Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode06

Darma E Dil by Syeda Jaweria Shabbir Episode06

__________________________
پیلے جوڑے میں ملبوس ڈوپٹہ کی چھاوں میں اسے اسٹیج پہ لایا گیا تھا۔۔۔
عینی کہ بائیں جانب عنبرین غرارہ پہنے ہوئے جبکہ دائیں جانب عینو نے باٹل گرین شرارہ زیب تن کیا ہوا تھا۔۔۔۔
بالوں کی موٹی چوٹی گھوندی ہوئی تھی جس میں موتئے کہ پھول چنے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔
لائٹ میک اپ میں وہ شہزادی لگ رہی تھی۔۔۔ کھلتی ہوئی رنگت اس کہ حسن میں چار چاند لگا رہی تھی۔۔۔ عینی سادہ سی تھی لیکن الگ ہی روپ آیا ۔ ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد رسموں کا آغاز ہوا ۔۔۔۔
حویلی کی رنگ و روشنی انکھوں کو خیرہ کررہی تھی۔۔۔۔۔
میر پور خاص کہ رہنے والے تمام امیر غریب کو مدعو کیا تھا۔۔۔۔۔۔
مردوں کا الگ انتظام کیا ہوا تھا۔۔۔۔
فوزیہ اور عینو نے ایک ساتھ رسم کی تھی ۔۔۔ فوزیہ کی جھجھک اب قدرے ختم ہوچکی تھی البتہ دادو کہ سامنے کم ہی آتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر کبھی وہ دادو کو نظر آجاتی تو دادو کریت کریت کر اسکا حسب نسب پوچھنے لگ جاتیں ۔۔۔
تھوڑی دیر میں نکاح کا شور اٹھا تو عینو نے بارات کہ جوڑے کا نفیس کام والا ڈوپٹہ اس کہ سر پر اڑھایا ۔۔۔۔
ایجاب و قبول کہ بعد تمام مرد واپس چلے گئے تھے نجمہ بیگم سمت عینو کی انکھوں میں پانی جھلملا رہا تھا ۔۔۔۔
سعیدہ بیگم کہ حکم پر سب نے انکھیں صاف کیں بقول ان کہ : “شادی کہ موقع پر رونے کی کوئی تک نہیں بنتی ۔۔۔ ایک گھر سے دوسرے گھر میں ہی جارہی ہے ۔۔۔۔۔۔ اس لئے رونا ڈال کر کوئی رنگ میں بھنگ نہ کرے ۔۔۔۔”
جبکہ عینو ڈھولک لے کر وہیں بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔ رات گئے تک ان لوگوں نے خوب ہنگامہ مچایا تھا۔۔۔۔ عینی کو کمرہ میں پہلے ہی پہنچا دیا گیا تھا ۔۔۔ آج تو دادو بھی ان سب کہ ساتھ ببیٹھی ہوئی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بارات دو دن کہ بعد تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج اسے مایوں بٹھا دیا گیا تھا۔۔۔
___________________________
“دانی یہ کیا فضول کی ضد لگا بیٹھی ہو کل تک تو تم جانے کیلئے تیار تھیں اب ایسا کیا ہوگیا کہ تم اینٹھ گئ۔۔۔۔”
مہتاب کو رہ رہ کر اسکی فضول ضد پر غصہ آرہا تھا۔۔۔
“میں نے کہہ دیا۔ اماں جان آپ بابا جان کو منع کردیں۔۔۔۔۔۔”
ایک تھپڑ لگاوں گی ہوش ٹھکانے آجائیں گے ۔۔۔۔ ہر سیدھی سادھی بات کو مشکل کیوں بنادیتی ہو ؟؟؟
