔ “
شاہ فوراً حرکت میں آیا تھا ۔۔۔
اس کی وجہ سے تمہاری زندگی جہنم بنی ہوئی ہے کیوں روکنا چاہتے ہو تم ؟؟؟
اشتعال بھرے انداز میں گویا ہوا۔۔۔۔
“کسی کی وجہ سے کچھ نہیں ہوا تم چھوڑو بھابھی کو ۔۔۔۔”
“بھابھی آپ جائیں راحم کو لے کر ۔۔۔۔۔”
صائمہ روتی ہوئی راحم کو لئے کمرہ میں چلی گئی۔۔۔۔۔
“میں تیار ہوں بابا جان ماہم سے نکاح کرنے کیلئے لیکن میری شرط یہ ہے کہ وہ یہاں حویلی میں ہی رہے گی میں اسے اپنے ساتھ ہر گز نہیں لے کر جاوں گا۔۔۔۔۔ اگلی دفعہ آوں گا تو نکاح کردیئے گا۔۔۔۔۔”
آئے دن کہ جھگڑے سے اکتا کر اس نے آخر فیصلہ سکندر صاحب کے حق میں دے دیا تھا۔۔۔۔
سکندرصاحب نے کمینگی مسکراہٹ کے ساتھ گھنی موچوں کو تاو دیا ۔۔۔۔
ان کا تیر ٹھیک نشانہ پہ لگا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
اس وقت وہ صرف ایک جاگیردار سکندر شاہ بنے ہوئے تھے اور یہ نشہ تمام رشتوں پہ بھاری تھا۔۔ کیا شوہر ، کیا باپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن وہ ! ہاں وہ مر گئی تھی اس کہ فیصلہ سے ۔۔۔
ہمیشہ کیلئے مرگئی تھی۔۔۔۔۔
خالی خالی نظروں سے شاہ کو قریب آتے ہوئے دیکھا تھا شاید اب وہ اسکا ہاتھ پکڑے لے جارہا تھا۔۔۔۔۔
وہ کہاں لے جارہا تھا؟؟؟؟
وہ اس وقت کچھ سمجھنے کی پوزیشن میں نہیں تھی ۔۔۔۔۔۔۔دھندلا دھندلا سا دکھ رہا تھا سامنے کا منظر۔۔۔۔
_________________________
معراج کی خوشی کا کوئی ٹہکانہ نہیں تھا جو لڑکی وہ زور زبردستی سے حاصل کرنے والا تھا۔
قدرت اسے بغیر کسی حججت کہ دے رہی تھی ۔۔۔۔۔
بس کچھ ہی گھنٹوں میں وہ اس کی سیج سجائے بیٹھے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واہ تو تو مقدر کا سکندر نکلا یار ؟؟
“وہ تو میں ہوں ۔۔۔”
فخریہ انداز میں کالر کھڑے کئے۔۔۔۔
“ویسے ہے چاند کا ٹکڑا بھرا بھرا جسم نشیلے ہونٹ۔۔۔”
ہاہاہاہاہا !
