Anchal By Zarish Noor Readelle50111 Episode 7
Rate this Novel
Episode 7
ناول ””دھانی آنچل ““
از قلم زرش نور
قسط نمبر ٧
اتوار کا دن شاید سب کے لٸے ہی دیر سے شروع ہوتا ہے۔مشا ل کی آنکھ کھلی گھڑی دس بجنے کا اعلان کرتے ہوۓ اس کا منہ چڑا رہی تھی۔اس نے رات کو سیفی بھیا سے شرط لگاٸی تھی کہ وہ ان سے پہلے اٹھےگی۔اس نے تیزی سے بستر چھوڑا اور سیف کے کمرے کی طرف بھاگی۔لیکن وہاں تو لگ رہا تھا کوٸی سویا ہی نہیں۔
وہ نآمید ہو کر سست قدموں سے صحن میں آ گٸی۔اسے آج سورج پر بھی غصہ آ رہا تھا۔
اتنی جلدی کیوں نکل آتے ہو۔میرے پاس ہوتے نہ پانی کی بالٹی بھر کہ تم پر پھینکتی تاکہ تم یہ جو آگ برسا برسا کر ہمیں مار رہے ہو یہ آگ بجھ جاتی۔
نہ جانے اسے کس بات پر اتنا غصہ تھا۔
اصل میں اسے اس سورج میں ازلان چوہدری ہی نظر آ رہا تھا۔اس کی آنکھوں میں بھی تو ایسی ہی آگ نظر آتی ہے اس کو۔لگتا ہے جلا کر بھسم کر ڈالے گا۔
تبھی بیرونی دروازے سے سیف پسینہ پونچھتا اندر آتا دکھاٸی دیا۔
مشال کو دیکھ کر اس نے دوانگلیوں سے وکٹری کا نشان بنایا۔
مشال منہ بنا کر کچن میں گھس گٸی۔
سیف اس کے پیچھے کچن میں ہی چلا آیا۔اور ناشتہ بنانے میں اس کی مدد کرنے لگا۔
میں پھپھو کی طرف گیا تھا۔پھپھو کے مالک مکان کو بتا دیا ہے کہ وہ اس مہینے گھر خالی کر دیں گی۔اور ہاں رخصتی کے لٸے جمعے کا دن طہ پایا ہے۔تم سوٸی ہوٸی تھی ۔نہیں تو تمہیں بھی ساتھ لے چلتا۔
چلیں کوٸی بات نہیں ویسے بھی میں چل کر کیا کرتی۔آچھا ہے اب اریبہ پھپھو ہم سب پھر سے ایک ہی گھر میں رہیں گے۔
وہ سچ میں بہت خوش تھی۔
ہوں بس میں چاہتا ہوں اب تمہیں بھی رخصت کر دوں۔
توبہ بھاٸی آپ کو تو مجھے اس گھر سے بھیجنے کی بہت ہی جلدی ہے۔
ارے جھلیے تمہاری شادی ہو جاۓ تو میں بے فکر ہو جاٶں گا۔
اب کی بار وہ چپ ہو گٸی تھی۔دل چاہ رہا تھا ازلان چوہدری کی حرکت کے بارے میں اسے بتا دے۔لیکن پھر اس بدمعاش کا کیا بھروسہ اگر بھاٸی ہی نہ رہا تو۔
کیا ہوا کدھر کھو گٸی ہو؟
جی کہیں نہیں۔آپ کیا کہہ رہے تھے۔
تمہارے لٸے بی جان نے کچھ بھیجا ہے تمہارے کمرے میں رکھا ہے۔” سیف نے اسے یہ نہیں بتایا کہ یہ گفٹ اسے دیا ازلان چوہدری نے ہے ۔اگر بتا دیتا تو وہ سمجھ جاتی کہ یہ کس نے بھیجا ہے۔“
وہ سر ہلاتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گٸی۔
سامنے ہی ایک ڈبہ پڑا تھا۔ڈبہ کھولنے پر اس میں سے ریڈ کلر کا نفیس سے کام والی میکسی نکلی جیسے دیکھ کر وہ حیرت زدہ رہ گٸی۔اتنا خوبصورت جوڑا میرے لٸے بھیجا ہے۔
سامعیہ ٹک ٹک کرتی اندر آ رہی تھی۔بعض اوقات بی جان کا دل کرتا تھا کہ سامعیہ کی ساری سینڈلز کے نیچے کوٸی نرم سا تلا لگوا دیں وہ جو ہر وقت ان کے دماغ میں ایک ٹک ٹک کا شور رہتا تھا۔
سامعیہ ان سے پیار تو کرتی تھی، لیکن اسے یہ نہیں پتہ ہوتا تھاکہ گھر کے کسی کونے میں بسے بزرگ کیا کرتے ہیں۔
سامعیہ کے عجیب و غریب فیشن سے بھی بی جان کو سخت اعتراض ہوتا تھا۔آج کل تو اس نے پھٹے پاٸنچوں والی شلواریں پہننی شروع کر دی تھی۔بی جان نے دیکھا تو کہے بنا رہ نہ سکی۔
ارے پتر اتنی بڑی گاڑی میں انسان بیٹھے اور پھٹے کپڑے پہنے۔
ان کی بات پر سامعیہ کی ہنسی نکل گٸی۔بی جان یہ فیشن ہے۔
ان دونوں کی باتیں سنتا ازلان شاہ بظاہر اپنت موباٸل میں گم تھا ۔لیکن ان کی باتیں سن کر اس کی آنکھوں میں چھم سے ایک سراپہ آیا
بلیو کلر کے کاٹن کے سادے سے شلوار قمیض میں ملبوس ، دوپٹے کو ایک ساٸیڈ پہ ڈالے ۔لمبے بالوں کی چوٹی میں سے نکلتی کچھ آوارہ لیٹیں جو اس کے گالوں کو چھو رہی تھی ، اور کچھ آنکھوں کے آگے آ رہی تھی۔