وہ دانی کو مارنے اگے ہی بڑھی تھیں کہ پیچھے سے شاہ نے اکر روک دیا ۔۔۔
اماں جان یہ آپ کیا کررہیں ہیں ؟؟؟
وہ ناراضگی سے کہتا ہوا دانی کہ پاس بیٹھ گیا :
“جاو تم یہاں سے ۔۔۔ اگر ہم نے اسکی ہر بات مان کر سر چڑھایا ہے تو اتارنا بھی آتا ہے ۔۔۔۔۔ “
مہتاب کا غصہ سوا نیزے پہ پہنچا ہوا تھا
“اماں جان گڑیا کو مارنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا آپ جائیں میں خود بات کرلوں گا ۔۔۔۔۔”
شاہ نے مہتاب کو نرمی سے سمجھایا۔۔۔۔ ۔۔
دانی کو گھوری سے نواز کر وہ چلی گئیں۔۔۔
“چپ ہوجاو گڑیا کیوں رو رو کر خود کو ہلقان کیا ہوا ہے۔۔۔”
“بھائی میں نہیں جاوں گی آپ کہ بنا میرا دل نہیں لگتا کہیں بھی۔۔۔۔”
شاہ کہ بازو سے لگے سسکنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔
گڑیا تم جانتی ہو نہ شاہ کیلئے کل کا ٹیسٹ کتنا امپورٹنٹ ہے پھر بھی ضد کررہی ہو؟؟؟
“بھائی میں ضد نہیں کررہی میں صرف اماں جان سے یہ کہہ۔ رہی ہوں کہ میں اپ کہ ساتھ بارات میں چلی جاوں گی ۔۔۔۔”
اچھا اور جب اماں جان اور بابا جان چلیں جائیں گے پھر کہاں رہو گی۔۔۔۔؟؟؟
“بھائی میں بڑی ہوگئی ہوں اٹھارہ سال کی ہوگئ ہوں میں اکیلے رہ سکتی ہوں ۔۔۔ “
دانی نے خفگی سے کہہ کر رخ موڑ لیا :
“ارے بھئی میری گڑیا بہت بڑی ہے بس اب ٹھیک ہے۔۔۔”
چلو مسکراو اب ؟؟؟
اور وہ مسکرا دی تھی ۔۔۔۔
“لیکن تم اپنی پیکنگ کرو اور اماں جان کہ ساتھ جانے کی تیاری کرو ۔۔۔ اس کہ اگے نو ارگیومینٹس۔۔۔۔”
شاہ نے اٹل لہجہ میں کہا تو دانی اسودہ سی مسکرا دی تھی۔۔۔۔
شاہ اس کا سر تھپتھپا کر کمرہ سے نکل گیا:
اب اسے اپنے کپڑے بیگ میں رکھنے تھے ۔۔۔ کیوں کہ شاہ نے کہا تھا اور شاہ کی بات پتھر پہ لکیر تھی اس کیلئے۔۔۔۔ جو بات مہتاب نہیں منوا سکیں تھیں وہ بات شاہ نے بڑی آسانی سے منوالی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بجھے دل سے اٹھی تھی وہ ۔۔۔۔۔ اسے شروع سے گاوں کہ لوگ پسند نہ تھے ۔۔۔۔۔ ان کا حکمانہ رویہ اسے ایک انکھ نہ بھاتا۔ تھا ۔۔۔۔ اپنی اٹھارہ سالہ زندگی میں وہ دوسری بار گاوں کی کسی شادی میں شرکت کرنے جارہی تھی۔۔۔۔۔
جب کہ اگر دیکھا جائے تو وہ گاوں میں ہی پیدا ہوئی تھی اور وہیں پلی بڑھی تھی۔۔۔
لیکن وہاں کہ رسم و رواج سے اسے چڑ تھی۔۔۔۔ سکندر حیات سے دوری کی وجہ بھی ان کا وڈیروں والا انداز تھا جنھیں صرف اپنی پگڑی کا خیال رہتا تھا عزت و رتبہ کی بڑی وجہ ان کی پگڑی تھی جو موجودہ دور میں انھیں پہنائی گئی تھی ۔۔۔۔