یہ اس کا آوارہ دوست تھا جو خباثت سے کہہ کر قہقہہ لگانے لگا۔ ۔۔
کس طرح کی غیرت ہوتی ہے ان کی اپنی عزت کہ خاطر مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں اور دوسرے کی بہن بیٹی کی کوئی عزت نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہاں تک کہ جو لڑکی اس کے نکاح میں آنے والی تھی اس کی بھی کوئی عزت نہیں تھی اس کی نظر میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راحب جو کسی کام سے باہر جارہا تھا لان میں ان کی بے ہودہ باتیں اس کہ کان میں پڑی تو فطری جذبات کہ ہاتھوں مجبور ہوکر ان کی باتیں سننے لگا۔۔۔۔۔۔۔
راحب کی برداشت جواب دے گئی تھی وہ اس لڑکے کہ سامنے آیا۔ اور زور دار مکہ اسکی ناک پہ رسید کیا۔۔۔۔
” ابے اوئے زیادہ گرمی چڑھی ہے رک تجھے بتاتا ہوں۔۔۔۔”
وہ لڑکا اس حملے کیلئے تیار نہیں تھا اس۔ لئے بچاو نہ کرسکا اور مکا پڑتے ہی دور جاگرا۔۔۔۔۔۔ ۔
مکا عین ناک کی نرم ہڈی پہ لگا تھا۔۔۔ جس سے نکسیر پھوٹ پڑی تھی۔۔۔۔۔۔
معراج نے اپنے دوست کی یہ حالت دیکھی تو مغلظات بکتے ہوئے راحب پہ چڑھائی کردی ۔۔۔۔۔۔۔
وہ لوگ اس وقت حویلی کے لان میں گھتم گھتا تھے ۔۔۔۔۔۔
صبح کا وقت تھا تو تمام مرد اس وقت ناشتہ کرنے بیٹھے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملازم نے ان دونوں کو بری طرح لڑتے دیکھا تو مردان خانے کی طرف بھاگتا ہوا گیا۔۔۔۔۔۔
یک دم حویلی میں بھگ ڈر مچ گئی ۔۔۔۔
دانی کو شاہ سے ضروری بات کرنی تھی اور وہ کب سے دروازہ کی اوٹ میں کھڑی اس کا انتظار کررہی تھی ۔ ۔
لیکن راحب اور معراج کو گتھم گتھا دیکھ گردن نکال کر لان میں دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔
شاہ جیسے ہی مردان خانہ سے نکلا تو اس کی نظر دانی پر پڑی جو اب انکھیں پھاڑے ان دونوں کہ خون الود وجود کو بھڑتے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
شاہ نے بے اختیار اسے وہیں سے پکارا تھا اس کا مقصد اسے وہاں سے ہٹانے کا تھا ۔۔۔۔۔
گڑیا !!!
شاہ کی آواز سن کر وہ دروازہ کہ عین بیچ میں اکھڑی ہوئی ۔۔۔۔۔
یہ ایک بے ساختہ عمل تھا جو پہلے شاہ سے پھر دانی سے سرزد ہوا ۔۔۔۔۔
اور بس یہ ہی ایک لمحہ تھا دانی کی زندگی کا ۔۔۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ جواب میں کچھ کہتی فائرنگ کی آواز فضا میں گونجی اور دوسرے ہی پل وہ زمین پہ ڈھیڑ ہوچکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دانی !!!
شاہ دیوانہ وار پکارتا ہوا اس تک پہنچا تھا۔۔۔ فائزنگ کی آواز پر سب ہی لاونج میں جمع ہوگئے تھے۔۔۔۔۔ دانی کو گرتا دیکھ معراج کا دوست تو لڑائی چھوڑ کر بھاگ نکلا تھا۔۔۔۔۔ ۔
سکندر صاحب نے لان میں جاکر راحب کو پکڑ لیا تھا۔۔۔۔۔
کیوں کہ گن اس کہ پاس سے برآمد ہوئی تھی۔۔۔۔
لیکن وہ تو ہوش میں ہی نہیں تھا دانی کا ہوش و خروش سے بیگانہ وجود دیکھ کر اپنے اوسان خطا کر بیٹھا تھا ۔۔۔۔ ضعیم احمد مارے حیرت کہ اپنے بیٹے کہ ہاتھ میں گن دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
چونکہ گن اس کہ ہاتھ میں رہ گئی تھی تو وہاں کھڑے ہر نفوس نے اسے ہی مورد الزام ٹہرایا