ہاتھوں میں مٹی لگی ہونے کی وجہ سے پھونک مار کر پیچھے کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔وہ جب بھی اسے دیکھتا تھا نٸے سرے سے اس کے سراپے میں کھو جاتا تھا۔
ازلان۔۔۔۔۔ازلان پتر کافی بار بلانے پر بھی جب وہ نہ بولا تو ۔۔۔بی جان نے اس کا کندھا ہلایا۔
جٕ ۔۔جی بی جان وہ تیزی سے بولا۔
یہ آج کل تمہارا دھیان کدھر رہتا ہے۔
کیا بی جان میں نے تو کانوں میں ہینڈ فری ضگاۓ ہوۓ ہیں ۔اس لیے آواز نہیں آٸی ۔
آچھا بتا اس کی شادی کب ہے تیرے دوست کی کیا بھلا سا نام ہے اس کا۔
بی جان ۔۔۔۔سیف۔
ہاں سیف کی بہت بھلا بچہ ہے ۔بی جان عادت کی سخت تھی لیکن دل کی اتنی بری نہیں تھی۔
جی بی جان کل ہے ۔
ہممم ۔۔۔۔۔۔تم جاٶ گے نہ۔
جی اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
سامعیہ کو بھی ساتھ لے جانا۔
اس سے پہلے کو وہ اس کو لے جانے پر کوٸی اعتراض کرتا ، وہ پہلے ہی بول اٹھی۔
نہ بی جان ۔بالکل بھی نہیں۔میں نے نہیں جانا ان گواروں کے شادی پہ۔
اس کی بات پر ازلان سر جھٹک کر باہر نکل گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریڈ کلر کی میکسی میں ہم۔رنگ چوڑیاں پہنے ، کانوں میں چھوٹے سے ٹاپس ڈالے ہلکی سے میک اپ کے ساتھ وہ اب بالکل تیار تھی۔گھر مہمانوں سے بھرا پڑا تھا۔سیف ابھی تیار ہو کر نہیں آیا تھا۔اس نے شاید آج پہلی بار لال جوڑا پہنا تھا۔بھاٸی کی شادی کی خوشی ہی بہت تھی۔ٰبڑے سے صحن کے ایک کونے میں سٹیج بنایا گیا تھا۔
مردوں کے لٸے الگ انتظام کیا گیا تھا۔
چونکہ نکاح تو پہلے ہی ہو چکا تھاتو بس ولیمہ ہی تھا۔جس میں سب لوگوں کے سامنے ساتھ والے گھر سے اریبہ کو رخصت کروا کر اپنے گھر لے آۓ تھے۔
اریبہ کے ددھیال سے آٸی اس کی دور پرے کی پھپھو کو مشال بہت پسند آٸی ۔ان کا بیٹا ایک ہی بیٹا تھا ۔اور بینک میں جاب کرتا تھا۔انہیں معصوم سی مشال بہت پسند آٸی۔
کھانے کا دور چلا تو ایک ہڑبونگ سی مچ گٸی ۔ہر بندہ دوسرے سے پہلے پہنچنا چاہتا تھا۔
اللہ اللہ کر کے سب کھونے کے بعد سب مہمان رخصت ہوۓ۔ اور سیف کو لا کر اریبہ کے پاس بٹھایا گیا۔اس نے تو بھاگ دوڑ میں شاید اریبہ کی ایک جھلک بھی نہیں دیکھی تھی۔
سیف جب آیا تو اس کے ساتھ ازلان چوہدری بھی موجود تھا۔
واٸٹ کلر کے قمیض شلوار پر کندھوں پر گرے چادر ڈالے ، وہ وجاہت کا پیکر لگ رہا تھا۔وہ ہی ریزرو سی طبعیت آ کر سامنے پڑے صوفے میں بیٹھ گیا ، اور موباٸل پر بزی ہو گیا۔
وہ تو اب جانا چاہتا تھا لیکن اس دشمن جان کی ایک جھلک دیکھنا چاہتا تھا۔
تبھی اس کی نظر ایک طرف اٹھی تو پلٹنا بھول گٸی۔لگتا تھا یہ رنگ بس اسی کے لٸے بنا ہے۔دھانی آنچل میں دمکتی اس کی
رنگت آج اس نے بال کھلے چجوڑ رکھے تھے۔سنہری لمبے بال کمر پر بکھرے ہوۓ تھے۔وہ ہاتھ میں مٹھاٸی لٸے سیف اور اریبہ کی طرف بڑھ گٸی جہاں سیف کے کچھ اور دوست اور اریبہ کی دوست ان سے چھیڑ چھاڑ کر رہی تھیں۔
ازلان نے موباٸل نکال کر اس کے حسین سراپے کو موباٸل میں قید کر لیا۔
اور سٹیج کی طرف بڑھ گیا ۔جہاں اس نے سیف سے ملتے ہوۓ اس سے اجازات چاہی۔
اسے دیکھ کر پاس کھڑی مشال نے غصے اور ضبط سے نگاہیں جھکا لیں۔ سیف سے گلے ملتے ازلان شاہ کا بازو اس کے کندھے سے ٹکرایا وہ جلدی سے پیچھے ہوٸی ، تو سیف سے گلے لگے ازلان شاہ نے اپنی گہری نظریں اس پر مرکوز کیں تو مشال رخ موڑ کر کھڑی ہو گٸی۔
جبکہ وہاں سے نکلتے ازلان چوہدری نے آج فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ آج گھر جا کر سامعیہ سے شادی سے انکار کر دے گا۔