دونوں بھائی بہن کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ ان جاگیرداروں سے کوسوں دور رہیں۔۔۔۔۔
شاہ نے تو مصلحت کی راہ بھی تلاش کرلی تھی اس کہ برعکس سکندر صاحب کچھ اور ہی سوچے بیٹھے تھے ۔۔۔ ایسے میں دانی اکیلی رہ گئی تھی ۔۔۔ کیا لکھا تھا اس کی قسمت میں یہ صرف رب کریم ہی جانتا تھا۔۔۔۔
وہ معصوم سی لڑکی آنے والے وقت سے بے بہرہ بھائی کہ حکم کی تکمیل کررہی تھی۔۔۔۔
___________________________
خالہ بی کو وہ دفنا کر آیا تھا ۔۔ ۔۔۔۔۔وہ پھر سے یہ عزیت جھیل رہا۔ تھا نجانے اس کہ نصیب میں تنہائی کیوں لکھ دی گئی تھی ۔۔۔۔ نئے سرے سے وہ کرب سے دوچار ہورہا تھا ۔۔۔ کھلی ہوئی قبر کو دیکھ کر اسکا شدت سے دل چاہا تھا خالہ بی کی جگہ وہ لیٹ جائے ۔۔ ۔۔۔ اس پر پھر سے جنون سوار ہوگیا تھا ۔۔۔۔ وقت کہ ساتھ ساتھ وہ اگے تو بڑھ رہا تھا لیکن حقیقتاً وہ وہیں رہ گیا تھا جہاں دو سال پہلے تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سر میں اتنا شدید درد تھا جیسے دماغ کی رگیں پھٹ جائیں گی چائے کی طلب ہورہی تھی لیکن اس میں ہممت نہیں تھی پوری رات کا جاگا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔
کمرہ میں پہنچا تو گھٹنوں میں سر دیئے سسک رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی آہٹ پر سر اٹھا کر دیکھا:
چھوڑ آئے خالہ بی کو ؟؟
ایک بار بھی ان کا چہرہ نہیں دکھایا؟؟
اس کی ابتر حالت ہورہی تھی رونے کی شدت سے گہرے ہلاکے نمایاں ہورہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔
“ان کا اخری وقت اچکا تھا۔۔۔۔۔”
اس کی بے ہوشی میں ہی خالہ بی کا جنازہ اٹھایا گیا تھا۔۔۔ ان کے وجود کو زیادہ دیر نہیں رکھ سکتے ۔۔۔۔۔۔ اس لئے اسکا انتظار کئے بنا ہی انھیں لے گئے تھے۔۔۔۔۔
وہیں زمین پر ہی اسکے روبرو بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“نہیں ان کا قتل ہوا ہے مرڈر ہوا ہے انھیں جینا تھا ابھی اور جینا تھا میرے لئے وہ مجھے چھوڑ کر نہیں جاسکتیں۔۔۔”
درراب سے اسکو سنبھالنا مشکل ہوگیا تھا
“چپ ہوجاو پلیز تمہارے رونے سے وہ واپس نہیں آئیں گی۔۔۔۔”
“وہ میری ہمدرد، میری غمگسار میری ماں تھیں وہ جن کی اغوش میں سب کچھ بھلا دیتی تھی اگر ان کا ساتھ نہ ہوتا تو میں اسی دن مرجاتی جس دن یہاں لائی گئی تھی۔۔۔۔۔”
وہ روتے ہوئے خالہ بی اور اسکئ ایک ایک بات اسے سنا رہی تھی ۔۔۔۔ اور وہ چپ چاپ سن رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ لمحہ اسے ڈانٹ کر چپ کروانے کا نہیں تھا بلفرض وہ ایسا کرتا تو اسے کھودیتا ہمیشہ ہمیشہ کیلئے۔۔۔۔۔۔