تھا ۔۔۔۔۔ ۔
دانی کہ جسم سے خون پانی کی طرح بہہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گولی عین دل کی جانب جا گھسی تھی۔۔۔۔۔
“دانی میری گڑیا کیا ہوا کیا ہوا اسے کوئی بول کیوں نہیں رہا یہ کیا ہوا کس نے کیا یہ ۔۔۔”
مہتاب زور زور سے رونے لگیں۔۔۔۔۔
شاہ اسے بازووں میں اٹھائے دیوانہ وار گاڑی کی جانب بھاگا تھا ۔۔۔ گاڑی فل اسپیڈ پر سڑکیں عبور کررہی تھی ۔۔۔۔
دانی کا روتا چہرہ بار بار انکھوں کہ اگے لہرا رہا تھا۔۔۔
“نہیں اللہ نہیں پلیز تو میری زندگی لے لے میری گڑیا کو زندگی دے دے دانی تمھیں شاہ کا واسطہ ہوش کرو ۔۔۔۔۔۔”
آستین سے انکھیں رگڑتے ہوئے وہ گاڑی بھگا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
دس منٹ بعد وہ قریبی ہسپتال پہنچا تھا۔۔۔۔
اٹک اٹک کر سانسیں آرہیں تھیں ۔۔
ڈاکٹر اسے بروقت آئی – سی – یو میں لے گئے تھے ۔۔۔۔۔۔
مہتاب بیگم اور سکندر صاحب حواس باختہ اس کہ پیچھے پہنچے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
___________________________
اس نے جاتے وقت دعا کی تھی کہ کاش وہ مر جائے واپس نہ آئے اور واقعی وہ مرگئی تھی ۔۔۔
ضروری تو نہیں جسموں کا مرنا ہی موت کہلائے ۔۔۔
جب جذبات ، احساسات مر جاتے ہیں تو انسان بھی مرجاتا ہے لیکن دنیا والوں کیلیے جسم زندہ رہتا ہے۔۔۔۔
اور آج وہ مکمل طور پر زندہ لاش بن گئی تھی۔۔۔۔۔
درراب کہ انتہائی فیصلہ نے اسے توڑ کر رکھ دیا تھا ۔۔۔۔
وہ خود تو جب سے اسے چھوڑ کر گیا تھا گھر واپس نہیں آیا تھا ۔۔۔۔
“خالہ بی آپ بھی چلی گئیں کس کو بتاوں میں اپنا دکھ ۔۔۔۔ ایک آپ تھیں جو مجھے ہر مشکل سے نکلنے میں مدد دیتیں تھیں آپ بھی چھوڑ کر چلی گئیں۔۔۔۔۔۔”
“نجانے کیسی منحوس تھی میری محبت جب سے اس شخص کہ پلے بندھی تھی غم و دکھ نے راستہ ہی دیکھ لیا ۔۔۔۔۔۔”
شاید آسمان پہ جمے بادلوں کو بھی اس کی ذات پہ بیتے غم و دکھ دیکھ کر رونا آگیا تھآ۔۔۔ چھاجو چھاج مینہ برس رہا تھا اور وہ کھلے آسمان تلے سر گھٹنوں میں دیئے چھت پہ بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔
پجارو کا ہارن سنائی دیا لیکن وہ بے حس بنی برستے پانی میں بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔
درراب گھر پہنچا تو اندھیرے نے اس کا استقبال کیا تھا۔۔ ۔۔۔۔
لائیٹیں آن کیں تو سارا گھر روشنی میں نہا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
بے نام سی خاموشی تھی جس نے اس گھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا ۔۔۔ اس نے اسے تلاشنہ چاہا لیکن وہ وہاں کہیں نہیں تھی ۔۔۔۔ وہ پریشانی سے پورا گھر دیکھنے لگا۔۔۔۔
آخری جگہ بچی تھی وہ دو دو سیڑھیاں طے کرتا ہوا چھت پہ پہنچا اسے وہاں بیٹھا دیکھ بے اختیار سکون کا سانس لیا تھا۔۔۔۔۔۔
اتنی لاپرواہی پر وہ غصہ میں اس کے قریب پہنچا اور بازو سے پکڑ کر کھڑا کیا۔۔۔
“یہ کیا پاگل پن ہے چلو نیچے ۔۔۔۔۔”
پور پور بارش میں بھیگی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔
“میں نہیں جاوں گی چھوڑو مجھے۔۔۔۔”
جاری ہے