___________________________
” زید اور جابر خان کا تعلق اسی گروہ سے ہے جس کا میں نے آپ کو بتایا تھا۔۔۔۔”
دین محمد کہ بتانے پر شاہ کہ چہرہ پہ استہزایہ مسکراہٹ ابھری تھی۔۔۔۔
“اس گروپ کی نمائندگی ریاض بٹ عرف بٹھی کررہا ہے۔۔۔۔
اس کا مقصد نہ تو ڈرگس اسمگلنگ کا۔ ہے اور نہ ہی غیر قانونی اصلحہ خرید و فروخت کرنے کا ہے بلکہ ان کا۔ مقصد صرف اور صرف آپ ہیں۔۔۔
آپ کہ گھر میں گارڈز بن کر آنا ان کہ پلین میں شامل تھا لیکن یہ پلین مکلمل ہونے سے پہلے ہی برباد ہوگیا ۔۔۔ کیوں کہ اس رات کی فائرنگ کی وجہ سے ان کا جو طے شدہ مشن تھا وہ پوری طرح سے پایا تکمیل تک نہ پہنچا ۔۔۔”
دین محمد نے شاہ کی جانب دیکھا جو دونوں بازو ٹیبل پہ دھرے انہماک سے بغیر کسی تاثر کہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ ۔
“بولتے جاو ۔۔۔”
شاہ کہ کہنے پر وہ بات مکمل کرنے لگا۔۔
“زید نے اپنے باس کو نوکری سے نکالے جانے کا بتایا تو وہ ہتھے سے اکھڑ گیا اور اسے دھون کہ رکھ دیا ۔۔۔۔ اس سارے عرصہ میں جابر خان کی ابھی تک کوئی خبر نہیں ہے ۔۔ وہ کہاں ہے زندہ بھی ہے یا۔ مرچکا ہے کسی کو نہیں پتا ۔۔۔”
دین محمد کہ خاموش ہونے پر شاہ اپنی سیٹ سے آٹھا۔۔۔
“ویلڈن انسپیکٹر کیپ اٹ اپ ورک۔۔۔۔”
“بہت اچھا ہوم ورک کیا ہے تم نے ۔۔۔”
وہ پورے کمرہ کہ چکر لگاتا ہوا کہنے لگا۔۔
“جابر خان اس وقت کھٹمنڈو میں ہے جہاں وہ دوسرے گروہ کی نمائندگی کررہا ہے ۔۔۔۔
ریاض بٹ کا اصلی نام شیدا ہے جالی شناخت اختیار کرکہ پاکستان میں رہ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
دین محمد ہونقوں کی طرح اس کی دی ہوئی انفارمیشن پہ حق دق رہ گیا تھا۔۔
اسے اس پل بخوبی اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ کتنا ذہین اور چاروں طرف عقابی نظر رکھتا ہے ۔۔۔۔
“تمہارا اگلا ٹاسک یہ ہے کہ سول ڈریس میں تم ان کہ گروہ کا حصہ بنو گے ۔۔۔ باقی تم خود سمجھدار ہو “
” اور دوسری طرف تم نے شیدے پہ نظر رکھنی ہے کہ ۔۔۔۔”
“جی سر ایسا ہی ہوگا۔۔۔۔”
“چاہو تو اپنے ساتھ کسی کوبھی شریک کرلو لیکن اس سے پہلے تحقیق کروالینا ۔۔۔۔۔”
جی بہتر سر آپ کہ علم میں لائے بغیر کوئی کام نہیم ہوگا۔۔۔۔۔”
دین محمد نے مودبانہ انداز میں کہا :
“گڈ۔۔۔”
سر ایک بات پوچھوں ؟
صرف ایک ہی بات ہونی چایئے۔ ۔۔ پوچھو ؟؟
سر وہ آدمی جو آپ کی حراست میں تھا اس نے کچھ اگلا منہ سے ؟؟
دین محمد جانتا تھا کہ وہ بات اگلوا چکا ہے پوچھنا کچھ اور چاہ رہا تھا۔۔۔۔۔
تمھیں پتا ہے میری کسٹڈی میں رہنے والا شخص بہت جلد اپنا منہ کھول دیتا ہے جو پوچھنا چاہ رہے ہو وہ پوچھو؟؟؟۔
دین محمد نے زیر لب اپنے آپ کو گالیاں دیں تھیں۔۔۔ وہ کیوں بھول جاتا تھا شامنے کھڑا شخص عقاب کی نظر رکھتا ہے۔۔۔۔
سر اگر وہ شخص شیدا کہ گروہ سے نہیں تھا تو پھر کون تھا ؟؟
“وہ الہی بخش تھا۔۔”
الہی بخش لیکن یہ تو اپنے ڈیپارٹمنٹ کا بندہ ہے وہ کیسے؟؟؟
دین محمد چونک اٹھا تھا
اگر مطلب بھی مجھے ہی بتانا ہے تو تم یہاں کیوں کھڑے ہو ؟؟؟
شاہ کی اگلی بات پر بے اختیار لب بھینچ گیا تھا۔۔۔
“سوری سر۔۔۔”
“ہممم جاسکتے ہو ۔۔۔۔”
پرسوچ نگاہوں سے وہ دین محمد کو جاتا دیکھے گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
___________________________
صعود بلاو اس ناہنجار کو ؟؟
“جی بابا جان لیکن وہ اس وقت کسی کیس کہ سلسلے میں مصروف ہے۔۔۔”
“تم سے جو کہا ہے وہ کرو زیادہ صفائیاں پیش نہ کرو۔۔۔۔”
سکندر صاحب نے بڑے صاجزادہ کو جھاڑ کر رکھ دیا :
صعود نے کینہ توس نظروں سے صائمہ کو دیکھا ۔۔۔۔۔۔
جو آگ لگا کر اب الگ ہوچکی تھی۔۔۔۔۔
صائمہ کو بیاہ کر لانے کا فیصلہ سکندر صاحب کا تھا ۔۔۔۔۔ مجبوراً صعود کو بابا جان کہ فیصلہ کہ آگے سر خم کرنا پڑا۔۔۔ صائمہ صعود کہ مزاج سے مختلف ثابت ہوئی تھی ۔۔۔ ۔۔۔۔۔
اب اپنے قدم اور مضبوط کرنے کہ چکر میں اپنی چھوٹی بہن ماہم کو اس گھر میں لانے کیلیے ایڑھی چوٹی کا زور لگارہیں تھیں۔۔۔۔۔۔
لیکن وہ یہ بھول رہیں تھیں کہ ان کہ مقابلہ میں صعود نہیں بلکہ شاہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“مجھے دو میں خود بات کروں گا ۔۔۔۔”
ہاتھ سے موبائل جھپٹ لیا تھا ۔۔۔۔
ہاں تو برخوردار پہچانا مجھے ؟؟؟
ٹھنڈے ٹھار لہجے میں گویا ہوئے۔۔ دوسری طرف درراب چونکنا ہوگیا تھا۔۔۔ بابا جان کا اچانک فون کرنا خطرہ سے خالی نہ تھا۔۔۔
اسلام و علیکم بابا جان کیسے ہیں ؟؟
وعلیکم سلام تم حویلی آئے تھے اور باپ کو شکل دکھانا بھی گنوارہ نہ کیا؟؟؟
“بابا جان ایمرجنسی میں واپس جانا پڑگیا تھا۔۔۔۔۔۔”
“آج رات تم مجھے اس لڑکی سمیت حویلی میں ملو ۔۔۔۔”
لیکن بابا جان اتنی اچانک ملاقات کا مطلب ؟؟
“جو کہا ہے اس پر عمل در آمد کرو میرے ساتھ یہ تفتیشی انداز میں بات نہ کیا کرو۔۔۔۔”
یہ کہہ کر لائن کاٹی گئی تھی۔۔۔
درراب نے غصہ سے موبائل دیوار پہ دے مارا ۔۔۔۔۔۔۔
وہ لاونج سے گزرنے لگی تھی کہ ڈر کہ پیچھے ہٹی ۔۔۔۔۔۔
وہ سارا معاملہ سمجھ چکا تھا۔۔۔
ادھر آو ؟؟؟
جی ۔۔۔۔
جاری ہے 🍁

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *